امانت داری کی انوکھی مثال تحریر: نیسمہ

امانت داری کی انوکھی مثال
سنہری کرنیں از عبدالمالک مجاہد

ان کا نام مبارک تھا، وہ ایک باغ میں عرصہ سے بطور پہرے دار کام کرتے تھے۔ ایک دن اس باغ کا مالک اپنے چند مہمانوں کے ساتھ باغ میں آیا اور حکم دیا،مبارک! مہمان آئے ہیں‘ کچھ میٹھے انار توڑ کر لاؤ اور مہمانوں کی خدمت میں پیش کرو۔ وہ چند منٹوں میں انار توڑ کر لے آئے۔ مالک نے ایک انار توڑا‘ چکھا تو سخت کھٹّا تھا۔
دوسرا توڑا وہ بھی کھٹّا تھا۔ مبارک کو آواز دی۔ ہم نے تمہیں میٹھے انار لانے کو کہا تھا‘ تم کھٹّے توڑ لائے۔ وہ دوبارہ گئے اور انار لے آئے۔ مالک نے ان کو توڑا تو وہ بھی کھٹّے نکلے۔ مالک سخت ناراض ہوا۔ تم اتنے سالوں سے اس باغ میں کام کر رہے ہو۔ تمہیں آج تک کھٹّے اور میٹھے انار میں تمیز نہیں ہے۔۔

مبارک نے عرض کی" آقا! بلاشبہ میں کھٹّے اور میٹھے اناروں میں تمیز نہیں کر سکتا۔ میں نے آج تک اس باغ کا کوئی انار کھایا ہی نہیں ہے تو پھر کھٹّے اور میٹھے میں تمیز کیسی؟"

مالک نے جب ان کا جواب سنا تو سنّاٹے میں آ گیا۔ کہنے لگا؛
"مبارک تم نے کیوں نہیں کھائے؟"
مبارک بولے آپ نے باغ کی رکھوالی میرے سپرد کی تھی‘ اسکا پھل کھانے کی اجازت نہیں دی تھی۔"
باغ کے مالک نے جب ان کا جواب سنا تو نہایت حیران ہوا۔ مبارک کے تقوٰی اور امانت داری پر مہمان بھی ششدد رہ گئے۔۔
باغ کے مالک کی بیٹی جوان تھی اسے اس سے بڑھ کہ اور کوئی موزوں نہ لگا۔
اس نے مبارک سے کہا اگر میں تمہیں اپنا داماد بنا لوں تو تمہارا کیا خیال ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہود شادی کے لئے لڑکی کی مالداری کو ‘ عیسائی خوبصورتی کو اور اُمت محمدیہ کے لوگ تقوٰی اور امانتداری کو معیار ٹھہراتے ہیں۔۔

مالک نے ان کا جواب سنا‘ تو مزید متاثر ہوا۔ یوں باغ کے مالک کی بیٹی کی شادی مبارک سے ہوگئی۔ پھر اس مبارک جوڑے کو اللہ نے اپنی برکت سے نوازا۔ ان کے ہاں ایک بیٹا ہوا جس کا نام عبداللہ رکھا جو بڑے مشہور محدث ہوئے۔ دنیا آج ان کو امام عبداللہ بن مبارک کے نام سے جانتی ہے۔۔۔