نیم باز آنکھوں سے از کائنات

ٹھیک سے یاد تو نہیں ہے کہ میں نے کب اپنی ان گناہگار آنکھوں سے دنیا کو دیکھنا جانچنا شروع کیا۔

لیکن آنکھوں سے پٹپٹا کر دیکھنا تو شائد جھولے سے ہی شروع کر دیا تھا۔ اب اتنی پرانی خاک کیسے چھانوں کہ زیادہ جھولے میں ہی چھت کی طرف نظر کیے شہتیر گنتا رہتا تھا یا دائیں بائیں دیواریں جانچنا شروع کیں کہ ان کا پلستر، سفیدی صحیح ہے یا اکھڑا ہوا ہے یا ان پر ڈسٹمپر کس کلر کا ہونا چاہیئے۔ یا پھر ان لوگوں کو دیکھتا، جو مجھے عجوبہ سمجھ کر جھولے کے پاس چلے آتے تھے۔ جیسے کبھی جھولا یا جھولے والے نہیں دیکھے۔

یا پھر میں نے گود کی سواری زیادہ کی۔ کیونکہ جوائنٹ فیملی تھی اس لیے مجھے ہر طرح کی گود میسر تھی۔ پڑھے لکھوں کی بھی اور ناخواندہ کی بھی۔ اب آپ خود ہی سمجھ جائیں نا کہ پڑھے لکھوں کی گود میں جا کر میرے اندر تب ہی خواب پنپنے لگے ہوں گے کہ میں بھی ان کی طرح ڈاکٹر ، انجینئر، وکیل بنوں، کیونکہ ایکٹر، شاعر اور فنکار تو خاندان میں ناپید تھے، اس لیے میں وہ خواب تو دیکھ نہیں سکتا تھا۔

اور دوسری طرح کے گودمین جو پڑھے لکھے نہیں تھے وہ یقینا اندر سے تو بڑے ایجوکیٹڈ تھے، ان سے مجھے ضرور خاندان کی روایات، سدا بہار محاورے، اونچی ناکوں کے مسئلے، خاندانی سیاست اور پتہ نہیں کیا کیا ملا ہو گا۔ ظاہر ہے وہ میرے لاشعور میں رچ بس گیا ہو گا۔ اب میں اپنا تجزیہ کرتا ہوں تو بظاہر ایک پڑھا لکھا سمجھدار انسان ہوں، لیکن یہ کسی کو نہیں پتہ اور نہ ہی کبھی میں نے پتہ چلنے دیا کہ میں اندر سے کتنا میسنا ہوں۔ یقینا مجھ پر یہ کرم نوازی ان ناخواندہ مہربانوں کی ہے۔

میں یہ ساری باتیں اندازوں کی بنا پر کر رہا ہوں۔ کیونکہ کبھی کبھی جب میں اپنی ذات کے سمندر میں غوطہ زن ہوتا ہوں، تو مجھے اپنی ذات کی تشکیل میں یہ عوامل نظر آتے ہیں۔ کہ ایسا ہوا ہو گا ویسا ہوا ہو گا تبھی تو میری ذات کی ایسی نو رتن کھچڑی پکی ہے۔

ہاں تو ۔۔۔ بچپن تو احمد لون بھائی کی طرح گودیوں کے سفر میں ہی گزر گیا۔۔ شکر ہے وہ بچپن تھا ورنہ میں تو گوڈوں گٹوں سے ہی رہ جاتا۔

کچھ خاندان کے ممبران نے مجھے بعد میں بتایا کہ میں نے ماں کا دودھ شوق سے پیا ہی نہیں۔ ماں کی بجائے بھینس کا دودھ مجھے زیادہ بھا گیا تھا اتنا زیادہ کہ اتنا تو بھینس کو بھی اس کی افادیت کا پتہ نہیں ہو گا۔ کہتے ہیں ماں میرے اس نخرے پر بہت تلملائی تھی، کیونکہ انھیں اپنی ساس سے سننا پڑتا تھا کہ ہمارے زمانے میں تو یہ ہمارے زمانے میں تو وہ۔۔۔

سو اسی طرح زمانے کی ہوا پھانکتے پھانکتے اور گودیوں میں منتقل ہوتے ہوتے میں بھی کچھ بڑا ہو گیا۔ اور جیسے جیسے میں بڑا ہوتا گیا۔ میں نے اپنی ذات میں بھی کچھ تبدیلی نوٹ کی۔ والدین نے تو یہ سکھلایا بتلایا تھا کہ دنیا کو کھلی آنکھوں سے دیکھو لیکن میں کھلی آنکھوں سے تو شروع سے ہی دیکھ رہا تھا یہ کونسی نئی بات تھی۔ اب میں نے بلکہ دنیا کو اپنے من کی آنکھوں سے دیکھنا شروع کر دیا۔

خاص طور پر جب سے میں نے میر کا یہ شعر پڑھ لیا۔

میر، ان نیم باز آنکھوں میں
ساری مستی شراب کی سی ہے

تو میں سوچنے لگا کہ یہ پینے پلانے کا معاملہ تو گڑبڑ ہے، اور وہ بھی شراب کا۔۔۔ اور نہ ہی ابھی آنکھوں سے جام پینے کے زمانے آئے۔ لیکن میں اپنی ان آنکھوں میں دنیا کی رنگینیاں تو دیکھ بھر سکتا ہوں۔ اور دوسروں کے اندر جھانک سکتا ہوں۔

سو اب میں نے دنیا کا جائزہ لینا شروع کر دیا۔ دوسروں کی نظروں میں، میں ایک بڑا سلجھا ہوا بیبا لڑکا تھا۔ اور یہ کریڈٹ مجھے بغیر کسی محنت کے مل گیا تھا اس لیے میں اسے کھونا نہ چاہتا تھا۔ اسی چیز نے مجھے زیادہ فائدہ دیا کہ اس کی آڑ لے کر میں اپنے دل کی کر سکتا تھا۔
چھوٹی موٹی دل لگیاں اور شرارتیں تو میں نے گھر کے اندر ہی شروع کر دی تھیں تا کہ باقیوں کا ری ایکشن دیکھ سکوں، اور کوئی الٹا سیدھا کام کر کے پھر ایسا بن جاتا تھا کہ کسی کو شبہ تک نہیں ہوتا تھا۔ کہ یہ میری کارستانی ہو سکتی ہے۔

جیسے ایک دن ماں ہنڈیا پکا رہی تھی، میں ان سے کچھ فاصلے پر اپنا ہوم ورک کر رہا تھا۔ ماں گوشت بھون رہی تھی۔ اور مجھے پتہ تھا کہ ابا کو بھنا گوشت بہت پسند ہے، اس لیے ماں اب لازمی اس میں سے کچھ بھنا گوشت نکال کر ابا کے لیے رکھ لے گی۔ اور باقی میں آلو یا کوئی سبزی ڈال کر حساب پورا کر لے گی۔ ابھی میں اماں ابا کی اس آپس کی لگاوٹ بارے سوچ ہی رہا تھا کہ اچانک ماں ہنڈیا چھوڑ کر کمرے میں گئی، تب نہ جانے مجھے کیا ہوا کہ میں بھاگ کر گیا اور جگ میں پڑا پانی ہنڈیا کے اندر ڈال دیا۔ جو کہ ماں نے ابا کا حصہ نکالنے کے بعد اندر ڈالنا تھا۔ اور جلدی سے واپس آ کر اپنی جگہ بیٹھ گیا اور بظاہر پہلے کی طرح پڑھائی میں مگن ہو گیا۔

ماں واپس آئی اور جب ہانڈی میں ڈوئی گھمانے لگی تو اسے احساس ہوا ۔ لیکن ماں نے اپنی ہتھیلی ماتھے پر دے ماری کہ
"میری تو مت ماری گئی یہ میں کیسے بھول کر پہلے ہی پانی ڈال گئی۔ "
اور میں اس دوران نیم باز آنکھوں سے یہ سب دیکھتا رہا۔ ماں کا دھیان ایک بار بھی اپنے اس سپوت کی جانب نہیں گیا۔ اور یہ مجھے اپنی کامیابی لگی میں نے دیکھ لیا کہ
ماں صبر والی ہے،
دوسروں کو جلدی سے الزام دینے والی نہیں
اور ٹھنڈی طبیعت کی ہے۔
ورنہ ۔۔ مسز ھما تنویر کی طرح ماں کی ڈوئی ہوتی اور میں رقص میں ہوتا۔

ایک دفعہ رات کے کھانے کے وقت گلی سے فقیر کی صدا پہ صدا آ رہی تھی، ماں نے مجھے بلایا اور کہا
" لو فقیر کو روٹی دے آؤ۔ "
میں چلا گیا دیکھا اس فقیر نے ایک لمبا سا کپڑے کا تھیلا اپنے کندھے سے لٹکا رکھا ہے۔ ظاہر ہے جس میں وہ سب شیر و مال ڈالتا ہو گیا۔ مجھے تجسس سا ہوا۔ اس نے کھانا لینے کےلئے ہاتھ آگے بڑھایا اور میں نے دینے کے بہانے اس کے تھیلے میں ہی منہ گھسیڑ لیا اور میری نیم باز آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ میرے منہ سے بے اختیار نکل گیا
" ارے تمہارے پاس تو چاول بھی ہیں، زردہ بھی ، روٹی بھی اور حلوہ بھی۔ پھر بھی تم مانگ رہے ہو ؟
اور وہ بے چارہ خاموش، تب مجھے اندازہ ہوا کہ میں نا دانستگی میں دوسروں کو لاجواب بھی کر سکتا ہوں۔ یہ اضافی خوبی نکلی۔ جس کا مجھے خود بھی علم نہ تھا۔

ایک بار میں سکول سے واپس گھر آ رہا تھا کہ نہ جانے کیا سوجھی کہ روز کا نارمل راستہ چھوڑ کر میں نے مارکیٹ کے بیچ والا راستہ لے لیا۔ اپنی دھن میں چلا آ رہا تھا کہ میں نے اپنے خالو جی کو دیکھا کہ وہ حلوائی کی دکان پر ہیں اور رنگ برنگی مٹھائی سے شغف فرما رہے ہیں۔ میں پہلے حیران ہوا۔ پھر ساری سٹوری سمجھ آ گئی۔ چٹورے کہیں کے۔

میں فورا خالہ کے گھر گیا اور ایسے ظاہر کیا جیسے خالہ سے ملنے آیا ہوں اور ادھر ادھر کی باتیں کرتے یہ خالو کا سیکرٹ بھی ان سے سرسری انداز میں بیان کر دیا۔ خالہ مسکرائیں، پر میرے دل کی نہ ہوئی۔ تجسس کے ہاتھوں مجبور اگلے روز میں پھر اسی راستے پہ جا نکلا اور سوئے اتفاق کہ خالو پھر وہاں موجود تھے، آج خالو پھر دودھ دہی والے کی دکان پر بڑا گلاس لسی کا اپنے اندر انڈیل رہے تھے۔ اب تو ان کے اس کھانے پینے بارے مجھے کوئی شبہ نہ رہا تھا۔ برا بھی لگا کہ ۔۔۔ اپنے بیوی بچوں کو چھوڑ یہ تو اپنی ہی دھن میں مست ہیں۔ سو میں پھر غڑاپ سے خالہ کے آنگن میں کود پڑا۔ آج خالہ سن کر مسکرائیں نہیں۔ خاموش رہیں۔

لیکن اب یہ ہونے لگا کہ میں خالو کی ٹوہ میں رہنے لگا، بلکہ مجھے تجسس ہوتا کہ خالو آج کیا کھا رہے ہوں گے اور مجھے جیسے ہی علم ہوتا۔ میں بہانے بہانے سے جا کر خالہ کے گوش گزار کر آتا۔ اب خالہ کے چہرے پر پہلے دن والی مسکراہٹ نہ رہی تھی بلکہ سنتے ہی ماتھے پر تیوری پڑنے لگی تھی۔ جلد ہی میں نے خالہ کی جانب اب بھولے بھٹکے سے جانا چھوڑ دیا تھا۔ کیونکہ آگ سلگ چکی تھی اور وہاں دھماکے ہونے لگے تھے۔ اور میرا مقصد بھی پورا ہو گیا تھا ۔ اگر میں بر وقت اپنے آپ کو نہ روکتا تو یقینا خالہ کا، ہما جی کی طرح چٹاخ ہوتا اور ستاروں کا جہاں ہوتا۔

میں نے دیکھ لیا تھا کہ
خالو ایک خودغرض قسم کے انسان ہیں۔ جنہیں سوائے اپنے اور کوئی دکھائی نہیں دیتا۔
اور خالہ بارے بھی کہ
وہ کتنی جلدی میری باتوں میں آ گئیں۔
کل کو کوئی اور بھی بڑے آرام سے ان کو اپنی باتوں کے جال میں الجھا سکتا ہے۔

اب کہاں تک میں اپنے تجربے آپ کو بتاتا رہوں۔

میں نے اپنی ان چمکتی آنکھوں سے بہت دنیا کی چکا چوند دیکھی اور تجربے کیے۔ اب میرا وہ دور گزر گیا ہے۔ میں اچھا پڑھ لکھ گیا ہوں۔ اماں ابا کیا کسی کو بھی نہ تو پہلے مجھ سے کوئی شکایت تھی اور نہ ہی اب ہے۔ البتہ ان نیم باز آنکھوں سے میں نے جو دنیا دیکھی تھی۔ اب وہ میری عملی زندگی میں شامل ہو گئی ہے۔ کہ

میں نہ تو اماں کی طرح کبھی اپنے آپ کو الزام دیتا ہوں۔
نہ ہی خالو کی طرح خود غرض انسان ہوں۔
نہ ہی خالہ کی طرح ایک دم دوسرے پر بھروسہ کر لیتا ہوں۔

اب مجھے اپنی کہانی یہیں ختم کرنا ہو گی۔ کیونکہ میری نیم باز آنکھیں اس وقت اور بھی نیم باز ہوئی جا رہی ہیں۔ عقلمندو، سمجھ جاؤ نا اب مجھے نیند آ رہی ہے ۔ ۔ ۔

*********