002 - مکتوبِ دبئی

At The Top

تحریر: غالب خستہ

قارئین کرام، ہمارے آپ کے دبئی میں قابلِ دید بہت ساری چیزیں ہیں۔ چیزوں سے ہماری مراد، نباتات چھوڑ کر، انسانات، جمادات اور حیوانات ہیں۔ نباتات میں لے دے کر کجھور کے درخت یا گرین بیلٹس میں زور زبرستی کا اُگا ہوا سبزہ ہی ہے۔ حیوانات سے مراد باغِ وحش کے چرند و پرند، انسانات کی "ت" سے ہی آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ ہماری مراد کونسی صنف ہے، اور جمادات سے مراد دبئی کے مشہورِ زمانہ تعمیراتی کارنامے ہیں۔ ان تعمیراتی کارناموں میں دبئی کا پورا انفراسٹرکچر، اس کا روڈ میپ، اور دیگر چار دانگ عالم میں اس کا نام مشہور کرنے والے اسبابِ فیض یعنی پل، چاہ، مسجد و تالاب وغیرہ عموماً اور سمندر کے اندر کجھور کی شکل میں بنی کالونی "نخیل"، سمندر ہی کے اندر دنیا کے نقشے کی شکل کے بنے جزیرے "دی ولڈ"، اس کا ڈرائیور لیس میٹرو سسٹم، دنیا کی بلند ترین عمارت "بُرجِ خلیفہ" اور اس کے کئی ایکڑ پر پھیلے ہوئے شاپنگ پلازا خصوصاً قابلِ ذکر ہیں۔

ہمارے اس دفعہ کے مکتوب کا موضوعِ سُخن حال ہی میں دنیا کے نقشے پر جگہ پانے والا "برجِ خلیفہ" ہے۔ جنوری 2010ء میں دنیا کی اس تاحال بلند ترین عمارت کا افتتاح ہوا۔ اس کی افتتاحی تقریب میں شرکت کرنے سے اگرچہ ہم محروم رہے تاہم ٹی وی پر اس ملٹی ملین درہم والی تقریب اور اس موقع پر کی گئی آتش بازی کا حال دیکھا تھا۔ اس عمارت کو دورانِ تعمیر قریب سے تو ہم کئی بار دیکھ چکے تھے تاہم افتتاح کے بعد ہمیں اسے اندر سے دیکھنے کا شوق چرایا۔ ہمارے ایک انکل بھی ان دنوں وزٹ پر آئے ہوئے تھے، ان کو بھی شوق تھا اس سکائی سکریپر کو دیکھنے کا، سو ہم نے کیمرہ اٹھایا، والد صاحب اور چچا کے ساتھ اس کا مشاہدہ کرنے نکلے۔ جیسا کہ اسلام آباد میں بلیو ایریا مرکزی سڑک مانی جاتی ہے اسی طرح دبئی میں "شیخ زید روڈ" مرکزی شاہراہ ہے۔ تقریباً چودہ لائنوں پر مشتمل اس چوڑی شاہراہ کے دائیں بائیں سر بفلک عمارات پچھلے چند ہی برسوں میں یوں اُگ آئی ہیں جیسے بارش کے بعد خودرو مشروم نمودار ہوتے ہیں۔ "برجِ خلیفہ" شیخ زید روڈ کے بالکل پاس ہی حال ہی میں تعمیر ہونے والی جدید کالونی "ڈاؤن ٹاؤن دبئی" میں اپنی پوری قامت کے ساتھ کھڑا ہے۔ تقریباً آدھ میل اونچے اور ایک سو ساٹھ منزلوں پر مشتمل اس عمارت کو پہلے "برجِ دبئی" کا نام دیا گیا تھا، اور سچ پوچھیے تو اس کے ساتھ لگا بھی کھاتا تھا لیکن پھر شومئی قسمت کے دبئی عالمی مالیاتی بحران کے گرداب میں پھنس کر ایسا مجبور ہوا کہ اسے امداد کے لئے تیل کی دولت سے مالا مال ہمسایہ ریاست ابوظہبی سے رجوع کرنا پڑا۔ ابوظہبی نے بھی بڑے بھائی بلکہ برادرانِ یوسف کا کردار ادا کیا اور اگرچہ اس آڑے وقت میں دبئی کو کئی ارب ڈالر کی امداد دی، لیکن بڑا بھائی ہونے کے ناتے چھوٹے بھائی کے کئی منافع بخش ادارے بھی اپنی تحویل میں لے لئے۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ بُرجِ خلیفہ بھی انہی میں سے ایک ہے جو ابوظہبی نے ہتھالیے ہیں۔ قصّہ مختصر برجِ دبئی کی افتتاحی تقریب میں دبئی کے شیخ محمّد بن ر اشد نے مذکورہ عمارت کا نام اچانک تبدیل کر کے اسے ابوظہبی کے حاکم شیخ خلیفہ بن زاید کے نام سے موسوم کیا۔ شاید اسی لئے فارسی کا مقولہ ہے کہ "سگ باش، برادرِ خورد مباش۔"

شیخ زید روڈ سے ہوتے ہوئے ہم ڈاؤن ٹاؤن دبئی کے علاقے میں خلیجی ممالک کے سب سے بڑے شاپنگ پلازہ "دبئی مال" میں داخل ہوئے۔ رقبے اور خوبصورتی دونوں کے لحاظ سے دبئی مال بلاشبہ دنیا کے بیشتر ممالک کے شاپنگ مالز کے مقابلے میں بڑا اور اعلٰی ہے۔ بارہ سو دکانوں پر مشتمل، تقریباً 50 فٹبال گراؤنڈ کے برابر رقبے پر پھیلا یہ شاپنگ مال 20 ارب ڈالر کی خطیر رقم سے بنایا گیا ہے۔ دبئی کی جہنمی گرمی میں اتنے بڑے رقبے کو نہ صرف کسی فریج کی طرح ٹھنڈا اور یخ رکھا گیا ہے بلکہ اس پہ مستزاد یہ کہ اسی مال میں آئس رینک بھی بنائی گئی ہے جہاں بچے بڑے سکیٹنگ کرتے پھرتے ہیں۔ اسی مال میں دنیا کا سب سے بڑا ایکویرئیم بھی بنایا گیا ہے جس میں شارک مچھلیاں بھی دیگر مچھلیوں کی معیّت میں آ جا رہی ہوتی ہیں۔ یہ مال بھی برجِ خلیفہ کمپلیکس کا ایک حصّہ ہے اور سیاحوں کے لیے برج میں جانے کا راستہ بھی اسی مال میں سے ہوتا ہوا گیا ہے۔ پورا شاپنگ پلازا ، اس کی دُکانیں، اس کا فیشن ایوینیو، ریستوران اور یہاں تک کہ اس کا فرش بھی ایسا لش لش کرتا ہے کہ صحیح معنوں میں لوٹنے کی جا ہے۔ لوٹنے کو آپ زبر اور پیش دونوں کے ساتھ پڑھ سکتے ہیں۔ تاہم پیش والا صرف ہمارے حکمران ٹائپ لوگوں کی دلچسپی کے لئے ہے۔

مال میں گھومنے پھرنے کے بعد ہم بیسمنٹ میں واقع برجِ خلیفہ کے ٹکٹنگ کاؤنٹر تک آئے۔ لمبی قطار میں کافی دیر تک کھڑے ہونے کے بعد ٹکٹ لینے کی باری آئی تو کاؤنٹر پر مامور خاتون نے معلومات فراہم کی کہ یہ ٹکٹ صرف 124 ویں منزل پر بنائے گئے آبزرویشن ڈیک کیلئے ہے، جہاں سے آپ دبئی کا نظارہ کر سکتے ہیں۔ دنیا کے سب سے بلند ترین آؤٹ ڈور آبزرویشن ڈیک ہونے کی وجہ سے اسے " ایٹ دی ٹاپ At The Top" کے نام سے جانا جاتا ہے۔ برج کے باقی ماندہ حصّوں تک صرف وہاں کے رہنے والوں ہی کی رسائی ہے۔ اگر آپ ابھی آبزرویشن ڈیک تک رسائی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو فی کس 400 درہم (تقریباً 9000 پاکستانی روپے) پے کریں اور اگر کل کے لئے بُکنگ کرنا چاہتے ہیں، تو فی کس 100 درہم پے کریں۔ ہم نے دل ہی دل میں ایک روز کے فرق سے پڑنے والی اس بچت کا حساب لگایا اور خاتون سے عرض کیا کہ بی بی ہمیں کل کا ٹکٹ لینے میں 300 درہم کی بچت ہو رہی ہے تو لازماً اگلے دن 600 کی ہوگی۔ لہٰذا ایسا کریں کل کی بجائے پرسوں کا ٹکٹ دیں اور ساتھ ہی دو سو درہم بھی عنایت کریں بلکہ ہم تین بندے ہیں تو چھ سو درہم بنتے ہیں، سو آپ کے ہوئے، بس پانچ سو ہی دے دیں۔ آپ بھی کیا یاد کریں گی۔ خاتون کھل کھلا کر ہنسی اور کہا کہ نہیں حضرت ارجنٹ ٹکٹ کی وہی 400 ہے اس کے بعد کسی بھی روز کی بکنگ کا 100 درہم۔ ہم نے چچا اور ابا کی نظر بچا کر عرض کیا کہ گدائے حسن کے کاسے میں آنے والے آپ کی یہ ہنسی بھی ہمارے لئے درہم و دینار سے بیش قیمت ہے۔ بلکہ بقول عزیز میاں قوال کے اِک تبسم پہ دو عالم کو نچھاور کردوں۔۔۔ مال اچھا ہو تو قیمت نہیں دیکھی جاتی، وغیرہ وغیرہ، سو آپ کل ہی کا ٹکٹ عنایت کریں۔ انہوں نے مسکراتے لبھاتے ٹکٹ پکڑائے اور ہم نے باہر کی راہ لی۔

اگلے دن شام کو مقررہ وقت سے ذرا پہلے ہم پھر وہیں پہنچے۔ بلکہ دبئی مال اور برج کے درمیان واقع ایک کافی بڑی تیس ایکڑ پر پھیلی مصنوعی جھیل کی طرف جا نکلے، جس میں شاید دُنیا کا سب سے بڑا فوّارہ نصب ہے۔ اس فوّارہ کی خاص بات یہ ہے کہ موسیقی کی لے پر اس سے پھوٹنے والا پانی ہلکورے لیتا ڈانس کرتا ہے۔ پانی کی جلترنگ، ہر طرف لگے نفیس سپیکرز سے گونجنے والی موسیقی، فوّاروں کے ساتھ ساتھ لگے لائٹس اور پروجیکٹرز ایک طلسمی فضا بناتے ہیں۔ اس پر مستزاد فوّاروں کا ایک دم ڈھول کی تھاپ پر 275 میٹر کی بلندی تک جانا اور پھر آتش بازی جیسا منظر پیش کرنا۔ کیا ہی حسین نظارا ہوتا ہے۔ فوّارے کا یہ شو، شام سے رات گئے تک بیس بیس منٹ کے وقفے سے مسلسل جاری رہتا ہے وہ بھی بغیر ٹکٹ کے۔

ایک دو شوز سے لطف اندوز ہونے کے بعد ہم واپس مال میں برج کی انٹرنس کی طرف گئے۔ دروازے سے اندر داخل ہوتے ہی ائیرپورٹ کی طرح سامان اور بندہ چیک کرنے والی سکریننگ مشین اور میٹل ڈیٹیکٹر لگے ہوئے تھے۔ ہماری شاید کوئی نفسیاتی گرہ ہے کہ ہمیشہ ایسی سکریننگ سے گزرتے ہوئے عزتِ نفس بھی مجروح سی ہوتی ہے اور ساتھ ساتھ میں اپنا آپ خود کش بمبار ٹائپ کا بھی لگتا ہے۔ خیر جی اس مرحلے سے گزرنے کے بعد ایک بڑے ہال نما جگہ پر آ گئے جہاں برج کا ایک کافی بڑا ماڈل رکھا ہوا تھا اور ساتھ ہی مختلف سکرینوں پر برج کے بارے میں معلوماتی سلائیڈز آ جا رہے تھے۔ اس کے بعد ایک طویل سرنگ سے گزرنا پڑا جو شاید دبئی مال اور برج کے درمیاں زیرِ زمین واقع تھی۔ دیواروں پر مختلف جگہوں پر پروجیکٹرز کے ذریعے سے برج کی تعمیر کے مختلف مراحل دکھائے جا رہے تھے۔ کہیں پر اس کی تعمیر میں حصّہ لینے والے مزدوروں کی تصاویر بھی تھیں۔ دبئی بلکہ اکثر عرب ممالک میں اگر بندہ ظاہری چکاچوند اور لش پش کرتی مصنوعی زندگی کے خول کو چھوڑ کر ذرا گہرائی میں مختلف طبقات اور سسٹم کا جائزہ لے تو یہ کریہہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ ان ممالک میں اب بھی آقاؤں اور غلاموں کا سلسلہ جاری و ساری ہے۔ بظاہر مزدور نظر آنے والے پاک و ہند، بنگلہ دیش و افغانستان، فلپائن و افریقہ کے باشندے در حقیقت غلامانہ زندگی ہی گزار رہے ہوتے ہیں۔ محنت مزدوری کے لئے دبئی میں داخل ہوتے ہی ان کے پاسپورٹس، ان کو ویزہ دینے والی کمپنیاں اور عرب آقا، جنہیں "کفیل" کہا جاتا ہے، اپنے قبضے میں لے کر ان کی آزادی سلب کر لیتے ہیں۔ اربوں کا منافع کمانے والی یہ کمپنیاں تپتی دھوپ، بادِ صر صر اور سموم کے دوران بلند و بالا عمارتیں تعمیر کرنے والے ان مزدوروں کو 1000 سے 2000 درہم کے درمیان تنخواہ دیتی ہیں۔ جو کہ دبئی جیسے مہنگے شہر میں ایسا ہی ہے جیسے پاکستان میں ہزار دو ہزار روپے۔ ان کی رہائش گاہیں جنہیں لیبر کیمپ کہا جاتا ہے، ایک ایک کمرے میں اٹھارہ اٹھارہ افراد ٹھونسے گئے ہوتے ہیں۔ اس پر مستزاد کبھی لیبر کیمپ میں پانی نہیں آتا اور کبھی بجلی نہیں ہوتی۔ لیبر کیمپس میں اخباری نمائندوں کا داخلہ بھی بقول شخصے منع ہے۔ اور سُنا ہے کہ تمام صحافتی اداروں کو سختی سے ہدایات دی گئی ہے کہ کوئی ایسی خبر جس میں حکمران خاندانوں کی توہین کا پہلو ہو، مُلکی معیشت کی خرابی کا ذکر ہو، سیّاحوں کو بدظن کرنے والی خبر ہو یا پھر مزدوروں کی حالتِ زار کا ذکر ہو بالکل بھی نہیں چھپنی چاہیے۔ مزدوروں سے متعلق موضوعات کو یہاں ٹیبو بنایا گیا ہے۔ جس پر کوئی بات نہیں کر سکتا۔ صبح لیبر کیمپ سے بسوں میں بھر کر انہیں تعمیراتی جگہوں پر لے جایا جاتا ہے اور شام کو وہاں سے واپس لیبر کیمپ۔ اس استحسال کے خلاف بے چارے آواز بھی نہیں اٹھا سکتے کہ قوانین کی رو سے احتجاج و ہڑتال وغیرہ منع ہے اور سزا ڈیپورٹیشن۔

خیر جی معلوماتی سکرینوں کا جائزہ لیتے ہوئے ہم ایک لفٹ کے سامنے جا رکھے۔ یہ لفٹ صرف گراؤنڈ فلور اور 124 فلور کے درمیان ہی چلتی ہے جہاں آبزرویشن ڈیک بناہوا ہے۔ تیز رفتاری کا یہ عالم کے صرف 56 سیکنڈ میں اس نے ہمیں فرش سے ڈیک پر لاپھینکا۔ اوپر پہنچ کر گائیڈ نے اوپن ائیر ڈیک کے داخلی دروازے کی طرف اشارہ کیا۔ دبئی کے نظارے کے لئے بنائے گئے اس چبوترے، بالکنی یا ڈیک کا فرش چوبی ہے جو ہر قدم پر چر چر کرتا ہے اور بندے کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ ہوا میں معلّق ہے۔ اتنی بلندی سے دبئی کا کونا کونا نظر آ رہا تھا۔ بالکل ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے لینڈ کرنے سے کچھ پہلے یا ٹیک آف کرنے کے کچھ دیر بعد ہوائی جہاز سے زمین کا نظارہ کیا جا رہا ہو۔ تاہم ایک بات تھی کہ چونکہ برج کے آس پاس کوئی اور بلند عمارت نہ تھی اس لئے صحیح معنوں میں بلندی کا احساس نہیں ہو رہا تھا۔ بلندی کا صحیح معنوں میں احساس اس وقت ہوتا ہے، جب بندہ اوپر سے تنگ گلی میں دیکھ رہا ہو، تب اپنے گھر کی چھت بھی کافی اُونچی لگتی ہے لیکن اگر مدِ مقابل کوئی دوسری بلند چیز نہ ہو تو حال بالکل برج خلیفہ کے جیسے ہو جاتا ہے کہ جہاں لگ تو رہا تھا کہ کافی بلندی ہے لیکن دل ہول نہیں رہا تھا اور نہ ہی گہری کھائیوں میں دیکھنے کا سا تاثر مل رہا تھا۔ برج کے نیچے سڑکوں پر چلنے والی گاڑیاں بالکل کھلونوں جیسی لگ رہی تھی۔ بقول واصف علی واصف صاحب جو چیز ہمیں چھوٹی نظر آئے اسے یا تو ہم دور سے دیکھ رہے ہیں یا غرور سے۔ اللہ تعالٰی غرور سے بچائے، ہم واقعی بہت دور سے دیکھ رہے تھے تبھی نیچے فوّارے کے ارد گرد افراد یہاں تک کہ بلڈنگز اور مکانات وغیرہ بھی بونے بونے سے لگ رہے تھے۔

آبزرویشن ڈیک ان ڈور بھی ہے اور آؤٹ ڈور بھی۔ ان ڈور یونٹ میں جگہ جگہ پر کمال کی دوربینیں نصب تھیں جس میں تین قسم کے نظارے کئے جا سکتے تھے۔ ایک بالکل لائیو، عام دوربین کے جیسا۔ دوسرا عین اسی منظر کا رات کے وقت کا نظارہ۔ اور تیسرا عین اسی منظر کا دن کے وقت کا نظارہ۔ گائیڈ نے بتایا کہ چند منزلیں اوپر دُنیا کی سب سے بلند ترین مسجد بنی ہوئی ہے۔ اور بلند ترین سوئمنگ پول بھی۔ ساتھ ہی اس نے بتایا کہ اٹالین ڈیزائینر کمپنی جارجیو ارمانی کچھ ہی دنوں میں برج میں واقع اپنے پہلے ہوٹل کا افتتاح کرنے جا رہی ہے جو اپنی نوعیت کا واحد ڈیزائنر ہوٹل ہوگا۔ وغیرہ وغیرہ۔ کافی دیر ڈیک پر گزارنے کے بعد ہم نے واپسی کی راہ لی۔ لفٹ نے اسی تیزی کے ساتھ "ثریا سے زمین پہ آسماں نے ہم کو دے مارا" کے مصداق گراؤنڈ فلور پہ پہنچا دیا۔
تو قارئین یہ تھا برجِ خلیفہ کی سیر کا مختصر احوال۔ خبراں مک گئیاں۔