کبھی ہیرو ہے کوئی از در نایاب

سردیوں کی سہ پہر تھی۔ ممی لاونج کے آرام دہ صوفے پر شال اوڑھے لیٹی اپنے پسندیدہ ناول میں ڈوبی ہوئی تھی۔ کہانی بڑے زبردست موڑ پر پہنچ چکی تھی۔ ہیرو کی ماں ہیرو کی غیر موجودگی میں ہیروئن کو دھوکے سے کسی کے ساتھ پھنسا چکی تھی۔ ممی مسلسل ناخنوں کو دانتوں سے چباتے وہ سین پڑھنے میں مگن تھیں، جس میں ہیرو اپنی جان سے پیاری محبوبہ کو پروپوز کرنے اس کے اپارٹمنٹ کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے اور ہیروئن کے بجائے رقیب میاں دروازہ کھولتے ہیں۔ کہ اتنے میں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کھلی کھڑکی سے کچھ اڑتا ہوا لاونج میں گھسا اور سر پر سے گزرتا ہوا محسوس ہوا۔ ممی نے بے دھیانی میں اس کالے اڑنے والے کے تعاقب میں نظر دوڑائی۔ وہ اڑتا ہوا صوفے کے سائیڈ ٹیبل پر رکھے لیمپ کے پیلے شیڈ پر لینڈ ہوا۔ ممی کی توجہ پھر سے ابھی رقیب پر ہوئی ہی تھی کہ چھٹی حس بیدار ہوئی۔ اب کے نظر جو اٹھائی تو لیمپ شیڈ سے چمٹے دو انچ کے کالے لمبے، مونچھیں گھماتے، پروں کو پھرپھڑاتے، کانٹے دار ٹانگوں والے، گندی نالی سے ڈبکی کھائے کوکروچ پر جب پڑی تو پانچ فٹ سات انچ اور پچھتر کلو گرام کی ممی کا دل پتے کی طرح لرزنے لگا، خوف سے گھگھی بندھ گئی۔ سانولا رنگ سفید پڑ گیا اور دل اچھل کر حلق میں آگیا۔ اپنے آپ کو سمیٹ کر پوری کی پوری شال کے اندر چھپ گئی۔
قریب ہی چار سالہ دانی ٹام اینڈ جیری میں مگن تھا۔
"د د دانی ی! ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ممی کے جانی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دانی میرا پالا شا منا۔ ۔ ۔شاباش کتنا اچھا بیٹا ہے میرا!" ممی اپنے حلق میں آیا دل نگلتے ہوئے بڑی مسکین سی آواز میں شال میں سے تھوڑا سا منہ نکال کر پکاریں۔
چار سال کا توتلو،گولو گبلو دانش پکا بدمعاش تھا۔ جب بھی ممی اسے ایسے چاپلوسی سے بلاتیں تو فوراً سمجھ جاتا کہ کوئی کام کروانا ہے جو وہ خود کسی نہ کسی وجہ سے نہیں کرسکتیں۔ فوراً اپنے آپ کو تیس مار خان بنا لیتا۔
" تیا ؟۔ ۔ ۔ بولے تو! تئم نئی ہے اپن تے پاس" دانی نے پلٹ کر بھائی لوگ کی مانند جواب دیا۔
" یہ کیا بولے تو، بولے تو لگا رکھا ہے ؟ جی ممی بولو۔۔ سمجھے۔ ۔!" امی کاکروچ وکروچ بھول کر غصے سے سبق پڑھانے بیٹھ گئیں۔
دانی کے پیشانی پر آتے کالے گھنگھریالے بالوں کے نیچے ابرو پر ننھے ننھے بل پڑے اور پھولے گال اور پھولنا شروع ہوئے۔ ایک تو ٹام اینڈ جیری جیسا کارٹون چھوڑا اور اب لیکچر پلائی کی تیاری۔ ایک دم موڈ خراب ہوگیا۔ ایک کندھا اچکایا اور پورا ٹی وی کی طرف واپس گھوم گیا۔
"نہیں نہیں ۔ ۔ دانی بیٹا ۔ ۔ میرا چھوٹا سا جانی۔ ۔ میرا یہ مطلب نہیں تھا۔ ۔میں نے تو تمہیں اس لئے بلایا تھا کہ یاد ہے تم نے پچھلے ہفتے چاکلیٹ کیک کی فرمائش کی تھی جو میں نے اس وقت پوری نہیں کی تھی۔ کیونکہ تمہاری ٹمی میں درد تھا۔ ۔ آج میں تمہیں خوب سارا چاکلیٹ ڈال کر کیک بنا دوں گی اور سب سے بڑا پیس تمہارا ہی ہوگا۔۔ !" ممی نے بیچارگی سے چارہ ڈالا۔
"پلومس!" دانی یہ سن کر کھل اٹھا۔ فوراً وعدے کی مہر ثبت کروانے پر تل گیا۔
ہمم اب آیا نہ اونٹ پہاڑ تلے۔
" بالکل پرامس، لیکن پہلے میرا منا میرا ایک چھوٹا سا کام کرے گا اوکے!"
"تیا! بولے تو؟" پھر وہی مرغے کی ایک ٹانگ"۔
ممی نے بمشکل اپنا ٹمپر قابو میں کیا۔
" دو فٹا۔ ۔ کل کا چھوکرا" دل ہی دل میں دانت پیسے۔
" ادھر آؤ میرا بہادر بیٹا میرا ہیرو ۔ ۔ ۔ ۔ " ممی نے چمکارا
دانی ناچار کھڑا ہوا۔ ۔ ۔ اور ممی کے پاس آکر شال میں جھانکا۔ اندر ممی تھر تھر کانپ رہی تھیں۔ وہ سوچ رہا تھا کہ یہ ایک دم ممی کتاب پڑھتے پڑھتے شال کے اندر کیسے غائب ہوگئیں۔
"تیا تام ہے۔۔ ۔ ۔؟" اب کے ذرا ممی کی حالت پر ترس کھایا ۔
" دانی۔ ۔ بیٹا۔ ۔ باہر جاؤ اور جا کر وہ ۔ ۔وہ شوریک میں سے ابو کا ایک جوگر لے کر آؤ"۔
"تیوں۔ ۔ ؟" معاملے کی سنگینی جانے بغیر سوال داغا۔
" تم لے کر تو آؤ نا بعد میں کیوں کیوں کرنا۔ ۔ "
ممی کا دل چاہ رہا تھا دانی کو اٹھا کر جھنجھوڑ ڈالیں۔ مگر اس کالے خبیث کاکروچ نے حواس معطل کردیئے تھے۔ دل نے کہا اس سے تو اچھا کوکروچ کو خود ہی ہاتھ میں لے کر جھنجھوڑ کر مسل ڈالتی۔ یہ سوچنا ہی تھا کہ سارے بدن نے ایک جھرجھری لی۔
دانی چلا باہر جوتا لینے۔ ۔۔
امی نے ڈرتے ڈرتے لیمپ شیڈ پر نگاہ کی۔ وہ وہیں ٹکا ہوا تھا مگر پر پھیلا رہا تھا مطلب کسی بھی ٹائم پھر اڑنے کی تیاری تھی۔"اگر یہ اڑ کر میرے سر پر لینڈ ہوا تو۔" اس سے آگے سوچا نہ گیا۔
" دانی ارے بھئی کہاں ہو جلدی لاؤ نا" ممی بے صبری سے پکاریں۔
" تون سا والا۔ لید یا لیلو۔ ۔" معصومیت سے دور سے آواز آئی۔
" ارے بھئی کوئی بھی لے آؤ۔" اب کے ممی جھنجھلائیں۔
سائز فورٹی ٹو کا چوڑے منہ والا بھاری بھرکم جوگر بمشکل دونوں ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے دانی واپس آیا۔
" دانی میرے جانی۔ ۔ ۔وہ دیکھ رہے ہو۔۔ سامنے لیمپ شیڈ پر۔ ۔؟"
"ہاں دیتھ را ؤں۔ ۔ ۔ کوتلوج !"
" دانی پلیز اسے اس جوتے سے مار کر باہر پھینک کر آؤ"
دانی نے ایک نظر دو گرام کے کوکروچ پر ڈالی اور دوسری تھرتھراتی ممی پر ڈالی اور سوچا ممی اگر اتنا ڈر رہی ہے تو یقیناً یہ کوکروچ سارے بیڈ گائیز سے بدتر ہی ہوگا۔
دانی بیک وقت بین ٹین، بیٹ مین، اسپائڈر مین اور جتنے بھی کارٹون نیٹ ورک کے ہیرو مین ہوسکتے تھے بن گیا۔
بمشکل ہاتھ میں جوتے کو سنبھال کر گھمایا اور بالکل ایسے پھینکا جیسے تھرو بال میں پھینکا جاتا ہے۔ جوتا لیمپ تک پہنچنے سے پہلے ہی راستے میں ڈھیر ہوگیا مگر اس سے کوکروچ خبردار ہوکر اڑا اور ممی بدحواس ہوکر چیخیں اور شال کے اندر پوری طرح گم ہو کر لگیں جل تو جلال تو کا ورد کرنے۔
کوکروچ شاید ممی سے زیادہ بد حواس تھا اسی لئے فرار کی راہ نہ پاکر سیدھا دانی کے سر پر لینڈ ہوا۔
"تدھر دیا، تدھر دیا!" دانی نے اپنا مشروم کٹ ادھر ادھر گھمایا۔ کوکروچ بھی دانی کے سر پر اپنا توازن قائم رکھنے کے لئے بار بار پر پھیلا رہا تھا۔
ممی نے پھر ذرا سا منہ باہر نکال کر جھانکا پھر سے ایک جھرجھری لی اور بولی۔
"ت ت تمہارے سر پر ہے دانی جلدی سے نکالو اسے" یہ سچوشن تو ناول سے بھی زیادہ خطرناک تھی۔
"دانی نے اپنے سر پر ہاتھ پھیرنا شروع کیا اور جلد ہی مونچھیں ہاتھ آگئی۔
" مل دیا ملدیا!" خوشی سے مونچھوں کے سرے پر لٹکے بے بس کوکروچ کو ممی کی آنکھوں کے آگے لہرایا۔ ایک سیکنڈ کو ممی نے تڑپتے کوکروچ کی کانٹے دار ٹانگوں پر نظر ڈالی۔ اور وہ وقت یاد کیا جب اسٹور صاف کرنے کے وقت اوپر کہیں سے ایسا ہی ایک کالا خبیث اڑ کر بازو پر گرا تھا۔ اور اپنی کانٹےدار ٹانگوں سے سارے بازو پر چکر لگایا تھا اور ممی نے اس دن ایسی دلدوز چیخیں ماری تھی کہ ایسی چیخیں تو نانی اماں کے دار فانی سے کوچ کر جانے پر بھی نہیں ماری تھیں۔ ابو کو تو ہارٹ اٹیک ہوتے ہوتے رہ گیا تھا۔ ویسے بھی ممی کی موجودگی میں ابو پر ہمیشہ ہارٹ اٹیک کا خطرہ منڈلاتا ہی رہتا ہے۔
دانی نے کوکروچ والا ہاتھ اونچا کر کے اپنی آنکھوں کے لیول پر کیا۔ پہلے دلچسپی سے اسے تڑپتے دیکھا پھر بولا۔
" تتّے۔ ۔ ۔ میں تیرا تھون پی جاؤں گا۔( کتے میں تیرا خون پی جاؤں گا)"
یہ کہہ کر اس نے جوتا اٹھایا اور خون پینے کی مناسب جگہ کے لئے یہاں وہاں نظر دوڑائی۔ اور ڈائننگ ٹیبل کے نیچی کی جگہ کا انتخاب کیا۔
" تے لی تو میں۔۔ ۔ ۔ ٹھا!۔ ۔ ۔ ٹھا!" دانی اس کا قیمہ بنانے میں میں مصروف تھا۔
" دانی بس کرو!" ممی گھٹی گھٹی آواز میں ایسے کہہ رہی تھیں جیسے کوئی ان کا "اپنا" ہی پٹ رہا ہو۔
دانی اس کا "کریا کرم" کرکے باہر نکلا تو ہاتھ میں اب بھی مونچھوں کے سرے پر بچا کھچا پچکا ہوا کوکروچ تھا۔ ممی نے دیکھا تو ایک خطرناک ابکائی لی۔ دوپہر میں کھائی کڑھی جو انہوں نے ساحرہ کی ریسیپی سے بنائی تھی باہر آنے کو بیتاب تھی۔ ممی نے بمشکل لمبی لمبی سانسیں لے کر اسے پھر سے پیٹ میں واپس بھیجی۔
اتنے میں آپی اپنے روم سے باہر آکر دانی پر برسنے لگی۔
"دانی کے بچے کیا ٹھک ٹھک کر رہے ہو ۔ کم از کم ایک گھنٹے کو تو کسی کو بخش دیا کرو۔ اتنی اچھی نیند آرہی تھی۔"
آپی آنکھیں میچتی ہوئی دانی پر لعن طعن کررہی تھی ۔ دانی کےخیال میں اس نے ہیرو بن کر ممی کو ولن سے بچایا۔ اب بجائے تعریف تمغوں کے یہ آؤ بھگت اسے ایک آنکھ نہ بھائی۔ اس نے آپی کی طرف غصے سے دیکھا۔ پھولے گال سرخ ہوئے اور ابرو چڑھا کر بولا۔
"بولے تو اپن نے ممی تو بچایا۔ ۔ ۔ اب یہ پتلو۔ ۔ ۔ میں اپنے تملے میں جاتا ہوں اور توئی مجھ سے بات نہ تلے"۔ یہ کہہ کر آپی کا ہاتھ پکڑ کر اس پر کوکروچ کا کچومر تھمایا اور افسردہ سا اپنے کمرے کی طرف چل دیا۔
آپی نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے اپنی ہتھیلی پر نگاہ کی۔ ۔ ۔ پانچ فٹ پانچ انچ کی آپی کے چہرے کا رنگ بدلا۔ ۔ دل اچھل کر حلق میں آیا۔ ۔وہ پتے کی طرح کانپنے لگی۔ لرزتے ہاتھوں سے کچلا کوکروچ جھاڑا ۔ اور۔ ۔ اور پھر ممی سے بھی زیادہ دلدوز چیخوں سے سارا محلہ گونج اٹھا۔