قصہ آج کے درویش کا از سحر آزاد

جی یہ قصہ چوتھے درویش کا ہے ۔ ۔ ۔ ۔! نہیں نہیں بھائی یہ قصہ داستان امیر حمزہ کے چوتھے درویش کا نہیں ہے، بلکہ یہ قصہ ہے لاہور کے انارکلی بازار کے چوتھے درویش کا ہے۔

وہ یوں ہے ناں کہ! اس بازار میں اتنے درویش گھومتے ہیں کہ نشانیوں سے یاد رکھنا آسان نہیں، اس لیے ہم نے ان کو نمبر دے رکھے تھے۔ حبیب جلیبیوں والے کی دوکان کے پاس کھڑا "پہلادرویش" گلی نمبر ۳۳ کی اسٹریٹ لائٹ کے نیچے کھڑا "دوسرا درویش" گول چوک میں ہر کسی کو ڈرانے والا "تیسرا درویش" اور میرے کمپیوٹر سنٹر کے باہر کھڑا میرا دوست اور "چوتھا درویش "

ان درویشوں کا کوئی مخصوص کام اس کے علاوہ نہیں تھا کہ وہ گرلزکالج اور گرلزاسکول کے مخصوص وقت میں اپنے مخصوص مقام پر کھڑے ہو کر تانک جھانک کیا کرتے تھے۔

تو جی یہ قصہ مذکورہ چوتھے درویش کا ہے۔

تو قصہ شروع کرنے سے پہلے آپ کو چوتھے درویش محترم کا طول عرض بتانا بہت ضروری ہے۔ تو شروع کرتے ہیں ان کی طول کے ساتھ ماشاء اللہ میری دوکان کے شیڈ کے ساتھ لگتا ہے یعنی ساڑھے چھ فٹ سے کم نہیں ہے اور عرض کی کیا بات کروں اتنا سمجھ لیں کہ ایک دس بائے بارہ کی دوکان میں ان کو مشکل سے "رکھ" سکتے ہیں وہ بھی پھنس پھنسا کے۔

ویسے تو چوتھے درویش محترم کا ایک عدد نام بھی ہے "پر سانوں کی" ہم تو اسے چوتھے درویش کے نام سے ہی پکاریں گے۔ تو ہوا یوں کہ گوالمنڈی میں کھانے کے مشہوار مقابلے "کھاپے خلاص" کا اعلان کر دیا گیا۔ اعلان سن کر ہمارے ذہن میں پیسے بنانے کی ایک اچھی سی ترکیب آ گئی کہ اپنا "چوتھا درویش "آخر کس کام آئے گا۔ اس کا مقابلہ کروا کر رقم جیتتے ہیں۔

بڑی مشکلوں سے اسے راضی کر کے اس کا نام (اپنی جیب سے ۲۰۰ روپے انٹری فیس جمع کروا کر) مقابلے میں لکھوایا۔ اور اپنے درویشں کو مقابلےکے تیار کرنا شروع کر دیا۔ یعنی ہم اس کو سارا دن کچھ نہ کھانے دیتے اور شام کو اس کو خوب ٹھونس ٹھونس کر کھلاتے جس میں سارا فنانس میرا ہی استعمال ہوتا تھا۔

آخر اللہ اللہ کرکے مقابلے کا دن آ پہنچا۔ ہمیں اپنے درویش کی کامیابی کا پورا پورا یقین تھا۔ یقیناً یہ مقابلہ ہم ہی جیتنے والے تھے۔ مگر جب نظر مقابلے کی جگہ پر پڑی تو ہمیں اپنے پیسے ڈوبتے ہوئے نظر آنے لگے۔

سڑک کے درمیان ایک بڑی سی ٹیبل اور کرسیاں پڑی ہوئی تھیں۔ اورمقابلے میں اپنے درویش سمیت انیس عدد افراد موجود تھے اور جن کے درمیان بیٹھے ہوئے ہمارے درویش محترم "کاکے کاکے" لگ رہے تھے۔

مقابلے کا آغاز سب کے سامنے ایک ایک جگ "لسی" کا رکھ کر کیا گیا (تا کہ کھانے کی بچت ہو) جس کو سب نے ایسے ہی داڑھ گیلی کرنے کے مصادر ہڑپ کر لیا۔
پھر کھانوں پر کھانے آنے لگے اور برتنوں پر برتن واپس جانے لگے۔ میں درویش کی کرسی کے پاس کھڑا ہو کر اس کا جوش "ختم کر دو سب کو، چھوڑنا مت " قسم کے نعروں سے بڑھا رہا تھا۔ اور درویش ایسے میری بات کر رہا تھا جیسے میز پربھنا ہوا امریکہ پڑا ہو۔ تقریباً! گھنٹہ بھر بعد ایک آدمی نے کھانے سے ہاتھ کھینچ لیے۔ ڈول پر ڈگا مارا گیا اور لوگ خوشی سے چلانے لگے کہ ایک تو گیا۔
مزید آدھے گھنٹے میں مزید کے گرد صرف چار لوگ بچے تھے جن میں ہمارا درویش بھی بیٹھا ہماری عزت بڑھا رہا تھا مگر اس کی حالت ایسی لگ رہی تھی جیسے چائنہ کے ٹی وی کی طرح ابھی جواب دے جائے گا۔
جب چار لوگ رہ گئے تو مقابلے کا دوسرا حصہ شروع ہوا اس حصے میں مقابلے کے شرکاء اپنی مرضی کی ڈش بلوائیں گے اور باقی سب کھائیں گے۔ پہلے نمبر والے آدمی نے کہا کہ سب کو بہت زیادہ مسالے والا مرغ مسلم پیش کیا جائے۔ کسی کے پیٹ میں اتنی گنجائش نہیں تھی کہ ایک پورا مرغ مسلم کھا جاتے۔ مگر پھر بھی ہمارے درویش اور ڈش منگوانے والے اور ایک اور آدمی نے مرغ مسلم کھا لیا۔
چوتھا آدمی نہ کھا سکا اور مقابلے سے باہر ہو گیا۔
سب شرکاء کی حالت حد سے زیادہ خراب ہو رہی تھی۔ سانس بہت مشکل سے آ رہی تھی۔ اب باری تھی دوسرے آدمی کے ڈش طلب کرنے کی اس نے چپل کباب منگوائے۔ جس کو ان تینوں نے ہی کھا لیا۔ درویش ایسی نظروں سے میری طرف دیکھ رہا تھا، جیسے کہ ابھی اٹھنا ہی چاہتا ہے مگر اٹھنے کی ہمت نہیں اور نہ ہی بولنے کی ہمت ہے۔

میں اپنا کان اس کے منہ کے قریب لے گیا۔ درویش نے اکھڑی اکھڑی سانسوں سے کہا کہ اب بس ہو گئی ہے۔ میں مزید نہیں کھا سکوں گا۔ مجھے اپنے پیسے ڈوبتے ہوئے محسوس ہوئے۔
سب لوگ میرے طرف دیکھ رہے تھے کہ درویش نے کیا کہا ہے۔
"درویش کہہ رہا ہے کہ ابلے ہوئے کریلے منگوائے جائیں "
میں نے کہا
تو دوسرے دونوں شرکاء اٹھ گئے اور ہمارا درویش یہ مقابلہ جیت گیا۔ اور مجھے ملی انعام کی رقم،
مگر افسوس
وہ رقم میرے پاس نہیں رہی۔

نہیں، نہیں میں نے رقم درویش کو نہیں دی۔ بلکہ یہ رقم بے احتیاطی سے کھانے کی وجہ سے بیمار ہو جانے پردرویش کے علاج اور دوائیوں میں نکل گئی۔ بلکہ مزید اپنے پاس سے دو ہزار روپے لگانے پڑے۔

**********