004 - ام المومینین تحریر میمونہ کرن

رملہ بنت ابو سفیان ؓ

یہ بات تو ابو سفیان بن حرب کے حاشیہ خیال میں بھی نہیں آئی تھی کہ قریش کا کوئی افرد اس کے کسی فیصلے سے بغاوت یا کسی اہم معاملے میں اسکی مخالفت کرنے کی جرات کرے گا۔۔کیونکہ وہ مکہ کا ایک ایسا سردار تحا جس کا ہر فیصلہ واجب التعمیل سمجھا جاتا تھا،اور کچھ ایسا غلط بھی نہیں تھا کہ اُس کی شخصیت اور ذہانت کی مثال نہیں ملتی۔۔۔
لیکن اس کی اپنی ہی بیٹی رملہ نے جو اپنی کنیت ام حبیبہ سے معروف تھی۔اس کے باطل معبودوں کی الواہیت سے انکار کر کے اس کی چودھراٹ کا بھرم کھول دیا۔ نیز اس کے شوہر عبید اللہ بن جحش نے خدائے واحد پہ ایمان اور محمد ﷺ کی رسالت کا اعلان کر کے اس کے غبارے کی ہوا نکال دی۔
ابو سفیان نے اپنی بیٹی اور داماد کو ان کے دین سے پھیرنے کے لیے او ر اپنے آباء وا جداد کے دین میں لانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور صرف کر ڈالا مگر اس کی ساری کوششیں دھری کی دھری رہ گئیں اور وہ اپنے مقصد میں بُری طرح ناکام ہو گیا کیونکہ جو دین رملہ کے دل میں بیٹھ چکا تھا اس کی جڑیں بہت گہرائی میں جا چکی تھیں کہ اُسکے باپ کے باطل پلان اور غضب کے طوفان اُسکو اُکھاڑ کیا ہلا بھی نہ سکے۔
ابو سفیان کو اپنی بیٹی کے مسلمان ہو جانے کا بے پناہ دکھ تھا اور اپنی تمام تر کوششوں میں بری طرھ ناکام ہونے کے بعد اُسکو قریش میں رسوائی کا ڈر ستانے لگا۔
جب قریش نے دیکھا کہ ابو سفیان رملہ اور اسکے شوہر پہ بہت ناراض ہے تو وہ لوگ اس مقدس جوڑے کی جان کے درپے ہو گئے۔ یہاں تک کہ اُن کے لئے مکہ میں رہنا مشکل ہو گیا۔جب رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کو حبشہ ہجرت کرنے کی اجازت فرمائی تو رملہ بنت ابی سفیان ؓ ، اُن کے شوہر عبید اللہ بن جحش اور اُنکی چھوٹی بیٹی حبیبہ مہاجرین کے اُس قافلے میں پیش پیش تھے، جنہوں نے اپنے دین کی حفاظت کے لیے اپنا وہ وطن جس میں وہ پلے بڑھے جوانی کے حسین دن گزارے تھے کو خیر آباد کہہ دیا۔
لیکن مسلمانوں کی اس مختصر سی جماعت کا اُن کے ہاتھ سے بچ نکلنا اور حبشہ میں سکون سے اپنے اللہ کی عبادت کرنا سخت ناگوار گزرا۔اس لیے اُنہوں نے نجاشی کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکانے اور اُنکی واپسی کا مطالبہ کرنے کے لیے اپنے سفیروں کو حبشہ بھیجا۔۔
نجاشی نے مسلمانوں کو بُلا کر اُنکے دین کی اصلیت دریافت کی اور وہ جو وہ عیسیٰ ابن مریم کے بارے میں کہتے ہیں۔ اُس نے قرآن سُننے کی خواہش کا بھی اظہار کیا،حضرت علی کے بھائی حضرت جعفر طیار نے قرآن مجید کی چند آیات سُنائیں روتے روتے نجاشی کی داڑھی آنسوﺅ ں سے تر ہو گئی
پھر اُس نے مسلمانوں سے کہا
”یہ جو کلام تمہارے نبی پہ اُترا ہے اور وہ جس کو عیسیٰ ابن مریم لائے تھے ۔
دونوں ایک ہی نور کی شعائیں ہیں۔“
پھر وہ دائرہ اسلام میں داخل ہو گیا۔اس موقع پہ اس نے ان مسلمانوں کی حمایت کا اعلان کیا اور سخت الفاظ میں کفار کے نمائندوں عمرو بن عاص اور عبداللہ بن ربیعہ کو جانے کا کہا۔ اُس نے اس معاملے میں اپنے سرداروں کی بھی کوئی پروا نہیں کی جنہوں نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا اور نصرانیت پہ قائم رہنے کو ترجیح دی۔
اس کے بعد اُم حبیبہ ؓ نے سمجھا کہ طویل پریشانیوں کے بعد اب حالات معمول پہ آ جائیں گے مگر وہ حالات اُنکی نگاہوں سے پوشیدہ تھے جنہیں نوشتہ تقدیر نے اُن کے لیے چھپا رکھا تھا۔اللہ تعالیٰ نے ام حبیبہؓ کو ایسے مشکل امتحان میں ڈال دیا جس میں بڑے بڑے ارباب ِ عقل ودانش حیران اور سرگشتہ رہ جائیں لیکن اُسی کے ساتھ اللہ پاک نے سخت ترین آزمائش سے نکال کر فلاح کی بلند ترین چوٹی پہ پہنچا دیا۔
ایک رات اُم حبیبہؓ نے خواب دیکھا کہ اُن کے شوہر عبیداللہ بن جحش ایک ایک طوفان میں پھنسے ہوئے ہیں اور اُس سے نکلنے کے لیے ہاتھ پاوں مار رہے ہیں جس پہ تہ بہ تہ تاریکیاں مسلط ہیں اور وہ انتہا¾ی ناگفتہ بہ حالت میں گرفتار ہے۔
خوف اور اضطراب کی وجہ سے اُنکی آنکھ کھل گئی اس کا ذکر وہ کسی سے نہیں کرنا چاہتی تھیں لیکن وہ خواب بہت جلد ایک حقیقت کی شکل میں اُنکے سامنے آ گیا۔اس منحوس رات کی صبح ابھی شام میں بھی نہ تبدیل ہوئی تھی۔کہ عبیداللہ بن جحش نے اپنے دین اسلام سے مرتد ہو کر نصرانیت اختیار کر لی۔اس کے بعد اُس کا ذیادہ وقت شراب خانوں میں گزرنے لگا اس کثرت کے ساتھ شراب نوشی کیا کرتا تھا ۔ اس نے اس مقدس خاتون کو دو میں سے ایک چیز کے انتخاب کی آزادی دی جو کہ دونوں ہی انتہائی ناپسندیدہ تھیں پہلی تو یا وہ طلاق لے لیں یا نصرانیت اختیار کر لیں۔
حضرت ام حبیبہ ؓ نے خود کو اچانک تین مشکلات میں پایا۔
یا تو وہ اپنے شوہر کی بات مان لیں جو اُنکو مسلسل نصرانیت کی دعوت دے رہا تھا اور ا س طرح اپنے دین سے پھر جائیں اور دُنیا اور آخرت کی ذلت سے دوچار ہوں۔ اور یہ ایک ایسا کام تھا جو وہ کسی صورت پہ نہیں کر سکتی تھیں۔
یا وہ مکہ میں اپنے والد کے گھر واپس چلی جائیں وہاں ایسی زندگی گزارنے پہ مجبور ہو جائیں جس میں اُنکو اپنے دین پہ عمل کرنے سے روک دیا گیا ہو۔کیونکہ مکہ ابھی بھی کفر و شرک کا گھر تھا۔
یا وہ تنہا اور بے یار و مدد گار سرزمین حبشہ میں ٹھہری رہیں۔
اُنہوں نے اللہ کی رضا کو ہر چیز پہ مقدم رکھتے ہوئے تیسری شکل کو ترجیح دی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے آسانی اور کشادگی کی امید رکھی اور ایک اجنبی سر زمین پہ مقیم رہنے کا فیصلہ کیا۔
ام حبیبہؓ کو اللہ تعالیٰ سے جس مدد کی توقع تھی اُس کے لیے اُنہیں زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا کیونکہ اُنکے شوہر کی عدتِ وفات سے فارغ ہوتے ہی (جو ارتداد کے بعد زیادہ دن زندہ نہ رہ سکا)با لکل غیر متوقع طور پہ اُنکے پاس اُنکی خوش نصیبی کا پروانہ آ پہنچا۔
ایک روز چاشت کے وقت اُنکے دروازے پہ دستک ہوئی جب اُنہوں نے دروازہ کھولا تو اچانک اپنے سامنے نجاشی کی خادمہ خاص ”ابرہہ“ کو دیکھ کر مبہوت ہو گئیں۔ابرہہ نے بڑے ادب اور خندہ پیشانی سے اندر آنے کی اجازت مانگی اور کہا
”بادشاہ سلامت آپکو سلام کہتے ہیں اور کہتے ہین کہ محمد رسول اللہ ﷺ نے آپ کو نکاح کا پیغام بھیجا ہے اور ایک خط کے ذریسعے اُن کو اپنا وکیل بنایا ہے تو آپ بھی اپنی طر ف سے کسی کو وکیل مقرر کیجئے“۔
یہ سُن کر اُم حبیبہ ؓ خوشی سے پھولے نہیں سمائیں اور بے ساختہ بول پڑیں
”اللہ تم کو خوش رکھے۔اللہ تم کو خوش خبری سُنائے“
پھر اپنے جسم سے ایک ایک کر کے تمام زیورات اُتارنے لگیں۔اُنہوں نے اپنے کنگن اُتار کر ابرہہ کو دے دیے۔اور اگر اُس وقت اُنکے پاس دُنیا کے تمام خزانے ہوتے تو وہ سب ابر ہہ کو بخش دیتیں۔پھر اُنہوں نے خالد بن سعید بن عاص کو اپنا وکیل بنایا اور کہا کہ وہ میرے قریب ترین رشتہ دار ہیں۔
نجاشی کا محل درختوں سے گھرے ہوئے ایک بلند ٹیلے پہ واقع تھا اور اس کے نشیب میں حبشہ کا سب سے خوبصورت باغ اس کے حسن کو چار چاند لگا رہا تھا۔اسی محل کے ایک وسیع اور عریض ہال میں جو پیتل کے سنہرے چمکیلے چراغوں سے منو ر ہو رہا تھا۔حبشہ میں مقیم صحابہ کرام جن میں حضرت جعفر طیار ؓ حضرت خالد بن سعید بن عاص ؓ اور حضرت عبداللہ بن حذافہ سہمیؓ وغیرہ شامل تھے یہ سب اس بابرکت نکاح کی تقریب میں شامل تھے۔
سب لوگ آ چکے تو نجاشی نے نکاح کا خطبہ پڑھا۔اور کہا کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا ہے کہ میں ام حبیبہ بنت ابو سفیان کو اُن کے عقد میں دے دوں سو میں آپ کے حکم کی تعمیل کرتا ہوں اور اُنکی طرف سے ام حبیبہؓ کو چار سو طلائی دینار بطور مہر ادا کرتا ہوں۔
اور اُنہوں نے دینار خالد بن سعید کے سامنے ڈھیر کر دیے۔
اس کے بعد خالد بن سعید نے جوابی خطبہ ارشاد فرمایا۔اور پھر خالد دیناروں کو اُٹھا کر کھڑے ہو گئے تاکہ اُنہیں اُم حبیبہؓ کے یہاں پہنچا دیں اور اُسکے ساتھ ہی باقی صحابہ ؓ بھی اُٹھ کھڑے ہوئے تو نجاشی نے اُنکو مخاطب کرتے ہوئے کہا ۔۔
”آپ حضرات ابھی تشریف رکھیں کیونکہ انبیاء کی سنت ہے کہ وہ جب نکاح کرتے ہیں تو کھانا کھلاتے ہیں۔“
پھر اُنہوں نے کھانا منگوایا اور سب لوگ اس سے فارغ ہو کر اپنی اپنی قیام گاہوں کی جانب لوٹ گئے۔
حضرت ام حبیبہؓ کہتی ہیں۔
”جب مہر کی رقم میرے پاس پہنچی تو میں نے اس میں سے پچاس مثقال سونا ابرہہ کے ہاں بھیج دیا اور ساتھ ہی یہ بھی کہلا بھیجا کہ خوش خبری دیتے وقت میں نے تم کو جو کچھ دیا تھا وہ اس حال میں دیا تھا کہ میرے پاس دینے کو اور کچھ نہ تھا۔۔۔تھوڑی دیر بعد ابرہہ میرے پاس آئی اور اس نے وہ سونا جو میں نے اُس کو دیا تھا اور وہ بھی جو اُس کے پاس بھیجا تھا یہ کہتے ہوئے لوٹا دیا کہ بادشاہ نے مجھے آپ سے کچھ سختی سے منع کیا ہے۔ اور انہوں نے اپنی تمام بیویوں کو حکم دیا ہے کہ اُن کے پاس جتنی بھی خوشبو یا عطریات ہوں وہ آپ کے پاس بھیج دیں۔ اگلے روز ابرہہ میرے پاس جتنی عود و عنبر اور زغفران لے کے آئی۔پھر اُس نے کہا مجھے آپ سے ایک ضرورت ہے میرے پوچھنے پہ اُس نے کہا کہ میں نے اسلام قبول کر لیا ہے تو آپ نبی ﷺ کو میرا سلام پہنچا دیجئے گا،اور اُن کو بتا دیجئے کہ میں اُن پہ ایمان لا چکی ہوں۔ اس کو بھولیے گا مت،پھر اس نے میری روانگی کا انتظام کیا اور میں رسول اللہ ﷺ کی طرف روانہ کر دی گئی ۔ مدینہ کی بندگاہ پہ جہاز لنگر انداز ہوا۔ آنحضرت ﷺ اُس وقت خیبر میں تشریف رکھتے تھے۔
جب میری ملاقات رسول اللہ ﷺ سے ہوئی تو میں نے نکاح کی پوری روداد آپ ﷺ کو سنائی اور ابرہہ کا سلام بھی پہنچا دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کی باتیں سُن کر نہایت خوش ہوئے اور اس کے سلا کے جواب میں فرمایا۔۔

و علیھا السلام و رحمة اللہ و برکا تہ۔

اولاد:۔
ام حبیبہؓ کے پہلے شوہر سے دو بچے عبداللہ اور حبیبہ پیدا ہوئے۔ حبیبہ ؓ نے آغوش نبوت ﷺ میں پرورش پائی اور داﺅد بن عروہ بن مسعود سے منسوب ہوئیں جو قبیلہ بنی ثقیف کے رئیس اعظم تھے۔

فضل وکمال :۔
حضرت ام حبیبہ ؓ سے حدیث کی کتابوں میں ۵۶ روایتیں منقول ہیں۔ راویوں کی تعداد بھی کم نہیں بعض کے نام یہ ہیں۔ حبیبہؓ(جو اُنکی بیٹی تھیں) معاویہ اور عتبہؓ ابو سفیان ؓ کے لخت جگر، ابو سفیان بن سعید ثقفی، سالمؓ بن سوار ابو الجراح، صفیہؓ بنت شیبہ ، زینب بنت ابو سلمہ ؓ، عروہ بن زبیر ؓ ۔۔
آپ حدیث پہ بہت شدت سے عمل کرتی تھیں اور دوسروں کو بھی تاکید کیا کرتی تھیں۔ صبر اور استقلال کا پیکر تھیں اور نبی پاک ﷺ سے عشق اور سنت کا اتباع اُنکا خاص وصف تھا۔

وفات:۔
حضرت ام حبیبہ ؓ نے اپنے بھائی امیر معاویہ ؓ کے زمانہ ِ خلافت میں انتقال فرمایا۔سن ۴۴ ہجری۔
اور مدینہ میں دفن ہوئیں۔اُس وقت آپ کی عمر مبارک ۳۷ تھی۔

آپ ؓ کی زندگی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ وہ ایک باوقار سردا ر کی لخت جگر تھیں ،شہزادی تھین۔ حسن و جمال میں اپنی مثال آپ تھیں۔اوصاف حسنہ بدرجہ اُتم موجود تھے لیکن زندگی کے آرام و سکون ، عزت و اقتدار، شوکت و حشمت کو اسلام پہ قربان کر ڈالا۔
ہماری عادت ہے کہ ذرا سی تکلیف پہنچنے پہ طوفان پربا کر دیتی ہیں ۔ لیکن اُم حبیبہ ؓ کے پاکیزہ زندگی میں جھانکیں تو پتہ چلتا ہے کہ آپ ؓ کی زندگی اُن کے لیے مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہے جو دولت اور آسودگی کو زندگی کا نصب العین سمجھتے ہیں اور اسی معیار پہ کھرے اور کھوٹے کو پہنچاننے کی عادی ہوتے ہین۔اُم حبیبہؓ کی آخر کون سی مجبوری تھی جس سے وہ آرام اور آسائش،دولت و ثروت کو ٹھکرا کر بوریا نشین فاقہ مست فقیروں کی نورانی اور مقدس میں جا کھڑی ہوئیں۔طرح طرح کے مصائب اور آلام کو گلے لگایا اور خطرات کو دعوت دی۔اُس شہر کو ٹھکرایا جس کے گلی کوچوں میں بچپن گزارا،جہاں کا ہر ذرہ اس حسن و جمال کی شہزادی کو جھک کر سلام کرتا تھا،اس کے لیے ہی ایک اجنبی دیس بن گیا۔اس کے بعد اپنے باوقار اور نامور سردار اپنے باپ کے خلاف کھڑی ہو گئیں، پردیس میں جب شوہر نے ساتھ چھوڑا تو اللہ کے بھروسے پہ ایمان کا دامن اس مضبوطی سے تھامے رکھا کہ تاریخ اسلام کا ایک لازوال کردار بن گئیں اور صبر اور استقلال کی ایک روشن مثال سے تاریخ کے ورق جگمگا اُٹھے۔
اُن کے دل مین صرف ایمان اور ہدایت کی تڑپ تھی، سچائی اور صداقت کی طلب تھی، حقیقت کی جستجو تھی اور رضائے الٰہی حاصل کرنے کے لےے خود کو اُنہوں نے رسول اللہ ﷺ کی مھبت اور اطاعت میں فنا کر دیا۔وہ آج بھی زندہ ہیں اور قیامت تک دُنیا کے ان گنت لوگ ان کے مقدس نام پہ عقیدت اور محبت کے پھول نچھاور کرتے رہیں گے۔