009 - تبصرہ از نقش

تبصرہ : نقش۔ ۔

جون کا شمارہ اپنے آغاز سے اختتام پر محنت، ٹیم ورک، اور ماہرانہ نظم و ترتیب کی مثال ثابت ہوا۔
لکھنے والوں کی محنت اور ادبی معیار کے ساتھ ساتھ آنکھوں کو اپنی دلفریبی سے متاثر کرتا ہوا ہمارا میگ ان گرم دنوں میں ٹھنڈک کا احساس بن گیا۔ ۔ ۔
سورہ نساء، حدیث پاک(صلی اللہ علیہ وسلم) پڑھ کے فرید ندوی کی حمد ونعت پڑھی۔۔۔جو یقیناً قابلِ تعریف ہے۔
ادارے کی جانب سے فرقہ باطلہ یقیناً ایک انتہائی مفید تحریر تھی۔ ۔جو معلومات میں اضافے کا باعث تھی۔ جزاک اللہ۔ ۔بس تحریر کے شروع میں شامل حدیث کا ریفرنس ساتھ لکھا جاتا تو اچھا ہوتا۔ ۔اس کے علاوہ پرچے میں حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے نامِ مبارک کے ساتھ 'صلی اللہ علیہ و سلم' پرنٹ ہونے سے رہ گیا ہے۔ ۔کیا آپ اسے شامل کر سکتے ہیں۔ ۔
ادبی تحریر میں جہاں فریدون بھائی نے "اچھے برو" کہہ کر تحریر کا حسن بڑھایا وہاں مہر فاطمہ کی حساس اور حقیقت بیان کرتی تحریر نے اپنی سوچ میں تبدیلی پر اُکسایا۔۔ مہر کا ایک جملہ بہت سچی بات تھا کہ "ہم اپنی خواہشوں کو قربان نہیں کر سکتے" ۔۔۔جی یہ بات تو ہم نے اپنے دلوں میں سجا رکھی ہے اور پھر بھی ہم اپنے آپ کو فخریہ مسلمان کہتے ہیں۔
کائنات جی کا شعر۔۔۔ کہ اگرچہ مگرچہ کے استعمال کے ساتھ ہمدردی جیسے جذبے کو، ہمارے دلوں کو جھنجوڑتی تحریر نے بہت لُطف دیا۔
احسان سحر بھائی نے اپنے قلم سے انصاف کرتے ہوئے اپنے قلم سے تلوار کا کام لیا ہے اور گہرے طنز کو عمدہ لفظوں میں لپیٹ کر پیش کیا۔ احسان بھائی واہ۔۔۔گڈ۔۔۔۔
افسانوں میں روشنی۔۔۔ ایک ایک جملے نے کافی دیر تک اپنے اثر میں رکھا "بے لگام خواہشوں کا طوفان"۔۔ بہت خوب جملہ، جو ہے تو کڑوا، لیکن اپنے اندر جو گہرائی لئے ہے وہ اگر جانی جائے تو اصلاح کی طرف قدم اٹھتے ہیں۔۔۔ ماشاء اللہ بہت خوب روشنی۔۔۔
ناز حسین نے جس برائی کا ذکر اپنے افسانے خواہشوں کے گرداب میں کیا۔۔۔۔۔ اس سے اللہ پاک ہم سب کو پناہ میں رکھے۔۔۔آمین۔۔۔
وش، نیسمہ اور دلپسند سیّال کی تحریریں اچھی کوشش میں شمار کی جا سکتی ہیں۔۔۔۔ بکھرنے سے پہلے حرا قریشی ۔۔۔ما شاءاللہ سے کہانی پر گرفت اور لفظوں کی بنت کاری کی بناء پر چھا گئیں۔۔۔۔
جرار بھائی کی تحریر۔۔۔بہت پُر مزاح اور شگفتہ تحریر رہی۔۔۔ اس کے علاوہ فریدون بھائی۔۔۔ ماشاء اللہ کافی پاور فل اسٹائل۔۔۔ بہت عمدہ اندازِ تحریر اور دلچسپ تحریر کے ساتھ رسالے میں رنگ بھر گئے۔۔۔ تو غالب بھائی بھی ان سے پیچھے نہ رہے اور ان کے شانہ بشانہ اپنی تحریر سے میگ کو خوبصورت بنا گئے۔۔۔
سلمان سلّو کے حسّاس دل کی آواز "پشاور شہر کے پاس منار میں" کے مقطع نے غزل میں جان ڈال دی۔۔۔
ان سب رنگوں کے ساتھ راہنمائی اور معلومات سے مزیّن سائنس سیکشن اور بچوں کے سیکشن میں موجود تحریروں نے وہ رنگ جمایا، کہ اس شمارے کے اختتام کو خوبصورت کر دیا۔۔ ان میں شامل مونا جی، در نایاب، ناز، امان بھائی، اور سمارا جی کا کام واقعی قابلِ تعریف ہے۔۔۔
بحیثیت مجموعی ماہنامہ نے ایک معیاری پرچہ ہونے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔۔۔۔۔

السلام علیکم،
آپ کے تبصرے اور آپ کی آمد کا بہت شکریہ۔