Page # 004

ہیٹی میں دو ہفتے گزرنے کا پتا بھی نہیں چلا تھا۔ وہ سب صبح سے رات تک مصروف رہتے تھے۔ اب واپس جانے کے لیے اپنا اپنا سامان سمیٹ رہے تھے کہ نشاط کے پاس ایک چودہ پندرہ سال کی بچی آگئی تھی۔ اس لڑکی کو انگلش بولنی نہیں آتی تھی مگر وہ اس کے ٹینٹ کی طرف اشارہ کرکے کچھ کہہ رہی تھی۔ نشاط نے قریب سے گزرتے ایک لڑکے کو بلالیا تھا جو ان لوگوں کی ٹیم کے لیے انگلش میں ترجمہ کیا کرتا تھا۔
"یہ کیا کہہ رہی ہے؟ ٹینٹ کے بارے میں کچھ کہہ رہی ہے شاید ،مگر مجھے سمجھ نہیں آرہا۔" نشاط نے لڑکی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس سے پوچھنے کو کہا تھا۔ وہ لڑکا کچھ دیر اس لڑکی سے بات کرتا رہا پھر نشاط کو انگلش میں بتانے لگا۔
"یہ پوچھ رہی ہے کہ اگر آپ لوگ جارہے ہیں تو اس ٹینٹ کا کیا کریں گے؟" اس نے اس لڑکی سے پوچھ کر نشاط کو بتایا تھا۔
"کچھ خاص نہیں۔ شاید کسی کو دے دیں یا پتا نہیں شاید واپس جائیں گے۔ یہ کیوں پوچھ رہی ہے؟" نشاط نے لا علمی ظاہر کی۔
"یہ کہہ رہی ہے کہ جس کیمپ میں یہ اور اس کی بہن رہتے ہیں وہاں کوئی اسےپریشان کررہا ہے۔ اس لیے اگر آپ یہ ٹینٹ اسے دے دیں تو یہ اپنی بہن کے ساتھ رہ لے گی۔ یہ بتارہی ہے کہ یہ دونوں غیر محفوظ ہیں۔" اس لڑکی کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے تو نشاط کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا تھا۔ اتنے برے حالات میں بھی لوگ اتنی چھوٹی بچیوں کو پریشان کررہے ہیں۔ لوگوں میں ذرا بھی خدا کا خوف نہیں رہا۔ اتنے چھوٹے بچوں کو کن کن مشکلات کا سامنہ کرنا پڑ رہا ہے۔ نشاط نے دکھ سے سوچا تھا پھر اس بچی کو چپ کرایا تھا اور اس لڑکے سے کہا کے انہیں بتائے وہ کچھ کرتی ہے اور خود عالیہ آنٹی اور عشارب کی طرف بڑھ گئی تھی۔ ٹینٹ تو نشاط اور عالیہ آنٹی کا اپنا تھا مگر وہاں سے جانے کے بعد کوئی بھی ان بچیوں سے چھین لیتا اس لیے عشارب نے کچھ لوگوں سے بات کرکے ان کی ذمہ داری پر ان دونوں بچیوں کو دے دیا تھا۔ آتے آتے اپنے پاس بچ جانی والی کھانے پینے کی چیزیں بھی ان لوگوں نے بچوں میں بانٹ دی تھیں۔ واپسی کے لیے پھر آٹھ گھنٹے بس میں سفر کرنا تھا کیونکہ قریبی ایئرپورٹ تو زلزلے کی وجہ سے کافی بری حالت میں تھا۔ تھوڑی دیر میں بس آگئی تو وہ لوگ اپنامختصر سا سامان رکھوانے لگے۔
"یہ عالیہ آنٹی کی سیٹ ہے۔" عشارب کو اپنے برابر میں بیٹھتے دیکھ کرنشاط نے کہا تھا۔
"یہاں ٹکٹس نہیں بٹ رہے جو اس سیٹ پر عالیہ آنٹی کا نام لکھا ہو۔ ویسے بھی میرے ساتھ کوئی اور خاتون بیٹھی تھیں اس لیے میں نے عالیہ آنٹی سے کہا وہ ان کے ساتھ بیٹھ جائیں۔" عشارب نے تپتے ہوئے کہا۔
"یہاں بھی ایک خاتون ہی بیٹھی ہیں۔" نشاط نے اسے مزید تپایا تھا مگر وہ اس کے کہنے پر ہنس دیا تھا۔
"ہاں مگر یہ خاتون ہونے والی مسز ہیں اس لیے ان کے ساتھ بیٹھا جاسکتا ہے۔" عشارب کے کہنے پر اس نے اسے گھورا تھا پھر کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔ بس کو چلے کچھ دیر ہوچکی تھی مگر باہر کے مناظر ایک جیسے لگ رہے تھے۔ گری ہوئی عمارتیں، ان میں سے لاشیں ڈھونڈتے لوگ اور روڈ کے پاس پڑی لاشیں۔ اسے پتا بھی نہیں چلا اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
"لو چاکلیٹ کھاؤ۔" عشار ب نے اس کے آگے چاکلیٹ لہرائی تونشاط نے پلٹ کر اس کی طرف دیکھا تھا۔
"آپ پورے دو ہفتے میرے سر پر سوار رہے ہیں۔ یہ کھا لو، اب سوجاؤ، ادھر سے نہ گزرو، اسے تم ٹریٹ نہیں کرو میں دیکھ لوں گا، اپنی میڈیسن لی کہ نہیں۔۔۔ اور بھی پتا نہیں کیا کیا۔ مما پاپا نے آپ سے دھیان رکھنے کو کہا تھا یہ نہیں کہا تھا کہ مجھے آرڈر دیتے رہیں۔" نشاط کے تپے ہوئے لہجے پر عشارب مسکراتے ہوئے چاکلیٹ کھاتا رہا۔ کچھ دن سے وہ بہت چڑچڑی ہوگئی تھی ورنہ پہلے ایسے بات نہیں کرتی تھی۔
"تم گھر جاکر سب سے پہلا کام کیا کرو گی؟" عشارب نے اس کی بات اگنور کرتے ہوئے پوچھا تھا۔
"مائرہ کو کال کرکے آپ کی شکایت لگاؤں گی کہ مستقل میرے سر پر سوار رہے۔"
"ہاں تو اس نے کیا کہنا ہے۔ وہ تو خود مستقل ای میلز کیئے جارہی تھی کہ بھائی نشی کا خیال رکھیئے گا۔ بھائی اسے رونے مت دیجیئے گا۔" عشارب کے کہنے پر نشاط ہنس دی تھی۔
"سنو۔" اسے ہنستے دیکھ کر وہ پھر بولنے لگا تھا۔
"اسی طرح ہنستی رہا کرو۔" عشارب کے کہنے پر نشاط کی مسکراہٹ ایک سیکنڈ میں غائب ہوئی تھی۔
"میں اگلے ہفتے ممی پاپا کو بھیجوں گا اور پلیز اب مزید کوئی بات نہیں سننی۔" عشارب نے اسے مزید کچھ بھی کہنے سے روک دیا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اس سے اچھا موقع اسے دوبارہ نہیں ملے گا۔ نشاط یہاں آکر بہت مختلف انداز میں سوچ رہی تھی۔ ان لوگوں کو تکلیف میں دیکھ کر اسے اپنی تکلیفیں کم لگنے لگی تھیں اس لیے ابھی کا سمجھانا فائدہ مند ہوسکتا تھا۔ نشاط کچھ دیر اسے دیکھتی رہی پھر کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی تھی۔
وہ مستقل یہی سوچ رہی تھی کہ وہ واقعی بہت جلد ی ہمت ہار گئی تھی۔ یہاں آکر اندازہ ہوا تھا کہ لوگوں پر کتنی بڑی بڑی قیامتیں ٹوٹ جاتی ہیں مگر وہ پھر بھی جینے کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں۔ وہ اپنی بیماری کا سن کر اپنے آپ کو کتنا اکیلا محسوس کررہی تھی جبکہ اس کے قریب اس کے اپنے تھے۔ بے شک وہ انہیں بتا نہیں رہی تھی، مگر وہ سب اس کے لیے دعا تو کرتے تھے۔ سب سے بڑھ کر عشارب، جو سب کچھ جاننے کے باوجود اس کے ساتھ تھا۔ پھر اسے نا امید ہونے اور اللہ تعالیٰ سے شکوے کرنے کا کیا حق پہنچتا تھا؟
*- - - * - - - *
اور پھر نشاط مان گئی تھی۔ عشارب نہیں جانتا تھا کہ وہ اپنے پیرنٹس کی وجہ سے مانی تھی یا واقعی عشارب کی باتوں کا اثر تھا مگر اس کے لیے یہی کافی تھا کہ وہ اس کی ہونے والی تھی۔ بغیر وقت ضائع کیے ان لوگوں نے ٹھیک دو ہفتے بعد شادی کی تاریخ رکھی تھی۔ عشارب بہت خوش تھا کہ آج وہ اس کی زندگی میں شامل ہوگئی تھی۔ وہ لوگ ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی گھر پہنچے تھے۔فون بجنے پر وہ اس ہنگامے سے اٹھ کر دروازہ کھول کر باہر بیک یارڈ میں نکل گیا تھا۔
"ہیلو عشارب۔ کیا تم نشاط کو ابھی لاسکتے ہو؟ یہاں ایک ایکسیڈینٹ کا کیس آیا تھا اور پیشنٹ کی ڈیتھ ہوچکی ہے۔ اور اس کو ہماری خوش قسمتی کہہ لو کہ اس کا لیوور اور بلڈ گروپ نشاط سے میچ کرتا ہے۔ میں اس کی فیملی سے بات کرچکا ہوں اور پیشنٹ بھی اورگن ڈونیٹ کرنا چاہتا تھا۔ ان لوگوں کو کوئی اعتراض نہیں۔ تم ابھی نشاط کو لاسکتے ہو؟" فون اٹھاتے ہی دوسری طرف سے ڈاکٹر ڈکسن بغیر کسی تمہید کےتیز تیز بولنے لگے تھے۔
"اس وقت؟ مگر ڈاکٹر ابھی تو ہم گھر پہنچے ہیں۔ آپ کو پتا ہے نا آج ہماری شادی کا فنکشن تھی۔ ابھی گھر مہمانوں سے بھرا پڑا ہے۔ کیا ہم کچھ انتظار نہیں کرسکتے؟میرے لیے اتنی جلدی میں تو نشاط کو سنبھالنا بھی مشکل ہوگا۔ " عشارب کو جہاں یہ سب سن کرخوشی ہوئی تھی وہیں اتنے سارے لوگوں کو ہینڈل کرنے کی پریشانی بھی۔ دو دن بعد ان کا ولیمہ تھا ، ابھی کچھ دیر پہلے رخصتی ہوئی تھی اور ابھی تو نشاط کے گھر والے گھر بھی نہیں پہنچے ہوں گے۔ اس کے اپنے گھر میں کافی لوگ موجود تھے۔
"میں جانتا ہوں عشارب مگرتمہیں پتا ہے نا لیوور ٹرانسپلانٹ کے لیے کتنی لمبی ویٹنگ لسٹ ہے؟ یہ سب بھی صرف اس لیے ممکن ہواہے کہ میں اس ہاسپٹل میں بہت عرصے ہوں اور میرے لیے سب سے اہم نشاط ہے۔ میں نے بہت کانٹیکٹس استعمال کیے ہیں تب جاکر ہاسپٹل نے مجھے نشاط کے لیے اجازت دی ہے۔ میں صبح تک کی بھی گارنٹی نہیں دے سکتا۔ تمہیں پتا ہے یہاں کتنی پالیٹکس چلتی ہیں۔ جو کرنا ہے ابھی کرنا ہے۔ میں موجود ہوں، ہاسپٹل کے بہترین ڈاکٹرز میں سے دو سرجنز موجود ہیں اور تم بھی ہو گے۔ ہم آج رات کو ہی اس کی سرجری کرسکتے ہیں۔ تم پلیز جلدی کرو۔ میں جب تک سب ریڈی کرواتا ہوں" ڈاکٹر ڈکسن ہر قیمت پر اپنی اسٹوڈنٹ کی زندگی بچانا چاہتے تھے۔
"اوکے ہم ایک گھنٹے تک پہنچتے ہیں۔" زیرِ لب اِن شاءاللہ کہتے وہ فیصلہ کرچکا تھا۔ سب سے زیادہ ضروری نشاط کی زندگی تھی جو وہ ہر قیمت پر بچانا چاہتا تھا اور یہ وہ بھی جانتا تھا کہ زیادہ دیر ہونے ہر ڈاکٹر ڈکسن کچھ بھی نہیں کرسکیں گے۔ اس نے فون اپنے جیب میں ڈالتے ہوئےاندر کی طرف قدم بڑھادیے تھے۔ دلہن بنی نشاط مہمانوں میں گھری ہوئی تھی۔ اس نے کچھ چڑ کر اپنی کزنز کی طرف دیکھا جن کا فوٹو سیشن ہی ختم ہونے میں نہیں آرہا تھا۔ پھر نشاط کی طرف۔ دلہن بنی وہ کہیں سے بھی بیمار نہیں لگ رہی تھی۔ عشارب نے بہت عرصے بعد اسے مسکراتے دیکھا تھا اور اس کے ہمیشہ یونہی مسکراتے رہنے کی دعا کرتے ہوئے آگے بڑھا تھا۔
"چلو بھئی بہت ہوگیا فوٹو سیشن اب میری بیگم کی جان چھوڑو۔" اپنے لہجے میں بشاشت بھرتے اس نے نشاط کا ہاتھ پکڑ کر اسے کھڑا کیا تھا۔
"ارے ابھی تو تمہارے ساتھ بھی کچھ تصویریں کھینچنی تھیں ان لوگوں کو ،تھوڑی دیر تو بیٹھو۔" اس کی امی نے لڑکیوں کو برے برے منہ بناتے دیکھ کر کہا تھا۔
"باقی تصویریں ولیمے پر کھینچ لینا۔ ابھی دولہا دلہن کو ہاسپٹل پہنچنا ہے۔ ایک پیشنٹ کی حالت بہت خراب ہے ابھی ہاسپٹل سے کال آئی تھی۔ ہم دونوں کو فوراً پہنچانا ہے۔" نشاط سمجھی وہ مزاق کررہا ہے مگر وہ بالکل سنجیدہ تھا۔
"دماغ تو ٹھیک ہے عشارب۔ ایسی بھی کیا ایمرجنسی ہے کہ کوئی اور ڈاکٹر نہیں دیکھ سکتا۔ تم دلہن بنی نشاط کو رات کے ایک بجے ہاسپٹل لے کر جاؤ گے؟ کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ڈاکٹرز کی کمی نہیں ہے تمہارے ہاسپٹل میں۔" عشارب کی امی نے کچھ سختی سے کہتے ہوئے اسے گھورا تھا۔
"نشاط کی پیشنٹ ہے مما، ساری کنڈیشن صرف نشاط کو پتا ہے۔ ڈاکٹر ڈکسن کی کال تھی نشاط ،انہوں نے تمہیں ابھی اور اسی وقت آنے کو کہا ہے۔" عشارب کے لہجے میں کچھ ایسا تھا کہ نشاط نے چونک کر اسے دیکھا تھا۔ اس سے پہلے کے باقی سب مزید کچھ کہتے عشارب نشاط کو لیے اپنے روم میں آگیا تھا۔
"کون سی پیشنٹ عشارب؟ میری کچھ سمجھ میں نہیں آیا۔ میں اکیلی تو کوئی بھی کیس ہینڈل نہیں کررہی۔ پھر ڈاکٹر ڈکسن کے ہوتے ہوئے میری کیا ضرورت ہوسکتی ہے؟" نشاط نے الجھے ہوئے انداز میں اس سے پوچھا تھا۔
"نشاط تم پلیز چینج کرلو باقی سب میں تمہیں راستے میں بتاتا ہوں۔ ابھی کوئی سوال نہیں کرنا۔ میں نے ڈاکٹر ڈکسن سے ایک گھنٹے میں پہنچنے کا کہا ہے۔ جلدی کرو پلیز" عشارب نے اس سے نظریں ملائے بغیر کہا تھا اور الماری کھول کر اپنے کپڑے نکالنے لگا۔ نشاط کو لگا کہ کچھ ٹھیک نہیں ہے مگر دوبارہ عشارب سے پوچھنے کے بجائے اس نے جیولری اتارنا شروع کردی۔ دس منٹ میں وہ جانے کے لیے بالکل تیار کھڑی تھی۔
گاڑی کی چابی اٹھائے وہ اسی کا انتظار کررہا تھا۔ باہر نکلتے دیکھ کر مما کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا تھا۔ پنک شرٹ اور گرے پینٹ میں ملبوس نشاط میک اپ اور جیولری سے بے نیاز کچھ گھبرائی ہوئی سی عشارب کے ساتھ آرہی تھی۔ عشارب بھی چینج کرچکا تھا۔
"تمہارا دماغ واقعی خراب ہوگیا ہے عشارب! یہ کیا طریقہ ہے؟ ایسی ہی ایمرجنسی تھی تو تم چلے جاتے نشاط کا جانا ضروری تھا کیا؟ گھر میں مہمان بھرے ہوئے ہیں اور تم اس کچھ گھنٹوں کی دلہن کو ہاسپٹل لے کر جارہے ہو؟" اس کی مما نے غصے سے کہا تھا۔ مائرہ انہیں ٹھنڈا کرنے کی کوشش کررہی تھی۔
"مما پلیز مہمان کسی کی زندگی سے زیادہ اہم نہیں ہوسکتے۔ آپ پلیز ابھی کچھ نہ کہیں میں واپس آکر سب کچھ بتاتا ہوں۔ چلو نشاط" اس نے ان کا جواب سنے بغیر ہی نشاط کا ہاتھ پکڑا اور باہر کی طرف قدم بڑاھادیے تھے۔
نشاط خاموشی سے اسے ڈرائیو کرتا دیکھ رہی تھی کہ وہ خود ہی کچھ بتائے گا۔ مگر وہ پتا نہیں کس سوچ میں گم تھا۔ اس نے ہمت کرکےخود ہی پوچھا تھا۔
"عشارب کچھ بتائیں بھی یہ سب کیا ہے؟ میری ایسی کوئی پیشنٹ نہیں ہےجس کو صرف میں ہی ٹریٹ کرسکتی ہوں۔" نشاط کے پوچھنے پر اس نے ایک نظر اس پر ڈالی تھی اور اپنے اندر بولنے کی ہمت پیدا کرنے لگا۔
"کچھ گھنٹوں پہلے ایک ایکسیڈینٹ کیس آیا تھا اور اس کی ڈیتھ ہوگئی ہے۔ اس پیشنیٹ کے لائسنس پر لکھا تھا کہ وہ
Organ donor
ہے۔ ڈاکٹر ڈکسن نے اس کی فیملی سے بھی اجازت لے لی ہے انہیں کسی قسم کا اعتراض نہیں۔ اس کا لیور، تم سے میچ کررہا ہے اس لیے ڈاکٹر ڈکسن نے کہا ہے کہ ہمیں آج ہی تمہارا لیور ٹرانسپلانٹ کرنا ہے" وہ رکے بغیر بولتا چلا گیا تھا۔
"کیا! میرا لیور ٹرانسپلانٹ؟ آج کیسے عشارب؟ گھر میں سب کو کیسے ہینڈل کریں گے؟ اور ۔ ۔ ۔ ابھی تو میرے مما پاپا پوری طرح خوش بھی نہیں ہوئے۔ مجھے تھوڑا سا وقت تو دیں میں ابھی اس سب کے لیے تیار نہیں ہوں۔" نشاط کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا تھا۔
"پلیز نشاط۔ سب سے اہم تمہاری زندگی ہے۔ میں سب ہینڈل کرلوں گا۔
You have to be strong
اگر تم کمزور پڑگئیں تو میں اکیلا یہ سب نہیں کرسکتا۔" عشارب نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا تھا۔
"مگر عشارب مجھے پتا ہے میں مرجاؤں گی۔ پھر اتنی جلدی۔ ۔ ۔ ابھی جو وقت میرے پاس بچا ہے میں وہ اپنے ہاتھوں سے کیسے گنوادوں۔" نشاط نے رونا شروع کردیا تھا۔
"تمہیں اِن شاءاللہ کچھ نہیں ہوگا نشاط۔ اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ میں تمہارے ساتھ ہوں۔ پھر تمہیں ڈرنے کی کیا ضرورت ہے؟ میں تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گا۔" اس نے نشاط کوتسلی دینے کی بھرپور کوشش کی تھی۔ اس وقت اس کے اپنے دل کی حالت عجیب تھی مگر وہ جانتا تھا کہ اس کے پاس کوئی اور راستہ نہیں ہے۔
"تمہیں پتا ہے نا ویٹنگ لسٹ کتنی لمبی ہے؟ اس کے باوجود ڈاکٹر ڈکسن نے پتا نہیں کس طرح مینج کیا ہے۔ پلیز نشاط اس وقت تمہیں میرا ساتھ دینا ہوگا۔ اگر تمہیں مجھ سے ذرا سی بھی محبت ہے تو تم اپنے آپ کو سنبھالو۔ مجھ پر یقین ہے نا؟ میں تمہارے ساتھ ہوں تو پھر کچھ غلط نہیں ہوسکتا اِن شاءاللہ۔" عشارب نے اسے سمجھاتے ہوئے کار پارک کی تھی۔
"اگر مجھے کچھ ہوگیا نا عشارب تو مما پاپا کو کون سنبھالے گا؟ وہ لوگ آج کتنےخوش تھے۔ اب یہ سب پتا چلے گا تو ان کی کیا حالت ہوگی ؟" نشاط نے روتے ہوئے اس کا ہاتھ بہت مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا ۔
"انہیں بتائے گا کون؟ صبح تم خود بتاؤ گی اِن شاءاللہ۔ اور جب انہیں پتا چلے گا کہ سب کچھ ٹھیک ہوچکا ہے تو سوچو پھر پریشانی کی کیا بات رہ جائے گی۔ یہ سب کسی معجزے سے کم نہیں ہے کے اتنی جلدی لیور میچ کرگیا ۔ اس کا یہی مطلب ہے کہ ہماری دعائیں قبول ہوچکی ہیں۔ یہ سب اللہ کی طرف سے آزمائش تھی اور اسی کی طرف سےانعام ہے۔ تم صرف اچھا سوچو نشی چلو شاباش میں تمہارے ساتھ ہوں نا۔" اس نے یقین دھیانی کرواتےہوئے ڈاکٹر ڈکسن کو اپنے پہنچنے کا بتانے کے لیے کال کی تھی۔
* - - -* - - - *
یہ کسی معجزے سے کم نہیں تھا کہ ایک طرف زندگی کی بازی ہارتی نشاط زیدی تھی تو دوسری طرف زندگی سے بھرپور شخص ۔ ایک طرف ہر لمحہ موت سے خوفزدہ رہنے والی نشاط تھی تو دوسری طرف زندگی سے لطف اندوز ہوتا وہ شخص جس کے وہم و گمان میں بھی موت نہیں تھی۔ مگر یہ سب اللہ کے ہاتھ میں ہے کہ بھرپور زندگی گزارتے کسی انسان کی قسمت میں موت اور موت سے لڑتے کسی شخص کی زندگی میں روح پھونک دے۔
نشاط کی سرجری کامیاب رہی تھی اور اب وہ دواؤں کے زیرِ اثر غنودگی میں تھی۔ ابھی کسی اور کو اس سے ملنے کی اجازت نہیں تھی مگر عشارب ہر لمحہ اس کے ساتھ رہا تھا۔ جب نشاط نے آنکھیں کھولیں تو سب سے پہلی نظر پاس کھڑے عشارب پر پڑی تھی اور اس کی آنکھوں سے بے ساختہ آنسو بہنے لگے تھے۔
"پلیز نشاط اب نہیں رونا۔اب سب ٹھیک ہوگیا ہے نا تو پھر رونے کی کیا بات ہے؟" عشارب نے اس کے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا تھا۔ کچھ دیر میں اس کے مما پاپا اور عشارب کی فیملی بھی ملنے آگئی تھی۔ پتا نہیں عشارب نے ان سب کو کیسے مطمئن کیا تھا کہ ان میں سے کسی نے بھی اس سے کوئی سوال نہیں کیا۔ بس نشاط کی مما مستقل روئے جارہی تھیں اور اس پر کچھ پڑھ پڑھ کر پھونکتی جارہی تھیں۔ اور نشاط اب تک بے یقین تھی کہ کیا واقعی اللہ تعالیٰ نے اسے اتنے سارے رشتے کھونے سے بچالیا ہے۔ یہ واقعی عشارب کی دعاؤں کا نتیجہ تھا کیونکہ اس نے خود تو اتنے یقین سے دعا کی بھی نہیں تھی۔ پھر بھی اللہ تعالیٰ نے اسے زندگی بخش دی تھی۔ وہ جتنا شکر گزار ہوتی کم تھا۔
* - - - * - - - *
نشاط کی صحتیابی کی خوشی میں عشارب اسے ڈنر پر لایا تھا۔ وہ دونوں بہت خوش خوش باہر نکل رہے تھے کہ اندر داخل ہوتے تابش سے ملاقات ہوگئی۔ نشاط نے تیزی سے باہر نکلنے کی کوشش کی مگر عشارب نے اس کا ہاتھ پکڑ کر روک لیا اور خود تابش کو سلام کرنے میں پہل کی تھی۔
"یہ میری وائف ہیں ابھی پچھلے مہینے ہی ہماری شادی ہوئی ہے۔" سلام دعا کے بعد سب سے پہلی بات تابش نے یہی کی تھی۔ مگر نشاط کو اس کے کچھ جتاتے انداز پر افسوس ہوا۔ وہ کہیں سے بھی اپنے کیے پر شرمندہ نہیں لگ رہا تھا۔ اگر اسے نشاط سے انگیجمنٹ ختم کرنی بھی تھی تو وہ الزام لگانے کی کیا ضرورت تھی؟
"ارے یہ تو بہت خوشی کی بات ہے۔ ہم دونوں کی طرف سے آپ دونوں کو بہت مبارک ہو۔ " عشارب نے مسکراتے ہوئے انہیں مبارکباد دی تو نشاط نے اپنا ہاتھ چھڑواتے ہوئے کہا تھا۔ "چلیں عشارب دیر ہورہی ہے۔" اور عشارب نے اس کی بات جیسے سنی ہی نہیں تھی۔ تابش خاموشی سے دونوں کو دیکھ رہا تھا۔
"ہمیں مبارکباد نہیں دو گے؟" عشارب نے تابش کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تھا۔
"کس بات کی مبارکباد؟" تابش نے ناسمجھی سے پوچھا تھا۔
"چلو پہلے تعارف کروادوں۔ یہ ہیں نشاط اور اب میری وائف مسز عشارب ۔" اس نے کہتے ہوئے تابش کی طرف دیکھا مگر وہ نشاط کو حیرانگی سے دیکھ رہا تھا۔
"تمہیں تو شادی نہیں کرنی تھی نشاط؟ یہی کہا تھا نا تم نے مجھ سے؟" تابش اپنی وائف کی موجودگی فراموش کیے نشاط سے پوچھ رہا تھا۔ اس سے پہلے کے نشاط کچھ بولتی عشارب پھر بول پڑا تھا۔
"ارے! تم وہ سب سچ سمجھے تھے؟ وہ سب تو تم سے جان چھڑانے کے لیے ڈرامہ کیا تھا ۔ نشاط الحمد اللہ بالکل ٹھیک ہے۔ اصل میں میں اور نشاط بہت عرصے سے ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے۔ تم پتا نہیں کہاں سے ہمارے بیچ ٹپک پڑے۔ مجھ سے پہلے تمہارا پروپوزل پہنچ گیا اور میں بچارا نشاط کی خوشی میں خوشی چپ کرگیا۔ مگر نشاط کو شک تھا کہ تم محبت محبت کا شور کرنے والے محبت کے نام سے بھی نا واقف ہو۔ بس پھر میں نے نشاط کو آئیڈیا دیا کہ تمہیں آزما کر دیکھ لے۔ اب یہ تمہاری قسمت کے تم آزمائش میں پورے نہیں اترے اور میں تو چاہتا ہی یہی تھا۔ چلو پھر مبارکباد کے بعد شکریہ بھی قبول کرو کے تم خود ہی بیچ سے ہٹ گئے۔" عشارب بولتا جارہا تھا اور تابش کا چہرہ غصے سے سرخ ہوگیا تھا۔
"بہت بے ہودہ مزاق تھا یہ۔" تابش کا غصے کے مارے برا حشر تھا۔
"مزاق؟ نہیں بھائی مزاق نہیں تھا۔ اپنے بیچ سے تمہیں نکالنے کا منصوبہ تھا جو اللہ کے کرم سے کامیاب رہا۔ چلو نشاط۔" اپنی بات ختم کرکے وہ دونوں باہر نکل آئے تھے۔
"یہ جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت تھی؟ اب ان کا شک یقین میں بدل گیا" نشاط نے کچھ ناراضگی سے کہا۔
"بالکل بیوقوف ہو تم۔ اسے دیکھا تھا اپنی وائف کا تعارف کیسے کروارہا تھا؟ انسان اپنے کیے پر کچھ تو شرمندہ ہو۔ اور تم کیوں ڈر کر بھاگ رہی تھیں؟ شک یقین میں بدلتا ہے تو سو دفعہ بدلے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑنا چاہیے" عشارب کافی خوش لگ رہا تھا۔
"تھینکس عشارب۔ آ پ نے یہ آخری پھانس بھی نکال دی۔" نشاط بہت ہلکی پھلکی ہوگئی تھی۔
"ارے اس میں تھینکس کی کیا بات ہے؟ یہ تو میرا فرض تھا۔" اس نے ہنستے ہوئے کہا ۔
"ہاں اس "فرض" کے بارے میں اندازہ ہے مجھے۔" نشاط نے اسے گھورا تھا۔
" ہاں تو کیا غلط کیا؟ اس سے بدلا تو مجھے خود بھی لینا تھا۔ آخر اس کی وجہ سے پورے دو مہینے پریشان رہا ہوں۔ " عشارب مسلسل مسکرارہا تھا۔
"ویسے مزہ تو بڑا آیا۔ آپ نے ان کی شکل دیکھی تھی اور ان کی وائف پہلے مجھے گھوررہی تھیں پھر تابش کی بات پر ان کو گھورنا شروع کردیا۔" نشاط نے مسکراتے ہوئے کہا۔
"ہاں مزہ تو بہت آیا۔ اب اصل مزہ اسے گھر پہنچ کر آئے گا۔ جب وہ اس کی کلاس لیں گی" عشارب کے کہنے پر نشاط نے ہنستے ہوئےدعا کی تھی کہ وہ ہمیشہ اس کی زندگی کی تمام مشکلات اسی طرح چٹکیوں میں حل کردے اور وہ یونہی ہنستے مسکراتے رہیں۔
نشاط آج بہت خوش تھی۔ عشارب نے واقعی اپنا وعدہ پورا کیا تھا۔ اس نے نشاط کو بکھرنے سے پہلے ہی سمیٹ لیا تھا۔
ختم شد