قسط نمبر3

سمیر آج کل اس سوچ میں تھا کہ اپنی نامکمل تعلیم اور محدود وسائل سے وہ کیا کام شروع کر سکتا ہے۔ ہر طرف پیسے کی دوڑ تھی۔ اس جیسے بہت سے نوجوان دن دھاڑے پستول کی نوک پر ڈاکے ڈالنے لگ گئے تھے۔ اس کے بھی ایسے چند دوست تھے جو اسے ورغلاتے رہتے تھے۔ ابھی تک وہ انہیں ٹالتا آیا تھا۔

"میں زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ گیا ہوں۔۔۔۔!" اس نے سڑک پر دوڑتی تیز رفتار گاڑیوں کو دیکھتے ہوئے سوچا۔

"تعلیم نا مکمل، متوسط طبقے سے تعلق، بوڑھا باپ اور جوان بہن۔۔۔۔۔کسی ناول افسانے ڈرامے کی روایتی کہانی میری زندگی کا سچ ہے۔"

وہ ایک دم چونک گیا۔۔۔۔ سامنے سے گزرنے والی چمکیلی گاڑی میں جانا پہچانا چہرہ تھا۔

"یہ تو روشائل کا منگیتر ہے۔۔۔۔۔۔نئی گاڑی اور اس میں نئی لڑکی۔۔۔۔۔!"

" تم نے اسے پہلی بار تو کسی لڑکی کے ساتھ نہیں دیکھا۔۔۔۔ مگر یہ روشائل کا منگیتر ہے"

"پھر کیا؟ ۔۔۔تم کونسے بہت شریف ہو۔۔۔لڑکیوں کے کالج کے آگے تمھارا بھی تو ڈیرا رہا ہے"

"مگر میں نے کبھی کسی کو دھوکہ تو نہیں دیا۔"

وہ بہت دیر خود سے سوال جواب کرتا رہا اور الجھتا رہا۔

*****************************

بیلا بہت دنوں کے بعد روشائل کی طرف آئی تھی۔ گھر میں ایک نا معلوم سی خاموشی تھی۔ وہ روشائل کو آوازیں دیتی ہوئی برآمدے تک آ گئی۔ خالہ تخت پوش پر بیٹھی خاموشی سے سبزی کاٹ رہی تھیں۔ بیلا نے سلام کیا۔

"وعلیکم السلام۔۔۔آؤ بیٹی" وہ زبردستی مسکرائیں۔ "روشی اندر ہے۔۔۔۔"۔

وہ اندر چلی گئی۔۔۔

کمرے میں نیم تاریکی تھی۔

روشائل کتاب لئے خاموشی سے بیٹھی تھی۔ پتا نہیں اسکا دھیان کہاں تھا۔

"السلام علیکم، ۔۔۔۔۔۔کیا حال ہے روشائل۔۔۔۔۔کیا ہوا؟" اس کی خاموشی سے گبھرا کر بیلا خود سے ہی سوال کرتی چلی گئی۔

"وعلیکم السلام۔۔۔بیلا تم" وہ چونکی جیسے اسے پہلی بار دیکھا ہو۔

بیلا کو لگا کہ جیسے وہ پریشان ہو۔

"کیا ہوا۔۔۔۔؟" اس نے پریشان ہو کر پھر پوچھا۔

"کچھ نہیں ۔۔۔تم بیٹھو تو۔"

بیلا بھی اسکے رویے کو دیکھ کر خاموش ہو گئی۔ تھوڑی دیر میں روشائل چائے بنا لائی۔ بیلا اب بھی اسے غور سے دیکھ رہی تھی۔

"ایسے کیا دیکھ رہی ہو۔۔۔۔ اچھا اب تم سے کیا چھپانا، ویسے بھی سب کو پتا چل جائے گا کچھ دنوں میں، خالد نے منگنی توڑ دی ہے، ۔۔۔۔اس کی شادی کنیڈین نیشنل سے ہو رہی ہے،۔ کچھ دنوں میں وہ باہر چلا جائے گا۔" اس نے ایک ہی سانس میں سب کچھ کہہ دیا اور اب سکون سے بیٹھی چائے پی رہی تھی، جیسے سب بوجھ اتار پھینکا ہو۔۔۔

بیلا اس کے اطمینان اور سکون کو دیکھ کردل ہی دل میں ہول رہی تھی۔ اسکا خیال تھا کہ روشائل کا دماغ صدمے سے ماؤف ہو گیا ہے۔

مگر روشائل کی کسی بات سے نہیں لگ رہا تھا کہ اس پر کسی بات کا اثر ہے۔ وہ آرام سے بیلا سے ون اردو پر نئے افسانہ نگاری کے مقابلے میں شامل ہونے کے بارے میں رائے مانگ رہی تھی۔ بیلا کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ اسکے رویے کو کیا نام دے۔

*****************************

صبیح کا خلیل صاحب کے ہاں کافی آنا جانا تھا۔ بھتیجا ہونے کے ناطے وہ اس سے پیار بھی بہت کرتے تھے ۔ صبیح پڑھائی مکمل کر کے ایک فرم میں اچھے عہدے پر فائز تھا ۔ ساتھ ہی وہ جانے کب سے بیلا کو دل میں بسا چکا تھا ۔ مگر کبھی اس کا اظہار نہیں کیا تھا ۔ وہ چچا کے گھر کے چکر بھی بیلا کی ہی وجہ سے لگاتا تھا ۔ بیلا کو اس کے بارے میں کچھ اندازہ تو تھا مگر اس نے کبھی اس بات کا اظہار ہونے نہیں دیا۔

اس بار صبیح آیا تو خلیل صاحب کے کمرے میں جاتے ہوئے اسکی نظرلاؤنج میں رکھے کمپیوٹر پر پڑ ی۔کافی حیران سا ہوا پھر خلیل صاحب سے پوچھ ہی لیا،"چچا یہ کمپیوٹر۔ "

"ہاں بیلا یونیورسٹی جانے لگی ہے تو میں نے لے دیا پڑھائی میں کام آئے گا۔"

"خلیل صاحب نے چائے میں بسکٹ ڈبو کر کھاتے بے فکری سے جواب دیا۔

"مگر یہ انٹرنیٹ تو کوئی مناسب چیز نہیں ہے لڑکیوں والے گھر میں آپ نے کیسے۔۔۔۔۔۔۔۔ "صبیح نے ہمت کر کے کہہ ہی دیا۔

"تم کہنا کیا چاہتے ہو صبیح صاف صاف کہو " خلیل صاحب اب سنجیدہ ہو کر اس کی جانب متوجہ ہو گئے۔

"چچا ، راشد میرا بہت عزیز دوست تھا ۔ وہ بھی نئے زمانے کے دھوکے میں گھر میں کمپیوٹر لے آیا تھا ۔ گھر میں دو بہنیں بھی تھیں۔ انہوں نے بھی کمپیوٹر استعمال کرنا شروع کر دیا ۔ اور جانے کیسے پتا نہیں کس سائٹ پر ان کی کسی لڑکے سے دوستی ہو گئی اور پھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"

"بس صاحبزادے خاموش ہو جاؤ "

"مجھے بیلا پر پورا بھروسہ ہے ۔ تم بھی اسے بچپن سے دیکھ رہو ہو اس کے عادات و اطوار سے واقف ہو اور بیلا مجھ سے چھپا کر کمپیوٹر استعمال نہیں کرتی ۔ تم دیکھ ہی رہے یہ گھر میں سب سے نمایاں جگہ رکھا ہے ۔ میں اور سمیر ہمہ وقت ادھر ہی ہوتے ہیں ۔ مجھے اپنی تربیت پر پورا بھروسہ ہے "

خلیل صاحب نے یہ کہہ کر اسے خاموش کروا دیا۔

صبیح گھونٹ گھونٹ چائے پیتا رہا اور پھر اجازت لے کر اٹھ گیا۔

بیلا لاؤنج میں سے یہ ساری گفتگو سن رہی تھی ۔اس نے ایک ٹھنڈی سانس بھری اور صبیح کو آواز دے کر روک لیا

صبیح نے بیلا کو پکارتے سنا تو چلتے چلتے ٹھٹک کر رک گیا۔ بے یقینی سے پیچھے مڑ کر دیکھا تو بیلا کو اپنی ہی طرف دیکھتا پا کر حیران رہ گیا۔ یہ پہلا موقع تھا جب بیلا نے اپنی مرضی سے اسے مخاطب کیا تھا ورنہ وہ تو اسکو دیکھ کر اکثر کمرے میں چلی جاتی یا کبھی ہوں ہاں سے ذیادہ بات نہیں کرتی تھی۔

"کیا مجھے پکارا تم نے بیلا؟ "خوشی صبیح کے چہرے سے پھوٹی پڑ رہی تھی مگر بیلا کے چہرے پر غیر معمولی سنجیدگی دیکھ کر سٹپٹا گیا اور سوالیہ نظروں سے اسکی طرف دیکھنے لگا۔

"پلیز ایک منٹ ادھر آ ئیے گا ۔ کمپوٹر میں وائرس کا سائن بلنک کر رہا ھے پلیز ایک نظر دیکھ کر بتا دیں میں کچھ غلط نہ کر بیٹھوں" یہ بات اس نے کافی اونچی آ واز میں کہی تھی جو بابا نے بھی سن لی۔

وہ جب کمپپیوٹر کے سامنے بیٹھا تو وہاں ایسا کوئی سائن نظر نہیں آیا بلکہ ون اردو کی سائٹ اوپن تھی۔ اس نے استفسارانہ نظروں سے مڑ کر بیلا کو دیکھا تو وہ بہت دھیمے مگر روٹھے روٹھے لہجے میں بولی،"میں وائرس خود بھی دیکھ لوں گی مگر پہلے آپ یہ سائٹ اچھی طرح دیکھ لیں کہ آپکے تمام وسوسے ختم ہو جائیں اور آپ میرے بابا کو میرے خلاف بی جمالو کی طرح پٹیاں پڑھانے سے باز ٓا جائیں۔"

صبیح کو بےاختار ہنسی آ گئی اور وہ اسکی طرف دیکھتے ہوئے دوبارہ کمپیوٹر اسکرین کی طرف متوجہ ہو گیا۔

سب سے پہلی نظر پڑی تو وہاں کرکٹ پر رائے دہی کا کوئی تھریڈ چل رہا تھا۔ سارے لڑکے اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رھے تھے۔ گفتگو کے سارے تھریڈز بہت شائستہ اور انسانی ذھن کی مثبت پرورش کرنے کا نظریہ لئے ہوئے نظر آ رھے تھے۔

کہیں پر کوئی اپنے چچا کی بیماری کے لئے دعا کروا رہا تھا، کہیں پر کوئی اپنے کسی دوست کی یاد میں تھریڈ بنا کر بیٹھا آہیں بھر رہا تھا۔

کہیں پر لڑکیاں بے دھڑک اپنی گپیں لگا رھی تھیں۔ جس بات نے صبیح کو سب سے ذیادہ متاثر کیا وہ تمام لوگوں کا ایک دوسرے کو بھائی یا بہن کہ کر مخاطب کرنا تھا۔ یعنی غلط فہمی کی کوئی گنجائش ہی نہیں چھوڑی گئی تھی ۔کہیں نئے نئے کھانے پکانے سیکھائے جا رھے تھے اور کہیں سلائی کڑھائی کے موضوعات زیر بحث تھے۔

اسے اس سائٹ کو دیکھ کر سخت حیرت ہوئی اور وہ سوچنے لگا "کیا کسی نے انٹرنیٹ پر ایسی سائٹ کا تصور کیا ہو گا ؟" یہ تو محسوس ہوتا ہے جیسے یہ کسی انتہائی پرانے زمانے کی کوئی بڑی سی حویلی یا گھر ھے جہاں سب لوگ مل جل کر ہنسی خوشی رہتے ہیں۔

سب ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہیں۔ وہ حیرت سے پڑھتا جا رہا تھا ۔" ایسا کہاں ہوتا ہے انٹرنیٹ کی دنیا میں "ایک کا دکھ سب کا دکھ اور ایک کی خوشی باقی سب مل کر مناتے ہیں۔ سب سے بڑھ کر ایک سے ایک اچھی کتابیں اور شاعری وہاں موجود تھی۔

"یہ سائٹ۔۔۔۔!"

وہ ایک دم گڑبڑا گیا اور اپنی سوچ پر شرمندہ سا ہو کر بولا" اوہ سوری۔۔۔بیلا مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا یہ ایسی سائٹ ہو گی میں تو سمجھا عام سی چیٹینگ سائٹ ہو گی بس اسی لئے مناسب نہیں سمجھ رہا تھا۔۔مگر اب تو بہت حیران ہوا ہوں اور خوش بھی کہ کہ چلو اس بہانے تمھارا دل بہل جائے گا اور تمھاری تنہائی بھی کم ہو جائے گی۔"

وہ اٹھ کر جاتے جاتے پلٹ کر بولا "اچھا سنو۔۔۔۔!"

"یہاں سے اچھے اچھے کھانے پکانے بھی ضرور سیکھ لینا۔۔۔۔"

" مگر کیوں؟" وہ ایسی اچانک فرمائش پر ہکا بکا رہ گئی اور حیرت سے بولی۔

وہ کمرے سے باہر جاتے جاتے ذرا سا رکا اور شرارت سے اس پر تقریباً جھکتے ہوئے بولا،" تمھیں تو پتہ ھے مجھے اچھے کھانے بہت پسند ہیں اور یہ تو تم نے بھی سنا ہی ہو گا شوہر کے دل کا راستہ سیدھا اسکے معدے سے ہو کر گزرتا ہے۔"

پہلے سیکنڈ میں تو بیلا کو اس بات کا مطلب ہی سمجھ میں نہیں آیا اور جب ٓایا تو وہ بری طرح بلش کر گئی اس کو یہ اندازہ تو تھا کہ صبیح اسے پسند کرتا ہے مگر کسی دن اتنی دیدہ دلیری سے اسکا اظہار بھی کر سکتا ھے ۔یہ تو اس نے کھبی خوابوں میں بھی نہیں سوچا تھا۔

**********************

آج بہت دنوں بعد اسکے قدم انٹر نیٹ کیفے کی طرف اٹھے تھے۔ اشرف اسے دیکھ کر کھل اٹھا۔

"آ ہا میرا امریکی باؤ آیا ہے۔۔۔۔"

"یار مذاق نا اڑا۔۔۔" سمیر نے شرمندہ ہوتے ہوئے کہا۔

" کیا ہوا، کیا کام نہیں بنا۔۔۔۔"

سمیر نے صرف انکار میں سر ہلانے پر اکتفا کیا۔

"میں نے تجھے سمجھایا تھا نا۔۔۔۔مگر ہر بندہ اپنے تجربے سے سیکھتا ہے۔ ایسے بہت ہاتھ لگ چکے ہیں مجھے بھی۔" اشرف نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔

"اب کیا پروگرام ہے۔۔۔۔"

سمیر نے کندھے اچکائے۔

"میرے ساتھ کام کرو گے۔۔۔مجھے ایک اعتباری بندہ چاہئے۔"

سمیر نے حیران ہو کر اشرف کی طرف دیکھا۔

"دیکھ یار میں بھی پہلے تیری ہی طرح نکما تھا، پھر بہت سا پیسہ باہر جانے پر برباد کیا۔۔۔مگر مجھے کمپیوٹر کا ہمیشہ سے شوق تھا۔ دو چار کورس کیے، پھر یہ کیفے بنا لیا۔ اب اللہ کا کرم ہے اور میں ایک نیا کیفے شروع کرنا چاہتا ہوں جس کیلئے مجھے اعتبار والے بندے کی ضرورت ہے۔"

"وہ تو ٹھیک ہے۔۔۔مگر۔۔" وہ ایک دم خامو ش ہو گیا،

"مگر کیا؟"

"یار یہ کام کچھ ٹھیک نہیں۔۔۔۔ میرے جیسے لوگ اس میں پڑ کر اپنا آپ برباد کر لیتے ہیں،۔ جس کام سے مجھے تکلیف پہنچی ہو وہ دوسرے کو کیوں بتاؤں۔"

"کام تو کوئی برا نہیں یار ۔۔۔ طریقہ برا ہوتا ہے۔ کیا تو نے میرے کیفے میں کبھی کوئی بے ہودگی دیکھی۔۔۔کبھی چھوٹے بچوں کو کمپیوٹر استعمال کرتے دیکھا۔"

"نہیں۔۔۔"

"پھر یار اگر تیری سوچ بدل گئی ہے تو میرے ساتھ کام شروع کر۔۔۔ ہم مل کر کم از کم اپنے محلے کے بچوں اور نوجوانوں کو تو صحیح راہ پر لگا سکتے ہیں۔"

سمیر حیرانی سے سوچ رہا تھا کہ اشرف جیسے لوگ جنہیں وہ صرف ضرورت کے وقت ہی منہ لگاتا تھا، بھی اچھی سوچ رکھ سکتے ہیں۔

"پھر کیا سوچا۔۔۔۔۔"۔

"ہاں کچھ نہیں۔۔۔ایک دو دن دے یار سوچ کر جواب دوں گا، ان شاءاللہ۔"

"سچ بولنے کا وقت آ گیا ہے۔" سمیر نے دل میں سوچا اور گھر کی راہ لی۔۔۔۔۔

*****************************

صبیح کچھ عرصہ پہلے تک بھابھی کے ایسے طعنوں پر گڑبڑا جاتا تھا کیونکہ وہ ذیادہ تعلیم یافتہ اور یونیورسٹی سے پڑھی لڑکیوں کو کچھ ناپسند کرتا تھااور بیلا یونیورسٹی جانا شروع کر چکی تھی۔ مگر پھر بابا کی بیماری نے سب کچھ بدل دیا۔ اماں تو پہلے ہی جوڑوں کے درد کی تکلیف میں مبتلا تھیں مگر گھر احسن طریقے سے چل رہا تھا۔ سب بھائی بر سرروزگار تھے اور بابا کی پینشن بھی آ رہی تھی۔ ماہا کی شادی ہو چکی تھی اور گھر میں صرف زارا ہی کالج جانے والی تھی۔ زارا ہوم اکنامکس کالج جاتی تھی۔

ایسے میں جب بابا کو گردے کی تکلیف کی وجہ سے کچھ دن ہسپتال رہنا پڑا تو سب گڑ بڑ ہو گئی۔ صبیح کو پہلی بار پتا چلا کہ بابا سب کچھ بچوں پر لگا چکے ہیں اور بس کچھ پیسہ اسکی اور زارا کی شادی کیلئے الگ سے رکھا ہوا ہے۔پینشن ریٹائرمنٹ کا پیسہ باقی بچوں کی شادی اور گھر مکمل ہونے میں لگ چکا تھا۔ ایک حلال کی کمائی کرنے والے سرکاری افسر کے پاس اسکے علاوہ ہو بھی کیا سکتا ہے چاہے وہ بائیسویں گریڈ کا ہی افسر کیوں نا ہو۔

ایسے میں جب سبکو ایک دوسرے کے سہارے کی ضرورت تھی تو بڑے بھیا نے الگ ہونے کا فیصلہ سنا دیا۔ حالات ایک دم سے بدل گئے۔ بیشک کے صبیح کی نوکری اچھی تھی اور گاڑی بھی ملی ہوئی تھی مگر ڈاکٹر اور دوائیوں کے خرچے نے اسکے ہوش ٹھکانے لگا دیئے۔

مگر بڑے بھیا اسکی پرواہ نا کرتے ہوئے اوپر کے حصے کو مکمل طور پر اپنے استعمال میں لے آئے یہ کہتے ہوئے کہ " آخر اس گھر پر میرا بھی تو حق ہے اور سب سے ذیادہ ہے کیونکہ میں تو تب سے کما رہا ہوں جب یہ گھر بننا شروع ہوا تھا۔۔۔میرے خون پسینے کی کمائی اس میں لگی ہے۔" بڑی بھابھی جو سب کی پسند پر اس گھر میں آئی تھیں، ایک نئے روپ میں نظر آنے لگیں۔

سمیع کو اس سب کا تب پتا چلا جب تہنیت اپنے بھائی کی شادی پر یہاں آئی۔ وہ دونوں پچھلے کئی سال سے دوبئی میں تھے اور ایک ملٹی نیشنل کنسٹرکشن کمپنی میں ملازمت کر رہے تھے۔صبیح کو سمیع کا اسطرح پاکستان چھوڑ کر باہر جا بسنا ایک آنکھ نہیں بھایا تھا۔ وہ اسکی ذمہ داری بھابھی تہنیت پر ڈالتا تھا جو کہ سمیع کی طرح خود بھی آرکیٹیکٹ انجینئر تھی۔

" آپ کو ہم سے یہ سب نہیں چھپانا چاہئے تھا۔" تہنیت نے اماں سے شکوہ کیا تھا۔اماں کیا کہتی ، انہیں تو وہ وقت نہیں بھولتا تھا جب وہ بہت بے دلی سے تہنیت کو بیاہ کر لائیں تھیں۔تہنیت کو کسی نے نا ذیادہ وقت دیا تھا اور نا ہی سمجھنے کی کوشش کی تھی۔ اب جو اسے قریب سے جانا تو سب کے اندازے اور مفروضے ملیامیٹ ہو گئے۔

سمیع کے بر وقت پیسہ بھیجنے سے حالات کافی بہتر ہو گئے تھے مگر صبیح کو یہ اچھا نہیں لگ رہا تھا کہ ماں باپ کے پاس ہوتے ہوئے وہ انکی کفالت اچھے طریقے سے نہیں کر پا ئے۔اب وہ بھی اسی دوراہے پر ٹھہر گیا تھا جہاں چند سال پہلے سمیع کھڑا تھا۔ "ایک پڑھی لکھی سمجھدار بیوی میرا مقدر ہو گی یا پھر مغرور اور سر پھری لڑکی جسے اپنی تعلیم کا زعم ہو گا!"

*****************************

" وہ آجکل تمھاری دوست نظر نہیں آ رہی ہے۔" سمیر نے جھجھکتے ہوئے بیلا سے پوچھا۔

"کچھ مسئلہ چل رہا ہے اسکے گھر میں۔۔۔۔" بیلا نے حیران ہو کر بھائی کی طرف دیکھا۔

"کیا مسئلہ۔۔۔۔"

"اسکی منگنی ٹوٹ گئی"

"وہ تو اچھا ہوا!"

"بھائی ایسے کیوں کہہ رہے ہیں۔" بیلا کو ناگوار گزرا۔

"اسلئے کہ خالد تو کب سے باہر جانے کے چکروں میں تھا۔ تمھیں شاید پتا نہیں ہے کہ خالد اور اسکے ماں باپ کئی بار نذیر صاحب سے پیسوں کا تقاضا کر چکے تھے۔سب سے آسان اور شارٹ کٹ تو سسرال سے پیسے نکلوانا ہی ہے نا"۔ سمیر یہ کہہ کر کچھ گڑبڑایا۔ پھر سنبھل کر بولا " ویسے بھی خالد جیسا لڑکا روشائل کے قابل نہیں تھا۔" یہ کہ کر وہ رکا نہیں اور اٹھ کر اندر چلا گیا۔

"یہ بھائی کو کیا ہوا۔۔۔ کبھی کسی معاملے میں اتنے حساس ہوئے تو نہیں۔" بیلا نے حیران ہو کر سوچا پھر سر جھٹک کر چائے پینے لگ گئی۔

خلیل صاحب بہت دیر سے کھڑکی سے باہر دونوں بہن بھائی کو باتیں کرتا دیکھ رہے تھے۔ آج عرصے بعد انکے دل کو ملال نے آ گھیرا تھا۔

"میں اپنے دکھ میں اپنی ہی اولاد کو بھول گیا۔۔۔ میں نے بہت لاپرواہی برتی دونوں کی طرف سے ، خاص طور پر سمیر کے معاملے میں۔" وہ آج اپنا تجزیہ کرنے بیٹھے تھے اور آئینہ انہیں جو عکس دیکھا رہا تھا وہ انہیں دکھ دے رہا تھا۔

"بھلا اولاد کو بھی کوئی ایسے بھول جاتا ہے کہ اپنی ذات اور اپنے دکھوں کو ہی زندگی کا حاصل سمجھ لے۔"

" بیلا تو چھوٹی تھی مگر سمیر کو تو ماں یاد تھی نا،۔۔۔۔ اگر میں اس کے جانے سے ٹوٹ گیا تھا تو وہ تو صرف بچہ ہی تھا نا۔۔۔۔"۔

جب وہ روتا تو وہ اسکو جھڑک دیتے ، جب وہ ان سے لپٹتا تو وہ اسے جھٹک دیتے۔ وہ پانچ چھ سال کے بچے سے توقع رکھتے تھے کہ وہ ماں کا غم بھول جائے۔

انہیں یاد آنے لگا کہ سکول کے شروع کے دو سال وہ انتہائی ذہین طالب علم تھا۔ زیب النساء کے مرنے کے بعد انہوں نے کبھی اسکی تعلیم کی طرف توجہ نہیں دی تھی نا ہی کبھی اسکی رپورٹس چیک کی تھیں۔وہ خود ہی رو دھو کے پڑھ لیتا۔

پھر سمیر نے خود بخود ہی بیلا کی ذمہ داری بھی اٹھا لی۔ سکول سے آنے کے بعد وہ اسے اٹھائے اٹھائے پھرتا تاکہ اسکے رونے کی آواز سے باپ ناراض نا ہو۔ انہیں یاد تھا کہ وہ آیا سے بھی لڑ پڑتا تھا کہ وہ بیلا پر توجہ نہیں دیتی۔پھر اس نے بیلا کے سکول کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھ لیا۔

جب وہ ہائی سکول میں آیا تو اس نے آرٹس رکھنے کی اجازت مانگی مگر انہوں نے اسے نالائق اور نا جانے کیا کچھ کہہ کر ڈانٹ دیا۔ ٹیوشن رکھنے کا کہا تو انہوں نے اسکی بے عزتی کی کہ " نا پڑھنے کے بہانے ڈھونڈتا ہے۔۔۔" کیا کیا یاد نہیں آ رہا تھا انہیں۔

اب بھی انہیں شاید یہ سب یاد نا آتا اگر اشرف انہیں آکر سمیر کی گھر سے باہر زندگی کی بہت سی تفصیل نا بتا دیتا۔

چند دن پہلے جب اشرف آیا تھا تو وہ حیران ہوئے تھے۔ اکثر لوگ اسکے کام کو پسند نہیں کرتے تھے۔

اشرف نے انہیں کہا تھا۔۔۔۔

"خلیل صاحب، سمیر اچھا لڑکا ہے ۔ آپ اسے ایک موقع اور دیں سنبھل جائے گا۔"

" میں خود اس سب میں سے باپ کے مرنے کے بعد گزرا ہوں۔ میں کشمیر سے لیکر افغانستان تک ہر جگہ سے ہو آیا ہوں۔ یہاں کوئی کسی کیلئے کچھ نہیں کر رہا۔ ہر کوئی اپنی سیاست کی دوکان چمکا رہا ہے۔ ایسے میں سمیر جیسوں کا لاپتہ ہو جانا یا بگڑجانا بڑی بات نہیں۔۔۔۔اب کی بار بچ گیا ہے ، اگلی بار ضروری نہیں۔۔۔"

"میں نے اسے اپنے ایک سنار دوست کی دوکان پر دیکھا تھا، پھر وہ میرے کیفے میں آیا۔۔۔۔میں دونوں واقعات کی کڑی نا جوڑ سکا یا پھر شاید میں نے توجہ ہی نا دی۔۔۔۔ کچھ دن پہلے وہ پھر سے کیفے آیا تو کافی شکستہ لگ رہا تھا۔۔میں نے سوچا آپ سے بات کر لوں۔"وہ یہ سب کہہ کر خاموش ہو گیا تھا مگر خلیل صاحب کا ذہن ہل کر رہ گیا تھا۔

***********************

سمیر ابھی تک یہ طے نہیں کر پا رہا تھا کہ وہ کیا کرے۔ اُس کا ضمیر اُسے معاف کرنے پر تیار نہیں تھا یہاں تک کہ وہ کسی سے یہ سب کہہ دیتا؟

"یُوں تو میں جی نہیں پاؤں گا۔ کیا کروں میں۔ کیسے کروں اس غلطی کی بھرپائی؟ کیا کبھی میری ماں مجھے معاف کر پائے گی کہ جس شوہر کو وہ اتنا چاہتی تھیں اُن سے میں نے میری ماں کے احساس کی آخری نشانی بھی لے لی۔ کیا میرا باپ مجھے معاف کر سکے گا؟" سمیر چھت پر بے چینی سے ٹہلتے ہوئے سوچ رہا تھا۔

"کیا میں یہ سب چھوڑ کر بھاگ جاؤں؟ لیکن میں اپنے ضمیر کی آواز سے کہاں چھپوں گا؟" اُس نے مزید سوچا۔ "لیکن یہ سب کہوں بھی کس سے؟ میں نے تو آج تک کوئی ایسا دوست بھی نہیں بنایا جو مشکل کے وقت میرے کام آتا یا مجھے کوئی اچھا مشورہ دیتا۔

کیا بیلا سے کہہ دوں؟" اُس نے خود سے سوال کیا۔ "نہیں! بیلا نہیں۔ وہ بہت کمزور دل کی ہے۔ وہ تو سُنتے ہی رونا شروع کر دےگی۔" اُس نے خود کو جواب دیا۔ "یا بابا سے کہوں؟" لیکن بابا تو ہمیشہ دور ہی رہے۔ کبھی دوست نہیں بنے، کبھی راہبر نہیں بنے۔ آخر کیا کروں میں؟"

اُس نے طیش میں آ کر دیوار پر ایک مُکّا دے مارا۔ تبھی اُسے دروازے پر گھنٹی بجنے کی آواز آئی۔ گھر پر صرف وہ اور بیلا تھے۔ اُس نے خود جا کر دروازہ کھولنا مناسب سمجھا اور تیزی سے سیڑھیاں اُتر کر نیچے آیا۔ دروازہ کھولتے ہی اُسے لگا کہ اُسے اُس کے تمام سوالات کے جواب مل گئے کہ وہ اپنا مسئلہ کس سے کہے۔

"السلام علیکم۔" روشائل نے سلام کیا۔

"وعلیکم السلام۔" اُس نے کچھ سوچتے ہوئے جواب دیا۔

"آج کیا اندر نہیں آنے دینا؟" وہ اسے مسلسل سامنے کھڑا اور اپنی طرف یوں دیکھتا دیکھ کر برجستگی سے بولی۔

"اوہ۔ بہت معذرت۔ مجھے خیال ہی نہیں رہا۔" سمیر نے اُسے راستہ دیتے ہوئے کہا۔

"بیلا کہاں ہے؟ روشائل نے اندر آ کر اُسے ڈھونڈتے ہوئے پوچھا۔

"وہ شاید نہا رہی ہے۔ آپ بیٹھیں۔" اُس نے صحن میں پڑی کُرسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ روشائل کچھ جھجکی لیکن پھر بیٹھ گئی۔ سمیر بھی کچھ دُور ایک کُرسی پر بیٹھ گیا۔ وہ کافی کنفیوز اور پریشان لگ رہا تھا۔

"بیلا کو۔۔" وہ رُکا۔ "بیلا کو جب بھی کوئی مسئلہ ہو وہ آپ کے پاس کیوں بھاگی جاتی ہے؟" اُسے سمجھ نہ آئی کہ وہ اُس سے اپنا مسئلہ کیسے کہے تو اُس نے سوال کر ڈالا۔

"جی۔" روشائل اس عجیب سے سوال پر اُس کا منہ دیکھنے لگ گئی۔ پھر نہ جانے کیا سوچ کر مُسکرائی اور بولی۔ "انسان کو جس پر اعتبار ہوتا ہے اور اُسے لگتا ہے کہ یہ انسان میرا مسئلہ حل کر دے گا تو اُس سے وہ کہتا ہی ہے۔" اُس نے جواب دیا۔

"تو کیا آپ اُس کے مسئلے حل کر دیتی ہیں؟" ایک اور سوال۔

"حل نہ بھی کر پاؤں تو تسلی اور حوصلے کے دو حرف ہی کبھی کبھی بہت ہوتے ہیں۔" روشائل شاید اُس کے دل کی حالت کو سمجھ رہی تھی۔ وہ جان رہی تھی کہ اس کے ساتھ کوئی مسئلہ ہے اور وہ کہہ نہیں پا رہا۔

سمیر کچھ دیر خاموش رہا۔ پھر اُٹھ کر جانے لگا۔

"کیا آپ کے ساتھ کوئی مسئلہ ہے؟" روشائل نے اُسے جاتا دیکھ کر خود سوال کیا۔

سمیر نے اُس کی طرف دیکھا۔ وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ وہ روشائل سے کس رشتے سے سب کہے۔ محض اس لیے کہ اُسکا دل چاہ رہا تھا؟

"وہ کیا سوچے گی میرے بارے میں۔" اُس نے خود سے پوچھا۔

"اگر آپ کے ساتھ کچھ مسئلہ تو آپ بلا جھجھک مجھ سے کہہ سکتے ہیں۔ کبھی کبھی دوسرے مدد تو نہیں کر پاتے لیکن وہ اپنے لفظوں سے آپ کو ایسی ہمت دے جاتے ہیں کہ آپ میں اُس مشکل سے نبٹنے کا حوصلہ آ جاتا ہے۔" روشائل شاید اُس سے سب اُگلوا لینے کے موڈ میں تھی۔ وہ خود نہیں جانتی تھی کہ آخر وہ کیوں سمیر کا مسئلہ سُننا اور اس کی مدد کرنا چاہتی ہے۔ وہ مُسلسل سمیر کی جانب دیکھ رہی تھی۔

"روشائل!" سمیر نے اُس کا نام لیا۔

"جی۔" اُس نے جواب دیا۔

"اگر کوئی انسان بہت بُرا ہو۔ اُس نے کچھ ناقابلِ معافی جرم کیا ہو۔ تب بھی اگر وہ پچھتائے اور واپس پلٹنا چاہے تو کیا یہ معاشرہ، یہ لوگ اُسے معاف کر سکتے ہیں؟"

"اُس کا اللہ اُسے معاف کر سکتا ہے۔" روشائل نے جواب دیا۔

"لیکن انسان کو رہنا تو اس معاشرے کے بیچ ہی ہوتا ہے نا۔"

"لیکن رہتا تو وہ اللہ کی زمین پر ہی ہے نا۔"

"یہ لوگ نہیں اپناتے روشائل۔"

"جسے اُس کا رب معاف کر دے، اپنا لے اُسے دھتکارنے والے یہ لوگ کون ہوتے ہیں۔ آپ کیوں لوگوں کا سوچتے ہیں۔؟"
"آپ اپنا لیں گی؟"

"میں دُھتکارنے والی کون ہوتی ہوں؟"

سمیر کو سب جواب مل گئے۔ اُس کی آنکھیں نم تھیں۔ وہ ایک لڑکی کے سامنے۔۔ یا کم سے کم وہ روشائل کے سامنے نہیں رونا چاہتا تھا۔ وہ اُٹھ کردروازے سے باہر نکل گیا۔ روشائل سب سمجھ کر بھی انجان بنی بیٹھی رہی۔

*****************************

سمیر ایک لمحے کیلئے بابا کے کمرے کے باہر رکا پھر ہلکی سی دستک کے بعد اندر داخل ہو گیا۔

"السلام علیکم۔۔۔" اسکا لہجہ دھیما اور نظریں نیچی تھیں۔

خلیل صاحب نے ہاتھ میں پکڑی کتاب نیچے رکھ دی اور بلاوجہ عینک صاف کرنے لگے۔

"وعلیکم السلام۔۔۔" اگر سمیر ذہنی طور پر پریشان نا ہوتا تو وہ انکے لہجے کی شکستگی محسوس کر لیتا۔ شاید دنوں ہی اپنی اپنی سوچوں میں گم تھے، بظاہر ایک کمرے میں ہوتے ہوئے۔

"بابا مجھے کچھ بتانا تھا آپ کو۔۔۔"

خلیل صاحب کے چہرے کی جھریاں اور نمایاں ہو گئی تھیں۔جوان بیٹا اتنا شکستہ ہو تو باپ کے کندھے تو خود بخود جھک جاتے ہیں۔ انہیں اب ایک فیصلہ کرنا تھا۔ یا تو وہ سمیر کا سر ساری زندگی کے لئے جھکا دیتے یاپھر باپ ہونے کا ثبوت دیکر اسے سر بلند کر دیتے۔اس دن کا انہیں انتظار تھا کہ وہ کب چل کر انکے پاس آتا ہے۔

" بابا۔۔۔ مجھ سے ایک بہت بڑی غلطی ہو گئی ہے۔۔۔۔۔" اس نے گلا صاف کر کے پھر سے بولنے کی کوشش کی۔۔۔

"ہاں مجھے بھی تم سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔۔۔ پہلے میں بات کر لوں پھر تم اپنا قصہ سنا لینا۔" انہوں نے لہجے کو ہموار کرتے ہوئے اسکی بات کاٹ کر کہا۔

" ذرا میری الماری کھولو اور اس میں سے وہ نیلا ڈبہ اٹھا لاؤ۔۔۔۔"

سمیر نے کچھ کہنے کو منہ کھولا اور پھر بند کر لیا۔

الماری سے ڈبہ نکالتے ہوئے اسکی قوت فیصلہ ایک بار پھر جواب دے رہی تھی۔

سمیر جب ڈبہ لیکر بابا کے پاس آیا تو انہوں نے اسے بیٹھنے کو کہا۔

"اسے کھولو"

سمیر نے ڈبہ کھولا تو اسکو لگا کہ اسکی سانس رک گئی ہو۔ اسکی ماں کا زیور اسکے سامنے تھا۔

" میں بہت دنوں سے انتظار میں تھا کہ تم دونوں کے درمیان تمھاری ماں کا زیور آدھا آدھا بانٹ دوں۔۔۔۔بیلا ، بیٹا ذرا ادھر آنا۔۔۔" خلیل صاحب نے بیلا کو بلند آواز میں پکارا۔ وہ جان بوجھ کر سمیر کو سنبھلنے کا وقت دے رہے تھے۔

سمیر بالکل ساکت تھا۔۔۔اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ یہ کوئی معجزہ ہے یا آنکھوں کا دھوکہ۔۔۔

بیلا کی کمرے میں آتے ہی پہلی نظر زیور پر پڑی۔

"ہائے کتنا خوبصرت زیور ہے۔۔۔۔" وہ بے ساختہ ڈبے کی جانب لپکی۔

" آرام سے ۔۔۔پہلے بڑے بھائی کو پسند کرنے دو۔۔۔۔"

"ارے بھائی کیا کریں گے زیوروں کا۔۔۔"

"کیوں بھائی کی دلہن کو بغیر زیوروں کے لاؤ گی۔۔۔"

"ارے یہ تو میں نے سوچا ہی نہیں۔۔۔۔ پھر تو سارے بھائی کے۔۔۔" بیلا نےپاس بیٹھتے ہوئے پیار سے بھائی کے کندھے پر چہرہ ٹکا دیا۔

"اب اتنا سخی بننے کی بھی ضرورت نہیں۔۔۔ تم بھی اپنی مرضی سے کچھ پسند کر لو۔" خلیل صاحب کا خوشگوار موڈ دونوں کو حیران کر رہا تھا۔

" یہ سب بیلا کا حق ہے۔۔۔۔" سمیر نے ڈبہ بہن کے ہاتھ میں دے دیا۔

" بیٹا یہ ڈبہ الماری میں رکھ دو۔۔۔ بس یہ ہی بتانا تھا کہ یہ تمھاری ماں کی امانت ہے میرے پاس ۔۔تم دونوں انصاف سے بانٹ لینا۔"

"بیلا بیٹا چائے تو پلاؤ۔۔۔"

"اچھا بابا۔۔۔" بیلا خوشگوار موڈ میں چائے بنانے چل دی۔
"بابا آپ۔۔۔۔" سمیر نے کچھ کہنے کی کوشش کی۔۔۔

" جو ہو چکا سو ہو چکا۔۔۔ اب آگے کے بارے میں سوچو۔۔۔ میں تمھارا سر ہمیشہ اونچا دیکھنا چاہتا ہوں ، جھکا ہوا نہیں۔"

بابا کرسی سے اٹھ کھڑے ہوئے۔ سمیر بھی انکی تقلید میں کھڑا ہو گیا۔

"بابا۔۔۔" وہ بے ساختہ باپ کی جانب بڑھا۔

خلیل صاحب نے برسوں کے بعد بیٹے کو سینے سے لگا لیا۔

بیلا جو چائے کے ساتھ لوازمات کا پوچھنے آ رہی تھی ، حیران ہو کر دونوں کی شکل دیکھنے لگی۔۔

"نا ہم بچوں کی صحیح تربیت کرتے ہیں اور نا ہی درگزر کی تعلیم دیتے ہیں۔۔۔ پھر چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے اعلٰی ظرف اور ذمہ دار بنیں۔۔۔ جو بویا نہیں وہ کاٹیں گے کیسے۔۔۔ نئی نسل سے شکایت مگر خود پر نظر نہیں۔۔۔۔پنتالیس ہزار کے زیور کی کیا وقعت ہے بیٹے کے مان کے آگے۔۔۔۔؟" خلیل صاحب سمیر کی پیٹھ تھپتھپاتے ہوئے نم آنکھوں سے سوچے جا رہے تھے۔

*****************************

آج بیلا روشائل کے گھر آئی تو روشائل کو ونڈو کی سی ڈی پکڑے کمپیوٹر کے ساتھ الجھتے ہوئے پایا۔

"کیا کر رہی ہو؟" اُس نے دریافت کیا۔

"ارے تم۔ آؤ آؤ۔ یہ میں کمپیوٹر پر اُردو انسٹال کرنے کی کوشش کر رہی ہوں۔"

"اُردو انسٹال۔ وہ کیوں؟" بیلا کو حیرانی ہوئی۔

"وہ وہاں۔ ۔۔ تمھیں بتایا تھا نا ون اُردو پر افسانوی تحریروں کا مقابلہ ہو رہا ہے۔ سوچا اس بار کیوں نا ایک کوشش کر لوں۔ سب سے اچھی بات یہ کہ اُس میں نام نہیں بتانا کسی کو۔ تو اگر اچھا ہوا تو ٹھیک ہے ورنہ وہ تحریر گم نام ہی رہے گی۔" روشائل نے اپنی بات کہی۔

"لیکن اُس کا اُردو انسٹالیشن سے کیا تعلق؟"

"افسانہ اُردو میں ہی ٹائپ کرنا ضروری ہے نا۔" اُس نے منہ بناتے ہوئے کہا۔

"اچھا چلو آؤ مل کر کر لیتے ہیں۔" بیلا نے سی ڈی روم میں سی ڈالی اور انسٹالیشن شروع کی۔

"تم بھی آج ہی انسٹال کر لینا اور افسانہ بھی لکھ لینا۔" روشائل نے ایسے کہا جیسے معمول کا کوئی کام ہو۔

"کیا! کیا کہا۔ میں اور افسانہ لکھوں؟ روشائل مجھے لگتا ہے تمھارے دماغ پہ اثر ہو گیا ہے۔" بیلا کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ روشائل اُسے ایسا کچھ کرنے کو کہہ سکتی ہے۔

"اس میں اتنا حیران ہونے کی کیا بات ہے بیلا؟ یہی سب تو پڑھتی بھی ہو تم، ادب تمھارا شوق ہے تو قلم اُٹھانے میں ڈر کیسا۔ ایک کوشش کرنے میں کیا حرج ہے؟ کامیاب نہ بھی ہوئی تو کوئی تمہیں جانتا نہیں ہو گا۔ بس تم لکھو گی اور بس۔" روشائل نے تو اُس کے پاس کوئی راستہ ہی نہ چھوڑا تھا۔ چاہتے نہ چاہتے بیلا نے حامی بھر لی۔

*****************************

روشائل اپنا افسانہ لکھ کر جمع کروا چُکی تھی۔ اُردو ٹائپ کرنے میں اگرچہ اُسے دشواری پیش آ رہی تھی لیکن اُسے یہ کام دلچسپ لگ رہا تھا اور پھر اُسے اس میں مزا آنے لگا۔ وہاں وہ دیگر سرگرمیوں میں بھی حصہ لیتی۔ نہ صرف خود بلکہ بیلا کو بھی ہر جگہ اپنے ساتھ ساتھ شامل رکھتی۔

ہربحث مباحثے میں حصہ لیتی اور بیلا کو میسج کرتی کہ تم بھی یہاں اپنی رائے دو۔ شروع شروع میں تو بیلا چارو ناچار لکھتی، کیونکہ وہ کبھی روشائل کو منع نہیں کر سکتی تھی۔ لیکن پھر اُسے بھی لفظوں سے کھیلنے میں اور سوچ کو تحریری شکل دینے میں مزا آنے لگا۔ یہ سب باتیں، زندگی کے مختلف پہلوؤں کو دیکھنا اُس نے یہاں سے ہی سیکھا تھا۔ اور یہ سب باتیں اُس کی پڑھائی میں بھی بہت مدد کرتیں۔

افسانہ نگاری کے مُقابلے میں بھی اُن دونوں کے افسانوں کو تمام ممبران سے بہت ستائش اور حوصلہ افزا رائے مل رہی تھی۔ جس سے اُن کا حوصلہ اور شوق مزید بڑھا۔ بیلا دنوں میں بدل رہی تھی۔ وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ اس تبدیلی کا محرک روشائل کی باتیں تھیں، اُسکی تعلیم اور درسگاہ یا یہ سائٹ۔ یا سب کچھ مل کر اُس کو خود شناسی اور اُس کی ذات کی پہچان کی طرف لا رہا تھا۔ وہ کیا تھی اور وہ کیا کر سکتی تھی،وہ اب یہ جان رہی تھی۔

اُسے یہ بھی احساس ہو رہا تھا کہ اب اُس کے بابا اُس سے بہتر طریقے سے بات چیت اور مخلتف موضوعات پر تبادلہ خیال کیوں کر لیتے ہیں۔ اب وہ پہلے کی طرح کانپتی اور روتی بسورتی شکل لے کر اُن کے سامنے نہیں جاتی تھی بلکہ اعتماد اور ٹھہراؤ سے اپنی بات کہتی۔ چند مہینوں نے بیلا کو کیا سے کیا بنا دیا۔

*****************************

بیلا کمپیوٹر کے سامنے جامد و ساکت بیٹھی تھی۔ اُس کی ہمت نہیں ہو رہی تھی کہ وہ submit message کا بٹن دبائے۔ کتنی بار سوچا سب لکھا ڈیلیٹ کر دے۔ یا پھر روشائل کو بُلا لائے کہ وہ ہی سینڈ کر دے لیکن اُس کے ذہن میں بار بار روشائل کے کہے گئے الفاظ گونجتے "بیلا زندگی میں کب تک دوسروں پر اتنا انحصار کرو گی؟ خود کو پہچانو۔ تم بھی اس زندگی میں ایک مقصد لے کے آئی ہو نہ کہ ڈرتے رہنے اور ہمت ہارتے رہنے کے لیے۔"

جب بھی وہ کہیں کمزور پڑتی اُس کے ذہن میں روشائل کے یہ الفاظ گونجتے اور وہ کسی بھی کام کو کرنے کی ہمت کر جاتی۔ اب بھی اُس نے ہمت کی اور سینڈ کا بٹن دبا دیا۔ دل تیز تیز دھڑک لینے کے بعد اب نارمل ہو رہا تھا۔ اُس کی آنکھوں میں چمک اور لبوں پر ایک مُسکراہٹ اُبھری۔

*****************************

صبیح کو بیلا میں آئی تبدیلی کا تھوڑا بہت اندازہ تو تھا لیکن کسی عورت کی سوچ کی تہہ کو چُھو لینا اُس جیسے مردوں کے بس کی بات نہیں تھی۔ صبیح نے بیلا کے کمپیوٹر پر وہ سائٹ دیکھنے کے بعد وہاں کی ممبرشپ حاصل کر لی تھی۔ وہ ہر وقت بیلا پر نظر رکھتا کہ وہ کس سے بات کر رہی ہے۔ کس طرح کی طرزِ گُفتگو اپنائے ہوئی ہے لیکن کبھی اُسے کوئی قابل اعتراض بات نہیں نظر آئی۔

وہ بیلا کو بہت چاہتا تھا۔ اور چونکہ بیلا کی طرف سے کوئی عہد و پیماں نہیں تھے تو اُسے لگتا تھا کہ کہیں وہ اُس پر کسی اور فوقیت ہی نہ دے دے۔ اُس کا یہ خیال خود ہی بیلا کو لے کر اُسے غیر محفوظ بنا دیتا تھا۔ اُسے کبھی کبھی بیلا کے بارے میں مشکوک رہنے پر شرمندگی بھی ہوتی تھی لیکن اس کا خود پر بھی بس نہیں چلتا تھا۔

*****************************

بیلا روشائل کو بابا میں ہونے والی تبدیلی اور سمیر کے راہ راست پر آنے کا بتا رہی تھی۔

"نہ جانے بابا کو ایک دم سے کیا ہوا ہے۔ وہ بالکل پہلے جیسے نہیں لگتے۔ مجھ سے بیٹھ کر مختلف موضوعات پر بات کر لیتے ہیں۔ بھائی سے بھی محبت سے بات کرتے ہیں اور بالکل نہیں ڈانٹتے۔" بیلا نے حیران ہو کر روشائل کو بتایا۔

"اچھا۔ یہ تو واقعی حیران کُن بات ہے۔ لیکن تم یہ بھی تو دیکھو نا تبدیلی تو تم میں بھی آئی ہے۔ اب تم بھی تو اُن کے قریب جاتی ہو۔ اُنہیں وقت دیتی ہو۔ اُن سے مختلف موضوعات پر بات کرتی ہو۔ اور سمیربھائی کی بھی تو وہ آوارہ گردی اور وقت برباد کرنے کی عادتیں سب چُھوٹ گئیں ہیں۔ اور بابا بھی بدل گئے۔ اچھی تبدیلی کے لیے ہر ایک کا اپنا کردار ادا کرنا ضروری ہوتا ہے بیلا۔ تم سب نے اب اپنا کردار پہچانا اور ادا کیا تو فرق دیکھ لو۔" روشائل نے اُسے احساس دلایا کہ کوئی بھی تبدیلی یوں ہی یک دم نہیں آ جاتی۔

"کہتی تو تم ٹھیک ہو روشی۔ پہلے کبھی ہم نے ایک دوسرے کی قریب آنے کی کوشش ہی نہیں کی تھی۔ کسی نے بھی نہیں۔" بیلا ہمیشہ کی طرح اس بار بھی روشی سے متفق تھی۔

*****************************

آج سمیر کا اشرف بھائی کے ہاں کام پر پہلا دن تھا۔ وہ صبح تیار ہو کر بابا سے پیار اور دُعائیں لے کر گھر سے نکلا۔ بیلا اور سمیر کے اوقات مختلف تھے وہ پوائنٹ تک باباکے ساتھ جاتی تھی اور آگے سے یونیورسٹی کی بس میں ہی چلی جایا کرتی تھی۔

گھر سے نکلتے ہی سمیر کی نظر بڑی سی چادر میں لپٹی روشائل پر پڑی۔ وہ بھی گھر سے نکل کر کہیں جا رہی تھی۔ وہ اُس سے تھوڑا پیچھے چلتا رہا اور اپنی گلی سے باہر مین سڑک پر آتے ہی اُس کے برابر آ کر سلام کیا۔

"السلام علیکم۔"

"وعلیکم السلام۔" روشائل پہلے تو گھبرائی لیکن پھر سمیر کو دیکھ کر مطمئن ہو گئی لیکن اُس کے چہرے کے تاثرات بتا رہے تھے کہ اُسے سمیر کا یوں سرِ عام مخاطب کرنا پسند نہ آیا۔

"وہ میں ۔ ۔ ۔آج میری جاب کا پہلا دن ہے۔ مجھے گُڈ لک وِش نہیں کرو گی؟"

"اوہ۔ ۔ خُدا آپ کو کامیاب کرے۔ آمین" اُس نے دل سے دُعا دی

"آمین۔ اور دھیان سے جانا۔ اللہ نگہبان۔"

"اللہ حافظ۔" وہ اُسے تب تک دیکھتی رہی جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہیں ہو گیا۔ آج کل سمیر کو لے کر وہ عجیب سی کشمکش میں مُبتلا تھی۔ کچھ تو تبدیلی آئی تھی سمیر کے رویے میں۔ اُس کی آنکھوں کی تحریر میں اور خود روشائل کے انداز میں۔
*****************************
یونیورسٹی میں آج پریزینٹیشن ڈے تھا۔ پروفیسر شکیل نے سب لوگوں کو الگ الگ ٹاپک پر پریزینٹیشن دینے کی اسائنمنٹ دی تھی۔ آج بیلا کی باری تھی۔ اس نے بہت دل لگا کر اسائنمنٹ کی تیاری کی تھی بلکہ گھر میں روشائل کے سامنے پریزینٹیشن کی پریکٹس بھی کافی کی تھی، اور تو اور اس نے ون اردو پر بھی اپنے دوستوں کو اپنی پریزینٹیشن کے بارے میں بتا دیا تھا اور وہاں سے اسے کافی مددگار مشورے بھی ملے تھے۔

لیکن اس کے باوجود وہ بہت گھبرائی ہوئی تھی۔ وہ پڑھائی میں تو اچھی تھی لیکن کلاس کے دوران اگر کوئی ٹیچر اس سے کچھ پوچھ لیتا تو گھبرا جاتی اور آج وہ پریزینٹیشن کے دوران سوالوں کے جواب کیسے دے گی یہ سوچ کر ہی وہ پریشان ہو رہی تھی۔ کلاس روم میں آج معمول سے زیادہ رش تھا۔ سینئر طلبہ بھی موجود تھے شاید سب ہی اس کو پریشان کرنے کے ارادے سے آئے ہوئے تھے۔ اسکی بوکھلاہٹ اور گھبراہٹ سے سب ہی واقف تھے۔

اس نے دل میں اللہ کا نام لیا پروجیکٹر پر سلائڈ رکھی اور اپنا ٹاپک بیان کرنے لگی۔

Respected Professors and Dear Friends.

Assalam-o-Alalikum.

The topic I'm going to present today is:

Significance of the character of Mephistopheles in the play "Doctor Faustus" by Christopher Marlowe.

Mephistopheles is also called Lucifer's vice-regent and is treated as a villain in the play but if we go deep down into the facts then the study will reveal that Faustus himself with the extreme pride and inordinate ambition is the root cause of his damnation. As Mephistopheles' lines in play reveal that when they (evil spirits) hear anybody twisting and distorting the name of God or rejecting the faith in the Bible and holy books and Christ, they only rush to him to get hold of his soul.

These lines help us to realize that it was Faustus' own evil and his endless desires which took him to the ways of Hell and not Mephistopheles. He was just a companion on his way to Hell and the one who made his way steady so that Faustus will not turn back.

کلاس روم کی بھنبھناہٹ آہستہ آہستہ گہری خاموشی میں بدلنے لگی۔ سب حیران تھے کہ ایک ڈرپوک سی لڑکی آج اتنی بااعتماد کیسے؟

اس نے اپنے اندر مزید اعتماد محسوس کیا۔

پروفیسر شکیل نے درمیان میں روک کر اس سے سوال کیا۔

Sorry to interrupt you Miss Bela but do you mean that it was not the Mephistopheles who mislead Dr. Faustus?

بیلا،

In my opinion, not at all sir. Everybody in this Universe is responsible for his own acts. But now we people, even we in our normal lives are looking for a Mephistopheles, on whom we can put the burden of our wrong doings."

وہ بڑی مہارت سے شیطان کی جگہ خود انسان کو ہی اُس کی غلطیوں کا امین قرار دے رہی تھی۔

پروفیسر شکیل،" ویری گڈ آنسر بیلا۔"

پریزینٹیشن کے اختتام پر کلاس روم تالیوں سے گونج اٹھا۔ اب سوالات کی باری تھی۔ اور کسی کے سوالات کا سامنا کرنا اس کی سب سے بڑی کمزوری تھی۔

پروفیسر شکیل کلاس کی طرف متوجہ ہو گئے اور طلبہ سے بیلا کی پریزینٹیشن پر سوال پوچھنے کا کہنے لگے۔ چند سینئر طلبہ نے کچھ سوالات کئے۔ حیرت انگیز طور پر وہ ان کا جواب دینے میں بھی کامیاب رہی۔ اس کی پریزینٹیشن بہت اچھی رہی تھی اور وہ اپنے اعتماد پر خود بھی حیران تھی کہ آخر اس میں اتنے لوگوں کا سامنا کرنے کی ہمت کہاں سے آگئی۔ اس کی سوچ اتنی واضح کیسے ہو گئی کہ اس نے اتنے مشکل سوالوں کے جوابات اتنی آسانی سے دے دئیے۔

وہ بہت خوش تھی اور اب جلد از جلد گھر پہنچ کر اپنی خوشی روشائل سے شئیر کرنا چاہتی تھی۔ نا صرف روشائل سے بلکہ ون اردو پر بھی، اور خصوصی طور پر ان ساتھیوں کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہتی تھی جنہوں نے اس پریزینٹیشن بنانے میں اس کی مدد کی تھی۔ اور ساتھ ہی لوگوں کو ڈیل کرنے کا طریقہ بھی بتایا تھا۔

*****************************

روشائل پچھلے دو گھنٹوں سے دفتر کے برآمدے میں بیٹھ کر اپنے بُلائے جانے کا انتظار کر رہی تھی۔ آخر کار اُسے اندر بُلا ہی لیا گیا۔ اُس نے دروازے پر دستک دی۔

"مے آئی کم ان سر؟" اس نے اجازت طلب کی۔

"آئیں آئیں مس روشائل۔ تشریف رکھیں۔" ایڈیٹر صاحب نے ہاتھ کے اشارے سے بیٹھتے ہوئے کہا۔

"شُکریہ۔" وہ ایک کرسی پر بیٹھ گئی۔

"جی تو اس سے پہلے آپ کا کسی تنظیم کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ ہے؟"

"نہیں سر۔ میں نے ابھی ابھی ہی لکھنا شروع کیا ہے۔"

"نئے مصنفوں کے لیے اپنی جگہ بنانا آسان نہیں مِس روشائل۔"

"جانتی ہوں سر۔ لیکن اس ڈر سے میں اپنی کوشش نہیں چھوڑ سکتی۔"

"ٹھیک ہے ہم سنڈے میگزین میں آپ کو ایک کارنر دے دیتے ہیں اپنی تحریر کے لیے۔ کچھ عرصہ تک دیکھیں گے۔ اگر اچھا رسپانس رہا تو ایک باقاعدہ کانٹریکٹ سائن کر لیں گے۔ اُمید تو ہے کہ آپکی تحاریر اپنا آپ منوا لیں گی لیکن پھر بھی وقت سے پہلے کچھ کہنا محال ہے۔"

"مجھے منظور ہے سر۔"

"آپ اس سنڈے میگزین کے لیے تحریر اس آئی ڈی پر بھیج دیں۔" ایڈیٹر نے اپنا کارڈ دیتے ہوئے کہا۔

"تھینک یو سر۔ بہت بہت شُکریہ آپ کا۔" روشائل کی آواز بھرا گئی۔ اور اُس نے جذبات سے لرزتے ہاتھوں سے وہ کارڈ پکڑا۔ اور خُدا حافظ کہہ کر کمرے سے باہر نکل آئی۔ کُھلے آسمان تلے آ کر اُس نے چہرہ اوپر کو اُٹھا کر آنکھیں بند کیں اور اپنے ماضی میں جھانکنے لگی۔ وقت بھی کیسے پنکھ لگا کر اُڑ جاتا ہے نا۔

ابھی ایک سال بھی نہیں ہوا تھا کہ اُس نے کتنا ڈرتے ڈرتے ون اُردو پر پہلی بار افسانہ لکھا تھا اور آج ایک مشہور اخبار کا ایڈیٹر اُس کی تحریر سے اتنا متاثر ہوا تھا کہ اُسے سنڈے میگزین میں جگہ دے رہا تھا۔ اُسے اپنا آپ ہواؤں میں اڑتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔ آج اُس نے خود کو پایا تھا۔ اُس نے اپنی زندگی کے مقصد کو پہچان لیا تھا، اپنی راہیں متعین کر لیں تھیں۔ اب وہ جانتی تھی اُسے کہاں جانا ہے۔

*****************************

سمیر اب اپنی زندگی سے کچھ مطمئن ہونے لگا تھا۔ نیٹ کیفے کا کام اب چل پڑا تھا۔ اس نے اس کام میں اپنی اچھی ساکھ بھی بنا لی تھی۔کیونکہ وہ اپنے نیٹ کیفے میں دیکھی گئی سائٹس پر کنٹرول رکھتا تھا اس لئے محلے کے بزرگ بھی اس سے مطمئن تھےاور اپنے بچوں کو وہاں بھیجنے میں اعتراض نہیں کرتے تھے۔

ایک دن جب سمیر بیٹھا کیفے میں ہونے والی آمدنی کا حساب کر رہا تھا ۔ وہ چونک سا گیا ۔ وقت ایسے گذرا کہ اسے احساس تک نہ ہوا۔ گھر میں یبلا خلیل صاحب سب اس کے اس کام سے خوش تھے ۔ مستقل آمدنی بھی تھی اور سمیر نے جمی جیسے دوستوں کی صحبت سے بھی چھٹکارا حاصل کر لیا تھا۔

رات کو جب وہ کیفے بند کر کے گھر لو ٹ رہا تھا تو اس کی نظر نذیر صاحب کے بند دروازے پر پڑی۔ روشی کی تصویر اچانک اس کی آنکھوں کے سامنے پھر سی گئی۔ اس کے دل میں اس کی پرانی خواہش نے واپس سر اٹھانا شروع کر دیا جسے وہ جھٹک کر سلا چکا تھا ۔

"نہیں میں روشی کے قابل نہیں ہوں۔ میں اس کے پاسنگ بھی نہیں ہوں نہ پڑھائی میں نہ کام میں۔ اس کا پہلا منگیتر اتنی اچھی جاب پر تھا میں اگر اپنا رشتہ اس کے ہاں بھجوا بھی دیتا ہوں تو صاف انکار ہی ہو گا"۔ انھی سوچوں میں گم سمیر گھر میں داخل ہوا ۔۔اسے آتا دیکھ کر بیلا نے کھانے کا پوچھا ۔

اُس نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا،"نہیں کھانا ایک دوست کے ساتھ کھا لیا تھا ۔اب میں سونے جا رہا ہوں۔ "یہ کہتے ہوئے وہ اپنے کمرے میں چلا گیا۔ بیلا بھی واپس مڑ گئی۔

کمرے میں جا کر بھی سمیر سو نہ سکا۔ ۔ وہ کچھ نیا کام کرنے کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ انٹرنیٹ کیفے کا کام اچھا تو چل رہا تھا لیکن سمیر اب اپنا ذاتی کام کرنے کے بارے میں سوچنے لگا تھا جس میں کسی کی شراکت داری نہ ہو۔ یوں بھی انٹرنیٹ کیفے کا مستقبل اسے زیادہ روشن نظر نہیں آتا تھا۔ اب تقرییا" ہر گھر میں ہی کمپیوٹر موجود تھا اور انٹرنیٹ کنیکشن بھی مناسب داموں میں دستیاب تھا۔

اس نے اپنے پاس موجود پیسوں کا حساب کتاب کیا۔ گذشتہ سات آٹھ مہینوں میں اس نے بہت کم خرچ کیا تھا اور پیسے جمع ہی کرتا رہا تھا۔ اسے لگا اگر کرائے پر دکان لے لے تو وہ کمپیوٹرز کی شاپ کھول سکا ہے ۔یہ خیال آتے ہی وہ بستر سے اٹھ بیٹھا اور مشورے کے لئے خلیل صاحب کے کمرے کا رخ کیا۔

*****************