مفت مشورہ از رفعت

بہت عرصہ پہلے کی بات ہے کہ ہم اپنا دماغ ذرا کم کم ہی استعمال کیا کرتے تھے۔ اور اس پر بہت فخر سے ارشاد بھی فرماتے تھے کہ
"چیز جتنی استعمال ہو ختم ہوتی جاتی ہے اور ہم اپنا دماغ ختم نہیں کرنا چاہتے۔"
۔
لیکن پھر بھی ہم شاید سب کو عقل مند لگتے تھے (شکل سے )تبھی تو جس کو دیکھو منہ اٹھائے ہم سے مشورہ مانگنے چلا آتا تھا، اور ہم بھی ایسے کھلے دل کے کہ کبھی نا کہنے کو دل ہی نہ کرتا تھا۔۔

بڑی سوچ بچار کے بعد مشورہ دیا جاتا اور اس کو ثابت بھی کیا جاتا، کہ اگلا بندہ اپنے آپ کو انتہا درجے کا بے وقوف سمجھتے ہوئے سر ہلاتا جاتا اور اس بے وقوفی کا عملی مظاہرہ اس وقت ہوتا جب اس پر عمل بھی کر لیتا۔۔۔۔ اب اگر نتیجہ ٹھیک نہ نکلے تو اس میں ہمارا کیا قصور۔

جب ہمارے پاس شکایت نامہ آتا بمع دو چار القابات کے تو ہم معصوم شکل بنا کر کہتے
"ہم نے تو مشورہ دیا تھا کہا تو نہیں تھا کہ اس پر عمل بھی کریں "
ایک بار رات کے وقت گھر میں مہمان آگئے ۔۔۔ اب ایک ہی بوتل تھی کوک کی اس وقت، کچن میں دو لوگ سر جوڑ کر بیٹھے تھے کہ اب کیا کریں،جیسے ریاضی کا کوئی سوال حل کر رہے ہوں۔ اور عقل مند اتنے کہ گلاسوں میں ڈال بھی چکے تھے ۔۔
شوہر۔۔" اب کیا کریں، دکانیں بھی بند ہیں۔"
بیوی ۔۔۔۔۔۔۔ "میں نے کہا بھی تھا کہ شربت بناتی ہوں، لیکن میری سنتا کون ہے۔"
اتنے میں مابدولت کچن میں آئے اور ہم نے بڑی ہمدردی سے پوچھا کیا ہوا۔۔۔ گلاسوں کو دیکھتے ہی بات سمجھ گئے (عقل مند جو ہوئے)
ہم نے بڑی متانت اور سنجیدگی سے کہا کیوں پریشان ہو رہے ہیں تھوڑا تھوڑا پانی ملا دیجئیے۔ مہمان تو بے زبان ہوتے ہیں۔۔۔۔۔
اب دونوں میاں بیوی ہم کو ایسی تشکرانہ نظروں سے دیکھ رہے تھے جیسے ہم نے ان کو پرائز بونڈ نکلنے کی خوشخبری سنائی ہو۔۔۔ ہم نے بھی ایک احسان جتاتی ہوئی مسکراہٹ ان کی طرف اچھالی اور باہر نکل آئے ۔۔۔
اب جناب مہمانوں کے سامنے کوک رکھی گئی۔ پی تو وہ گئے لیکن ہمارا اندازہ تھورا سا غلط ہو گیا کہ "مہمان بے زبان ہوتے ہیں۔ "
پہلا سپ لیتے ہی فرمانے لگے آج کل تو کوک بھی دو نمبر آتی ہے "
ہم نے اس کمرے سے باہر نکلنے میں ہی عافیت سمجھی کیونکہ چار خونخوار نگاہیں ہمیں بری طرح گھور رہی تھیں۔۔
مہمانوں کے جانے کے بعد معاملہ گھر کے بڑوں تک پہنچ گیا۔ ہماری طلبی ہوئی۔ ہم معصوم سی شکل بنائے کھڑے تھے۔ ڈانٹ کر پوچھا گیا کہ یہ حرکت کس کی تھی۔ ہم نے معصومیت سے ان دونوں کی طرف اشارہ کر دیا۔۔۔ بھئی ہم نے کچھ کیا ہی نہیں تھا۔
ان دونوں نے جھٹ سے بول دیا کہ مشورہ تو آپ کا ہی تھا۔ اور ہم دل میں سوچ رہے تھے کہ لوگ کیسے احسان فراموش ہوتے ہیں۔ اتنی بڑی مصیبت سے نکالا اور ہم پر ہی الزام
ہم نے جواب دیا
"مشورہ ہی دیا تھا آپ نہ مانتے ،ماننے کا تو نہیں کہا تھا "
اور جھٹ وہاں سے غائب ہو گئے کہ اس کے بعد کچھ مزید القاب سنے پڑتے۔
اب آپ ہی بتائیے اس میں ہمارا کیا قصور
ایسے ہی ایک بار ہمارے گھر کا پنکھا خراب ہو گیا۔۔ اباجی نے اس کی موٹر کھولی اور مکینکی دکھانے لگے۔ ہم بھی شروع سے تھوڑے مکینکانہ ذہن والے ہیں تو ہم بھی کھڑے ہو گئے ان کے سر پر۔ ساتھ ہمارے ایک بھائی صاحب ابا جی کی مدد کر رہے تھے۔
اب اباجی ایک تار کو پکڑ کر دوسری کے ساتھ جوڑ رہے تھے ہم سے رہا نہ گیا
ہم ۔۔۔۔۔۔ "اباجی یہ تار اس کے ساتھ نہیں نیلی والی کے ساتھ جوڑیں ۔۔۔"
اباجی۔۔۔۔۔۔۔ "ہیں تمہیں کیسے پتا کہ یہ تار اس سے جوڑنی ہے ۔۔"
ہم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(ذرا سا مسکراتے ہوئے)"ہم نے دیکھا ہے یہ وہیں سے اتری ہے ۔۔"
اباجی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمم
بھائی صاحب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خالو جان نہیں یہ تار یہاں نہیں جڑے گی ۔ شارٹ ہو جائے گا۔
اباجی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(خفا ہوتے ہوئے)ارے وہ کہہ رہی ہے تو ٹھیک ہی کہہ رہی ہو گی۔
بھائی صاحب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس کو کیا پتا
ہم۔۔۔۔۔۔۔اباجی ہمیں پتا ہے ہم نے دیکھا ہے۔(ساتھ ہی نیچا منہ کر کے چل دئیے )
اباجی۔۔۔۔۔۔۔۔ادھر آؤ۔
اور اباجی نے بھائی صاحب کے نا نا کرتے ہوئے تار نیلی تار سے جوڑ دی ۔۔۔
دھھھھھھھھھممممممممممممم
ایک زور دار دھماکہ ہوا اور سارے گھر کی لائٹس بند۔
لائٹ آنے کے بعد اباجی کی تقریر شروع ہو چکی تھی۔ سب سننے کے بعد ہم نے نہایت معصومانہ عرض کی
ہم نے تو مشورہ دیا تھا کہا تو نہیں تھا کہ عمل کریں،آپ نہ مانتے ہماری بات ۔۔۔۔

اب آپ خود ہی بتائیں کہ ہمارے مشورے برے ہوتے ہیں یا لوگ ہی اپنی عقل کا استعمال نہیں کرتے
اگر تجربہ کرنا چاہتے ہیں تو ہمارا دروازہ ہمیشہ کھلا ہے۔
جب جی چاہے مشورہ مانگ کر دیکھیے