قسط نمبر4

"روشی" بیلا نے اپنی دوست کو بہت پیار سے پکارا جو خود اسی کے بیڈ پر آڑھی ترچھی لیٹ کر یونی میں ہونے والے شاعری کے مقابلے کے لئے ایک نظم لکھ رھی تھی۔

"کیا بات ھے بیلی" روشائل نے اپنی الماری میں کپڑوں کو سلیقے سے تہہ کر کے رکھتے پوئے پیچھے مڑ کر دیکھا" وہ کبھی کبھی لاڈ سے بیلا کو بیلی کہا کرتی تھی۔

"میں سوچ رہی ہوں ون اردو نے ہم لوگوں کو کتنا بدل دیا ہے۔ تم تو خیر پہلے بھی خود پر بہت بھروسہ کرتی تھی مگر یاد کرو۔۔۔۔۔۔! میں کتنی دبو سی ہوا کرتی تھی پہلے۔ کسی نہ اگر کوئی سوال پوچھ ہی لیا تو جواب دینے کی بجائے گلے میں کانٹے سے پڑ جاتے تھےـ"

"ہاں اور تمھاری جگہ بھی اکثر مجھے ہی جواب دینے پڑتے تھے لوگوں کو۔۔۔۔۔۔اور اب دیکھو تو ماشااللہ تم اتنی تیز ہو گئی ہو کہ میرے ہی کان کترنے لگی ہو اور مجھے تمھارے تمام سوالوں کے جواب دینے کے لئے کبھی ڈکشنری اور کھبی فلسفے کی کتابوں پر ریسیرچ کرنی پڑتی ہے۔"

اس بات پر دونوں کھلکھلا کر ہنس دیں۔

*****************************

بیلا اسٹیج پر بے یقینی کی کیفیت میں بالکل سن سی کھڑی تھی ۔ اسے یقین نہیں آ رہا تھا ۔پورا ہال اسکے لئے تالیوں سے گونج رہا تھا۔ اسکی نظم کو پہلا انعام ملا تھا۔ نہ صرف یہ کہ اسکی نظم مقابلے میں اول آئی تھی بلکہ اسکی ادب میں دلچسپی دیکھتے ہوئے ڈین نے اسے اپنے رسالے کی مدیرہ بننے کی دعوت بھی دی تھی۔ یہ ذمہ داری سنبھالنے کے لئے اسے یونیورسٹی سے ماہانہ کچھ رقم کی پیشکش بھی ہوئی تھی۔

وہ بہت خوش تھی۔ اس خیال سے اسکا دل ہواؤں میں اڑ رہا تھا کہ وہ کچھ کما سکتی تھی۔ اپنے بابا کی مدد کر سکتی تھی۔

سمیر بھائی کے لئے بھی کوئی تحفہ خرید سکے گی۔

"ہاں میں ان پیسوں سے سمیر بھائی کو دو نئی پینٹ اور شرٹس لے کر دوں گی۔ بچارے کیسے بار بار وہی گھسے پٹے کپڑے پہن کر دکان پر چلے جاتے ہیں اور روشی کو بھی تو کچھ دوں گی" وہ ذھن پر زور دے کر روشی کی کوئی من پسند چیز سوچنے لگی

" ہاں اسکا سب سے پسندیدہ پرفیوم جو بہت مہنگا ہونے کی وجہ سے اسکی امی لے کر نہیں دے سکتی ہیں۔ میں لے کر دوں گی اپنی دوست کو"

سٹیج پر کھڑے کھڑے اسی لمحے میں اس نے دل ہی دل میں خوابوں کے ہزاروں تاج محل بنا ڈالے۔

نا چاہتے ہوئے بھی اسکی آنکھوں میں خوشی کےآنسو آ گئے۔ وہ دل ہی دل میں امی کو بہت مس کر رھی تھی۔ کاش ان کو یہ خوشخبری سنا پاتی۔ امی کا خیال آتے ہی اسکا دل غم سے بھر گیا۔ بابا اور سمیر بھائی بھی تو بہت خوش ہوں گے اور روشائل تو خوشی سے جھوم ہی اٹھے گی۔ کتنی خوش نصیب تھی بیلا جیسے روشائل جیسی سہیلی ملی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔جس نے اسکی زندگی کا پورا سیٹ اپ ہی بدل دیا تھا۔

وہ یونیورسٹی سے واپسی پر گھر جانے کی بجائے روشی کے پاس چلی گئی۔ اور اس کے گلے لگ کر رونے لگی۔

" ارے ارے کیا ہوا ،بیلی میری جان ۔۔۔! کچھ تو بتاؤ ؟ گھر میں سب خیریت ہے نا؟ " روشی اس اچانک افتاد کے لئے تیار نہ تھی .اسکا بوکھلانا فطری تھا۔

" ہاں میں ٹھیک ہوں بس یہ تو خوشی کے آنسو ہیں۔میں تمھارا شکریہ ادا کرنے آئی تھی۔ یہ سب تمھاری وجہ سے ہوا ہے۔ اگر تم شروع سے ہر قدم پرمیری رہنمائی نہیں کرتی تو ایسا کبھی نہیں ہوتا۔ تم نے ہر پریشانی ہر مشکل میں میرا ساتھ دیا ھے۔ آج جو مجھے یونیورسٹی والوں نے میگزین کی مدیرہ بنا دیا ھے تو اسکی وجہ بھی تم ہو۔میں تمھارا شکریہ کیسے ادا کروں گی روشی؟"

"واؤ تمہیں میگزین کی مدیرہ بنا دیا گیا۔ بہت بہت مبارک ہو۔ مجھے پتہ تھا تم سب کام کر سکتی ہو۔ تمھیں خود صرف اسکا احساس نہیں تھا۔ میں نے کچھ نہیں کیا سوائے تمھارے دل میں اس احساس کو جگانے کے یوں سمجھ لو کہ پہلے تم کو تراشا نہیں گیا تھا تو تم ایک پتھر کی طرح بے قیمت تھیں اور اب تراش خراش کر ایک ہیرے میں بدل چکی ہو وہ بھی کوہ نور"

"میں یہ چاہتی ہوں تم زندگی بھر میرے ساتھ رہو۔ کھبی مجھ سے دور نہ جاؤ۔ ویسے بھی بقول تمھارے میں کوہ نور ہوں تو میرے بغیر تم کتنی غریب ہو جاؤ گی۔ کیا تم ہمیشہ میرے گھر میں نہیں رہ سکتی میری۔۔۔۔۔۔۔۔۔بھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔" بیلا کچھ کہتے کہتے رک گئی۔ اسے بھی خیال آ گیا کہ شاید روشی کو یہ بات اچھی نہ لگے کہ وہ اپنے کم پڑھے لکھے بھائی کے لئے اسکی خواہش رکھتی تھی"

دوسری طرف روشی نے بھی فوراً بات کا موضوع بدل دیا کیونکہ وہ بھی اس بارے میں کچھ بھی کہننے سننے سے ڈرتی تھی اس لئے بولی چلو اس خوشی میں کڑھی چاول کھاتے ہیں۔" میں نے ابھی ابھی بنایا ہے"

" نہیں جناب میں آج بہت خوش ہوں مجھے کڑھی چاول پر ٹرخانے کی کوشش نہ کرو اور مابدولت کے لئے اچھی سی چائے اور بہت سےا سنیکس ایک ساتھ پیش کئے جائیں۔ میں آج بہت خوش ہوں اور اس خوشی کو منانا چاہتی ہوں"

****************************

" یار صبیح چل نا ۔۔۔اب اٹھ بھی ، واپسی پر چائینیز چلیں گے۔" وصی نے اپنی طرف سے اسے باہر کھانے کا لالچ دیا۔ اصل میں تو اسے یونیورسٹی میں اپنے چھوٹے بھائی کے داخلے کیلئے کسی تگڑی سفارش کی ضرورت تھی۔ ایسے میں کہیں سے اس نے سن لیا کہ صبیح کا ایک دوست پی ایچ ڈی کر کے یونیورسٹی میں آکر لگا ہے۔

"یار تم کہتے ہو تو چلتا ہوں ورنہ جانتا ہوں کہ افتخار یہ کام نہیں کرنے والا۔"صبیح کار کی چابی اٹھا کر چل پڑا۔ آخر ایک جگہ کام کرتے ہوئے دشمنی بھی نہیں پالی جاسکتی تھی۔

"وہ بھی تو وہاں ہو گی شاید"۔ اس نے گاڑی سٹارٹ کرتے ہوئے سوچا۔

افتخار کے آفس کے آگے وہ ایک دم رک گیا۔ افتخار کمرے کا دروازہ کھولے کھڑا کسی لڑکی سے بات کر رہا تھا۔وہ بیلا تھی۔ وہ اسے دیکھ کر ذرا سا مسکرائی۔

"السلام علیکم " کہتے ہوئے اسکا جواب سنے بغیر پاس سے نکلتی چلی گئی۔

"وعلیکم السلام ۔۔۔۔۔" اس نے جیسے خود کو جواب دیا۔ "پہلےتو یہ مجھے یونیورسٹی یا بازار میں جاننے پہچاننے سے بھی انکار کر دیتی تھی۔۔۔۔۔۔" وہ حیرت میں گم تھا۔

" یار لگتا ہے وار کر گئی۔۔۔۔" وصی نے ہمیشہ کی طرح بے تکے پن کا مظاہرہ کیا۔

صبیح اور افتخار دونوں کے گھورنے پر ڈھٹائی سے مسکراتے ہوئے بولا "لگتا ہے ہمارا یار
اسے جانتا تھا۔"

"یہ ہماری اعزازی لیکچرر ہیں اور ان خواتین میں سے ہیں جنکی وجہ سے عورت کی قدرو منزلت اور بڑھ جاتی ہے۔" افتخار نے سخت لہجے میں وصی کو سنانے کی کوشش کی۔

صبیح مکمل تعارف سے پہلے ہی وصی کی بونگیوں سے نالاں نظر آ رہا تھا۔ مگر مدعا بیان کرنا بھی ضروری تھا۔

"چھوڑو یار کام کی بات کریں۔۔۔۔۔افتخار یار ہم تمھارے پاس ایک کام سے آئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔" صبیح اسے کام کی تفصیل بتانے لگا۔

افتخار کے چہرے کے تاثرات بتا رہے تھے کہ اسے بات پسند نہیں آئی۔

"تم کاغذات چھوڑ جاؤ۔۔۔ میرٹ بہت زیادہ ہے۔۔۔۔ کام مشکل ہی بنے"

"پھر سفارش کا کیا فائدہ" وصی نے بولنا ضروری سمجھا۔

"سفارش کا کوئی فائدہ بھی نہیں۔۔۔ اپنی محنت سے داخلہ ہو تو بات بنتی ہے۔۔۔ ویسے آپ خوشحال لگتے ہیں۔"

" پیسے کی کمی نہیں۔۔۔جتنا مرضی بولیں ، ہم دینے کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔"

" پھر تو مسئلہ ہی کوئی نہیں۔۔۔۔سیلف فائنینس سے داخلہ لے لیں۔" افتخار نے وصی کی بات کاٹ کر اپنی بات کہی اور اٹھ کھڑا ہوا۔

"یار صبیح معذرت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے کلاس لینی ہے، پھر کسی دن ملتے ہیں۔" وہ صبیح سے ہاتھ ملانے کے بعد اپنا لیپ ٹاپ وغیرہ اٹھانے میں لگ گیا۔

واپسی پر سارا راستہ وہ بیلا کے متعلق سوچتا آیا وصی کے خراب موڈ کی پرواہ کیے بغیر۔

"یہ لڑکی مجھے ہمیشہ حیران کرتی ہے ۔۔۔۔۔"۔
صبیح کمپیوٹر کے آگے بیٹھا بے مقصد سکرین کو گھور رہا تھا۔

"مجھے رشتے کی بات حتمی ہونے سے پہلے بیلا سے بات کر لینی چاہئے۔ اب کی بیلا اور پہلے کی بیلا میں بہت فرق ہے۔ اگر اس نے ملازمت کر لی تو گھر کون سنبھالے گا"۔

"مگر اسکی ملازمت سے فائدہ بھی تو ہو گا۔"

"لاحول ولا قوۃ۔۔۔۔ یعنی اب تم عورت کی کمائی کھانے کا سوچو گے۔"

بے خیالی میں وہ ون اردو پر لاگ آن ہو گیا۔ پہلی پوسٹ جو اسے نظر آئی وہ تھی عورت کا معاشرے میں مقام پر۔۔۔۔۔

"یعنی حد ہو گئی۔۔۔ ہر طرف ایک ہی مسئلہ ہے۔" اس نے لاگ آف ہونے کا سوچا مگر ایک دم رک گیا۔ سامنے بیلا کی ایک پوسٹ نظر آ رہی تھی۔ عورت کی ملازمت کے حق میں دلیل دیتی ہوئی۔۔۔

اس سے پہلے کہ اسکا موڈ خراب ہوتا، اسکی نظر اسکی اگلی پوسٹ پر پڑی۔

"میں جب سال کی تھی تو میری امی کا انتقال ہو گیا تھا۔ پہلے میری دادی جان اور پھر آیا نے میری دیکھ بھال کی۔ میرا بھائی مجھ سے پانچ سال بڑا تھا۔ جب میں نے ہوش سنبھالا تو اپنے بھائی کو اپنے چھوٹے چھوٹے کام کرتے دیکھا۔اسکے دیکھا دیکھی میں بھی کام کرنے لگ گئی۔ جب میں آٹھ سال کی تھی تو بھائی کے ساتھ مل کر آملیٹ اور فرنچ ٹوسٹ بنا لیتی تھی۔ جب میں دس سال کی ہوئی تو سکول کے بعد گھر آکر اپنے اور بھائی کیلئے کھانا خود بنا لیا کرتی تھی۔ہائی سکول آنے تک میں نے کچن کا کام مکمل سنبھال لیاتھا۔ اب میں سکول سے آکر شام میں اگلے دن کا بھی کھانا بنا لیتی تھی۔ ہر دوسرے دن صفائی کرتی تھی اور کپڑے چھٹی والے دن دھوتی تھی۔اس سب کے ساتھ میں نے بی اے میں صوبے بھر میں ٹاپ کیا تھا۔ آپ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ملازمت کرنے والی عورت گھر کو نہیں سنبھال سکتی؟؟؟ اگر میں اتنی کم عمری میں سکول ، کالج،اور یونیورسٹی کے دوران پڑھائی کے ساتھ ساتھ گھر کے کام کر سکتی ہوں تو ملازمت اور گھر داری تو میرے لئے کوئی مسئلہ ہی نہیں۔ بس اس سب میں مجھے یہ سہولت حاصل تھی کہ میرا بھائی میری ہر طرح سے مدد کرتا تھا ،میرا ہر طرح سے ساتھ دیتا تھا اور میرے بابا نے میرے کسی الٹے سیدھے کھانے پر اعتراض نہیں کیا تھا۔ کیا آپ میں اتنا حوصلہ ہے۔۔۔۔اگر ہے تو پھر آپکی بہن بیٹی بیوی اور ماں گھر کے اندر اور گھر کے باہر بھی کامیاب ہو سکتی ہیں۔"

یہاں صبیح منہ کھولے بیلا کا اتنا لمبا لیکچر پڑھ رہاتھا تو دوسری طرف سمیر حیرت سے بہن کے اس اقرار کو پڑھ رہا تھا کہ وہ کیسے اپنی محنت کا کریڈٹ اسکو دے رہی تھی اور بابا کے لا پرواہ رویے کو کس خوبصورتی سے اپنی مرضی کا رنگ دے کر پیش کر رہی ہے۔

*****************************

سمیر گھر میں داخل ہوا تو بیلا ، روشائل، اور روہین برآمدے میں کتابیں اور نوٹس بکھرائے بیٹھی تھیں۔

"آ ہا آج تو ہماری چھوٹی سی بہن آئی ہے۔۔۔۔۔۔" سمیر روہین کو دیکھ کر خوش ہو گیا۔ بچپن میں اس نے روہین اور احمر کو بھی اپنے سائیکل پر بہت گھمایا تھا۔

" السلام علیکم۔۔۔" روہین سمیر کیلئے کھڑی ہو گئی۔

سمیر اسکا سر تھپتھپا کر اندر جانے لگا۔ روشی اسے غور سے دیکھ رہی تھی۔

"بھائی یہ روشی اور روہین مجھ سے نوٹس لینے آئی ہیں۔۔۔۔"

"پھر۔۔۔۔" سمیر نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔

"پھر یہ کہ ابھی روشی کہہ رہی تھی کہ آپ بی اے کاپرائیویٹ امتحان دینے کی کوشش کیوں نہیں کرتے۔"

اس نے حیران ہو کر روشائل کو دیکھا۔ اس نے گڑبڑا کر نظریں نیچی کر لیں۔

" ارے اب کیسے دے سکتا ہوں۔۔۔۔ اتنے سال ہوئے پڑھائی چھوڑے ہوئے۔۔۔۔"

"بھائی میرے بی اے کے سب نوٹس پڑے ہیں۔۔۔۔میں آپکو انگلش کی تیاری کروا دوں گی۔"

"اور میں سائیکالوجی اور آپی اکنامکس کی۔۔۔۔۔۔۔۔" روہین نے معاملہ طے کر دیا۔

" ہائیں۔۔۔۔۔ تم لڑکیوں کے دماغ خراب ہو گئے ہیں کیا"۔

" دماغ خراب کی کیا بات ہے۔۔۔۔کیا اس سے پہلے لوگ پرائیویٹ بی اے یا ایم اے نہیں کرتے رہے۔۔۔۔ یہ دیکھیں روشی میرے ماسٹرز کے نوٹس لیکر جا رہی ہے۔ پارٹ ون کے پیپر دے چکی ہے ، اب پارٹ ٹو کے دے گی....اسکے بعد اسکا لاء کالج میں داخلہ لینے کا ارادہ ہے۔۔۔۔۔" بیلا اپنے میں مگن بولے جارہی تھی اور سمیر روشائل کو دیکھ رہا تھا جو اسے بڑی امید افزاء نظروں سے دیکھا رہی تھی۔

" کیا زیادہ پڑھے لکھوں کے درمیان کم پڑھے لکھوں کا گزارہ نہیں ہو سکتا ؟" دیکھ وہ روشی کو رہا تھا مگر بظاہر سوال سب سے کر رہا تھا۔

"زیادہ خواتین میں تو کم مردوں کا بھی گزارہ نہیں ہو سکتا"۔ دروازے سے اندر آتے ہوئے صبیح نے آواز لگائی۔

" اوہ شکر ہے کوئی میرا بھی ووٹ آیا۔"

"السلام علیکم"۔

"وعلیکم السلام" کورس میں جواب ملا۔

" اچھا بھائی تم بتاؤ کیا مجھے بی اے کے پیپر پھر دینے چاہئے جبکہ بورڈ والے میرا نام پڑھ پڑھ کر تنگ آ چکے ہیں۔"

"یارمیں تو تمھیں کب سے کہہ رہا ہوں کہ پیپر دے لو پھر کچھ کمپیوٹر کورس بھی کر لو۔۔۔۔"

" لو میں سمجھ رہا تھا کہ تم میرا ساتھ دو گے، یہاں تو الٹا حساب ہے۔" سمیر نے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔

"یار سر پر اتنا ہاتھ نا پھیرا کر، پہلے ہی بال تھوڑے ہیں۔۔۔یہ نا ہو کہ بنتی بات بگڑ جائے۔" صبیح نے معنی خیز نگاہوں سے روشی کی طرف دیکھا۔

"مارے گئے۔۔۔۔" سمیر منہ ہی منہ میں بولا "یار ذیادہ بکواس نا کیا کر۔"ایک دفعہ صبیح کے ساتھ باہر کھانا کھاتے ہوئے اسکے استفسار پر سمیر نے کہیں کہ دیا تھا کہ " ہے کو ئی پسند اور تم جانتے بھی ہو اسے۔۔۔مگر نام نہیں بتاؤں گا ابھی۔" تب صبیح نے کہا تھا کہ کہیں اسی لئے تو پیپر نہیں دیئے جا رہے۔

"مگر پچھلی بار تو تم کہہ رہے تھے کہ تم نے انگلش پاکستان سٹڈیز اور اسلامیات کے پیپر دیئے ہیں۔۔۔۔۔ کیا فیل ہو گئے؟" صبیح نے بات کا منقطع سلسلہ جوڑتے ہوئے مشکوک نظروں سے اسکی طرف دیکھا۔

"کیا!" سب لڑکیوں کے منہ سے حیرت سے کھل گئے۔

"یار تم تو لڑکیوں سے بھی گیے گزرے ہو۔۔۔کچھ نہیں رہتا تمھارے پیٹ میں۔" سمیر نے اسے ایک دھپ جمائی۔

" یار رحم کر، تمھاری طرح پہلوان نہیں ہوں میں۔۔۔۔ " صبیح نے اسکے کسرتی صحت مند وجود پر نظر ڈالی۔

"یار اگر تم زرافہ مارکہ ہو تو کم از کم دوسروں کو تونظر نا لگاؤ۔"سمیر نے بازو کے مسلز بناتے ہوئے اسکے لمبے قد اور ہلکے جسم پر چوٹ کی۔

"بھائی بات کو نا ٹالیں۔۔۔پیپرز کا بتائیں۔" بیلا حیرت پر قابو پا کر غصے سے بولی۔

"کیا بتاؤں۔۔۔" سمیر نے معصوم سی صورت بنائی۔ اسے لگا جیسے روشی نے سانس روک رکھی ہو۔

"بولو بھی۔۔۔" صبیح نے اسے گھورا۔

" وہ پیپر تو پاس کر لئے، اب اگلوں کی فکر ہے، ویسے نوٹس تو تمھارے ہی استعمال کیے تھے۔" سمیر نے لاپر واہی سے بیلا کو کہا۔

ایک بار پھر لڑکیاں حیرت سے چلا پڑیں۔

"مگر میرے انگلش اسلامیات کے نوٹس تو تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔" بیلا نے حیران ہو کر روہین کو دیکھا " تو روہین کے پاس تھے۔"

" مگر میں نے تو نہیں دیئے سمیر بھائی کو۔۔۔۔"

روشی نے نظریں چرا لیں بیلا سے۔۔۔"پھر کس نے۔۔۔۔"

"کسی مہرباں نے آ کے میری زندگی بنا دی ۔"صبیح نے کان پر ہاتھ رکھ کر قوالوں کے سے انداز میں گانے کا ستیاناس کیا۔

"پھر کس نے۔۔۔۔۔۔روشی۔۔۔۔ یعنی تم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی بھائی" اس نے احمقوں کی طرح دونوں کو دیکھا۔

"میرے دل کی دھڑکنوں۔۔۔۔"

"ارے آپ تو یہ بے سرا راگ بند کریں۔۔۔۔ میں ذرا ان دونوں کو تو پوچھ لوں" بیلا کا غصے کے مارے برا حال تھا۔

"ارے فن کی کوئی قدر ہی نہیں۔۔۔۔ یار انکو اب اللہ ہی پوچھے گا۔۔۔اگر کسی کو پوچھنا ہی ہے تو مجھے پوچھو۔۔۔۔۔" پھر صبیح نے سمیر کو چھیڑا۔

" یار لوگ تو بہت خوش نظر آ رہے ہیں۔۔۔ پیپر تم دے رہے ہو،۔۔۔۔پاس تم ہو رہے ہو۔۔۔۔اور خوشی لوگوں کو ہو رہی ہے۔۔۔۔علم سے ایسی محبت کبھی دیکھی نا سنی۔" صبیح کو لگتا تھا آج برسوں بعد موقع ملا ہو جنم جنم کے بدلے لینے کا۔ وہ معنی خیز نگاہوں سے کبھی سر جھکائے روشی کو اور کچھ کچھ مطمئن سے سمیر کو دیکھ رہا تھا۔

"ارے تم بھی کبھی میرے لئے ایسے خوش ہو جایا کرو۔۔۔۔" سمیر کی نظر بچا کر جو کسی کا فون سن رہاتھا، اس نے آہستہ سے بیلا کو بھی بیچ میں گھسیٹ لیا جو ابھی تک اپنے احمق پن پر غور کر رہی تھی۔

" ہوں ۔۔۔تو جناب بھی کم فنکار نہیں۔۔۔۔ میں بھی کہوں یہ گرے گاڑی کس کی ہر وقت گلی میں موجود رہتی ہے۔"روشی نے بھی بدلا چکایا۔

" اھم اھم۔۔۔مابدولت ابھی موجود ہیں ۔۔۔حد ادب۔۔۔۔ گستاخ اور بے ادب نوجوانوں۔۔۔۔۔پتا نہیں یہ والدین کی اس عمر میں قریب کی نظر عینک کے باوجود اتنی کمزور کیوں ہوتی ہے۔" روہین ان سبکو واپس حقیقی دنیا میں لانے کیلئے زور سے کھنکھاری۔۔۔

*****************************

صبیح واپس جا چُکا تھا اور بیلا روہین کو کچھ سمجھانے میں مگن تھی جب روشائل نے کہا کہ وہ سب کے لیے پکوڑے بنا کر لاتی ہے۔ یہ گھر بھی اُس کے اپنے ہی گھر جیسا تھا۔ کون سی چیز کہاں پڑی ہوتی ہے روشائل کو سب پتہ تھا اور اسی طرح بیلا کو روشائل کے کچن میں پڑی ہوئی چیزوں کی جگہوں کا پتہ تھا۔

وہ پکوڑوں کے لیے مکسچر بنا چُکی تھی جب سمیر کچن میں آیا۔

"روشائل۔" اُس نے اُسے پُکارا۔

"جی۔" وہ اپنے کام سے چونکی۔

"وہاں سب میری وجہ سے آپ کا نام آیا۔ آپ کو بُرا تو نہیں لگا؟" وہ فکرمند تھا۔

"نہیں۔ اس میں کوئی ایسی بات نہیں۔" وہ بنے ہوئے مکسچر کو مزید گھولنے میں لگ گئی۔

"میرا رزلٹ آ گیا اور میں آپ کو بتا بھی نہیں سکا۔ آپ کو بُرا تو لگا ہو گا کہ آپ کے کہنے پر پیپر دیئے وہ بھی آپ ہی سے نوٹس لیکر، پڑھ کر اور رزلٹ یوں بتایا۔" اُس نہ جانے کون کون سے واہمے ستا رہے تھے۔

"آپ ایسا کیوں سوچ رہے ہیں۔ میں آپ کی شُکرگزار بھی کہ آپ نے میری نصیحت کو مانا اور آگے امتحان دیا۔ میرے نزدیک آپ کی کامیابی اہم تھی۔ اُسے آپ نے حاصل کیا، میں خوش ہوں۔ اس سے زیادہ میں کیا توقع رکھ سکتی ہوں؟" اُس نے جانے کیا حق پانے کے لیے سوال پوچھا۔

"ہمم۔۔ اس سے زیادہ کوئی کیا توقع کرے گا جب اُسے کوئی غرض ہی نہیں۔" سمیر اُس کے جواب سے مایوس ہو کر واپس پلٹ آیا۔

*****************************

"السلام علیکم حُضور۔" صبیح نے سمیر کی دُکان میں شامل ہوتے ہوئے اُونچی آواز میں کہا۔

"وعلیکم السلام۔" سمیر ایک دم چونکا۔" ویلکم جناب آج آپ یہاں کیسے؟" اُن نے بھی خوش دلی سے اُس کا استقبال کیا۔

"کیوں جی ہم اپنے دوست کے پاس کیا یہاں نہیں آ سکتے؟"

"آ سکتے ہیں بالکل۔ آؤ بیٹھو۔ کیا لو گے۔"

"نہیں یار بس کچھ نہیں۔ ایک کام تھا تم سے۔ گھر پہ نہیں کہہ سکتا تھا۔ سوچا یہیں آ کر بات کر لوں۔" صبیح نے سنجیدہ صُورت بناتے ہوئے کہا۔

"خیریت۔ ایسی کیا بات ہو گئی۔" سمیر کو فکر ہوئی۔

"بات ایسی ہے یار کہ مجھے ڈر ہے کہ کہیں تم مجھے غلط نہ سمجھو۔ اس لیےکہنے میں تھوڑا جھجھک رہا ہوں۔" صبیح نے اپنے خدشات بیان کیے۔

"نہیں صبیح تم نے جو کہنا ہے کہو۔ میں تمہیں بالکل غلط نہیں سمجھوں گا۔ جس انسان نے اپنی غلطیاں دیکھ لی ہوں نا اُسے پھر باقی کم ہی غلط لگتے ہیں۔ اور تُم تو میرے اچھے دوست ہو۔" اُس نے صبیح کی کمر تھپتپائی۔

"سمیر! دراصل بات یہ ہے کہ آج کل گھر والوں کا دباؤ بہت بڑھ گیا ہے کہ اب شادی کر لوں۔ تعلیم بھی مکمل ہے اور اللہ کا شکر ہے روزگار میں بھی کوئی مشکل یا تنگی نہیں۔" وہ اتنا کہہ کر خاموش ہوا۔

"تُم نے تو ڈرا ہی دیا تھا۔ تو اس میں کیا مسئلہ ہے یار۔ کر لو شادی۔" وہ بات کے پتہ لگنے پر قدرے مطمئن انداز میں بولا۔

"بات یہ ہے کہ میں اس معاملے میں اپنی ایک رائے رکھتا ہوں۔" وہ مُدعے کی طرف آیا۔
"رائے رکھتا ہوں مطلب پسند؟ واہ یار کبھی پتہ تک نہیں لگنے دیا۔ کون ہے وہ؟"سمیر بیک وقت خوش اور متجسس ہوا۔

صبیح خاموش رہا۔

"بتاؤ نا۔" سمیر نے بے چینی سے پوچھا۔

"سمیر! وہ میں۔ ۔ ۔ امی کو رشتے کے لیے اگر تمہاری طرف۔ ۔ ۔" وہ جملہ مکمل نہ کر سکا۔

سمیر کے چہرے سے تمام ہنسی غائب ہو گئی اور وہ سنجیدگی سے صبیح کی طرف دیکھنے لگ گیا۔

"تمھارا مطلب ہے بیلا؟" اُس نے یقین کرنا چاہا۔

"اگر تمھیں اور چچا جان کو کوئی اعتراض نہ ہو تو۔" اُس نے نظریں نیچی کرتے ہوئے کہا۔

سمیر سوچنے کے انداز میں کچھ دیر اُس کی طرف دیکھتا رہا۔

دونوں کے بیچ کچھ دیر خاموشی چھائی رہی۔

"تم بیلا کے لیے ایک اچھا انتخاب ہو صبیح۔ میں بابا تک تمھاری بات پہنچا دوں گا۔ لیکن ہم بیلا کی رضامندی کے بغیر یہ فیصلہ نہیں لے سکتے۔" سمیر نے جواب دیا۔

"نہیں۔ بیلا کی مرضی کے خلاف تو میں بھی نہیں چاہوں گا۔ کئی بار سوچا کہ اُس سے پوچھ کر ہی تم سے بات کروں لیکن اُس سے بات کرنا موزوں نہیں لگا۔"

"ٹھیک ہے صبیح میں کوشش کروں گا کہ فیصلہ تمھارے حق میں ہی ہو لیکن پھر بھی کوئی وعدہ نہیں کر سکتا۔"

"بہت شُکریہ سمیر۔ تم نے میری بہت بڑی پریشانی دُور کر دی۔ اب میں چلوں گا۔" صبیح نے اُٹھتے ہوئے کہا۔

"کچھ کھا پی لو نا۔ کچھ خاطر مدارت کا موقع ہی نہیں دیا تم نے تو۔"

"پھر کبھی سہی۔ ابھی ذرا کام ہے۔ پھر ملیں گے۔ اللہ حافظ۔"

اوکے پھر۔ دھیان سے جانا۔ میں کوشش کروں گا جلد ہی تمھیں تمھارا جواب دے دوں۔ اللہ حافظ۔" سمیر نے اُس سے گلے ملتے ہوئے کہا۔

*****************************
رات کے تین بجنے والے تھے۔ روشی اپنے بستر پر لیٹی بے چینی سے کروٹیں بدل رھی تھی۔ بیلا کا ادھورا جملہ بار بار اسکے کانوں میں گونج رہا تھا۔

روشی نے اپنا دامن بچانے کی بہت کوشش کی تھی مگر نجانے کب کیسے محبت کی چھوٹی سی چنگاری اسکے دل میں گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتے بڑھتے شعلہ بن گئی تھی۔ بالکل ایسے جیسے کچن کے کسی کونے میں پہلی بار شیشے کی چھوٹی سی بوتل میں لگائے جانے والی منی پلانٹ کی بیل کچھ سالوں میں ہی پورے گھر کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہوتی ہے۔ ایسے ہی آہستہ آہستہ غیر محسوس طریقے سے وہ بیلا پر اپنی محبت لٹاتے لٹاتے اسکے پورے خاندان کو جیسے اپنا ہی بیٹھی تھی۔ ان لوگوں سے دور جانے کا وہ خود بھی اب تصور نہیں کر سکتی تھی۔ "

مگر یہ سب کیسے ہو گا"۔"

وہ اپنے آپ سے تمام سوال جواب کر رہی تھی۔ وہ جانتی تھی اس محبت کی تپش سمیر کے دل تک پہنچ چکی ہے مگر وہ لڑکا ہو کر بھی جانے کیوں اظہار نہیں کر پا رہا تو میں پہل کر کے خود کو بے مول کیوں کروں؟۔ لڑکی تو نازک آبگینے جیسی ہوتی ہے ،اس میں ذرا سی بھی شک و شبہے یا بے وقعتی کی ٹھیس اسے کوڑیوں کے مول سستا کر سکتی ہے اور ایک مڈل کلاس لڑکی کے پاس اپنی عزت انا اور وقار کے سوا ہوتا ہی کیا ہے آخر جسکے بل بوتے پر وہ ساری دنیا فتح کرنے چل پڑے۔

"کاش کہ بیلا اس ادھورے جملے کو مکمل کر دیتی۔ میں تو کب سے خود بھی یہ سننے کو منتظر ہوں۔ میں بھی کب تک بے نیازی کا خول چڑھا کر خود کو اور ان سب کو دھوکہ دیتی رہوں گی" وہ خود ہی بلند آواز میں سوچنے لگی تو گڑبڑا کر خاموش ہو گئی اور دعا مانگنے لگی کہ کسی اور نے نہ سن لیا ہو۔

"اگر اس نے ابھی بھی اظہار نہیں کیا تو وہ مجھے کھو دے گا۔ کون اسے یہ بات جا کر بتائے گا کہ اگر آج وہ مجھ سے تھوڑا کم پڑھا لکھا ہے تو اس سے کیا فرق پڑتا ھے۔ اسکے پاس بزنس کا تجربہ تو مجھ سے ذیادہ ہے اور پھر وہ بعد میں بھی تو مزید پڑھ سکتا ھے۔ وہ کیوں خود کو مجھ سے کمتر سمجھتا ہے جبکہ باہر کی دنیا میں اتنی اچھی طرح مقابلہ کر رہا ھے۔ میں آخر اسکو کیسے بتاؤں وہ میرے لئے کتنا اہم ہو چکا ہے ۔" یہی سب سوچتے سوچتے اسکی آنکھ لگ گئی۔

*****************************

دوسری طرف سمیر بھی اسی کشمکش میں مبتلا تھا۔ اسے بہت احساس کمتری تھا کہ وہ اس سے ذیادہ پڑھی لکھی اور سمجھدار ہے۔ پھر اس کی کمزوری سے بھی واقف ھے۔

"میں بھی کتنا پاگل ہوں مجھے بھی پوری دنیا میں کوئی اور رازدار نہ ملا تھا جو اپنی ہی محبت کو اپنی کمزوری بتا بیٹھا وہ اپنی بےوقوفی پر خود اپنے آپ کو کوسنے لگا۔۔"

مگر دل میں اسے بھی یقین سا تھا کہ روشی اسکے لئے اپنے دل میں کوئی نہ کوئی نرم گوشہ ضرور رکھتی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ اسکی ذات میں اتنی دلچسپی کیوں لیتی؟۔ اسے آگے پڑھنے پر مجبور کیوں کرتی؟ اور سب سے بڑی بات بہت پر اعتماد ہونے کے بعد بھی اسے دیکھ کر ہمیشہ نظریں کیوں چرا لیتی ہے؟

""اگر وہ مجھ سے شادی کر لے تو زندگی کتنی خوشگوار اور حسین ہو جائے گی اور بیلا کی تو وہ ہے بھی پکی سہیلی۔ ہمارے گھر میں کبھی عام گھروں کی طرح نند بھابھی کے لڑائی جھگڑے بھی نہیں ہوں گے"۔

ان دونوں کو اپنے تصور میں بلیوں کی طرح لڑتا دیکھ کر وہ بے اختیار مسکرانے لگا۔۔۔۔۔۔۔

ا"ٓہممم ............کس بات پر اتنا مسکرایا جا رہا ھے بھائی۔ "

بیلا نے اچانک سامنے آ کر اسکی چوری پکڑ لی تو وہ بری طرح جھنپ گیا۔

مجھے لگ رہا ھے کوئی بہت خوشگوار خیال ٓا رہا ہے دل میں اور بہت خوبصورت بھی بالکل روشی کی طرح"۔

"نہیں نہیں وہ میں تو کام کے بارے میں سوچ رہا تھا"

"کمال ہے۔۔! کام کے بارے میں سوچ کر اتنا مسکراتے پہلی بار دیکھا ہے کسی کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کام کا نام کہیں ر سے تو شروع نہیں ہوتا"

اس بات پر سمیر گڑبڑا گیا۔

اب آپ مزید میری آنکھوں میں دھول نہیں جھونک سکتے۔ مجھے سب علم ہو چکا ہے بلکہ مجھے تو آپکو شکریہ کہنا تھا جو آپ میرے بچپن کا ایک خواب پوراکرنے والے ہیں "

بیلا شرارت سے مسکرائی ـ

*****************************

"زندگی کی رفتار کبھی کبھی بہت تیز ہو جاتی ہے۔ بیلانے یونیورسٹی کے سٹاف لاؤنج میں بیٹھے ہوئے سوچا۔"

بھلا اس نے کہاں سوچا تھا کہ رزلٹ آنے سے پہلے ہی اسے جاب کی آفر ہو جائے گی۔ مسز صبا الطاف کے پی ایچ ڈی کے لئے جانے کی وجہ سے جگہ خالی ہو گئی تھی۔ ہیڈ آف دا ڈیپارٹمنٹ نے اسے فون کرکے بلایا تھا اور اب اسے لیکچرر کے طور پر کام کرتے ایک سال ہو گیا تھا۔ رزلٹ آ چکا تھا اور حسب توقع اس نے ٹاپ کیا تھا۔ جلد ہی اسے پی ایچ ڈی کیلئے سکالر شپ ملنے والا تھا۔

"آج تو گھر جلدی جانا تھا۔" وہ جلدی جلدی اپنی چیزیں سمیٹ کر اٹھی۔

سمیر نے کل رات ہی تو اس سے بات کی تھی کہ کچھ لوگ آنا چاہ رہے ہیں اسکے رشتے کے سلسلے میں۔

"بیلا تم تین سالوں سے یونیورسٹی جا رہی ہو۔۔۔۔اپنا اچھا برا سمجھتی ہو۔ اگر تمھاری اپنی پسند ہو کوئی تو بتا دو۔"سمیر نے کہا تھا۔

"بھائی یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ۔ اول تو ایسا کچھ ہے ہی نہیں اور کیا آپ بابا کی بات بھول گئے کہ انہوں نے یونیورسٹی کے داخلے کے وقت کیا کہا تھا۔"

"ہاں ٹھیک ہے مگر اب میں تم سے کہہ رہا ہوں کہ تم باشعور ہو اپنا برا بھلا خود سمجھ سکتی ہو تو تمھاری رائے کیوں نا لی جائے۔ رہی بات بابا کی تو یہ بات میں نے انہیں بھی سمجھا دی ہے۔"

بیلا حیران ہو کر بھائی کی شکل دیکھتی رہی۔

"بابا کو بھی تم پر اعتماد ہے اور وہ بھی تمھاری رائے جاننا چاہتے ہیں۔ اور اگر تمھاری کوئی پسند نہیں تو پھر ہمیں اجازت دو کہ ہم اپنی پسند سے تمھارا رشتہ طے کر دیں۔"

"ارے اتنی جلدی کیا ہے آپ لوگوں کو۔۔۔ابھی تو میں نے پی ایچ ڈی کرنی ہے۔۔۔۔اور۔۔۔۔"

"ہاں پی ایچ ڈی کی ہی وجہ سے تو ہم شادی جلدی کرنا چاہتے ہیں تاکہ تم اپنے شوہر کے ساتھ ہی جاؤ۔۔۔" سمیر نے بڑے آرام سے مستقبل کی منصوبہ بندی کر دی اسکے لئے۔

بیلا کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ " بھائی آپ بھی ناں۔۔۔۔"

"یار تم جاؤ گی تو کچھ ہمارا بھی کام بنے گا۔۔۔ ورنہ وہ خاتون بلند ارادہ اور محترمہ عظیم و حوصلہ و فولاد و آہن ڈگریوں پر ڈگریاں لیتی جائے گی اور میں بیچارہ اسکی ڈگریوں کے برابر آنے کے چکر میں مزید گنجا ہو جاؤں گا۔" سمیر نے مسخرے پن سے سر پر ہاتھ پھیرا۔

"اچھا جی تو یہ بات ہے۔۔۔۔"

"ہا ں جی یہی بات ہے۔۔۔۔"

"پھر بابا کو کہہ دوں کہ جو انکی مرضی۔۔۔۔"

"جی۔۔۔۔" بیلا کو ایک دم احساس ہوا کہ وہ بہت بے تکلفی سے بھائی اپنی شادی پر بات چیت کر رہی ہے۔

"پھر بھائی آپ روشی کے لئے بابا سے بات کریں گے؟" بیلا نے بات بدلتے ہوئے کہا۔

"کہہ تو دوں مگر اب اس نے لاء کالج میں داخلہ لے لیا ہے اور ساتھ میں اخبار میں بھی کام کر رہی ہے۔" سمیر پر سوچ اندز میں بولا۔

"تو پھر بھائی وہ تو اسی طرح پڑھتی ہی رہے گی، خالہ تو اسکے لئے پھر سے رشتے دیکھ رہی ہیں۔۔۔۔یہ نا ہو کہ۔۔۔۔۔"وہ بھائی کی شکل دیکھ کر ایک دم خاموش ہو گئی۔

"کچھ نہیں ہو گا۔۔۔۔ بابا تو پہلے ہی اسے بہو بنانے کے خواب دیکھ رہے ہیں، شاید مجھے کہنے کی ضرورت ہی نا پڑے۔۔۔۔۔" سمیر کی آنکھوں میں کچھ پا لینے کی چمک تھی۔ جب سے اسکا کمپیوٹر کا کاروبار کامیاب ہوا تھا اسکے انداز ہی بدل گئے تھے۔

سمیر اسکے سر پر ہاتھ رکھ کر کمرے سے باہر چلا گیا۔

"ایک منٹ۔۔۔۔ یہ میں نے کیا کیا۔" بیلا نے خود کو کہا۔

"کیا تمھیں ایک پل کو بھی اسکا خیال نا آیا۔"

"پھر کیا۔۔۔۔ اگر وہ قسمت میں ہوتا تو مل جاتا۔۔۔۔آخر وہ کس بات کے انتظار میں تھا اتنے عرصے سے۔۔۔اب تو اسکی شکل دیکھے بھی مدت ہو گئی۔۔۔۔یہ تو ایک دن ہونا ہی تھا۔" پیچھے جب وہ چچا کی طرف گئی تھی تو شام تک رکنے کے باوجود اس سے ملاقات نہیں ہو سکی تھی۔ اس نے سر جھٹک کر سونے کی کوشش کی تھی۔

"اور آج وہ لوگ آ رہے ہیں۔۔۔۔" اس نے رکشے میں بیٹھتے ہوئے سوچا۔

صبح سمیر نے اسے جلدی آنے کو کہا تھا کیونکہ خاص مہمان آ رہے تھے۔

*****************************
گھر میں قدم رکھتے ہی وہ ٹھٹھک گئی۔ چچا چچی، زارا ماہا اور ماہا کا میاں جواد، سمیع بھائی تہنیت بھابھی، بڑے بھائی صفی اور فریدہ بھابھی سب صحن میں براجمان تھے۔

"یہ لوگ آج کہاں سے آ گئے۔۔۔۔" وہ کچھ حیران ہوتی ہوئی آگے بڑھی۔

بابا ان کے ساتھ باتوں میں مشغول تھے۔ وہ سب کو سلام کرکے چچا اور چچی کی جانب بڑھی۔

"جیتی رہو" چچا اور چچی ہمیشہ ہی پیار سے ملتے تھے مگر اس بار انداز میں کچھ خاص تھا۔بیلا حیران ہو کر سب سے مل کر اندر کی طرف بڑھی۔

"تھا جسکا انتظار وہ شاہکار آگیا۔" ستون کے ساتھ کھڑے صبیح نے گنگنانا اپنا فرض سمجھا۔

اس سے پہلے کہ بیلا کچھ کہتی کچن میں سے روہین نکل آئی۔ "چلئے جناب ، آپ لڑکے والوں کے ساتھ جاکر بیٹھیں۔۔۔اب آپکا داخلہ یہاں بند ہے۔" روہین نے صبیح کو آنکھیں دیکھائیں۔

بیلا نے اندر سے آتے سمیر کو دیکھا جو اسے حیران پریشان دیکھ کر ہنس رہا تھا۔

"اُف یہ بھائی بھی ناں۔۔۔۔" پتا نہیں آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے یا ۔۔۔۔

وہ سمیر کو ایک طرف دھکیلتی ہوئی اندر چلی گئی اور سمیر ارے ارے ہی کرتا رہ گیا۔

"دیکھا تمھارے سرپرائز کے چکر نے میری بہن کو ناراض کر دیا۔۔۔۔" سمیر بیلا کو سنانے کیلئے اونچی آواز میں بولا۔

وہ کمرے میں داخل ہوئی تو سامنے روشی زرق برق کپڑے پھلائے کھڑی تھی۔

"اچھا تو تم بھی ان سب کے ساتھ شامل تھیں۔"

"ارے ارے مجھے کہاں بیچ میں گھسیٹ رہی ہو۔۔۔۔مجھے تو سمیر نے فون کرکے دفترسے بلایا ہے۔"

"سچ کہہ رہی ہو۔۔۔۔" اس نے مشکوک نظروں سے اسکی طرف دیکھا۔

"اور نہیں تو کیا۔۔۔بلکہ میں تو تم سے ناراض ہو نے والی تھی مگر انہوں نے کہا کہ تمھیں اس بارے میں کچھ۔۔۔۔۔"

"ہائیں۔۔۔۔ یہ انہوں کنہوں کی بات ہو رہی ہے" بیلا کو اپنی بھول گئی۔

"باز آ جاؤ بیلی۔۔۔۔" روشی نے اسے آنکھیں دیکھائیں "اور جلدی سے تیار ہو جاؤ ۔۔۔۔تمھارے سسرال والے رسم کر کے جانا چاہتے ہیں۔۔۔یہ سب بھی وہی لائے ہیں۔"

"مگر۔۔۔۔"

"اگر مگر کچھ نہیں۔۔۔اللہ کا شکر ادا کرو جو چاہا پا لیا۔"بیلا کی آنکھیں ڈبڈبائیں تو روشی نے اسے پیار سے لپٹا لیا۔

********************
" اف بیلا جلدی کرو۔۔۔۔ یہ بابا جان بھی نا۔۔۔ ارے ابھی تک تمھارے بال گیلے ہیں۔۔۔۔ اف روہین تم زارا اور ماہا کو بلا لاؤ۔۔۔۔"۔

"ارے کیا ہوا ہے۔۔۔۔کچھ مجھے بھی تو بتاؤ۔" بیلا روشی کو پریشان دیکھ کر گھبرا گئی۔

"ارے کچھ نہیں ہوا، بس یہ میرے بابا کا نیا شوشہ۔۔۔۔ خلیل چچا نے بابا کو مشورے کے لئے بلایا تھا کہ ہاں کی جائے تو آج منگنی ہو یا پھر کچھ اور وقت مانگا جائے اور پھر شادی چند ماہ بعد۔۔۔ بابا نے دو منٹ لگائے فیصلہ کرنے میں کہ نا ہاں نا منگنی۔۔۔ بس نکاح اور رخصتی کر دی جائے کیونکہ سنت یہی کہتی ہے۔۔۔۔لڑکا گھر کا ہے۔ پچھلے ستائیس سال سے آپ اسے دیکھ پرکھ رہے ہیں پھر دیر کاہے کی۔۔۔۔"۔

"یہی بات تو میں کہتا ہوں۔۔۔کوئی سنتا ہی نہیں۔" سمیر مسکراتا ہوا اندر داخل ہوا۔اسکا احساس کمتری اور سنجیدگی ناجانے کہاں رخصت ہو گئی تھی۔

روشی صرف اسکو گھور کر رہ گئی۔

" ایسے کیا گھور رہی ہو ۔۔۔ بابا کے کان میں ڈال آیا ہوں، شاید آدھے گھنٹے بعد ہمارا بھی نکاح ہو رہا ہو۔۔۔۔ اس لئے اب یہ تڑی شڑی کسی اور کو دینا۔" سمیر بہت چہک رہا تھا۔

شاید منزل پانے کا یقین ایسے ہی لوگوں کو بدل دیتا ہے۔ " روشی نے آسودگی سے سوچا۔" اسکو پر اعتماد دیکھنا اسکا بھی تو خواب تھا۔

" بیٹھو بیلا۔۔۔۔" سمیرنے بہن کو ہاتھ پکڑ کر اپنے برابر بیڈ پر بیٹھا لیا۔

چند لمحے وہ اسکا سر اپنے کندھے سے لگائے بیٹھا رہا۔ دونوں کی آنکھیں آبدیدہ تھیں۔ دونوں کو ماں کی کمی محسوس ہو رہی تھی۔

" بیلا اس فیصلے پر اعتراض تو نہیں۔۔۔۔"

"مگر بھائی اتنی جلدی کیوں۔۔۔۔"اس نے احتجاج کیا۔

" جلدی تو چچا نذیر نے مچائی ہے، شاید اس تھانے دارنی سے تنگ آ گئے ہیں۔" سمیر نے ماحول کو ہلکا پھلکا کرنے کی کوشش کی۔

"تفصیل تمھیں صبیح سے پتا چل جائے گی۔۔۔ بس میں تو تم سے اجازت لینے آیا ہوں کہ آج ہی نکاح کر دیا جائے۔۔۔کاغذات بنوانے میں بہت ٹائم لگتا ہے۔"

"جیسے آپ سب کی مرضی مگر۔۔۔۔۔" اسکی بات نا مکمل ہی رہ گئی۔ روہین، زارا، ماہا، اور تہنیت کمرے میں آ چکی تھیں۔

*****************************

"لو بھئی یہ تمھارا لیپ ٹاپ اور یہ تمھارا انٹر نیٹ کنیکشن بھی لگ گیا۔۔۔۔شکر الحمداللہ اب میں چین سے سو سکوں گا۔۔۔۔ ورنہ تو محترمہ ون اردو کے بغیر شاید فوت ہی ہو جاتیں۔"صبیح اسے چڑانے کو اونچا بول رہا تھا مگر یہاں کسے پرواہ تھی۔

"شکریہ بہت بہت بہت شکریہ۔۔۔۔" بیلا خوشی سے دمکتے چہرے کے ساتھ لیپ ٹاپ لیکر بیٹھ گئی۔

"ایمان سے ایسی ظالم بیوی کہیں نہیں دیکھی۔۔۔۔ میں تو تمھارے خلاف ون اردو پر مہم شروع کرنے لگا ہوں۔۔۔۔"

"اسکی ضرورت نہیں ۔۔۔یہاں پہلے ہی عورتوں کے ستائے ہوئے بہت ہیں بشمول خواتین ممبرز کے۔۔۔۔" بیلا نے کھنکتے لہجے میں جواب دیا۔ صبیح اسکے پر سکون چہرے کو دیکھ کر مسکرا دیا اور خود ٹی وی کا ریموٹ ہاتھ میں لیکر صوفے پر نیم دراز ہو گیا۔

بیلا لاگ آن ہوتے ہوئے پچھلے چند ماہ کے واقعات کے بارے میں سوچ رہی تھی۔ کیسے آناًفاناً سب کچھ ہوا تھا۔ صبیح تو اب بھی چچا نذیر کو دعائیں دیتا تھا جنکی عملی اور دینی سوچ نے دونوں گھروں کو بے جا اصراف سے بچا لیا تھا۔ وہی پیسہ اب انکے کام آ رہا تھا۔

بیلا کو یاد آ رہا تھا کہ نکاح کے بعد جو اس نے رونا شروع کیا تھا تو گھر پہنچنے سے لیکر اپنے کمرے تک اسکا رونا نہیں بند ہوا تھا۔ تہنیت بھابھی نے تنگ آ کر صبیح کو آواز دے تھی۔۔۔۔

"دیور جی سنبھالیں اپنی دلہن کو ۔۔۔۔ بھئی آپکے پاس اب لائسنس ہے انہیں چپ کروانے کا۔ اپنی مہارت کا کچھ مظاہرہ کریں۔۔۔میں تو چلی۔"

"السلام علیکم" یہ کہہ کر خاموشی چھا گئی تھی۔ بیلا جو مزید کسی جملے کیلئے خود پر قابو پانے میں بے حال ہو رہی تھی، اس خاموشی سے پریشان ہو گئی تھی۔

سر اٹھا کر دیکھا تو صبیح کمپیوٹر کے آگے کھڑا تھا، "میں نے سوچا ایک نیا تھریڈ بنا دوں، "بیلا کو شادی کی بہت بہت بہت بہت مبارک" ایسے ہی اعلانات ہوتے ہیں نا تمھارے ون اردو پر۔" صبیح بہت سنجیدگی سے کچھ ٹائپ کرنے لگا۔

"نہیںںںںں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔" بیلا کی نہیں بہت لمبی اور اونچی تھی۔ بہت تیزی سے وہ بیڈ سے اتر کر میز کی طرف آئی۔ اسے رونا دھونا سب بھول چکا تھا۔

صبیح کا قہقہہ بے ساختہ تھا۔ بیلا کو اپنی حماقت کا احساس کمپیوٹر کی سادہ سکرین دیکھ کر ہوا۔

"یار میری زندگی بہت آسان ہو گی۔۔۔۔ ادھر کوئی مسئلہ ہوا، اُدھر میں ون اردو کو درمیان میں لے آیا۔۔۔ مسئلہ دو منٹوں میں حل۔۔۔" وہ اسکا ہاتھ پکڑ کر بیڈ کی طرف لے آیا ۔

پھر وہ اسے بہت دیر تک اسے اپنے پچھلے دنوں کی مصروفیت کے بارے بتاتا رہا کہ کیسے اس نے بھی پی ایچ ڈی کیلئے اپلائی کیا تاکہ وہ دونوں ایک ساتھ جاسکیں۔ کیسے اس نے سمیع بھائی کو راضی کیا کہ وہ چند سالوں کیلئے امی بابا کے لئے یہاں کی برانچ میں ٹرانسفر کروا لیں یا پھر اپنے ساتھ لے جائیں۔

"اب تمھیں اکیلا بھیجنے کا بھی تو رسک نہیں لے سکتا تھا۔" صبیح اسے گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا۔

" یہ اکیلا بھیجنے کا مسئلہ تھا یا پھر پی ایچ ڈی کا۔۔۔۔ اتنے سالوں کے بعد کہیں اس لئے تو خیال نہیں آیا کہ میری ڈگریاں آپ سے ذیادہ ہوجائیں گی۔"بیلا بات کی تہہ تک پہنچ رہی تھی شاید۔۔۔۔

"ایک تو تم عورتیں بات کی کھال۔۔۔۔۔

"اوں ہوں۔۔۔۔بال کی کھال۔۔۔۔" بیلا نے ٹوکا۔

" وہی تو۔۔۔بات سمجھ میں آ گئی ہے نا"

"میری بات کا جوب نہیں دیا۔۔۔"

"تمھاری بات کا جواب یہ ہے کہ تمھارا دماغ ون اردو نے بہت خراب کر دیا ہے۔۔۔۔" صبیح کی آنکھوں میں چمک تھی۔

"کیا کیا ۔۔۔کیا کہا ون اردو کو۔۔۔۔"

"اللہ رحم کر میرے حال پر۔۔۔۔میری بیوی کو اس وقت مجھ سے ذیادہ ون اردو کی فکر ہے۔۔۔۔ کیا زمانہ آ گیا ہے۔۔۔۔"اس سے پہلے کہ صبیح کی بے وقت کی راگنی شروع ہو جاتی، بیلا نے بیساختہ اسکے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔

صبیح نے اسکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ جما دیا تھا۔

یہ سب باتیں یاد کرتے بیلا کو ایک دم کچھ خیال آیا "اف۔۔۔۔یعنی ہائیں۔۔۔۔" پچھلے کئی مہنے ایسے مصروفیت میں گزرے تھے کہ کسی بات کا ہوش نہیں رہا تھا۔ پہلے اسکا اچانک نکاح پھر ہفتے بعد سمیر اور روشائل کی شادی۔۔۔۔۔پھر اسکے بعد کاغذات، ویزے ،ٹکٹوں کا بندوبست کرنے اور آنے کی تیاریوں میں کچھ یاد نہیں رہا تھا اسے۔

اب اتنے دنوں بعد فرصت میں خیال آیا تو وہ ایک دم صبیح کی طرف پلٹی،"یاد ہے آپ نے شادی کی رات ون اردو کے متعلق کچھ کہا تھا"۔

"تو۔۔۔" صبیح سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔

"آپکو کیسے اتنی تفصیل سے پتا تھا اسکے بارے میں۔۔۔۔"بیلا کڑی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔

"مارے گئے۔۔۔۔" صبیح کراہا۔ اب کم از کم آدھے گھنٹے کی کلاس لگے ہی لگے۔ اس نے کشن اٹھا کر منہ پر رکھ لیا۔

****************

سمیر غسل خانے سے نکلا تو روشی کی پھرتیاں دیکھ کر ٹھنڈی سانس لیکر رہ گیا۔ایک بازو میں اس نے بیٹے کو دبوچا ہوا تھا اور دوسرے ہاتھ سے کمپیوٹر پر کچھ ٹائپ کر رہی تھی۔ جب ٹائپ کے درمیان وقفہ آیا تو پہلے اس نے بستر کی چادر سیدھی کی پھر برش بالوں میں پھیرنے لگی۔

"اے اکیسویں صدی کے فرزند ارجمند تیری عظمت کو سلام۔۔۔" یہ کہتے ہوئے سمیر نے ولید جو مزے سے ماں کے ساتھ لٹکا ہوا تھا ، کو روشی کے چنگل سے رہائی دلائی۔

" کچھ رحم کریں زوجہ محترمہ۔۔۔۔ اور ہم غریبوں کو بھی کوئی صدقہ خیرات دے دیں۔"

" پتا نہیں آپکو کتنے اہم موضوع پر بحث ہو رہی ہے۔"باہر جانے والےپاکستانی واپس جانا پسند نہیں کرتے"، جبکہ بیلا اور صبیح تو۔۔۔ ویسے بھی بیلا ابھی لاگ آف ہو جائے گی، پھر شام میں بمشکل بات ہو گی۔" وہ جملہ درمیان میں چھوڑ کر ہمیشہ کی طرح تاویلیں دلیلیں دینے لگی۔

"ہاں دنیا کے قائم رہنے کا دارومدار تم دونوں کی اس جھگڑا نما گفتگو پر ہی تو ہے۔۔۔۔"۔ سمیر نے ولید کو ہوا میں اچھالتے ہوئے کہا۔ڈیڑھ سال کا ولید خوشی سے قلقاریاں مار رہا تھا۔

"چلیں میں دیتی ہوں ناشتہ۔۔۔۔" روشائل لاگ آف ہو کر کمرے سے باہر نکل گئی۔

سمیر ولید کو اٹھا ئے اسکے پیچھے چل دیا۔مگر ابھی اسکے صبر کا امتحان باقی تھا۔

"سمیر بیٹا ذرا ادھر تو آنا۔۔۔۔۔ دیکھنا تو سکینر کو کیا ہوا۔" آجکل وہ پرانے ادبی نسخے سکین کرنے پر لگے ہوئے تھے۔

"سکینر بیچارا کہاں تک یہ ظلم برداشت کرے۔۔۔۔۔" سمیر نے جل کر منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔ روشی کو ہنسی آ گئی۔

"روشی بیٹا نذیر بھائی سے پوچھنا تو، کیا انہیں کتاب کا لنک مل گیا۔۔۔۔میں نے کل ساری سکین کر دی تھی۔" سمیر نے بے بسی سے اپنی گود میں چڑھے ولید کو دیکھا۔

ولید پہلے باپ ، پھر ماں ، اور آخر میں کمرے میں بیٹھے دادا کو دیکھ کر کھکھلایا۔روشی مطمئن سی کچن کی جانب چل پڑی۔ آج اتوار تھا، تھوڑی دیر میں روہین اپنے شوہر سمیت موجود ہونی تھی۔ بابا اور بابا کا بحث و مباحثے کا دور چلنا تھا۔ چچا جان کی طرف سے بھی سبکے آنے کا ارادہ تھا۔ ایسے میں امی اور چچی جان نے ملکر سب لڑکیوں کے سگھڑاپے پر نقطہ چینیاں کرنی تھی۔ اس نے اور تہنیت نے کچن میں گھس کر ہنسنا تھا اپنی اپنی جاب کے مسائل پر گپیں لگانی تھیں۔

"بیلا میں تمھیں بہت یاد کرتی ہوں۔۔۔۔بس اب آ جاؤ۔" روشی نے فرج میں سے سامان نکالتے ہوئے بیلا کو شدت سے یاد کیا۔

************

روشائل نے گردن موڑ کر اپنے ساتھ سوتے سمیر اور پھر بے بی کاٹ میں سوئے ولید پر ایک نظر ڈالی۔ جب دنوں کی ہموار سانسیں دیکھ کر اسکو تسلی ہو گئی تو وہ خاموشی سے باہر نکل آئی۔ سمیر نے آنکھیں کھول کر اسے جاتے دیکھا پھر مسکرا کر کروٹ بدل کر سوتا بن گیا۔

"سودا مہنگا نہیں ہے ۔۔۔۔ بھلا عورت کو کیا چاہئے؟ یہ یقین ہی نا کہ اسکا ساتھی اسکو سمجھتا ہے، اس پر اعتماد کرتا ہے، اور اسکی خوشی میں خوش ہے!۔۔۔۔ جواب میں وہ اپنی وفا ، محبت، محنت ، لگن سب اپنے گھر کے نام کر دیتی ہے۔۔۔۔ پھر اگر عورت روشائل جیسی پارس ہو جو چھوتے ہی پتھر کو سونا بنا دے تو پھر اسے میں اپنی خوش قسمتی نا سمجھوں تو اور کیا۔"

سمیر نے آسودگی سے سر تکیے پر ٹکا دیا۔

*************

روشی کچھ دیر بیٹھی کچھ سوچتی رہی۔۔۔۔پھر اسے نے ٹائپ کرنا شروع کیا۔۔۔۔

ہم نے سیکھا نہیں ہے ہارنا

"سفر پر تو سب ہی نکلتے ہیں مگر منزل کے ملنے کی کوئی ضمانت تو نہیں۔ کیا گُر ہے۔۔۔ کیا فارمولا ہے کہ ایک منزل پا جاتا ہے اور دوسرا زاد راہ کے ساتھ ساتھ نشان منزل بھی کھو بیٹھتا ہے؟؟؟

آج سے تقریباً آٹھ سال پہلے میں نے اور بیلا نے عہد کیا تھا کہ ہم اپنی زندگی کو بدل لیں گے، اسے سنوار دیں گے۔ بہت اونچی سوچ تھی ، بہت بلند آدرش تھے! اور جب ہم یہ سب سوچ رہی تھیں تو ہم دونوں لکڑی والے چولہے کے آگے دسمبر کی کڑی سردی میں باہر صحن میں بیٹھیں تھیں۔۔۔۔۔کیوں؟

کیونکہ گیس کی لوڈ شیڈنگ ہوتے ہوتے تقریباً گیس بند ہو گئی تھی۔ رمضان کے دن تھے اور سحری کا ٹائم۔۔۔۔ ہمارے گھر میں لکڑی کا چولہا تھا اور بیلا کو لکڑی کے چولہے میں آگ جلانا نہیں آتی تھی۔ہماری آنکھیں دھوئیں سے بھر چکی تھی اور وقت تھوڑا رہ گیا تھا۔ بیلا نے اس وقت کہا تھا، یار یہ ہم اکیسویں صدی میں رہ رہے ہیں۔۔۔۔کیا دیا اس ملک کو ہم نے ۔۔۔اس نے کسی پر الزام نہیں لگایا اور نا ہی کسی پر انگلی اٹھائی تھی۔ میں حیران ہوکر اپنی اس کامنی سی بیوقوف دوست کو دیکھنے لگ گئی جو بے خبری میں بڑی گہری بات کر گئی تھی۔

میں یہ سب کچھ بدل دینا چاہتی ہوں ، بدل دوں گی۔۔۔۔ اس نے جوش سے کہا تھا۔ میرے سامنے وہ ایسے ہی اعتماد سے بولتی تھی۔ باقی سب کے سامنے اسکی آواز لرزتی تھی اور آنکھیں پانیوں سے لبریز ہو جاتی تھیں۔

"ہاں ہم اس سب کو بدل دیں گے ان شاء اللہ " میں نے اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھا تھا، "اگر پہلے ہم چولہا جلانے میں کامیاب ہو گئے اور امی کی جوتیوں سے بچ گئے۔"میں نے مسخرے پن سے اسکی بات کا جواب دیا تھا۔

"تم میری بات کو مذاق میں لے رہی ہو" اس نے مجھے سنجیدگی سے کہا تھا۔ "سنو روشی بات تو ایک موقع ، ایک ساعت کی ہے نا، اس ساعت کی جب میرے دل کے ان دیکھی تار دعاؤں کو وہاں آسمان کی وسعتوں تک لے جا رہی ہوتی ہے۔۔۔بس تب کہیں وہ اللہ کن کہہ دیتا ہے۔۔۔۔ پھر سب کچھ ہو جاتا ہے۔۔۔۔ہار جیت میں بدل جاتی ہے۔۔۔۔ پھر کوئی کچھ۔۔۔۔"

"ارے لڑکیو کیا بنا۔۔۔۔۔" سمیر کی آواز دیوار پار سے آئی تھی۔

اس صبح میں فجر کی نماز کے بعد بہت دیر ساکت بیٹھی بیلا کی باتوں کے متعلق سوچتی رہی تھی۔ "اچھا واقعی ایک کن کی ہی دیر ہے تو پھر۔۔۔۔پھر دیر تو نا ہوئی۔ اے اللہ کیا میرے دل کی تار تجھ تک نہیں پہنچ پاتی۔۔۔۔ کیا ہم سب کے دل تک تیری رسائی نہیں ہے کیا؟ کیوں ہیں پھر یہ آزمائشیں۔۔۔۔" میرے شکوے شکایات کا دفتر کھل گیا تھا کیونکہ انہی دنوں بابا کو دوسرا دل کا دورہ پڑا تھا۔ملک کے حالات ابتر ہوتے جا رہے تھے۔ ارد گرد ہر طرف مایوسی پھیلتی جارہی تھی۔ ایسے میں میرے ذہن پر بھی کہر کی چادر تننے لگی تھی۔

"ایک منٹ ۔۔۔۔یہ بیلا کیوں کوئی شکوہ نہیں کرتی۔۔۔ اکیلے میں روتی ہے مگر اللہ سے اسے اتنی زیادہ امید کیوں ہے؟ شاید اسے اپنی نجات کا وسیلہ پتا ہے ، شاید وہ اپنے جنت کے راستے کو جان گئی ہے۔"

اس دن میں نے جانا تھا کہ لکڑی کے چولہے پر روٹیاں رو دھو کر اور زمانے سے لیکر حکومت کو کوس کر بھی بنائی جا سکتی ہیں یا پھر آنے والے وقت کیلئے خوش گمان ہو کر بھی۔

اسی دن سے میں نے اپنا ہر عمل بدل لیاتھا۔ اس دن میں نے سوچ لیا تھا کہ اب میں کبھی نہیں ہاروں گی۔۔۔کبھی نہیں شکوہ کروں گی۔ میں ہار جیسے لفظ کو اپنی زندگی سے نکال پھینکوں گی۔ مگر یہ سب کہنا جتنا آسان تھا، کرنا اتنا ہی مشکل۔

بیلا جیسے لوگ تو بندوں سے مایوس ہوکر "ہائیر اتھارٹی" سےبراہ راست رابطے میں رہتے ہیں اور وہ تو اپنے اسی یقین کی بنا پر منزل پر پہنچ گئی ، مگر مجھے تو جستجو کرنی تھی۔ یقین کا سفر آسان اور جستجو کا پر خار ہوتا ہے ، یہ مجھے دیر سے پتا چلا!

میں منزل تک پہنچنے کے لئے بہت بار رکی، بہت بار تھک کر بیٹھ گئی مگر اللہ کا احسان کہ گری کبھی نہیں۔پھر ایسے میں میری راہگزر پر ایک ایسا شخص آ گیا جسے قدم قدم پر پر اپنی راہ کھوٹی کرنے کی عادت تھی، باربار گرنے کا شوق تھا۔۔۔۔ سمیر۔۔۔۔ میرا سب سے بڑا امتحان!

کئی بار دل میں خیال آیا کہ راہ بدل لوں، دامن بچا لوں مگر اس نے تو شاید میرے قدموں کے نشان سے ہی اپنی منزل پانی تھی۔ جب پلٹ کر دیکھتی ، وہ میرے پیچھے ہوتا۔۔۔۔۔ اب بندہ کب تک دامن بچائے۔اب سوچتی ہوں شاید اسکو منزل تک پہنچانے کیلئے میرے رستے آسان ہوتے چلے گئے!!!

میں چند قدم رکی تو وہ میرے برابر آ گیا اور ہم منزل کی طرف گامزن ہو گئے۔ دیر تو ہوئی مگر سفر شوق تو ایسا ہی ہوتا ہے!"

****

"ہوں میرا خیال ہے اتنا ہی کافی ہے،۔۔۔اب بلاگ میں پوسٹ کر دیتی ہوں۔"

"ارے محترمہ وکیل صاحبہ۔۔۔۔ یہ آپکا سپوت میرے دلائل ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال رہا ہے۔۔۔۔ اگر "ون اُردو" کا مقدمہ طویل ختم ہو گیا ہو تو آپ جناب بھی آرام فرما لیں، صبح بیلا صبیح کو لینے ائیر پورٹ بھی جانا ہے۔۔۔۔۔"

روشی نے گھبرا کر بابا جان کے دروازے کی طرف دیکھا پھر گھڑی کی طرف۔

"اُف رات کے تین بج گئے، پتا ہی نہیں چلا۔۔۔۔ یہ بندہ تو ہمسائیوں کو بھی جگا کر رہے گا اور امی سے بھی صبح ڈانٹ پڑے گی کہ رات سمیر کیوں۔۔۔۔۔" وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ اپنے میاں کو دینے کو خاموش رہنے کی دلیلیں سوچتی ہوئی کمرے کی طرف لپکی۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد

************