قسط نمبر2

جیا گائے تارا را را رم

گوری ناچے چھم چھم چھم

آج کل روشائل کے من کی بھی کچھ یہی کیفیت تھی،

اک نامحسوس سی خوشی وہ اپنے من میں پا رہی تھی۔

کمپیوٹر گھر میں کیا آیا، روشائل کو ایسے لگا جیسے اس کی روز مرہ کی زندگی میں ایک مسکراتی ہوئی بہار داخل ہوئی ہے۔ روزمرہ، یکسانیت سے ہٹ کر کوئی روشن درز کھل گیا ہے۔ زندگی گزر تو پہلے بھی رہی تھی کہ اپنی مسافت تو اس نے ہر حال طے کرنی ہی تھی ۔ اس چیز سے بے خبر کہ مسافر اپنی دھن میں بے نیاز چلا جا رہا ہے یا ہر قدم سہج سہج کر رکھ رہا ہے۔

بابا کی بیماری نے ان سب پر ایک بے یقینی کی سی کیفیت طاری کر دی تھی اور روپے پیسے کی جدوجہد نے انھیں جیسے ایک محاذ پر کھڑا کر دیا تھا۔حالانکہ کبھی ان کا گھر ایک آئیڈیل فیملی کی طرح تھا، پیاری سی بہن روہین اور اپنی عمرکے مطابق کھلنڈرا سا بھائی احمر اور مشفق بابا اور اماں تھے۔

گھر میں سکون ،اطمینان اورٹھہراؤ محسوس ہوتا تھا۔ وہ گھر میں بہن، بھائی سے بڑی تھی اس لیے زندگی کا سامنا بھی اسے ہی پہلے کرنا پڑا، اور اماں بابا کا سہارا بھی بننا پڑا، اچانک ہی بابا کی بیماری ایک ان دیکھے طوفان کی طرح ان سب کی زندگیوں میں داخل ہو گئی تھی۔

وہ یہ سوچ نہیں رکھتی تھی کہ ان کے گھر کو کسی کی نظر کھا گئی، کیونکہ زندگی خود ایک امتحان ہے، پتہ نہیں کب اس کا پرچہ اچانک حل کرنا پڑ جائے۔ بس ہر وقت اس امتحانی پرچےکے لئے تیار رہنا چاہیئے، قلم ہاتھ میں ہی رہے تو بہتر ہے۔ زندگی میں کٹھنائیاں ضرور چلی آ رہی تھیں لیکن والدین کی طرف سے ملے اعتماد نے اسے آگے بڑھنے کا حوصلہ اور سہارا دیا تھا۔

کاش وہ مزید پڑھ پاتی یہ خواہش اکثر اس کے دل میں اک حسرت جگا دیتی۔ پتہ نہیں ہم اپنی آنکھوں میں اتنے خواب کیوں سجا لیتے ہیں کہ جب وہ پورے نہیں ہو پاتے تو ان کی ٹوٹی کرچیاں بھی آخر ہمیں ہی چبھتی ہیں۔ وہ کبھی کبھی سوچا کرتی تھی۔

************************

"کیا!" میرے کانوں کو یقین نہیں آرہا۔ چچا جان نے اجازت کیسے دے دی تمہیں؟ وہ تو یونیورسٹی کی تعلیم کے سخت خلاف تھے"۔

"ایسا ہوچکا ہے صبیح اور میں بہت خوش ہوں کہ اب میری زندگی بھی کچھ معنی رکھتی ہے"۔ بیلا کی خوشی اس کے چہرے پر رقص کر رہی تھی۔ صبیح نے بیلا کو اتنا خوش کبھی نہیں دیکھا تھا۔ ایک لمحے کو اس کے چہرے پر بکھرے رنگ دیکھ کر وہ دنگ رہ گیا۔ خوبصورت تو وہ ہمیشہ سے تھی مگر آج کی کیفیت ہی نرالی تھی۔ یہ ہمیشہ کی ڈری ڈری، کچھ کہتی نہ کہتی ہوئی خاموش سی لڑکی، آج کیا غضب ڈھا رہی تھی۔

"مگر یہ یونیورسٹی کیوں جارہی ہے؟ اسے تو کوئی دیکھے تو دیکھتا رہ جائے۔ ہوم اکنامکس کالج میں بھی داخلہ لیا جاسکتا ہے۔ آخر یونیورسٹی ہی کیوں؟" دل میں وسوسے نے سر اٹھایا۔ اکنامکس میں ایم اے اور ملٹی نیشنل کمپنی میں جاب کرنے کے باوجود تنگ نظری صبیح کی سرشت میں شامل تھی۔

وہ بیلا سے محبت کرتا تھا مگر بیلا کی یونیورسٹی تعلیم کے حق میں نہیں تھا۔ اسے گھر بار سنبھالتی ہوئی لڑکیاں اچھی لگتی تھیں۔ جو صرف اور صرف گھر شوہر اور بچوں کی ہو کر رہیں۔

آج کل جو لڑکیوں میں کمپیوٹر اور موبائل ٹرینڈ نکلا تھا وہ اسے سخت برا لگتا تھا۔ ہر وقت چیٹنگ یا کان سے موبائل لگا کر گھومنا۔ "ہم!۔۔ یہ سارے بہانے ہیں کہ ہم کمپیوٹر لٹریٹ ہیں۔ مگر اس کے پیچھے کام کچھ اور ہی ہو رہے ہیں۔"

*****************

شام میں بیلا نے یونیورسٹی میں داخلے کی خبر خبر روشائل کو دی تو وہ خوشی سے بیلا سے لپٹ گئی۔

"میں کہتی تھی نا تھوڑا اپنے آپ میں خود اعتمادی پیدا کرو ،سارے راستے خود بخود کھلتے چلے جائیں گے۔ تم اتنی ذہین ہوکر چھوئی موئی کی طرح رہو گی تو آگے کیسے بڑھوگی۔ انکل کا رویہ بھی حالات کا تقاضہ تھا۔ ۔چلو چھوڑو ان باتوں کو اب ٹریٹ کب دے رہی ہو آخر کو ہماری اکلوتی حسین، ذہین۔ فطین سہیلی ہو"۔

روشی خود یونیورسٹی تک نا پہنچ سکی تھی مگر دل میں اعلی تعلیم کی خواہش رکھتی تھی۔ یہی خواہش اسکی بیلا کے لئے بھی تھی۔ جن حالات سے گزر کر یہ دونوں بچپن کی سہیلیاں یہاں تک پہنچی تھیں اس کا دونوں کو خوب اندازہ تھا اور ان حالات نے ہی انہیں ایک دوسرے کے بہت قریب کر دیا تھا۔

بیلا ماں نا ہونےکی وجہ سے اپنی تنہائی اور چھوٹے چھوٹے دکھ سکھ روشی سے بانٹ لیا کرتی تھی۔ روشی بھی کھلے دل سے بیلا کا غم بٹاتی۔ خلیل صاحب بھی روشی اور اس کی فیملی کو جانتے تھے دونوں بچپن کی سہیلیاں تھیں اور نذیر صاحب سے بھی سلام دعا کا سلسلہ تھا۔

*****************

سمیر جیسے ہی گھر میں داخل ہوا۔ خلیل صاحب نے اس کا گھیراؤ کر لیا۔

"صاحبزادے، کدھر بے نتھے بیل کی طرح پھرتے رہتے ہو۔ ؟ سارا دن سوائے سڑکیں ناپنے کے کوئی اور کام ہی نہیں تمہارے پاس " خلیل صاحب حسب عادت سمیر سے مخاطب ہوئے۔

انھیں اپنے اس انداز گفتگو کی کبھی پرواہ نہیں ہوئی تھی اس لئے احساس کرنا تو دور کی بات تھی۔ سمیر دل ہی دل میں اس طرح بلائے جانے پر چیں بہ چیں تو ہوا۔ مگر لاپروائی اب اس کی سرشت میں بھی داخل ہو چکی تھی، اس لیے وہ بھی لاپروائی سے بولا " بابا، آپ نے خود ہی تو مجھے دس کام گنوائے تھے اور پانچ کاموں سے بھیجا تھا جن میں سے تین کر کے آ رہا ہوں۔ "

خلیل صاحب خود ہی اپنی بات کی گرفت میں آ گئے تھے اس لئے کچھ جزبز تو ہوئے مگر ظاہر نہیں ہونے دیا۔ اور بولے" اچھا ٹھیک ہے ٹھیک ہے بڑے کام والے بنے ہوئے ہو کبھی اپنے بے تکےحلیے کو بھی دیکھ لیا کرو، بیلا سے بڑے ہو مگر کوئی بڑے والی بات نظر نہیں آتی صاحبزادے میں " وہ طنزیہ مسکرائے۔

وہ یونیورسٹی پہنچ گئی ہے اور یہ وہیں کے وہیں، وہ تم سے تو کچھ سیکھ نہ سکی اب تم ہی اس سے کچھ سیکھ لو۔"

خلیل صاحب کبھی بہت روشن خیال اور ہر کسی سے پیار محبت سے بات کرنے والے انسان ہوا کرتے تھے۔ اُنہیں خود اعتماد بچیاں پسند تھیں جو عزت اور اعتماد سے زندگی جینے کا ڈھنگ جانتی ہوں۔ یہی وجہ تھی کہ وہ بیلا سے کبھی کبھی چڑتے یا خفا رہتے کیونکہ اعتماد نام کی اُس میں کوئی چیز نہیں تھی۔ اور نہ ہی کبھی خلیل صاحب نے ایسی کوئی کوشش کی تھی۔

اپنی بہنوں کو اُنہوں نے بہت پیار سے پالا تھا اور اُن پر اندھا اعتبار کیا تھا۔ لیکن جب اُن کے اعتبار کو ٹھیس لگی کو تو اُنہیں لگا کہ خرابی اُن کے رویے میں ہی تھی۔ اگر وہ بہنوں کو بے جا لاڈ اور آزادی نہ دیتے تو یہ سب نہ ہوا ہوتا۔ یہی وجہ تھی کہ اُس کے بعد سے اُنہوں نے اپنے اوپر سنجیدگی کا ایک خول چڑھا لیا۔

اس خول میں تب تھوڑی دراڑیں پڑی تھیں جب وہ زیب النساء بیگم کو بیاہ کر گھر لائے تھے۔ وہ ابھی واپس بے یقینی سے یقین کے سفر میں ہی تھے کہ اُن کو پھر دھوکہ ملا۔ اُن کی رفیق حیات اُن سے ساتھ نبھانے کے سارے وعدے توڑتے ہوئے خالقِ حقیقی سے جا ملیں۔

زیب النساء کی وفات کے بعد وہ وہ واپس اپنی تنہائی کی دُنیا میں چلے گئے۔ کبھی نہ نکلنے کے لیے۔

*******************

بیلا کا آج یونیورسٹی کا پہلا دن تھا، سمیر کو اس نے رات کو ہی کہہ دیا تھا کہ وہ صبح تیار رہے تاکہ اس کو پوائنٹ تک چھوڑ کر آ سکے۔ لیکن سمیر صبح ہی صبح ناجانے کہاں غائب تھا۔ وہ پورے گھر میں اسے آوازیں دیتی پھر رہی تھی۔ بالآخر وہ خود ہی یونیورسٹی کے لئے روانہ ہو گئی۔ بابا سے کہنے کا مطلب تھا کہ وہ اس کو جانے سے ہی منع کر دیتے۔ اور یہ وہ چاہتی نہ تھی۔ دن کا آغاز ہی ٹھیک نہ ہوا تھا۔

یونیورسٹی میں لوگوں کی گہما گہمی عروج پر تھی۔ بڑی مشکل سے وہ اپنے ڈیپارٹمنٹ پہنچی۔ کلاس میں صرف ڈین صاحب نے تعارف کروایا اور کوئی خاص پڑھائی نہ ہوئی۔ باقی تمام کلاسیں فارغ تھیں۔ اس کی سمجھ میں نہ آیا کہ اب کیا کرے، رکے یا گھر جائے۔ اس کی کلاس کی باقی لڑکیاں گرلز کامن روم کی طرف جا رہی تھیں، وہ بھی ان کے ہمراہ ہو لی۔

گرلز کامن روم میں سینئر لڑکیوں کا جیسے قبضہ تھا۔ وہاں وہ جونئیر لڑکیوں کی ریگنگ کر رہی تھیں۔ اسے علم ہوتا تو وہ وہاں کبھی نہ جاتی۔ لیکن اب تو آ چکی تھی۔

"ہے یو۔" ایک سینئر لڑکی نے اسکی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔

"جی!" اس نے کہا۔

"سامنے آؤ۔" اس لڑکی نے اس کو آگے آنے کا اشارہ کرتے

ہوئے کہا۔

"جی کہیے۔" اس نے آگے آتے ہوئے کہا۔

"نام بتاؤ۔"

"بیلا۔"

"کس کی بیلا، بیلا کیا ہوتا ہے بیلا سے ملتے جلتے نام بتاؤ۔" ایک اور سینئر لڑکی نے کہا۔

"جی۔۔۔۔" وہ حیران ہوئی، " بیلا تو بیلا ہوتا ہے یہ میرا نام ہے، اس سے ملتے جلتے نام کیسے، کیا مطلب۔"

"بحث نہیں۔ جو کہا ہے وہ کرو۔" سینئر لڑکیوں کے گروہ میں سے ایک اور لڑکی بولی۔

وہ چپ رہی۔

"چپ ہونے کا نہیں کہا ہے، بیلا سے ملتے جلتے نام بتانے کا کہا ہے۔ اتنا سا بھی نہیں ہوتا تم سے۔"

"جج۔۔جی۔۔۔ کیسے بتاؤں۔۔۔۔" وہ اب گھبرا گئی تھی۔

"ب سے بیلا۔۔۔پ سے پیلا۔۔۔ت سے تیلا۔۔۔۔" اسی سینئر لڑکی نے قافیے سے قافیہ ملانا شروع کیا۔

اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور وہ روتے ہوئے کامن روم سے باہر بھاگی۔ اس کے بھاگنے پر لگائے جانے والے قہقہے کی آواز اسے باہر تک سنائی دی۔ اس کے بعد وہ یونیورسٹی میں رکی نہیں، سیدھی گھر چلی آئی۔ اس کا یونیورسٹی کا پہلا دن بہت برا رہا تھا۔ اس میں پہلے ہی اعتماد کی کمی تھی، آج اس میں مزید کمی آ گئی۔ ایسی لڑکیوں کو وہ جواب نہیں دے سکی، ان کی عام سی باتوں کو فیس نہیں کر سکی تو زندگی میں وہ کیا کرے گی۔ کیا وہ کبھی کچھ کر بھی سکے گی۔۔۔وہ یہی سوچے جا رہی تھی۔

شام کو روشائل اس سے یونیورسٹی کی روداد سننے آئی تو وہ اس کے گلے لگ کر بری طرح رو پڑی۔

"کیا ہو بیلا۔ ادھر دیکھو چندا۔ بتاؤ مجھے۔" روشائل چونکہ گھر میں بڑی تھی اس لیے ہر کسی کے ساتھ اُس کا انداز یونہی مشفقانہ ہوتا تھا۔ وہ اُسے اپنے ساتھ لگائے سر پر ہاتھ پھیرتی پیار سے پوچھ رہی تھی۔

"مجھے نہیں جانا دوبارہ سے یونیورسٹی۔ وہاں کوئی کسی کا احترام نہیں کرتا۔ سب دوسروں پر ہنستے اور مذاق کرتے ہیں۔

"کیا ہوا بیلا۔ کسی نے کچھ کہہ دیا ہے کیا؟"

"وہ سب میرا نام بگاڑ رہی تھیں۔ میرے گرد سب یوں گھیرا ڈال کر کھڑی ہو گئیں جیسے مجھے کبھی جانے نہیں دیں گی۔ میں نہیں جاؤں گی اب کبھی اُن سب کے بیچ۔" بیلا نے روتے روتے جواب دیا۔

"بیلا یہ تو ریگنگ ہوتی ہے کافی کالجز اور یونیورسٹیز میں تو بہت زیادہ۔ ابھی میں خبروں میں سُن کر آئی ہوں کہ پنجاب یونیورسٹی میں ہنگامہ کر دیا ہے اسٹوڈنٹس نے۔ حالات خراب ہیں، کچھ دن کے لئے یونیورسٹی بند کر دی گئی ہے۔ اچھا ہے تمہیں بھی خود کو سنبھالنے کے لیے کچھ وقت مل گیا۔ میری پیاری دوست یوں ہمت نہیں ہارا کرتے۔ یہ تو ابھی شروعات ہے۔ تمہیں زندگی میں جو موقع ملا ہے اُسے تم یوں رو دھو کر گنوا نہیں سکتی۔ ہمت کرو بیلا۔ ابھی آگے بہت طویل راستہ ہے۔" اورپھر وہ یوں ہی اُسے کتنی دیر تک سمجھاتی رہی۔

*****************************

گھر آنے کے بعد بھی روشائل کا ذہن بیلا میں اُلجھا ہوا تھا۔ بیلا یونیورسٹی تو پہنچ گئی تھی لیکن اُس کی سوچ ابھی بہت کچی تھی اور معصومیت تو بالکل بچوں کی سی تھی۔ روشائل اُس کے لیے کچھ کرنا چاہتی تھی لیکن جانتی تھی ہر وقت کی نصیحتیں اپنا اثر کھو دیتی ہیں۔ اُس نے پھر کمپیوٹر آن کیا اور ٹائپنگ کرنی شروع کی۔

*****************************

"پہلے تو تمھیں یونیورسٹی جانے والی اور جاب کرنے والی لڑکیوں پر بہت اعتراض ہوتا تھا اور اب تم اسی سے شادی کر رہے ہو۔" بڑی بھابھی کے لہجے میں کچھ عرصے سے تیزی کچھ ذیادہ ہی آ گئی تھی۔

"شاید بھابھی ہمیشہ سے ہی ایسی تھیںِ میں نے ہی کبھی غور نہیں کیا یا پھر اماں اور بہنیں ہی ذکر نا کرتی ہوں۔۔۔" ۔ اس نے سر جھٹک کر سوچوں کو پرے دھکیلا۔

" بھابھی معذرت کے ساتھ یہاں انسانوں کو بدلتے گھڑی لگتی ہے ، سوچ تو ویسے بھی وقت کے ساتھ ساتھ بدل جاتی ہے۔" اس نے بمشکل اپنے لہجے کی تلخی پر قابو پایا تھا۔

بڑی بھابھی غصے میں بولتی ہوئی اوپر کی سیڑھیاں چڑھ گئیں۔

"بیٹا ایسے نا بولا کرو بڑی بھابھی کے ساتھ۔۔۔۔" اماں نے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔

"کیا سارے احترام ہمارے لئے رہ گئے ہیں۔۔۔ اماں یاد ہے آپکو ہم کتنے چاؤ اور محبت سے بھابھی کو بیاہ کر لائے تھے کہ ہماری خالہ زاد بھی ہیں تو گھر میں محبت کی فضا قائم رہے گی۔" صبیح نے سات آٹھ سال پہلے کی بات یاد کی۔۔۔

"اور جب سمیع بھائی نے اپنی یونیورسٹی کی کلاس فیلو سے شادی کا ارادہ ظاہر کیا تھا تو ہم سبکو کتنا غصہ آیا تھا۔۔۔" وہ اب درمیان والے بھائی کی بات کر رہا تھا۔

" ہاں بیٹا ہم سمجھتے تھے کہ باہر کی آئے گی، یونیورسٹی کی پڑھی ہوئی تو ہمیں منہ بھی نہیں لگائے گی۔" اماں نے پشیمانی سے کہا۔

"بھائی سچ تہنیت بھابھی جب اس بار آئیں تھی تو سارا گھر انہوں نے ہی سنبھالا تھا۔۔۔ مجھے اور باجی کو تو کام ہی نہیں کرنے دیا تھا۔"

"زارا تمھیں تو موقع چاہئے تہنیت بھابھی کے زمین آسمان کے قلابے ملانے کا۔" صبیح نے اسے چھیڑا۔

"اگر وہ یہاں رہتی تو تمھارا دماغ تو ضرور درست کر دیتیں"

" کبھی ہو ہی نہیں سکتا۔۔۔" زارا نے زور زور سے انکار میں سر ہلایا۔

آجکل صبیح کی شادی کی گھر میں بات چیت چل رہی تھی۔ ایسے میں بڑی بھابھی کچھ ذیادہ ہی تلخ ہو گئیں تھیں۔ "شاید اپنی کوئی بھانجی بھتیجی لانے کا خیال ہو۔" یہ زارا کا خیال تھا۔

*****************************

"روشائل بیٹا کہاں ہو۔" بابا نے گھر میں داخل ہوتے ہی اُسے پُکارا۔

"جی بابا جانی۔ یہ لیں پانی پیئیں۔" وہ بابا جانی کو پانی کا گلاس پکڑا کر وہیں صحن میں ایک کُرسی پر بیٹھ گئی۔

"بیٹا آج وکیل صاحب کہہ رہے تھے کہ آپ اتنا کرایا لگا کر یوں میرے پاس کام لینے اور واپس کرنے آتے جاتے ہیں تو گھر میں انٹرنیٹ لگوا لیں۔ یہ ڈاکیومنٹس لینے دینے کا کام تو نیٹ پہ بھی ہو جاتا ہے۔ کیا خیال ہے تمھارا۔" انہوں نے بیٹی سے مشورہ کیا۔

"بابا جانی بات تو اُن کی ٹھیک ہی ہے۔ یہ کام تو نیٹ پہ بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن مجھے نیٹ کا استعمال ابھی اتنا نہیں آتا۔ وہ سیکھنے میں وقت لگے گا۔" روشائل نے اپنا مسئلہ بیان کیا۔ "لیکن یہ کوئی بڑی بات نہیں۔ بیلا نے تھوڑا بہت کمپیوٹر سیکھا ہوا ہے۔ میں اُس سے سیکھ لوں گی۔"

"یہ تو اچھا ہو گیا۔ چلو پھر میں کسی کمپیوٹر والے بندے کو بُلا کر لاتا ہوں کہ ٹیلی فُون لائن پہ نیٹ کنیکٹ کر دے۔ چلو اب مجھے کھانا لا دو۔"

*****************

سمیر نے بے تابی سے کمپیوٹر کھولا اور جیسن جیمز کی ای میل چیک کرنے لگا ۔ اس نے ایک ہفتہ پہلے ہی ایک بیرون ملک جاب کا دلکش اشتہار دیکھ کر ان لوگوں کو پانچ سو ڈالر فیس بھجوائی تھی اور آج ان کی طرف سے ویزے کے لئے انٹرویو کی ڈیٹ دی جانا تھی۔ امریکہ جانے کا شوق پورا کرنے کے لئے اسے اپنی والدہ مرحومہ کے کچھ زیور چرا کر بیچنے بھی پڑے تھے۔ بابا سے مانگتا تو نہ تو اجازت ملتی اور نہ ہی پیسے۔

جانے نوجوان نسل اپنے زورِبازو پر بھروسہ کرنے کی بجائے ہمیشہ شارٹ کٹ کیوں ڈھونڈتی رہتی ہے جسکا نتیجہ ہمیشہ منفی ہی نکلتا ہے۔

وہ آج بھی پوری رات خواب میں خود کو گوری میموں کے ساتھ دیکھتا رہا تھا۔

"واہ۔۔۔۔ کتنا مزہ آئے گا۔ پورے معاشرے میں میری عزت ہو گی۔سب لوگ مجھ سے جلیں گے حتی کہ بلال اور جمی بھی جل کر رہ جائیں گے۔ میں کسی گوری میم سے شادی کر لوں گا"

خوابوں کا سلسلہ دراز کہیں رکھنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا کہ اچانک اسے ایک جھٹکا سا لگا اور وہ لا شعوری طور پر خوابوں خیالوں کی دنیا سے نکل کر جیسے حقیقی شعور کی دنیا میں آ گیا۔ اس نے پھٹی پھٹی آنکوں سے اس سرور ایرر کا میسج دیکھا جو بتا رہا تھا کہ اس نام کی کوئی کمپنی انٹر نیٹ پر موجود ہی نہیں جبکہ وہ پچھلے کئی مہینے سے ان لوگوں کے ساتھ اسی ویب ایڈریس پر خط و کتابت میں مصروف تھا اور پیسے بھی یہیں بھیجے تھے۔

" نہیں نہیں ایسا نہیں ہو سکتا"

اسکا دل یقینی اور بے یقینی کے درمیان کسی پنڈولم کی طرح ڈولنے لگا۔ دل کے دھڑکنے کی تیز آواز خود اسے اپنے کانوں میں سنائی دے رہی تھی۔

ایک بار

دوسری بار

تیسری بار حتی کہ پچاس بار بہت دھیان سے ایڈریس ٹائپ کرنے پر بھی جب وہ سائٹ مل کر نہ دی تو ایک لمحے کے لئے جیسے وہ سانس لینا ہی بھول گیا۔ وہ جانتے بوجھتے عقل رکھتے انٹرنیٹ فراڈ کا حصہ بن گیا تھا۔ سب سے ذیادہ غم کی بات یہ تھی کہ وہ لٹنے والوں میں شامل تھا۔

" لوزر۔۔۔۔۔۔" جیسے ان دیکھے جیمز کا طنزیہ قہقہہ اسکے کانوں میں گونجا ۔

"نہیں" نہیں" وہ اپنی بے بسی اور غصے کی شدت سے جیسے رو سا دیا۔ اپنے بوڑھے باپ کی مجبوریاں اور دھوکے کا احساس اسے مارے ڈال رہا تھا۔ اپنی بہن کے جہیز کے لئے رکھے گئے زیوارت چرانے کا خیال اسے اپنی نظر میں انسانیت کے درجے سے گرانے کو کافی تھا۔

پہلے وہ صرف یہی سوچ کر چوری کر لایا تھا کہ امریکہ میں نوکری ملتے ہی اسکے وارے نیارے ہو جائیں گے وہ بابا کے لئے بہت سے پیسے کما لائے گا۔ بیلا کی شادی دھوم دھام سے کرے گا۔ دیگر لوگوں کی طرح امریکہ کے بارے میں اس کا تاثر بھی یہی تھا کہ امریکہ میں پیسے درختوں پر اگتے ہیں جسے صرف توڑنے کی محنت کرنا پڑتی ہے۔ یہ تو پھر امریکہ میں رہنے والے ہی جانتے ہیں کیسے خون پسینہ ایک کرنے کے بعد انکو رات میں چند گھنٹے بھی سونا نصیب ہو جائے تو بہت بڑی بات ہے ورنہ ذیادہ تو دو دو نوکریاں کرنے کی وجہ سے ایک گھنٹہ بھی سو نہیں پاتے۔

آج اسکے سارے خواب چکناچور ہو گئے تھے۔ دل ٹوٹ گیا تھا اور غم کے اندھیروں نے اسے نگل کر مایوسی کی اس حد پر پہنچا دیا تھا جس حد کے پار جانے والے عرف عام چور ڈاکو یا قاتل کہلائے جاتے ہیں اور پیچھے مڑ کر دیکھنے والے پتھر کے بن جایا کرتے ہیں۔

********************

بابا نے ایڈمشن کراتے ساتھ ہی بیلا کو کمپیوٹر اور نیٹ کنکشن دلوا دیا تھا تاکہ اُسے نوٹس وغیرہ بنانے میں کوئی کمی محسوس نہ ہو۔ بیلا نے سمیر کی طرح کبھی نیٹ کا غلط استعمال نہیں کیا تھا۔ آج کل وہ یونیورسٹی سے چھٹی پر تھی لیکن کیونکہ پڑھنے کی شوقین تھی اس لیے وقت ضائع کرنے کی بجائے اُس نے پنجاب یونیورسٹی کی سائٹ سے سلیبس ڈاؤن لوڈ کر کے کچھ کتابیں منگوائیں اور مزید نیٹ پر سرچ کر کر کے نوٹس بنانے شروع کر دئیے۔ نیٹ کا وہ بس اتنا ہی استعمال کرتی تھی اگر اُس دن روشائل اُس سے نیٹ سیکھنے نہ آتی تو۔

"السلام علیکم۔ کیا ہو رہا ہے۔" روشائل نے اندر داخل ہوتے ہی سلام کے ساتھ سوال بھی کر ڈالا۔

"کچھ خاص نہیں، بس کتابیں منگوائیں تھیں پڑھنے کے لیے اور یہاں نیٹ پر سرچ کر کے نوٹس بنا رہی ہوں۔ آ جاؤ تم۔" روشائل اُس کے برابر میں بیٹھ گئی۔

"میں بھی یہی تو سیکھنے آئی ہوں۔ بابا بھی نیٹ لگوا کر دے رہے ہیں تاکہ جو ڈاکیومینٹل کام میں کرتی ہوں وہ ای میل کے ذریعے ہی وکیل صاحب تک پہنچا دیا کروں۔ اس کے لیے تمہاری مدد درکار ہے۔"

"ہاں ہاں کیوں نہیں۔ بہت ہی آسان ہے۔ یہ دیکھو ای میل کرنے کے لیے۔ ۔ ۔"

پھر بیلا نے روشائل کو ای میل کرنا اور نیٹ سرفنگ کرنا دونوں ہی سکھا دیں۔ روشائل کے لیے یہ بڑا دلچسپ کام تھا۔ دونوں جب سیکھ سیکھ کر تھک گئیں تو روشائل نے کہا "اچھا اب سیکھنا سکھانا چھوڑو کچھ دلچسپ دیکھتے ہیں۔"

"دلچسپ کیا؟" بیلا نے دریافت کیا۔

"کچھ شاعری وغیرہ ڈھونڈتے ہیں۔ وہ کیا بتایا ابھی تم نے۔ گُوگل پہ ڈھونڈوں جو بھی ڈھونڈنا ہو۔ یہ کھولا گوگل اور یہ لکھا urdu poetry۔" اُس نے بیلا کے بتائے ہوئے طریقے سے سرچنگ شروع کی اور سرچ رزلٹ آنے پر ذرا پریشان ہوئی۔ اتنے سارے لنکس۔ اُس نے دو تین لنکس اوپن کیئے لیکن کچھ خاص نہ ملا۔ تیسرا لنک کھولتے ہی اکاؤنٹ بنانے کا صفحہ کُھل گیا۔ "یہ کیا۔" وہ بولی۔

یہاں پر اکاؤنٹ بنا کر ہی داخل ہو سکو گی۔ کچھ سائٹس سکیورٹی کے لیے اکاؤنٹ انفو مانگتی ہیں۔" بیلا نے بتایا۔
"اچھا پھر کیا کروں۔ بنا لوں؟" روشائل کے لیے کیونکہ یہ سب نیا تھا تو وہ فیصلہ نہ کر پا رہی تھی کہ یہ سب ٹھیک ہے یا نہیں۔

"پتہ نہیں۔ میں نے کبھی ایسی سائٹس جوائن نہیں کیں۔" بیلا نے بتایا۔

"اچھا ٹرائی کرتے ہیں۔ روشائل بہت خوش تھی انٹر نیٹ کا استعمال سیکھ جانے پر۔
"
پھر تھوڑی ایکسائٹمنٹ اور ڈر کے ساتھ اُس نے اکاؤنٹ بنا ڈالا۔ روشی کے نام سے۔" بن گیا اکاؤنٹ۔ اُس نے ساتھ بیٹھی دیکھ رہی بیلا کو بتایا۔

"وہ مُسکرائی۔ مجھے تو ڈر لگتا ہے اس سب سے۔ بابا نے دیکھ لیا تو؟ وہ مجھ پر اعتبار کرتے ہیں روشائل۔ میں اُن کے اعتبار کو کبھی کبھی ٹھیس نہیں لگوانا چاہتی۔" بیلا ڈری ہوئی اور حد سے زیادہ محتاط ہو رہی تھی۔

"لیکن ہم کچھ غلط تو نہیں کر رہیں بیلا۔ یہاں تو ہم شاعری ڈھونڈتے ڈھونڈتے آئے ہیں اور مقصد تو صرف مطالعہ ہی ہے۔ یہ بھی تو وہی سب ہے جو تم کتابوں میں پڑھ رہی ہو۔ فرق بس یہ ہے کہ یہ اُردو ادب ہے اور تم انگریزی ادب پڑھ رہی ہو۔" روشائل نے اُس کو سمجھایا۔

"لیکن بس مجھے ڈر لگتا ہے۔ تم کھول لو۔ لیکن میں نہیں کھولوں گی۔" بیلا نے کہا۔

"اچھا نہ کھولنا۔ ابھی تو یہاں آؤ۔ یہ دیکھو۔ کتنی زیادہ شاعری ہے یہاں۔ میں تو باقاعدگی سے پڑھاکروں گی۔ چلو دیکھتے ہیں اور کیا کیا ہے۔" روشائل سائٹ کو بغور دیکھنے میں مگن تھی۔ بیلا بھی دلچسپی لے رہی تھی لیکن اُس کا ڈر اُس کے شوق کو ظاہر ہونے سے روک رہا تھا۔

"یہ دیکھو یہاں تو کتنے زیادہ ناولز بھی ہیں۔" روشائل نے خوشی کے مارے بُلند آواز میں کہا۔

"اچھا۔ ہاں واقعی۔" بیلا بھی خوش ہوئی۔

"ایک کاغذ دو مجھے۔ میں اس سائٹ کا نام لکھ کرلے جاؤں۔

پھر جب گھر پر نیٹ لگے گا تو میں پڑھوں گی۔" اور اُس نے ایک کاغذ پر بڑا بڑا www.oneurdu.com لکھ لیا۔

*****************************

دو دن بعد ہی روشائل کے گھر بھی نیٹ لگ گیا۔ سب بہت خوش تھے۔ نیٹ کی دُنیا ایک نئی ہی دُنیا تھی۔ کمرے میں بیٹھے بیٹھے پوری دُنیا کی سیر کرا دیتی تھی۔ روشائل، اس کے بہن بھائی اور ماں جی اکٹھے بیٹھ کر نیٹ کی دُنیا کی رعنائیوں میں کھوئے ہوئے تھے۔ بے شُمار تصاویر، معلومات اور روشائل کی من پسند شاعری اور ناولز۔ وہ سب سے پہلے اپنے کام ختم کرتی پھر سائٹ کھول کر شاعری اور ناولز پڑھتی۔

*****************************

سمیر آجکل عجیب الجھن میں تھا۔ گھر میں قدم رکھتے وقت یہی دھڑکا لگا رہتا تھا کہ کہیں بابا کو زیور چوری کا نا پتا چل جائے۔ پہلے اس نے زیور بیچے، پھر کیفے کے مالک کی منت سماجت کرکے اسکا کریڈٹ کارڈ استعمال کیا۔کیفے کے مالک نے پہلے تو اسے منع کرنے اور سمجھانے کی کوشش مگر پھر اسکے اصرار پر اس نے بھی پیسے سامنے رکھوا کر اسے کارڈ استعمال کرنے دیا۔ جب وہ آن لائن پیمنٹ کر رہا تھا تو کیفے کا مالک اشرف اس دوران اسکے سر پر کھڑا پیسے گنتا رہا۔ اشرف جن مشکوک نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا اسے ابھی بھی یاد تھیں۔

"یار کہیں ڈاکا ڈالا ہے ورنہ تمھارے پاس اتنے پیسے کہاں سے آئے" اشرف نے جب اسے یہ کہا تو اسکے ماتھے پر پسینہ آ گیاتھا۔

اپنے گھر میں چوری پہلی بار کی تھی۔ بابا ذیادہ نا سہی تھوڑے بہت پیسے تو دے ہی دیتے تھے۔ ہاں یہ ضرور تھا کہ وہ گھر کی خریداری میں سے اکثر پیسے رکھ لیتا تھا۔ بابا کا غصہ اسکے باہر آنے جانے اور نا پڑھنے پر ہوتا تھا اور اسی پر اسے باتیں سننی پڑتی تھیں۔

"مگر بابا نے ہمیشہ مجھ پر اعتبار کیا ہے" سمیر کو اس بات کا خیال پہلی بار آیا کہ اسکے والد شاید روک ٹوک کے معاملے میں سچے ہی تھے۔

"اب میں کیا کروں۔۔۔۔؟" اسکی بے چینی بڑھتی جا رہی تھی۔

کبھی کبھی زندگی کمان سے نکلا تیر بن جاتی ہے، کبھی نا واپس آنے والا تیر۔۔۔۔۔

******************

خلیل صاحب کمپیوٹر پر آ کر بیٹھے اور کچھ اخبارات پڑھنے کے بعد اُٹھنے سے پہلے ہسٹری چیک کر رہے تو پہلی بار وہاں کچھ ویب پیجز دیکھے۔ اُسے کھولنا چاہا تھا سائٹ نے آئی ڈی اور پاسورڈ مانگا۔

"بیلا۔" اُنھوں نے اُسی وقت بیلا کو آواز دی۔

بیلا دوڑی دوڑی آئی۔ "جی بابا۔"

"یہ کیا ہے؟" اُنہوں نے اکاؤنٹ مانگتے ویب پیج کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔

جی ۔۔ یہ۔۔ وہ۔" بیلا کچھ غلط نہ ہونے پر بھی گڑبڑا گئی۔

"یہ وہ کیا؟" اُنہوں نے اُس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔

"جی وہ کل روشائل آئی تھی تو بتا رہی تھی یہ اردو ادب کی بہت بڑی ویب سائٹ ہے۔" اُس نے جلدی سے جواب دیا۔ سمیر جو پیچھے ٹی وی کے سامنے بیٹھا اپنے خیالوں میں مگن تھا وہ اُن دونوں کیطرف متوجہ ہو گیا۔

"یہاں اگر ادبی ہی چیزیں ہیں تو اتنی سکیورٹی میں کیوں ہیں؟ کھولو اسے۔" انہوں نے کہا۔

بیلا نے کیونکہ روشائل کے مشورے سے اکاؤنٹ بنایا تھا تو اس نے سائٹ پر لاگ ان کر دیا۔ سمیر بھی خاموشی سے یہ سب دیکھ رہا تھا۔ کافی دیر تک خلیل صاحب بیٹھ کر سائٹ کے مختلف سیکشنز دیکھتے رہےجب ان کی تسلی ہو گئی تو کہنے لگے"

"ٹھیک ہے۔ استعمال کرتی ہو تو کر لیا کرو۔ کتابیں پڑھنا اچھی بات ہے۔ لیکن جب کچھ پڑھو تو اس کا معیار ذہن میں رکھو۔ ہر قسم کا علم بھی فائدہ نہیں دیتا۔ کچھ باتیں آپ کے اندر سرکشی اور بغاوت کے احساسات پیدا کرتی ہیں۔ اب آپ عمر کے اس حصے میں ہو جہاں غلط اور درست کا فیصلہ کر سکو۔" اُنہوں نے اُٹھتے ہوئے کہا اور بیلا کو حیرانی کے سمندر میں اُتار دیا۔

وہ بہت خوش تھی۔ اُس کا دل چاہا کہ دوڑ کے روشائل کے پاس جائے اور اُسے بتائے کہ اسے یہ سائٹ استعمال کرنے کی اجازت مل گئی۔ وہ وہاں ہی کُرسی پربیٹھ گئی۔

"کون سی سائٹ ہے یہ؟" سمیر کو تشویش ہوئی۔

"یہ۔۔ ناولز، شاعری وغیرہ پڑھنے کے لیے ہے۔" بیلا نے بتایا۔

"دکھاؤ مجھے۔" اُس نے غیر مطمئن انداز میں کہا۔ بیلا کُرسی سے اُٹھ گئی اور سمیر بیٹھ کر سائٹ وزٹ کرنے لگا۔

"ہے تو ٹھیک لیکن تمھیں کیا ضرورت ہے اس سب کی۔ اپنی پڑھائی پر دھیان دو نا۔" وہ لاشعوری طور پر بیلا کو کسی ایسے دھوکے سے بچانا چاہ رہا تھا جو اُس کے ساتھ ہو چُکا تھا۔

"جی بہت بہتر۔" بیلا کا مُنہ لٹک گیا۔

"نہیں کبھی کبھی استعمال میں کوئی حرج نہیں۔ بس کسی سے بات چیت مت کرنا وہاں۔" اُس کو اُس پر ترس آ گیا۔

"جی ٹھیک۔" بیلا پھر سے خوش ہو گئی۔

********************

بیلا روشائل کے آنے پر سموسے تل رہی تھی۔ اور روشائل اُس کے انتظار میں اُس کے کمپیوٹر پر بیٹھ کر ناول پڑھ رہی تھی کہ سمیر اُسے دیکھ کر اُس کے پاس آ گیا۔

"السلام علیکم۔" سمیر نے سلام کیا۔

"وعلیکم السلام۔" روشائل کچھ پزل ہوئی لیکن اپنے چہرے سے عیاں نہیں ہونے دیا۔

"کیسی ہیں آپ؟"

"میں ٹھیک ہوں اللہ کا شکر۔ آپ سنائیں۔ بیلا بتا رہی تھی آج کل آپ کچھ پریشان رہتے ہیں۔" روشائل کے نرم لہجے میں تشویش تھی۔

"نہیں۔ ایسی کوئی بات نہیں۔ بس چھوٹے موٹے مسئلے ہوتے رہتے ہیں۔ میں نے آپ سے کہنا تھا کہ بیلا نے کوئی سائٹ جوائن کی ہے۔ اور وہ بتا رہی تھی آپ نے ہی وہ ڈھونڈی تھی اور اب آپ دونوں ہی وہاں وزٹ کرتی ہیں؟"

"ہاں وہ ایک بے ضرور سے سائٹ ہے مطالعہ کے لیے۔ آپ کو کوئی اعتراض ہے؟" بیلا نے پوچھا۔

"نہیں اعتراض تو نہیں۔ لیکن میں چاہوں گا کہ آپ لوگ ذرا محتاط رہیئے گا۔ آج کل کی دُنیا اعتبار کے قابل نہیں۔" وہ یہ کہہ کر وہاں سے چلا گیا۔

روشائل کے لیے سمیر کا یہ رُوپ بالکل نیا تھا۔ وہ حیرانی سے اُس کو جاتا دیکھتی رہی۔

**************