008 - تبصرہ از لبنٰی علی

السلام علیکم۔ ۔ ۔ !

سب سے پہلے مدیرہ جی مونا کا عرض حال پڑھا اور متاثر ہوئے بنا نہیں رہ پائی اور سوچا شاید ان سب کے ساتھ رہ رہ کر میں بھی کبھی ایسا کچھ لکھ پاؤں۔
اس کے بعد سورہ نساء کی آیت اور اس کا ترجمہ پڑھا تو ایک پل کے لیے سوچ میں پڑ گئی۔ اور دوپہر کو اپنے انہوں کی کہی ہوئی بات یاد آ گئی کہ "ہمیں سب سے پہلے اپنے اللہ کے ساتھ دیانت دار ہونا پڑے گا۔۔۔۔ ہم دن میں پانچ وقت جس عجلت کے ساتھ بس جُھکنے اور کھڑے کو ہونے کو نماز کہتے ہیں۔ وہ تو کوئی دیانت داری نہیں۔" خیر کہتے ہیں اچھی باتوں کو بار بار پڑھنا چاہیے ہر بار وہ کوئی نا کوئی نشان ہمارے اندر چھوڑ جاتی۔۔۔۔ خیر جس نے بھی یہ آیت میگ میں ڈالی اس کو دل ہی دل میں جزاک اللہ کہا۔ پھر حدیث نبوی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم پڑھی اور ایک اور بات کی یاد دہانی اس میں بھی کرائی گئی جو کہ ایک اٹل حقیقت ہے۔
پھر حمد باری تعالٰی اور نعت پڑھ کر کافی متاثر ہوئی اور اس کے بعد شاعر کا نام دیکھ سوچ میں پڑ گئی "فرید ندوی" یہ کون صاحب ہیں۔؟۔ ۔ خیر شاعری کی مجھے کوئی سدھ بدھ نہیں تو سوچا ہوں گے کوئی شاعری سیکشن کے ممبر۔۔۔۔ بہرحال جو بھی ہے کافی اچھا لکھا ہے فرید ندوی صاحب نے۔۔
پھر اسلامی سیکشن مییں سلمان سلّو کی تحریر انسانیت کی عظمت پڑھی اور اس کو پڑھنے کے بعد پسند آنے نہ آنے کے بارے میں تو کچھ کہا بھی نہیں جا سکتا۔۔۔ کافی اچھے سے اس تحریر کو کیا سلمان نے۔۔۔ کیپ اٹ اپ سلمان۔۔۔!

اس کے بعد فریدون صاحب کی تحریر جس میں کافی لطیف طریقے سے ہمارے ملک کے بادشاہ کی تنقید کی گئی۔ پڑھ کر بجائے ہنسنے کے مُجھے افسردگی سی ہوئی۔
پھر مہر فاطمہ کی تحریر پڑھی اب اس میں کیا رائے دوں ہماری قوم کی حالت کے کیا کہنے مسائل کو حل کرنے کے بجائے اس کو توڑ پھوڑنے میں ماہر لوگ ہیں ہم۔۔۔۔ خیر بہت اچھا لکھا مہر نے۔

اس کے بعد کائنات سس کی تحریر، ہمیشہ کی طرح ان کی تحریر ایک مختلف رنگ لیے ہوئے تھی اور مجھے ان کے لکھنے کا انداز ہمیشہ سے اچھا لگا ہے جو کافی دلچسپ ہوتا ہے کہ قاری پڑھتے ہوئے بوریت محسوس نہیں کرتا۔۔۔ بہت خوب کائنات سس۔
نقارہ ۔ ۔ ۔ احسان بھائی کی تحریر اس کو پڑھ کر اپنے ملک کی حالت یاد آ گئی۔۔۔ ہمارے ملک میں تو اب ہر کوئی نقّارہ ہاتھ میں لیے ہوئے ہے اور شاید اس کو سُننے والا کوئی نہیں یا کبھی کبھی ایسا لگتا ہے سب اس نقّارے کی آواز سُننے کی عادی ہو گئے ہیں اس وجہ سے نقّارے کی آواز اپنا اثر کھو چکی ہے۔ اچھا لکھا احسان بھائی ہمیشہ کی طرح ایک مسئلے کی طرف آپ نے بخوبی نشاندہی کرائی۔
اس کے بعد کاظمی صاحب کی تحریر پڑھی ایک بار پڑھی تو لگا کسی مُستند لکھاری کی تحریر پڑھ رہی ہوں کچھ باتیں سمجھ میں نہیں آئیں تو دوبارہ پڑھی اور واہ گڈ !! کہتے ہوئے اگلے صفحے پر چلی گئی۔
اس کے بعد نون الف بھائی کی ترجمہ کیے ہوئے ناول کی باری آئی اور سچ مچ دل ہی دل میں مرعوب ہو گئی کسی انگریزی تحریر کا ترجمہ کرنا۔۔۔ اور اس تحریر کی اصل روح کو بھی قائم رکھنا کافی مشکل کام ہے اور نون الف بھائی اتنی محنت بغیر کسی صلے کے صرف ہمارے لیے کر رہے ہیں۔
اس کے بعد روشنی کا سلسلہ وار ناول "دنیا کا پُل صراط" پڑھا گو کہ موضوع کوئی نیا نہیں ہے۔ اس موضوع پر آج کل کافی کچھ لکھا جا رہا ہے۔ اس تحریر کو میں نے پہلے پڑھا تھا کچھ باتیں کافی ماورائی سی محسوس ہوئی تھی کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے اصلی زندگی میں اس طرح تو نہیں ہوتا۔ ۔ ۔ لیکن ابھی کچھ عرصہ پہلے یہاں ایک ایسا ہی کچھ واقعہ ہوا تو کچھ کچھ یقین سا آنے لگا ہے کہ جس کو ہدایت ملنی ہوتی ہے مل کر ہی رہتی ہے۔
اس کے بعد خواہشوں کے گرداب ناز حسین کی تحریر پڑھی اور معاشرے میں موجود لوگوں کی بے حسی اور کس طرح کسی کے دُکھ میں اپنا سُکھ تلاش کرنے والوں کے بارے میں پڑھ کر کراہیت سی محسوس ہوئی۔۔۔ ایک اچھی تحریر جو اپنے اندر کافی کچھ سموئے ہوئے تھی۔ ایک ہیپی اینڈنگ جس نے مایوسی کو ختم کرنے اور کسی کے توبہ کو قبول کرنے والی امید دلائی، کہ اللہ سے اگر سچّے دل سے توبہ کی جائے تو وہ ضرور سُنتا ہے۔
اس کے بعد وش سس کی تحریر جو کافی اچھے انداز میں آگے بڑھ رہی ہے ابھی تک کہانی پوری طرح سے شروع نہیں ہوئی ایسا ہی لگ رہا ہے آگے دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے پھر شاید باقاعدہ پراپر طریقے سے اس کی کہانی پر کچھ کہا جا سکے گا۔
اس کے بعد نیسمہ سس کی تحریر "بے انت خواہشیں"۔۔ کافی اچھا لکھا ہے ہمارے معاشرے میں بیٹوں کی خواہش کس طرح سے ماؤں کو اپنے جال میں جکڑے رکھتی ہیں اور اس شدّت پسندی کا کیا انجام ہوتا ہے بہت اچھی سے طرح اس کو بیان کیا گیا۔
"ٹھوکر" اس کہانی کا اینڈ پڑھ کر میں ہائیں ہائیں کرتی رہ گئی۔ بہن اپنے بھائی کی حالت زار کی معافی مانگنے، مانگنے میں تحریر کو ختم کیوں کردی گئی، حنا کے کوئی تاثرات نہیں بیان کیے گئے نا ہی بتایا گیا اس نے کیا کہا یا سوچا۔ یا آخر میں کوئی ایسی بات جو بتائی جاتی ہے کہ کسی کے ساتھ بُرا کرنے کا کیا انجام ہوتا ہے۔ یا کوئی نصیحت ٹائپ کچھ بات۔ کہانی اچھے تسلسل میں جاری تھی کافی خواتین کے ڈائجسٹ ٹائپ کی کہانی تھی لیکن اختتام ۔ ۔ ۔ ناٹ سو گڈ۔ کافی جلدی میں کر دیا گیا جو کافی نامکمّل سا لگا مُجھے۔
"خونی ریچھ" دلپسند بھائی کی تحریر۔ ۔ ۔ میرے خیال میں آج کل اس طرح کی تحاریر کا لکھنا سب سے ضروری ہیں ان لوگوں کے لیے جو ان خود کش حملہ کروانے والوں کو مسلمان سمجھتے ہیں، کس طرح ہمارے معصوم نوجوانوں کی برین واشنگ کی جا رہی ہے اور کس طرح ان کو استعمال کیا جا رہا ہے۔ بہت اچھا لکھا۔
"بکھرنے سے پہلے"۔۔ ۔ پڑھ کر ایسا لگا، کسی خواتین رسالے کو پڑھ رہی ہوں اور مزے کی بات ہے پڑھ کر مزہ بھی آیا۔۔۔ ویسے جس طرح سے آخر میں پرانے منگیتر کو جیلیسی میں مبتلا کرایا گیا وہ بات سب سے زیادہ مزے دار لگی۔
بلاعنوان تحریر پڑھ کر تو گویا میں پتا نہیں سمجھ میں نہیں آ رہا کیا کہوں۔ کافی اچھا لکھا ہے گوکہ کب سے اچھے اچھے کی گردان کر رہی ہوں کافی کوشش کر رہی ہوں کوئی واضح تنقید کر سکوں لیکن اس تحریر نے تو کوئی گنجائش ہی نہیں رکھی۔ اتنی اچھی اتنی مختصر پُر اثر تحریر ضرور جاننا چاہوں گی کس کے قلم سے نکلی ہے۔
اس کے بعد جرار کی تحریر "می اینڈ مائی ہنی مون" بہت اچھا بہت شگفتہ لگا، لیکن کچھ کچھ جگہوں پر جو ون اردو کے ممبران کے بارے میں، جو بریکٹ میں لکھا ہے وہ نہ بھی لکھا جاتا تو کام چل جاتا۔ ایک طرح سے یہ باہر پڑھنے والوں کو الجھن میں مبتلا کردے گا جو کہ ون اردو والوں کو نہیں جانتے۔
"ہم بنے مصنّفین" کافی شگفتہ سی تحریر جس کو پڑھتے ہوئے دانت اندر ہی نہیں ہو رہے تھے میرے، بدستور مسکراتی ہی جب تک اس کو پڑھتی رہی۔ کس طرح اپنے مصنّف بننے کے واقعات کو ایک شگفتہ سے پرائے میں ڈھالا، وہ کمال لگا لیکن ایک بار پھر وہی بات یہ تحریر بس ون اردو والوں کو ہی صحیح سے سمجھ میں آنے والی ہے باہر کسی اور کو نہیں۔

اس کے بعد غالب خستہ بھائی کا سفر نامہ پڑھا اور اب تک جتنی بھی تحاریر تھی ان میں اگر کسی کو نمبر ون قرار دیا جائے تو وہ یہی تحریر مُجھے لگی ان کو اپنی یہ تحریر فورم پر بھی پوسٹ کرنی چاہیے جو مجھ جیسے ممبران، جو مارے سستی کے میگ نہیں پڑھتے وہ بھی پڑھ سکے۔ اس کو پڑھتے ہوئے کبھی ہنستی کبھی افسردہ ہوتی کبھی ان کی بیان کرنے کے انداز پر واہ واہی کرتی بہت ہی اچھا نہایت ہی دلچسپ انداز میں لکھی گئی تحریر ہے۔
اس کے بعد شاعری سیکشن، آئی ٹی سیکشن، جو مجھے یقین تھا کہ پڑھنے کے باوجود بھی سمجھ میں نہیں آئیں گے اس کو آرام سے اسکیپ کر دیا۔
اب سائنس سیکشن میں سمارا کی تحریر بلیک ہول پڑھی۔ کافی جامع انداز میں ایک مختصر سی تحریر میں کافی معلومات مل گئی اس سے۔
اس کے بعد امان بھائی، ان کی تحاریر بھی کافی اچھے انداز میں لکھی گئی ہیں۔
اور درنایاب کی تحریر ایک کہانی کی صورت میں جانوروں کا حلال کرنے کا جو سائنٹفک ریزن بتائے گئے ہیں یہ طریقہ بہت اچھا لگا۔
باقی فاخرہ بتول کا انٹرویو جو کہ کافی دلچسپ تھا، اس کے بعد نور بانو ڈرامہ پر تبصرہ پڑھا۔ خیر ڈرامہ کا تو مُجھے نہیں معلوم کیونکہ میں نے دیکھا نہیں تبصرہ پڑھ کر پھر بھی مزہ آیا ایسا لگا مون کسی ناول کا پوسٹ مارٹم کر رہی ہے جو ہمیشہ کی طرح بہت مزے دار تھا۔

اس کے بعد خواتین سیکشن میں مزے مزے کی تراکیب پڑھی جو کافی اچھی ترکیب تھی، پہلی فرصت میں سوچا ان کو اپنی ڈائری میں سیو کر دوں گی اور اس کے بعد میری ہمت جواب دے گئی باقی بچوں کا سیکشن اور اسپورٹس سیکشن پڑھنے کی ہمّت نہ ہوئی اور اس کو بعد کے لئے ٹال دیا۔

وعلیکم السلام،
اتنی محنت سے اتنے طویل تبصرہ کے لیے شکریہ۔ آپ کی داد تمام مصنفین تک پہنچائی جا چکی ہے۔۔ اب میگزین میں ہی پڑھا کریں سب۔۔
آپ کی آمد کا شکریہ۔۔