001 - مکتوب ورجینیا:

امریکہ آپ سے ایک کلک کی دوری پر از نور العین ساحرہ

اس سلسلے کے تحت ہم آپ کو گھر بیٹھے باری، باری امریکہ کی تمام مشہور سٹیٹس دکھائیں گے اور امریکی طور طریقوں کے علاوہ یہاں کی معاشرت اور طرزِ حیات سے بھی متعارف کرواتے رہیں گے۔۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭ ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭ ٭٭٭٭٭

ہوش سنبھالتے ہی صبح و شام امریکہ کا اتنا نام سنا تھا کہ بنا دیکھے ہی اس سے دوسرے گھر جیسی انسیت سی محسوس ہونے لگی تھی۔ امریکہ سے آئی ہوئی تصویروں میں فلک بوس عمارتیں دیکھ کر اور آنے جانے والوں سے 'میموں' کے حسن کے قصیدے سُن سُن کر ہمارے ذہن میں اس خوابوں کی دُنیا کا جو تصوّر بنا، سو بنا۔۔۔ مگر اصل تباہی تو انگریزی فلموں کی لائی ہوئی تھی۔ پھر بھی اگر کہیں خواب دیکھنے میں کچھ تھوڑی بہت کسر رہ گئی تھی تو وہ لاہور کی امریکن لائبریری نے پوری کر دی تھی۔

ہمارا خیال تھا سپر پاور امریکہ زیادہ نہ سہی، تو کم سے کم طلسماتی دنیا سے کچھ ہی درجے کم پر تو ضرور رہا ہو گا۔ جنّت کا سا ماحول ہو گا اور کہیں کہیں شاید دودھ کی نہریں بھی بہتی نظر آ ہی جائیں۔ حوروں کے ہونے میں تو کچھ کلام ہی نہیں تھا کیونکہ ہمارے دل میں یہی تصور بن چکا تھا کہ شاید امریکیوں کی کسی خوبی سے خوش ہو کر انعام کے طور پر تمام خوبصورت لڑکیاں حوریں بنا کر اس خطّہ ارض پر اتار دی گئ ہیں۔

سخت سردی اور خزاں کے موسم میں جب ہمارا جہاز ڈیلاس واشنگٹن انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر لینڈ ہونے کی تیاری کر رہا تھا تو ہم نے بہت شوق شوق سے نیچے جھانکا۔ ہمارا خیال واثق تھا کہ نیچے ہیرے جواہرات کی بنی ہوئی سڑکیں نظر آ رہی ہوں گی اور سونے چاندی کی عمارات لشکارے مار مار کر آنکھوں کو خیرہ کر دیں گی۔ جانے اس چمک کو ٹھیک سے دیکھا بھی جائے گا یا نہیں۔۔ آنکھوں کو اس غیر معمولی چکاچوند سے بچانے کے لئے پہلے سے احتیاطاً کالا چشمہ بھی لگا لیا۔

اسکے علاوہ گمان غالب یہ بھی تھا کہ جہاز کے عین نیچے سنڈی کرافرڈ، مائیکل جیکسن، بروک فیلڈ، شکیرہ ، انجلینا جولی اور ریمبو وغیرہ وغیرہ بھی سڑکوں پر چلتے پھرتے نظر آ رہے ہوں گے اور ان ہی سڑکوں کے دونوں کناروں پر لائن میں وہ تمام کلب بنے ہوں گے جو ہر ہالی وڈ مووی میں موجود ہوتے ہیں۔۔

ائیر ہوسٹس سے اجازت لے کر خاص طور پر مین ڈور والی بڑی کھڑکی سے جھانکنے لگے۔ جہاں زمین پر تا حدِنظر پھیلے براؤن براؤن سوکھے ٹنڈمنڈ جنگلوں کے سوا کچھ بھی دکھائی نہ دے رہا تھا۔ یہ دیکھ کرذہن کو ایک جھٹکا سا لگا اور خوابوں کے سارے محل مسمار ہو گئے۔ اپنے سن گلاسز اتار کر ہاتھ میں پکڑے اور اپنا سر اچھی طرح کھڑکی سے چپکا کر نیچے دیکھا کہ شاید اب کچھ بہتر نظر آنے لگے کیونکہ امریکہ کا یہ لٹا پٹا روپ کسی ذی ہوش کے تصوّر میں تو نہیں آ سکتا تھا نہ ہی دیکھی گئی کسی امریکی فلم کے معیار پر پورا اترتا محسوس ہوتا تھا۔

اپنے خوابوں کی سر زمین کو غور غور سے دیکھنے کے چکر میں اپنا سر کھڑکی میں گھسوڑے شیشہ توڑنے کے قریب قریب ہی تھے جب ائیر ہوسٹس نے ہمیں وہاں سے اٹھا کر لینڈینگ کی وجہ سے اپنی سیٹ پر زبردستی باندھ کر بٹھا دیا۔

اب ہم نے اپنی چھوٹی سی کھڑکی سے دوبارہ دیکھا تو سوکھے ٹند منڈ درختوں کے بیچ بیچ میں سرمئی سانپ جیسی بل کھاتی سڑکیں اور اداسی میں ڈوبی چھوٹی بڑی جھیلیں ہر طرف پھیلی ہوئی نظر آ نے لگی تھیں۔ براؤن اور سوکھے درختوں کے جھنڈ میں عمارات البتہ ہنوز عنقاء تھیں۔

یہ ویرانی دیکھ کر دل عجیب مایوسی سے بھر گیا اور ایسا لگا جیسے یہ سب کسی غاروں کے زمانے کی فلم کی شوٹنگ کا سین ہو اور ابھی ان براؤن جنگلوں میں کہیں سے نیٹو امریکن "جھینگا لا لا ہو " گاتے اور نیزے چمکاتے نکل آئیں گے۔

یہ امریکہ نہیں ہو سکتا۔۔۔ دل نے سرگوشی کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر سے جھانکا کہ شاید وائٹ ہاوس ہی نظر آ جائے، تو دل کو یقین آئے۔ وائٹ ہاؤس تو کیا نظر آتا مگر اب کچھ عمارتوں کے خدوخال ضرور واضح ہونے لگے تھے۔ مگر یہ کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ تمام عمارتوں کی چھتیں شکل میں بالکل مری، ناران، کاغان وغیرہ جیسی ڈھلوان بنی ہوئی تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔بس اتنا فرق تھا کہ ان تمام چھتوں کا رنگ لال کی بجائے گندا، میلا اور بھورا سا تھا، اسی لئے درختوں میں نظر بھی نہیں آتا تھا۔

ہمیں بہت افسوس ہوا دیکھ کر کہ اتنے کروڑوں لوگوں میں کوئی ایک بھی باذوق کیوں نہ ہوا کہ جو اپنی چھت نیلی، پیلی لال پینٹ کر لیتا جو دور ہی سے الگ پہچانی جاتی اور خوبصورت بھی دکھائی دیتی۔

وہ تو ہمیں بعد میں معلوم ہوا کہ آپ اپنے ذاتی گھر کے بیرونی سائیڈ پر لگے کسی کیل کو بھی اپنی مرضی کے رنگ سے پینٹ نہیں کر سکتے، چھت تو بہت دور کی بات ہے۔ کچھ بھی کرنے سے پہلے کمیونٹی سے اجازت لینا بہت ضروری ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "جوکہ عموماً نہیں ملا کرتی"۔ آپ چند ایک وہی مخصوص گھسے پٹے ڈارک اور بورنگ رنگ و روغن استعمال کر سکتے ہیں جن کی اجازت کمیونٹی نے دے رکھی ہو۔

سب سے زیادہ جو بات حیران کر گئی وہ تھی کہ کہیں بھی کوئی ذی روح دکھائی نہیں دیتا تھا، سڑکوں کے کنارے بے شمار خوبصورت اور بلند عمارات تھیں۔ ارد گرد جنگل کھڑے تھے جن میں جھیلیں بھی موجود تھیں مگر سخت مقام حیرت تھا کہ کہیں بھی کوئی آدم زاد دکھائی نہیں دیتا تھا۔ ایسا لگتا تھا کسی خاموش جزیرے پر آ گئے ہیں جہاں وقت ٹھہرا ہوا ہے اور تمام لوگ کسی جادو کے زیر اثر سوئے ہوئے ہیں۔

پورا شہر انتہائی ویران اور سنسان پڑا تھا۔ بڑی بڑی صاف ستھری سڑکوں کے جال بچھے تھے جن پر ہزاروں گاڑیاں بہت امن و سکون سے اپنی اپنی لائن میں رواں دواں تھیں۔ نا کوئی ہارن کی آواز نہ کوئی دھواں اور نہ ہی بغیر سائلنسر کے کوئی گاڑی چل رہی تھی۔ حقیقی زندگی کی بجائے یہ سارا موحول کسی تصویر کی طرح جامد اور ساکت نظر آتا تھا۔ پاکستان سے دوری اور اس پر اتنی خاموشی اور سکوت نے ہمیں مکمل طور پر اس شعر کی عملی تصویر بنا دیا تھا ۔
؂دل تو اپنا اداس ہے ناصر
شہر کیوں سائیں سائیں کرتا ہے
یہ حیرت اس وقت دو چند ہوگئی جب ائیرپورٹ سے باہر نکلے تو تمام سڑکیں اور عمارات، شاپنگ مالز بھی باہر سے بالکل خالی ہی نظر آ رہے تھے۔ کہیں بھی کوئی انسان چلتا پھرتا نظر نہیں آتا تھا۔ خود سوچیں۔۔۔۔؟ لاہور سے آنے والوں کو یہ سب کتنا عجیب لگ رہا ہو گا۔ یہاں انسانوں کو دیکھنے کے لئے کسی بھی بلڈنگ کے اندر جانا ضروری ہے ورنہ باہر تو سوائے خاموش ٹریفک کے سیل رواں کے کچھ بھی نظر نہیں آتا۔

اس سے بھی زیادہ حیرت کی بات جو ائیرپورٹ پر نظر آئی تھی۔ وہ برفانی ہواؤں میں اکثر 'میموں' کے نا مناسب کپڑے تھے۔ ایسا لگتا تھا یہ ربڑ کی بنی ہوئی ایسی گڑیائیں ہیں جو موسم کی شدّت سے بے نیاز ہیں۔ ایک اور بات میری سمجھ میں آئی کہ اس معاملے میں یہ لوگ شاید " مینٹلی سک" ہیں ورنہ اتنی سخت سردی میں تو چار کوٹ بھی کم لگتے ہیں۔
ایک اور غلط فہمی دور کرنا بھی بہت ضروری ہے۔ بے شک یہاں رہنے والی تمام لڑکیاں بہت گوری اور سنہرے بالوں والی ہوتی ہیں مگر خوبصورت تو شاید چار سو میں سے ایک ہی ہوتی ہے۔
عجیب بے رونقی اور پھیکا شلجم ٹائپ ہوتی ہیں۔ اس بات پر خود دیکھے بغیر کسی کو یقین نہیں آئے گا۔ ان کو دیکھ کر ہی زندگی میں پہلی بار یہ معلوم ہوا کہ صرف گورا رنگ یا سنہری بال خوبصورتی کی ضمانت کبھی نہیں بن سکتے۔

ائیر پورٹ سے نکلتے وقت گھر والے ہمارے لئے خاص طور پرایک ایکسٹرا کوٹ اپنے ساتھ لائے تھے اور بہت بڑا احسان کیا تھا ورنہ یہ سچ ہے کہ برفانی ہوا آرپار ہوتی محسوس ہو رہی تھی۔ اتنی سخت سردی تھی کہ منہ سے بولے جانے والے لفظ بھی جمتے ہوئے محسوس ہو رہے تھے۔

واشنگٹن ڈی سی، ورجینیا، میری لینڈ اور اردگرد کی تمام سٹیٹس پہاڑی علاقوں کی طرح ضرور ہیں، مگر پاکستان کے پہاڑی علاقوں سے بہت مختلف ہیں۔ پاکستان کی طرح بہت اُونچے اُونچے پہاڑ نہیں ہیں بلکہ پورا علاقہ ہلکا پھلکا اُونچا نیچا اور درختوں سے گِھرا ہوتا ہے۔ بہت ہی کم گھر ہیں جو ایک جیسی میدانی جگہ پر بنے ہوں ورنہ ایک ہی ٹاؤن کے تمام بلاکس یا ایک ہی محلّے کے تمام گھر تھوڑے سے ایک دوسرے سے اُونچے نیچے ہی بنے ہوتے ہیں۔ حتٰی کہ اکثر گھروں میں تو سارے کمرے بالکل مختلف سطح زمین پر بنے ہو سکتے ہیں۔ آدھا کمرہ اوپر والے لیول پر ہو سکتا ہے اور باقی آدھا نیچے والے لیول پر ہوتا ہے۔

زیادہ تر گھر تین منزلوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ سب سے اوپر کی منزل میں تمام بیڈرومز ہوتے ہیں۔ درمیانی منزل میں کچن ڈائیننگ ایریا اور لیوینگ روم یا ٹی وی لاؤنج ہوتا ہے۔ آپ کے گھر آنے والے تمام مہمان اسی لیول پر گھر میں داخل ہوتے ہیں اور یہیں سے واپس چلے جاتے ہیں۔ ان کی رسائی بیڈرومز یا بیسمنٹ تک نہیں ہو سکتی، حتٰٰی کہ آپ خود انہیں لے جانا چاہیں۔ سب سے نیچے بیسمنٹ ہوتا ہے جس میں آپ کچھ بھی بنا سکتے ہیں۔ عموماً اس میں گیسٹ روم، جم خانہ یا سٹوریج وغیرہ بنے ہوتے ہیں۔

یہاں پر ہریالی بہت زیادہ ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے یہ پورا علاقہ جیسے کسی زمانے میں ایک بہت بڑا گھنا پہاڑی جنگل جیسا رہا ہو گا۔ پھر جب لوگ آباد ہونے لگے تو جہاں جہاں ضرورت ہوتی وہاں وہاں سے چند درخت کاٹ کر گھر بنا لیتے ہیں اور اردگرد ویسے کے ویسے جنگل موجود رہتا ہے بلکہ یہ لوگ جہاں سے بھی دس درخت کاٹتے ہیں اسکے بدلے میں بیس درخت کہیں آس پاس اور لگا دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے یہاں کی آب وہوا بہت ہی صاف ستھری ہے۔ گرد کا نام ونشان نہیں ہے۔

قدم قدم پر مقام حیرت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہاں ہم نے شروع شروع میں "مٹّی" ڈھونڈنے کی بہت کوشش کی مگر ہر بار نظر ناکام ہو کر پلٹ آتی ہے۔ ہر طرف یا تو پکّی سڑکیں ہیں یا پھر ان کے کنارے بنے جاگنگ ٹریک اور جیسے ہی ٹریک ختم ہوتے ہیں اسکے دوسری طرف سے خوبصورت گھاس جو شروع ہوتی ہے تو درختوں کے جھنڈ، جنگل یا کسی جھیل کے کنارے جا کر ہی ختم ہوتی ہے۔ آپ کتنا بھی سر پٹخ لیں کہیں بھی مٹّی کو نہیں دیکھ سکتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سوائے اس کے کہ، اگر کہیں کوئی عمارت بن رہی ہے اور وہاں بنیادیں بنانے کو زمین کو کھودا جا رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہاں چند دن کے لئے آپ کو مٹی کے ڈھیر ضرور نظر آئیں گے مگر پھر جلد ہی گدھے کے سر سے سینگ کی طرح غائب بھی ہو جائیں گے۔ بڑی بڑی عمارتیں چند دنوں میں بن جاتی ہیں۔
سڑکیں بننا تو سب سے دلچسپ کام ہے۔ صبح جب آپ جاب پر جاتے ہیں تو بہت بارش یا برف کی وجہ سے اگر کوئی سڑک ٹوٹ گئی یا اس میں گڑھے بن گئے تو شام کو جاب سے واپس آتے ہوئے اسکی جگہ کئی میلوں تک بالکل نئی نکور سڑک بنی ہوئی ہوتی ہے۔

ان تین سٹیٹیس میں چاروں موسم بالکل پاکستان والے ہی ہیں۔ بارش بھی ہوتی ہے اور بہت زیادہ ہوتی ہے۔ کئی کئی دنوں تک مسلسل جھڑی لگی رہتی ہے۔

یہاں کچھ لوگ توہم پرست بھی ہیں جن کا خیال ہے جمعرات کو شروع ہونے والی بارش اگلی جمعرات کو ہی ختم ہو گی۔ جب یہ بارش اور مٹی مل کر عجیب سی بدبو پیدا کرتے ہیں تو اس وقت پاکستان اور وہاں کی بارشوں کے بعد مٹی کی سوندھی سوندھی خوشبو بہت یاد آتی ہے۔

یہ جنگل جو ہر گلی محلے، شاپنگ مالز کے پیچھے موجود ہیں ان میں آپ بکثرت ہرنوں کو اِدھر اُدھر بھاگتے دوڑتے دیکھ سکتے ہیں۔ یہاں پر ساٹھ فیصد ایکسیڈنٹ بھی صرف ہرنوں سے ٹکرانے کا نتیجہ ہی ہوتے ہیں، لیکن ہرنوں کا شکار سختی سے منع ہے۔ پھر بھی کچھ سلمان خان جیسے جیالے موجود ہیں جو کبھی کبھار اپنے بیک ڈور سے کسی ہرن کو پکڑ کر چوری چھپے حلال کر کے دوستوں میں گوشت بانٹتے نظر آ جاتے ہیں۔

امریکہ چاہے کتنا ہی مضبوط یا سپر پاور کیوں نہ کہلائے، تیرہ نمبر کے ہندسے سے ایسے خوفزدہ رہتا ہے، جیسے بکری شیر سے ڈرتی ہے۔ زیادہ تر لوگ تیرہ کے ہندسے کو بہت منحوس مانتے ہیں۔ ۔ زیادہ تر گھر میں رہنا پسند کرتے ہیں، بڑے بڑے ہوٹلوں میں تیرہ نمبر کا کمرہ نہیں ہوتا۔ بارہ کے بعد چودہ نمبر آ جاتا ہے۔ یہی حال کسی بھی عمارت میں منزلوں کا ہے۔ اکثر عمارات میں تیرھویں منزل سرے سے نہیں ہوتی۔ اگر تیرہ تاریخ کے ساتھ دن جمعہ کا آ جائے تو پھر تو سونے پر سہاگہ والی بات ہو جاتی ہے۔ " فرائی ڈے دا تھرٹین" ان کے لئے سال کا منحوس ترین دن سمجھا جاتا ہے۔ اس دن یہ لوگ کوئی نیا کام شروع نہیں کرتے۔ بہت ڈرے ڈرے سے دعائیں مانگ مانگ کر پورا دن گزارتے ہیں۔ ہمارے لئے چونکہ جمعہ بہت مبارک دن ہے اس لئے ہمیں ایسی باتوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہم تو ہمیشہ جمعہ کے منتظر رہتے ہیں۔ ان کا ڈر دیکھ کر بہت حیرت ہوتی ہے۔