اور جب بڑھاپا چھا گیا از کشتاج

یہ اس وقت کی بات ہے جب ون اردو ممبران پر بڑھاپا چھا گیا تھا۔

ایک دن ٹیم بھائی کے پاس ایک انویٹیشن لیٹر آیا، جس میں ون اردو ممبران کو مدعو کیا گیا تھا۔ ٹیم بھائی لاٹھی ٹیکتے ہوئے اور لڑکھڑاتے ہوئے ڈائس تک پہنچے اور اعلان کرنا شروع کیا جو کہ کچھ یوں تھا

"محترم ممبران السلام علیکم!
خواہش ہے کہ میرا یہ پیغام آپکو حال میں ملے ۔ (مستقبل کا سوال کہاں؟)……" پھر ٹیم بھائی کافی دیر تک لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کرتے رہے کہ کہاں سے دعوت آئی ہے اور کب تک جانا ہے ۔ جب تھک گئے تو کہنے لگے، "اب سمارا بہن آپ کو بتائیں گی کہ کس طرح تیار ہونا ہے (ظاہر ہے بڑھاپے میں اکثر لوگ تیار ہونا بھی بھول جاتے ہیں کہ جوانی میں کیسے بن ٹھن کر جاتے تھے۔")
سمارا آپی جس ڈائری میں یہ سب کچھ لکھ کر لائی تھیں اسی ڈائری میں پچھلے صفحے پر ساحرہ آپا کے مصالحہ بھرے رول کی ریسیپی بھی لکھی ہوئی تھی اور اگلے صفحے پر جو کچھ کہنے جارہی تھیں وہ لرزتے ہاتھوں کی بدولت چھوٹ جاتا اور اڑ کر صفحہ پلٹ جایا کرتا اور جب تک وہ واپس صفحہ پلٹتیں، تب تک سامنے والے صفحے کو ہی پڑھتی جاتیں۔ (ظاہر ہے عزت کا سوال ہوتا ہے نا) اسی لیے وہ کچھ اس قسم کا اعلان کرسکیں۔

" السلام علیکم "

جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ آج شام کو ہمیں ایک دعوت میں جانا ہے اور اس کے لیے سب سے پہلے اپنی الماری سے اپنی پسند کا بہترین سوٹ نکالیں… اب اس میں اچھی طرح سے مصالحہ بھرلیں…اس کے بعد اسے پہن لیں پھر آپ اپنا منہ اچھی طرح سے دھوئیں… اب اس پر آٹا لگاتے جائیں… پھر اپنے ڈریس سے ملتی جلتی یعنی میچنگ کی جوتیاں اٹھائیں اور… اس میں تیل ڈال کر پہن لیں… اب اپنی ضرورت کا تمام سامان اٹھا کر چولہے پر بیٹھ جانا ہے… اور یہ بس آپ کو ون اردو مین روڈ پر کھڑی ملے گی۔
شکریہ۔"
اعلان سننے کے بعد سب اپنے اپنے گھر چلے گئے۔ اس اعلان کو بڑی مشکل سے سنا گیا۔ کیونکہ کچھ ممبران تک تو یہ بوڑھی، مریل اور نحیف سی آواز پہنچ ہی نہ سکی اور کچھ لوگ جو آگے بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے اپنے کانوں میں آلۂ سماعت لگایا ہی نہیں ہوا تھا۔ لیکن ٹیم بھائی بھی خوب سمجھ دار نکلے ۔ انہوں نے اندازہ لگایا کہ کسی کو ان کی آواز نہیں گئی ہو گی۔ اس لیے انہوں نے مختصراً بلیک بورڈ پر لکھ دیا کہ " آج رات ایک دعوت کے لیے آٹھ بجے ون اردو مین روڈ پر کھڑی بس میں سوار ہونا ہے۔"

شام ہوئی اور سب لوگ بس میں آبیٹھے۔ اچانک ساحل بھائی کو یاد آیا کہ تالا لگانا تو بھول ہی گیا۔ لیکن انہوں نے ٹینشن بالکل نہیں لی اور اطمینان سے کھڑکی سے باہر جھانکا اور ریموٹ والا ہاتھ آگے کیا اور یہ کیا؟ ٹھک کر کے تالا لگ گیا… اب کون اس بڑھاپے میں بار بار جا کر تالے لگائے۔
پھر گل رعنا آپی نے سب لوگوں کی حاضری لگائی۔ جب انہیں یقین ہو گیا کہ تمام لوگ آ چکے ہیں تو انہوں نے احمد لون بھائی کو بس چلانے کا کہا۔ اور یوں یہ بس چل پڑی۔ کچھ دیر بعد سب لوگ دعوت میں پہنچ گئے۔ یہاں سارا ہال مختلف قسم کے کھانوں کی خوشبوؤں سے مہک رہا تھا۔ احسان سحر بھائی خوش ہوکر کہنے لگے، "واہ بھئی واہ، یہاں پر کتنے لذیذ کھانوں کی خوشبوئیں آرہی ہیں۔ "
دلپسند: " اور مجھے تو لگ رہا ہے کہ بوڑھوں کے لیے کوئی اسپیشل انتظام بھی کیا گیا ہے تڑکا…" ابھی تڑکا لگانے ہی والے تھے کہ کہیں سے اصلی تڑکا لگایا گیا، جس کی وجہ سے وہ کھانستے ہوئے بمشکل چیخے، " یہ کس کم بخت نے تڑکا لگا دیا ہے؟" ہال میں بہت سے ایسے لوگ بھی تھے جو اس سب سے بے نیاز گپیں لگارہے تھے۔ جیسے کہ ساحرہ آپی اپنی سہیلیوں کو اپنی لاٹھی دکھا دکھا کر بتارہی تھیں، "دیکھو میں نے آج ہی اپنی پوتی سے اس لاٹھی کا "غلاف" سلوا کر چڑھوایا ہے۔ دیکھو کتنا پیارا لگ رہا ہے۔" جرار ذرا اس کی تصویر تو کھینچنا۔ " آمنہ آپی جن کی عینک کے چشمے مزید موٹائی اختیار کرچکے تھے وہ عینک کو ناک پر چڑھا چڑھا کر بغور لاٹھی کے غلاف کا جائزہ لینے لگیں کہ اس میں ایسا کیا ہے کہ اس کی تصویر کھنچوائی جائے۔"
جرار بھائی جو اپنی ڈریم گرل، جن کے تمام دانت ٹوٹ چکے تھے، ان کے ساتھ بیٹھے تھے۔ انہیں ساحرہ آپا کی یہ بات قطعی پسند نہ آئی۔ اس لیے طرح طرح کے منہ بنانے لگے۔ دراصل وہ منہ پھلا کر بیٹھ جانا چاہتے تھے، لیکن لٹکی ہوئی جھریوں بھری کھال ایک انچ بھی نہ پھول سکی۔
ایک طرف خواتین کی باتیں اور دوسری طرف امان بھائی کی شاعری۔ امان بھائی سب لوگوں کو اپنے اشعار سنا سنا کر "خوش" کرنے کی کوشش کررہے تھے۔ ان کی شاعری پر بھی جیسے بڑھاپا چھا گیا تھا۔ وہ خود بھی اپنے اشعار نہیں سمجھ پاتے تھے، لیکن وہ سناتے ضرور تھے عادت جو ٹھہری۔
امان:
" مرنا ہے سب ہی کو اک نہ اک دن امان
کوئی مر نہ جائے بڑھاپے کی خوشی میں"
سب جلدی جلدی دعائیں کرنے لگے کہ کسی طرح کھانا لگے اور جان چھوٹے۔ (اب اس میں بیچارے امان بھائی کا بھی کیا قصور؟ سنا ہے جوانی میں بہت ہوشیار رہا کرتے تھے۔ لیکن اب تو بڑھاپا آ ہی گیا تھا نا !!! اس میں کسی بات کا "ہوش" نا کوئی "یار", بس گزررہی تھی جیسے تیسے شاعری کرتے)
پھر کچھ دیر میں سب کی یہ دعا قبول بھی ہوگئی۔ اور روٹی کھل گئی۔ سب لوگ کھانے پر ٹوٹ پڑے۔ مگر اب وہ دم اور خم کہاں رہا، جو جوانی میں ہوا کرتا تھا۔ بڑی مشکل سے سب نے آہستہ آہستہ کھانا شروع کیا۔ ابھی کھانا شروع کیے ہوئے کچھ ہی دیر پوئی تھی کہ عامر بھائی نے بچوں کی طرح رونا شروع کر دیا کہ انہیں لیگ پیس نہیں ملا۔ بڑی مشکلوں سے انہیں ایک دو لیگ پیس ڈھونڈ کر مہیا کیے گئے۔ پھر یاز بھائی منہ میں نوالہ ڈالنے ہی والے تھے کہ گل آپا نے بھی رونا شروع کر دیا۔ اتفاق سے وہ یاز بھائی کےسامنے ہی بیٹھی تھیں تو ان سے روتے روتے کہنے لگیں، "ہائے میں اپنے دانت تو گھر پر ہی بھول آئی ہوں، اب کیا کروں یاز بھائی کچھ کیجیئے نا!!"
یاز بھائی نے عادت کے مطابق کہہ دیا "کرتے ہیں کچھ۔ " گو کہ اب اس عمر میں ان کے پاس کچھ کرنے کرانے کا وقت نہیں رہ گیا تھا لیکن کیا کریں بیچارے اپنی عادت سے مجبور تھے ۔
اس سے پہلے کہ گل آپا کے آنسوؤں سے سارا دستر خوان بھیگ جاتا، کاشفین آپی نے جلدی جلدی انہیں تسلی دینے کی کوشش کرتے ہوئے کہا " گو آنکھ میں جنبش نہیں ہاتھوں میں تو دم ہے… آپ اسی کے ذریعے کچھ گزارا کرلیجیئے۔"
اسکے بعد عمران بھائی نے اپنی بنیان کی جیب سے بتیسی نکالی اور بہت آرام سے اپنے منہ میں فٹ کرلی۔
گل آپا کو عمران بھائی کی بتیسی باقاعدہ منہ چڑا رہی تھی اور عمران بھائی کھانے میں مگن تھے کہ اچانک ایک زور دار تڑاخ کی آواز سے سارا ہال گونج اٹھا اور ساتھ ہی عمران بھائی کے ہاتھ سے نوالہ بھی چھوٹ گیا… یہ تڑاخ ہما آپی کی لاٹھی سے نکلی ہوئی آواز تھی جو ان کی جوانی کی چٹاخ کا نعم البدل ہوا کرتی تھی۔
ہما آپی: "یہاں گل شہزادی بتیسی کے لیئے رو رہی ہیں اور … اور … تمہیں ذرا شرم نہیں آتی کہ اسے آدھی یعنی سولہ دانت ہی دے دو!!!"
اب عمران بھائی بھی تھوڑا سا شرمانے لگے کہ واقعی شرم تو آنی چاہیئے نا، لیکن اچانک اتنے سارے مزیدار کھانے دیکھ کر جو منہ میں پانی بھر آیا تو اس نے ساری شرم بھلا دی۔
صرف عمران بھائی ہی کیا، اتنے مزے دار کھانے دیکھ کر تو سب کا ہی عجیب حال تھا۔ جیسے کہ کائنات آپا اتنے سارے مزیدار کھانے دیکھ کرخوشی سے پھولی نہیں سمارہی تھیں۔ ویسے بھی اب وہ اتنی پھول چکی تھیں کہ کسی بھی عام سی کرسی میں سمانا ان کے لیئے قدرے مشکل ہو رہا تھا۔ ظاہر ہے جوانی میں دوسروں کو ڈائیٹ میں لگا کر خود جو مزے لے لے کر ہر کھانے سے لطف اندوز ہوتی رہی تھیں۔ لیکن بڑھاپے میں ڈائٹنگ کرنا ان کے بس کی بات نہ تھی اور منہ کو جو چٹخارے لگے ہوئے تھے بھلا وہ کیسے چھوٹ سکتے تھے؟ اسی وجہ سے اس وقت بھی مرغ کی ران کو باقاعدہ اڑانے کی کوشش کرنا چاہ رہی تھیں۔ لیکن بچی کچھی ڈاڑھ میں ایک ریشہ جو پھنسا تو سب کچھ بھول کر اپنی داڑھ سنبھال کر بیٹھ گئیں۔
برابر میں وش آپا بیٹھی بڑی تہذیب سے کھانا کھانے میں مصروف تھیں۔ کائنات آپی نے ان سے تیلی مانگی تا کہ ریشہ داڑھ سے نکال سکیں اور مش جی نے جلدی سے تیلی نکال کر دے دی۔ لیکن ساتھ یہ بھی کہا کہ "یہ میری پسندیدہ تیلی ہے۔ اسکو مجھے دھو دھلا کر واپس دے دینا۔ " پھر جب کائنات آپی تیلی واپس کر رہی تھیں تب اچانک لبنٰی آپا کی حیرت بھری چیخ سنائی دی اور مش جی کے ہاتھوں سے ان کی محبوب تیلی نیچے گر گئی… دراصل ہوا کچھ یوں کہ ناعمہ آپا نے میک اپ کرنے کے لیے اپنے پچکے ہوئے گالوں میں روئیاں دبا لی تھیں تاکہ گال پھولے رہیں اور اس پہ میک اپ سیٹ ہو جائے۔ پھر جب کھانا کھانے کے لیے انہوں نے منہ سے روئیاں نکالیں اور پھولے ہوئے گال ایک دم پچک گئے تو بھلا لبنٰی آپا کیوں نہ حیران ہوتیں۔ صرف وہی نہیں سب کے سب انہیں حیرت بھری نگاہوں سے دیکھ رہے تھے لیکن ابھی ایک اور حیرت انگیز منظر ان کا منتظر تھا۔
مون آپا کو جب سب نے لاٹھی لیے دروازے پر لال بھبھوکا ہوتے ہوئے دیکھا تو سب کے ہاتھوں کے نوالے اڑ گئے۔ ظاہر ہے ہاتھ میں طوطے تو تھے نہیں جو اڑتے۔
مون: "میں وہاں کھڑی بس کا انتظار کرتی رہی اور تم سب لوگ مجھے چھوڑ کر یہاں پر آرام سے دعوت اڑا رہے ہو؟" یہ کہہ کر جو انہوں نے سب کو ایک ایک کرکے اپنی لاٹھی کا نشانہ بنانا شروع کیا ہے تو گھر تک کیسے پہنچے یہ تو اللہ بہتر جانے یا پھر بس ڈرائیور کیونکہ میں تو خود اپنی جان بچانے کی فکر میں بھاگتی پھر رہی تھی۔ ہاں بس اتنا یاد ہے کہ ٹیم بھائی کان پکڑ کر کہہ رہے تھے کہ " آئندہ ان بوڑھوں کے ساتھ دعوت میں شرکت نہیں کرنا۔"

مجھے تو یہ سبق ملا کہ اس عمر میں کسی دعوت میں شرکت نہیں کرنی چاہیئے بلکہ فراز بھائی کی طرح آرام کرنا چاہیئے۔ خیر ان کا معاملہ تو کچھ اور ہی ہے جو شخص جوانی میں سونے سے نہ چوکے، وہ بڑھاپا کیسے ضائع کرسکتا تھا۔