ایک مزاحیہ تحریر از ندیم اختر

معزز قارئین،
آپ نے تحریر کا عنوان پڑھا، اتنا تو سمجھ ہی گئے ہونگے کہ اس تحریر کا، جو آپ آگے جا کر پڑھنے لگے ہیں۔ مزاح سے کچھ نہ کچھ تو تعلق ہے ۔۔ اگر نہیں سمجھے تو آپ کا اللہ ہی حافظ ۔۔ اتنی سامنے کی بات نہ سمجھنے والوں کیلئے عموما ایک باربرداری کے لئے کام آنے والے چوپائے یا پھر ایک رات رات بھر جاگ کر ہولناک آوازیں نکالنے والے پرندے کی مثال دی جاتی ہے۔ مگر میں ایسی گستاخی کا مرتکب نہیں ہونا چاہتا ۔۔ میری صرف اتنی استدعا ہے کہ آئندہ کچھ بھی پڑھنے لگیں تو پورے دھیان سے معنی مفہوم سمجھ کر پڑھیں، تا کہ کوئی آپ کے متعلق کسی طرح کی نا معقول رائے قائم کرنے سے باز رہے ۔۔
اس سے پہلے کہ اس تحریر کا باقاعدہ آغاز کیا جائے، آئیے ہم طے کر لیں کہ مزاح دراصل ہے کیا ۔۔ لیکن اس سے بھی پہلے میں اپنے سر سے ہیڈ فون اتار کر ایک طرف رکھنے لگا ہوں کیونکہ مجھے اندازہ ہوگیا ہے کہ جگجیت کی آواز میں درد بھری غزلیں سنتے ہوئے آپ اور چاہے سب کچھ کر سکتے ہوں، ایک مزاحیہ تحریر ہر گز نہیں لکھ سکتے ۔
تو ہم مزاح کی تعریف پر بحث کرنے لگے تھے۔ لیکن میں نے آپ سے تو پوچھا نہیں کہ آپ اس بحث میں شامل ہونا چاہیں گے یا نہیں ۔ دیکھیں ناں بعض لوگوں کو بحث مباحثہ پسند نہیں ہوتا۔۔ اور جب معاملہ مزاح جیسے سنجیدہ موضوع کا ہو تو یہ ہر کس و نا کس کے بس کی بات بھی نہیں ہوتی ۔۔ لہذا اگر آپ بحث میں شامل نہیں ہونا چاہتے تو آپ کو اس کا اختیار ہے ۔۔ آپ اپنی مرضی کے مالک ہیں اور اپنے قیمتی وقت کو اپنی پسند کے مطابق گزارنا جمہوریت کی رو سے آپ کا بنیادی حق ہے۔۔ بالکل ویسے ہی جیسے الیکشن کے دنوں میں آوے ہی آوے کے نعرے لگانا اور ووٹ ڈالنا آپ کا حق ہے اور اگلے الیکشن تک کے لئے آپ کو بالکل فراموش کردینا آپ کے منتخب نمائندوں کا حق ۔۔ لیکن ہم یہاں سیاست نہیں، مزاح پر بات کر رہے ہیں۔
دنیا میں مزاج اور مزاح کے اعتبار سے بھانت بھانت کے لوگ پائے جاتے ہی۔ کچھ رجائیت پسند المیہ سے المیہ بات یا صورتحال میں بھی ہنسنے ہنسانے کا پہلو تلاش کرلیتے ہیں، تو بہت سے ایسے بھی ہیں جن کے تاثرات میں عالمی معیار کے لطیفے سن کر کوئی تبدیلی آتی ہے نہ صدر صاحب کی تقریر سن کر ۔۔ وہ چارلی چپلن کی فلموں کو بھی پہلی یا دوسری جنگ عظیم کی تباہ کاریوں پر بنی دستاویزی فلم جتنی سنجیدگی سے دیکھتے ہیں۔۔ حتی کہ وزیر داخلہ صاحب کی شکل دیکھ کر بھی وہ زیادہ سے زیادہ مسکراتے ہی ہیں۔ ہنسی انہیں تب بھی نہیں آتی۔۔ مجھے یقین ہے کہ آپ کا شمار ایسے بدذوق اور بد مزاج لوگوں میں ہرگز نہیں ہوتا۔
مزاح ایک ایسا موضوع ہے جس پر ہمیشہ لکھا گیا۔۔ یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ ہر دور کے عظیم فلسفیوں، مفکرین اور صاحبان علم نے اس موضوع پر قلم اٹھایا ہے ۔۔ اور پھر کچھ لکھے بنا واپس رکھ دیا ہے۔ اسلئے کہ دوسرے موضوعات پر لکھ لکھ کر وہ سب کاغذ اور سیاہی ختم کر چکتے تھے۔۔ اور جب تک یہ چیزیں پھر سے میسر آتیں، وہ بھول بھال جاتے تھے کہ انہیں کتنے اہم موضوع پر لکھنا تھا ۔۔ صدیوں سے مزاح کے ساتھ یہی ٹریجڈی ہوتی آئی ہے۔ اس پر جتنے بھی قہقہے لگائے جائیں، زیادہ ہیں۔
میں نے اپنی پہلی مزاحیہ تحریر، آج تک نہیں لکھی ۔۔ ہاں دوسری کوئی ساڑھے سات سال قبل انٹرمیڈیٹ کے امتحان میں چوتھی بار ناکام ہونے پر لکھی تھی، جس کا عنوان تھا "میرٹ کا قتل نا منظور"..اس میں کیا لکھا تھا، یہ تو اب یاد نہیں مگر یہ یاد ہے کہ جن اکا دکا لوگوں کو پڑھوائی تھی، ان سب نے پڑھ کر ایک ہی بات کہی تھی "شرم کرو" اور جواب میں میں نے دل ہی دل میں یہ ترمیم شدہ شعر پڑھا تھا
پہلے آتی تھی حال دل پہ شرم
اب کسی بات پر نہیں آتی
اب تک جو کچھ آپ نے پڑھا، اگر اس کی کوئی کل سیدھی نہ لگی ہو تو اس میں آپ کا کچھ قصور نہیں، نہ میرا ہے ۔۔ اس سے صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ اونٹ بیچارہ بلا وجہ بدنام ہے ۔۔ اور یہ بھی کہ ضروری نہیں ہر بات ہر ایک کی سمجھ میں آنے والی ہو ۔۔ کچھ باتیں ایسی بھی ہوتی ہیں جو کہنے والے بنا سوچے سمجھے کہہ یا لکھ دیتے ہیں ۔۔ پھر طویل عرصے کی تحقیق کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ ارے یہ تو کائنات کے سر بستہ رازوں میں سے ایک راز بیان کیا گیا ہے ۔۔ چلو بھئی انہیں نوبل پرائز دو۔ کیا کہا ۔ انہیں گزرے تو زمانے بیت گئے ۔۔ کوئی بات نہیں ۔۔ بعد از مرگ ہی دیدو ۔۔ تو قارئین گرامی، اب اس بے سروپا تحریر کو ایک نوبل انعام یافتہ مصنف کا شاہکار سمجھ کر پھر سے پڑھیں ۔۔ شاید اس طرح آپ کی تشفی کا بہتر طور سامان ہوسکے ۔۔ مجھے اجازت دیجئے کہ ایک ضروری کام یاد آ گیا۔۔ بھئی وصیت لکھنی ہے ناں کہ انعام کی رقم کو کس طرح استمعال ہونا چاہئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔