ایک میں اور ایک تم از کائنات

ہم گھر والوں کے دو شاہکار ۔۔۔۔۔

اکٹھے ہی گھر کو رونق دینے چلے آئے تھے۔ ویسے تو اماں ابا بڑا صرفے کے قائل تھے۔ لیکن پتہ نہیں یہاں ان کا حساب کتاب کیسے غلط ہو گیا کہ وہ بھی اس فضول خرچی کے منتظر نہ تھے۔ چند منٹوں کے وقفے سے ہم دونوں بھائی اس رنگوں کی دنیا میں رنگینی بڑھانے کے لیے رونق افروز ہو چکے تھے۔

وہ زمانے نہیں تھے کہ جب پہلے ہی پتہ چل جاتا کہ گھر میں ایک نہیں دو مہمان آ رہے ہیں۔ تب تو لوگ دوائی بھی تبھی کھاتے تھے، جب جان پہ بن آتی۔ نزلہ چلتا تو جوشاندہ پی لیتے، کھانسی ہوتی تو منہ میں ملٹھی رکھ لیتے۔ کمزوری آتی تو پانی میں گلوکوز ڈال کر دل ناتواں کو تراوٹ پہنچا لیتے۔ ہم بھائیوں کی طرح یہ وٹامن شٹامن تب نہیں تھیں۔ واہ واہ کیا سستے زمانے تھے اور سستے نسخے، اور سستے میں ہی سب چھوٹ جاتے تھے۔

سننے میں آیا کہ لوگوں رشتہ داروں کا ہمیں دیکھ کر رشک و حسد سے برا حال ہو گیا۔ لوگ بھانت بھانت کی بولیاں بولنے لگے۔

ایک بولی آئی۔۔۔۔ " واہ واہ ، کیا قسمت پائی ہے حضرت آپ نے۔ لوگ ایک اولاد نرینہ کو ترستے ہیں اور ماشاءاللہ، آپ کے لیے اللہ نے جوڑی بھیج دی۔ "
دوسری بولی، بولی۔۔۔۔۔ "ہمممممم ایک بیٹا ہوتا ایک بیٹی ہوتی تو تب فیملی بالکل مکمل ہو جاتی۔ ہم دو ہمارے دو کے مصداق۔۔۔ اور ان کو نظر بھی نہ لگتی۔"
تیسری بولی بھی یقینا پیچھے نہ رہی۔۔۔۔۔"ہاں اللہ کی شان، اگر دو بیٹیاں آ جاتیں تو ابھی سے ہی ان کی قسمت کی فکر لگ جاتی۔"

اور ایک حضرت نے تو حد کر دی۔ آگے بڑھ کر بولے "میاں صاحب، اب تو آپ کے گھر میں ایک ڈاکٹر اور ایک وکیل پکا۔۔۔"

پتہ چلا لوگ تو یہ لمبی لمبی چھوڑتے رہے اور بچارے ابا اماں ایک دوسرے کی آنکھوں میں ہی جھانکتے رہے۔ اور آنکھوں ہی آنکھوں میں یہ طے پا گیا کہ ایک کے لیے بنائے گئے کپڑے مساوات کے تحت دونوں میں تقسیم کر دیں گے۔ اور یہ کہ ایک کو تم ساتھ سلانا اور ایک کو میں۔ اور دونوں کو بدل بدل کر منہ کا ذائقہ بدلنے کے لیے کبھی ماں کا دودھ ملے گا اور کبھی بکری کا۔ یہ خاموش معاہدہ کر کے دونوں کچھ پرسکون ہو گئے۔ اس سے پہلے تو دونوں دل میں کچھ گھبرائے ہوئے تھے کہ اللہ نے تو چھپر پھاڑ کر دے دیا مگر اسے سنبھالیں گے اب وہ کیسے ؟

اور پھر وہ بھانت بھانت کے لوگ اور بھانت بھانت کی بولیوں کی طرف متوجہ ہو گئے۔ جو ہمارا مستقبل طے کر رہے تھے۔ اور ہم آنکھیں پٹپٹا کر اس دنیا کے باسیوں اور ان کی باتوں سے بے نیاز ایک بھائی ہاتھ کا انگوٹھا اور دوسرا بھائی پاؤں کا انگوٹھا چوستے رہے۔ اماں ابا انجانے میں ہی ڈبل خرچے کے نیچے دب چکے تھے۔
اب لوگوں نے ڈبل مٹھائی کی بھی ڈیمانڈ کر دی۔ ابھی لوگ پیلے لڈوؤں، چٹی، پیلی، گلابی چم چم، حبشی حلوے اور کالی گلاب جامنوں سے منہ میٹھا کر کے ہٹے ہی تھے کہ نام کرن کا مسئلہ پیش آ گیا۔

ایک مفت کا مشورہ آیا کہ ان کا نام بھی کلیان جی آنند جی، لکشمی کانت پیارے لال، آنند ملن یا شنکر جے کشن کی طرح رکھا جائے۔ جو ایک ہی سانس میں لیا جا سکے۔ آخر دو سانسوں کی فضول خرچی کی کیا ضرورت ہے ۔۔۔ سو ہمارے لیے بھی ایم اشرف۔۔۔ حسن طارق ۔۔۔۔ اکبر اعظم جیسے نام قرعہ اندازی میں ڈلنے لگے۔ یا پھر یہ کہ وحید مراد نام کو ہم دونوں میں تقسیم کر دیا جائے۔ یا محمد اور علی کو اکٹھا کر دیا جائے۔ شکر ہے ہماری بچت ہو گئی کسی نے رنگیلا،منورظریف ۔۔۔۔یا ۔۔۔۔ الن، ننھا جیسے نام نہیں سوچ لیے۔

البتہ اماں نے شائد فلم گورا اور کالا دیکھ لی تھی۔ ہم میں سے ایک کافی گورا تھا اور دوسرا تھوڑا کالا۔ لوگوں کو اس بات پر بھی اعتراض تھا کہ دونوں کے رنگ ایک جیسے ہوتے تا کہ یہ بھائی تو لگتے۔ ایک صاحب نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ " ان کی عرفیت تو بنی بنائی ہے۔ بگھا اور کالو۔ " اب ان میں سے کوئی اس سے کہتا " کیا تم آرڈر پہ بنے تھے۔؟ افسوس، اتنے تماش بینوں میں کسی نے بھی کہنے والے کی زبان نہ پکڑی۔ اور اس بات پر ہم آج بھی تلملاتے ہیں۔ کیونکہ چڑیاں کھیت چگ گئی تھیں۔

چناچہ باہمی مشاورت سے ہمارے نام رکھ دیئے گئے۔ سب ۔۔۔ ر ۔۔۔۔ کے پلیٹ فورم پر اکٹھے ہو گئے تھے۔ میرا نام راسخ اور بھائی کا نام راحم۔۔۔ راسخ کا معنی ہے مضبوط اور دیرپا اور راحم کا معنی رحم کرنے والا۔۔۔۔ یہ تو علیحدہ بات ہے اور بہت بعد کی بات ہے کہ میں مضبوط ہو کر بھی بھائی سے مار کھا لیتا تھا اور بھائی کے نام کے مصداق پھر اپنے پر رحم بھی کر لیتا تھا۔

لوگوں کی بھیڑ ذرا چھٹی تو اماں ابا کو بھی ہمیں گود میں لینے اور ہم پہ غور کرنے کا موقع ملا کہ کونسا ماں پر ہے اور کونسا باپ پر۔ ابھی غور و خوض جاری تھا کہ دھن دھنا دھن گھر کا دروازہ پیٹا جانے لگا کہ "۔۔۔۔۔ کدے گھار کاکا جمیا ۔۔۔۔" اور ناچنے والے اپنے ہاتھوں کی سپیشل تالیاں بجاتے گھر کے اندر گھس آئے۔ چھن چھن چھنا چھن ۔۔۔۔ اور گھنگھرؤں کی جھنکار کے ساتھ دیکھتے ہی دیکھتے ڈانس بھی شروع ہو گیا۔ جن لوگوں کے لیے پہلے ہم جان محفل تھے، اب وہی ہم سے منہ پھیر کر ناچنے والوں کے گرد گھیرا ڈال چکے تھے۔ اور اپنی پسند کے گانے سننے لگے تھے۔ اور رقص کے زاویے اپنے ذہن میں محفوظ کرنے لگے تھے۔

اماں ابا پھر گبھرا کر ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے۔ کہ اب پھر ڈبل خرچہ ہو گا۔۔۔ ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ ہم میں سے ایک کو چھپا دیا جاتا یا ہم میں سے ایک کو کوئی اڈاپٹ ہی کر لیتا۔
سو آنے والے رقاصاؤں نے خوب اپنے ڈانس کی کلا دکھانی شروع کر دی ۔ ابھی ہم جھولے میں قلقاریاں مارنے اور گود کی سواری کے قابل تھے مگر ہمارے سہروں کے گیت گائے جا رہے تھے۔

جیوے بنڑا عمراں ساریاں
تیرے سیرے توں میں واریاں

اور

دولہے کا سہرا سہانا لگتا ہے
دلہن کا تو دل دیوانہ لگتا ہے

دلہن۔۔۔۔ جس بیچاری نے ابھی پتہ نہیں کب دنیا کی سیر کو آنا تھا۔ جس کا انتظار پھر ہمیں ابھی سے ہی شروع ہو گیا تھا۔۔

۔۔ ۔۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔