انوکھا چیلنج از روشنی

گوٹ ہنس مکھ میں چوہدریوں کا خاندان آباد تھا۔ سالہا سال سے مزاح میں انکا کوئی ثانی نہیں ہوا اور طنز و ظرافت کی زمیں پر انکی اجارہ داری قائم و دائم رہی۔ پھر وقت کی پکڑ، حاسدوں کے ذھن اور میرے ہونے والے نصیب میں اک سیاہ گھڑی در آئی۔ آس پڑوس کے پنڈ کے چوہدریوں نے میرے آنجہانی دادا جان کے ذھن میں یہ خناس بھر دیا۔ کہ مزاح بڑی عام سی بات ہے خاص تو تب ہو جب تمہارے خاندان میں کوئی سنجیدہ شریف پیدا ہو۔ ان کی بات کو دادا جان نے خلاف معمول سنجیدگی سے لے لیا اور ہم پیدا ہونے سے پہلے ہی ایک تجربے کی نذر ہو نے کے لئے منتخب ہو گئے۔
ہمارے سارے ہم زلف شاید اس انہونی کی خبر پا چکے تھے جو اس دردناک سانحے سے پہلے ہی دنیا میں آورد ہوچکے تھے۔

اپنی آنے والی زندگی میں لکھے گئے مقدر کا اک سرا بھی ہمارے سامنے وا ہوتا تو ہم عالم ارواح سے اس عالم میں پرواز کا ارادہ بدل دیتے۔ ہک ہا! ہونی کو کون ٹال سکتا ہے ۔ کاتب تقدیر کے قلم کی نوک پر ہنس مکھ خاندان کے سب سے لاڈلے سپوت کے آخری چشم و چر اغ۔۔۔ مابدولت ۔۔۔ قرار پانا ٹھہرے۔

دنیا میں پہلی آنکھ کھلنے پر ہی ہمارا استقبال بڑی سنجیدگی سے کیا گیا تھا۔ اس دن پوری حویلی میں پورے جوش وخروش سے یوم سنجیدگی منایا گیا۔ قہقہے لگانے کی بجائے ہلکے سے مسکرانے پر اکتفاء کیا گیا۔ چہرے پر بارہ بجا کر مصنوعی سنجیدگی کی داغ بیل ڈالی گئی۔ تا کہ آنے والے وقت میں ضرورتا سنجیدگی طاری کرنے میں آسان ریے۔

ان سب باتوں سے بے خبر ہم دھیرے دھیرے اپنی زندگی کے دن گزارنے لگے۔ جب پہلی بار ہم نے قلقاری ماری اور ہلکی مسکان نے ہمارے چہرے کا احاطہ کیا تو بڑے بزرگوں کی پیشانی پر پریشانی کی لکیر ابھری اور انہوں نے مجھے مزاح کے سایے سے بھی دور رکھنے کے لئے اپنی نظروں سے دور کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ میری قسمت میں داداجان کے سب سے خشک مزاج دوست کے ہاں ٹھہرنا قرار پایا۔ جو شاید ساری زندگی میں غلطی سے ہی کبھی مسکرائے ہوں۔ اپنے گھر سے دور رہنا میرے لیئے اتنا آسان تو نہ تھا مگر اک خواب میرے ہمراہ ہوا اور زندگی اپنی راہ پہ چلنا آسان ہو گئی۔ بچپن میں اک بار سنا تھا، خاندان میں سب ایم بی بی ایس ہیں میرے دادا دادی،امی ابا، تایا تائی وغیرہ وغیرہ۔ اور یہ خواب کب ہمارے ذھن میں آ بسا ہمیں خبر نہ ہوئی۔ کہیں نا کہیں ہم اپنوں جیسا بننا چاہتے تھے۔ مستقبل میں اسکی تعبیر سے بے خبر ہم من و عن اس خواب کو پلکوں پہ سجا کے بیٹھ گئے۔

مدرسہ، اسکول اور کالج تک میری طبیعت میں خاصی سنجیدگی آگئی ۔ میں سر اٹھا کر کہہ سکتا تھا۔ میری طبیعت میں سنجیدگی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ لیکن اسے محاورے والا کوٹ کوٹ سمجھنے کی غلطی نہ کیجیئے گا۔ مجھے مسکرانے کے لئے خاصی محنت کرنی پڑتی تھی۔ اور یہی میرے آنجہانی دادا جان کی کامیابی ٹھہری۔

وقت پر لگا کر گزر گیا۔ اور ہم ایم بی بی ایس کی ڈگری اٹھائے گھر کو چلے آئے۔ یہ دن تاریخ میں سنہرے لفظوں میں لکھے جانے کے قابل تھا کیونکہ ہنس مکھ خاندان اپنے چیلنج میں کامیاب ہو چکا تھا۔ حاسدوں کو منہ کی کھانی پڑی۔ اس خوشی کے موقع پر ہم نے مسکرانے کی کوشش کی مگر ناکام ہو گئے۔ اور دل مسوس کر رہ گئے۔ اپنی ڈگری نکالی اور سارے خاندان کے سامنے رکھ دی۔ اترا کر کہا ہم بھی آپ کی طرح ہیں۔ ایم بی بی ایس۔ یہ کہنے کی دیر تھی ۔چہار طرف قہقہے ابل پڑھے۔ ہمیں ایم بی بی ایس کا وہ مفہوم روشناس کرایا گیا جو کبھی ہماری نظر کی قید میں نہ آسکا۔

ایم بی بی ایس یعنی میاں بیوی بچوں سمیت۔ بہت سا وقت گزر چکا تھا۔ مگر ہم پھر بھی چاہتے تھے ۔ ہم اور ہمارے خاندان میں کم سے کم ایک قدر تو مشترک ہو۔ اسلئے اس نئے میدان میں جھنڈے گاڑنے کے لئے چل نکلے۔ خاندان کی پرانی روایت کو زندہ رکھتے ہوئے امپورٹڈ دلہن کی تلاش شروع کر دی۔ یہاں لفظ امپورٹڈ بھلے اردو کا نہ لگے مگر استاد محترم کے ارشاد : کہ "ہر لفظ ذھن میں ایک خاص جگہ جا کے ٹکراتا ہے ۔ " کی روشنی میں درآمدی سے امپورٹڈ زیادہ قوی لگا اسلئے گوش گزار کر دیا۔

اک نئی تلاش ہمیں ولایتی گھرانے کے دروازے تک لے گئی۔ انہوں نےہمارے سراپے اور ہماری ڈگری کو تشویش کی نگاہ سے دیکھا اور ہم سے مطلوبہ آسامی کے لئے تجربے کی تفصیل پوچھی۔ ہم نے لجاتے شرماتے کہا " قبلہ یہ پہلا موقع ہے اور اس سے پہلے شادی کا ہمہں کوئی تجربہ نہیں لیکن اگر آپ کی یہ ڈیمانڈ ہے تو میں ہنگامی بنیادوں پر تجربہ حاصل کرنے کی اپنی سی کوشش کر سکتا ہوں۔ " اس جواب پر ہمیں جو گھوریاں پڑیں انہوں نے ہمیں شرم سے پانی پانی کر دیا۔ انہوں نے نوکری کا تجربہ پوچھا تھا اور ہم اسے کچھ اور سمجھ بیٹھے ۔

انٹرویو کا دوسرا سیشن اک ضروری ٹیسٹ تھا۔ جس میں ہماری طبیبانہ صلاحیتوں کا امتحان لینا مقصود تھا۔ سب سے پہلے مریضہ اک کم عمر بچی تھی ۔ان کے مرض کی تشخیص بڑی آسانی سے ہو گئی مگر انہوں نے دوا کے لئے کچھ بے ضرر سی شرائط عائدکر دی کہ وہ گولی ،پڑی ،شربت کھا پی نہیں سکتی اور ٹیکے سے انہیں ڈر لگتا ہے۔ ہم نے وضو بنایا اور ان پر کچھ کلمات پڑھ کر پھونک دئے۔ پھر ایک ضیعیف سی مریضہ آئی ۔انکا خون نکالنا اور لگانا تھا۔ خون نکالنے کا مرحلہ انکی چیخوں کے ساتھ بہ خوبی طے پا گیا، سوئی کے ذریعہ خون کی دوبارہ واپسی انہوں نے نامنظور کر دی ۔ مجبورا انہیں گلوکوز میں خون گھول کر پلا دیا۔

اپنوں کی دعائیں رنگ لائیں اور ہماری بطور دلہا تقرری عمل میں لائی گئی۔ ہنس مکھ خاندان اپنے تجربے اور مابدولت اپنے خوابوں کو پا کر مسرور کامیاب زندگی کی شاہراہ پر گامزن ہے۔

*********