آتش کی جوانی از فریدون

کہتے ہیں جوانی دیوانی ہوتی ہے اور دیوانگی پہ کس کا بس چلتا ہے؟ عشق اور مشک چھپاۓ نہیں چھپتے وغیرہ وغیرہ۔ ایسا کہنے والے شاید درختوں پہ اگتے ہیں۔ ہمارا تجربہ بولتا ہے کہ اللہ میاں یا تو امریکہ میں جوان کرے تا کہ جی بھر کے کافر دوشیزاؤں سے عبرت پکڑی جا سکے یا پھر درختوں پہ ہی اگا دے کہ اپنے ہاں تو جس جس قسم کے بلوغت کش بزرگ پاۓ جاتے ہیں ان کے ساۓ میں انسان جوان کے علاوہ سب کچھ ہو سکتا ہے۔ ہم تو یہ بھی نہیں کہہ سکتے
"ہمیں تو موت ہی آئی شباب کے بدلے"
کہ موت تو آتی ہے مگر ذرا دوسری طرح سے۔ آتی تو ہے مگر شباب پہ۔

بقول ہمارے یار چوہدری کے، جو نجانے کس کی قسمت سے ہمارے پلے پڑے ہیں، ہمارے ہاتھ میں جوانی کی لکیر ہی نہیں ہے۔ اس مشکوک روایت کے حق میں وہ کئ گفتہ و ناگفتہ دلائل پیش کرتے ہیں۔ جن کا بوجہ یہاں ذکر کرنا مناسب معلوم نہیں ہوتا۔

خیر عزیزو،
ان کا ذکر تو ایسے ہی در آیا بات ہو رہی تھی بزرگوں کی۔ ہمارے معاشرے کا المیہ ہے کہ اکثر سفید پوش جگت بزرگ چار پانچ سو چوہے کھا چکنے بعد بزرگ بنتے ہیں۔ اب اگر آُپ نے پورے نو سو کھا رکھے ہوں تو آپ نئ نسل کے کے لئے اتنے خطرناک نہیں ہوتے۔ کہ آپ کو اس راہ کی تمام گھاٹیاں ازبر ہو چکی ہوتی ہیں۔ مگر بزرگ اگر شومئ قسمت سے اولذکر گروہ کے ہوں (جو کے کثیر تعداد میں ہوتے ہیں)تو بچوں کو ان کی پہنچ سے دور ہی رکھنا چاہئے۔

ہمارا پالا بھی کچھ ایسے ہی بزرگوں سے پڑا۔ جوانی بنا دستک دئیے یوں خاموشی سے آئی کہ پتہ ہی نہیں چلا کس دن ابا مونچھیں صاف کرنے کی مشین دلانے لے کر گۓ۔ کیا زمانے تھے گرلز سکول کے پاس والی دوکان
سے دہی خریدنا ہی ہماری سب سے بڑی بے راہ روی تھی۔

غصہ اب اس بات پہ آتا ہے کہ ہم واقعی اسے بے راہ روی سمجھتے تھے اور پہروں کن انکھیوں سے خود کو آئینے میں تکا کرتے، یوسفی صاحب تو پھر تانگے کا راستہ کاٹ لیتے تھے مگر ہم سے تو یہ بھی نہ ہوا۔ جس جمعے مولوی صاحب جہنم کا ذکر کرتے، ہم اس کے بعد کم از کم تین دن دور سے ترش دہی لا کر گھر سے مار کھاتے۔

ہمیں اس زمانے میں ان یاروں پہ بڑا رشک آتا جن کے گھر نسبتا گرلز سکول کے پاس تھے۔ کمبخت صبح شام دہی لینے جاتے ۔ اور اس زمانے میں ہم انہیں ہی نواب واجد علی شاہ سمجھتے تھے۔ چوہدری کا گھر ہم سب میں سے گرلز سکول کے نزدیک تھا۔ فقط دس منٹ کی واک تھی۔ جو ہمارے گھر پہنچتے پہنچتے بیس ہو جاتے۔ مگر ہم اس پہ بھی شاکر تھے کہ ہم میں چند حرماں نصیب ایسے بھی تھے جو گرلز سکول سے آدھے آدھے گھنٹے کی مسافت پہ رہتے۔

سائیکل ہمیں مہیا نہ تھا کہ بزرگوں کی نظر میں بے راہروی یہیں سے شروع ہوتی ہے۔ اگلے مرحلے پہ لڑکا لڑکیوں کو دیکھ کر سائیکل کی گھنٹی بجاۓ گا اور یوں پوری طرح بے راہروی کا شکار ہو جاۓ گا۔ اللہ، ہمارے ذہن میں دور دور تک ایسا خیال نہ تھا۔

گھر میں سائیکل تو تھا اور تھا بھی ہمارا اپنا مگر ابا چونکہ اکثر شام کو گھر نہ ہوتے تو کسی نہ کسی بزرگ سے اجازت لینی پڑتی جو کہ بیل سے دودھ یا اس کی زوجہ سے پرواز کی توقع رکھنے کے مترادف تھا۔ سو سارا دن پیدل مارچ کرنے کے بعد رات کو جب عموماِ جوان روحیں اختر شماری کرتی ہیں ہم اپنی پنڈلیاں خود ہی دبا رہے ہوتے۔

غرض ہم میں سے ہر ایک اپنی سلطنت کا خود ہی بادشاہ تھا خود ہی وزیر اور گرلز سکول ہم سب کا دارالسلطنت تھا ۔