011 - تبصرہ از لمحے حیات

السلام علیکم

ون اردو کا شمارہ نمبر تین بہت ترو تازہ انداز میں عرض حال سے شروع ہوا اور ہلکی پھلکی نصیحت کے ساتھ ایک اچھے تاثر کا آغاز ثابت ہوا۔
حمد و نعت دونوں بہت ایمان افروز تھیں۔ خاص طور پر حمد نے دل پر گہرا اثر چھوڑا۔ آیاتِ قرآنی اور احادیث کا انتخاب بھی بہت خوب رہا، غلطیوں کا احساس دلاتا ہوا اور مشکلات کا حل نکالتا ہوا۔ تصاویر کی صورت میں بھی احادیث کا انتخاب قابلِ ستائش تھا اور بہت خوب صورتی سے احادیث کی آرائش کی گئی۔ "فرقہ باطلہ اور ان کے عقائد" کا حوالہ جات کے ساتھ ہونا، مضمون کے ٹھوس ہونے کا ثبوت تھا۔

فریدون بھائی کا اندازِ بیان "ایک تھا بادشاہ" میں بھی اپنے عروج پر نظر آیا۔ طنز و مزاح میں بیداری کی کاوش نے خوب مزہ دیا۔
"ہمارے مسائل اور ہمارے رویے" کی صورت میں مہر فاطمہ کی تحریر پڑھنے کا اتفاق پہلی بار ہوا۔ پڑھتے وقت محسوس ہوا کہ اگر یہ میگ نہ پڑھتی تو ایک بہترین تحریر پڑھنے سے محروم رہ جاتی۔ رویے اور مسائل کا باہم تعلّق اور ان سے نکلنے والے نتائج کا بڑی خوبصورتی سے محاسبہ کیا گیا۔
"ہر سانس گرہ بار ہے" میں کائنات نے گردشِِ دوراں کی خوب منظر کشی کی۔ ساتھ ہی تحریر بھی مسلسل گردش ہی میں نظر آئی۔ بہت سے پہلوؤں پر ایک ساتھ روشنی ڈالی گئی۔

"نقارہ" میں موجودہ حالات کو ایک مختلف انداز میں پیش کیا گیا، بہ الفاظِ دیگر ایک اچھی کاوش کہا جا سکتا ہے۔ جبکہ کاظمی بھائی کی تحریر "واہ گڈ" بھی ایک مختلف تحریر تھی مگر کہیں کہیں تحریر نے اُلجھاؤ میں ڈالا۔

محسن حامد کے ناول
"THE RELUCTANT FUMDAMENTALIST"
کا ترجمہ پڑھا۔ ترجمہ اتنی مہارت سے کیا گیا تھا کہ ناول پڑھتے ہوئے کہیں بھی جھول محسوس نہیں ہوا۔ ساتھ ہی یہ بھی کہوں گی کہ ترجمے کے لئے ایک بہترین ناول کا انتخاب کیا گیا۔

"دنیا کا پل صراط" میں روشنی کے قلم نے حقیقت میں غور و فکر کی دعوت دی۔ بہت عمدہ اور جامع تحریر تھی۔

وش کی تحریر "وقت کی پکارِ" حِب الوطنی کے جذبوں سے پُر تھی۔ مگر عنوان کس سوچ کے ساتھ رکھا گیا اس کی وضاحت پہلی قسط سے نہ ہو سکی۔

"بے انت خواہشیں" ایک ایسی تحریر جس کو پڑھنے کے بعد بیان کے لئے الفاظ ختم ہو جاتے ہیں۔ معاشرے میں پائی جانے والی ایک ایسی سوچ کی عکاس، جس سے بہت کوشش کے بعد بھی پیچھا چُھڑانا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہوں گی کہ اتنی اچھی تحریر کے ساتھ تصویر کچھ مناسب نہیں تھی۔ کوئی اچھی اور پُر سوچ تصویر ہونی چاہیے تھی۔

"بلا عنوان" ایک بے حد کامیاب تحریر تھی۔

نظمیں سب ہی اچھی تھیں، مگر مُجھ کو وش کی نظم "محبت" زیادہ اچھی لگی۔ غزلیں بھی سب ایک سے بڑھ کر ایک تھیں۔

"سروے" اور "سوال آپ کے اور جواب ہمارے" دونوں سلسلے ہی بہت خوب تھے۔ پڑھ کر خوب مزہ آیا۔ میرے سوالات کے جوابات بھی بہت بہت مزے کے تھے، پڑھ کر خوب ہنسی۔

مکمّل طور پر ون اردو میگ کو اچھی اور ذہن و دل میں سوچ کے در وا کرتی ہوئی تفریح قرار دیا جا سکتا ہے۔ ویسے تو کوئی خاص کمی محسوس نہیں ہوئی، مگر کوئی ایسا ای میل ایڈرس بھی میگ میں دیا جانا چاہیے جس پر ون اردو سے باہر کے افراد بھی میل کر کے میگ پر اپنی رائے کا اظہار کر سکیں۔

وعلیکم السلام،
آپ کے تبصرے نے بھی چار چاند لگا دیے ،ماہنامہ میں۔۔۔ ای میل ایڈریس والی تجویز اچھی ہے۔ اسی طرح راہنمائی کرتی رہیے گا۔