تم کو خبر ہونے تک از کوثر بیگ

میرے گھر میں ایک افلاطون ہے۔

یہ کون ہے ؟
کیا آپ بوجھ پائیں گے۔
چلیں میں آپ کو اس افلاطون بارے کچھ بتاتی ہوں۔۔ پھر آپ خود ہی سوچنا اور فیصلہ کرنا۔

ایک دن اس کے اسکول میں میچ ہونے والا لگا۔ میں نے اسے سو کا نوٹ دیا۔ اور کہا "کہ نئ گیند خریدو یا کوئی بھی تدبیر کرو مگر تمہیں جیتنا چاھیے۔ "
پھر جب میچ شروع ہوا تو وہ پرانی گیند ہی سے کھیل رہا تھا۔ بریک کے وقت میں نے بلا کر اسے پوچھا کہ" تم نے میرے سو کے نوٹ کا کیا کیا ؟
" آپ نے کہا تھا کہ کوئی بھی تدبیر کرو جس سے میچ جیت جائیں۔ "
"تو پھر ؟ " میں نے پوچھا
"ہم نے مخالف ٹیم کے کپتان کو دے دیا ہے۔ " افلاطون نے افلاطونی ساجواب دیا۔

ایک بار میں اس کے ساتھ کہیں جارہی تھی تو راستہ میں فقیر نے کہا
"بابا خدا کے نام پر کچھ دو "
اس نے پوچھا " بابا کیا تمہارے پاس دس کا کھلا ہوگا ؟
فقیر نے فورا کہا " ہاں دس کا کھلا ہے نا۔ "
یہ سن کر اس نے اطمینان سے فقیر کو کہا " تو پہلےاسے خرچ کرو نا "

ایک بار میرے میاں کے دوست گھر آئے انہوں نے باتوں کے دوران کہا کہ ‘"میرا بال بال قرضے میں جکڑا ہوا ہے ۔ سمجھ نہیں آتی کہ میں کیا کروں ؟ " تو اس نے جھٹ پٹ جواب دیا " انکل آپ بال منڈھوا دیں۔ "

اسی طرح ایک بار اس کی ان حرکتوں سے تنگ آ کر میں نے شرارت کرنے پر اس کو سیدھا لیٹ کر سائیکل کی طرح ٹانگیں چلانے کے لئےکہا وہ تھوڑی دیر چلانے کے بعد رک گیا۔
میں نے رک جانے کی وجہ پوچھی تو اس نے کہا " میری چین اتر گئ ہے۔ "

وہ ہمیشہ ایک پاؤں پر کھڑا رہتا، میں نے اس کی وجہ پوچھی تو کہنے لگا کہ "کیونکہ مجھے پتہ ہے دوسرا پیر بھی اٹھاؤں گا تو گر جاونگا۔ "

ایک بار میری بیٹی کی سہیلی گھر آئی۔
اس نے کہا "آنٹی شادی کے لیے شوہر ڈھونڈنے میں میری مدد کریں پلیز۔ " میں نے اس کی پسند دریافت کی
وہ بولی "بہت خوبصورت ہو اور دلکش ہو ۔ہمیشہ میرے ساتھ ہو جب میں تھک جاؤں تو وہ میرا دل بہلائے گانےگائے اور ڈانس کرے۔ وہ مجھے اچھی اچھی کہانیاں اور لطیفے سنائے۔ جب بھی میرا موڈ ہو مجھے انگریزی سینما دکھائے، جب میں چاہوں وہ بولے جب چاہوں وہ چپ ہو جائے۔‘‘
اس پر افلاطوں نے ۔۔۔۔جو یہ سن رہا تھا بات کاٹتے ہوئے کہا
" لگتا ہے آپ کو شوہر کی نہیں بلکہ ٹی وی کی ضرورت ہے۔ "

چلیں اب میں آپ کو اس افلاطون بارے بتا دوں کہ وہ کون تھا، جو ایسی باتیں کر کے مجھے کبھی حیران، کبھی پریشان کر دیتا تھا۔ اور جو ہر وقت میرے ساتھ ہی رہتا ہے، مجھ سے بے لوث محبت کرتا ہے۔ اور میری بھی وہ جان ہے، میں بھی اسے دل و جان سے محبت کرتی ہوں۔ کبھی زیادہ لاڈ آئے تو اس کی پیشانی بھی چوم لیتی ہوں۔ ہاں تو، اس میں ہرج ہی کیا ہے۔ آخر وہ میرا شہزادہ، میرا پرنس، میرا راجہ بیٹا ہی تو ہے۔

اب آپ کا کیا خیال ہے ؟ آپ اسے دانا مانیں گے کہ جینیئس۔۔۔۔۔

*************