002 - انٹرویو: قانتہ رابعہ انٹرویو

انٹرویو :
کشتاج مرزا
عامر جہاں۔۔
قانتہ رابعہ
جب بھی منفرد تحاریر کا تذکرہ ہوتا ہے خاص کر خواتین مصنفین میں دھیان یکسر ان کی جانب منعطف ہوتا ہے۔ عام سی باتوں میں خاص بات نکال لانا۔۔ ان موضوعات کی طرف دھیان دینا جن کو مقبول ادب میں درخو اعتنا نہیں جانا جاتا، ان کو عام فہم انداز میں پیش کرنا۔ ایسے منفرد اسلوب کی مالک سے آج ہم آپ سب کو متعارف کر وا رہے ہیں۔ آپ کا نام قانتہ رابعہ ہے، جسے بدقسمتی سے پڑھے لکھے بھی "کانتی دیوی" قسم کا نام سمجھتے ہیں۔ یہ خالصتاً عربی نام ہے۔

"کسی حد تک پیدائشی قلمکار ہوں۔ میرے نانا ابو حکیم محمد عبد اللہ برصغیر کے مشہور حکیم تھے۔ سو سے زائد طبی کتب کے مصنّف تھے۔ ان کی طبی کتب بھی "ادبی رنگ" لیے ہوئے تھیں۔ میرے والد کا ادبی ذوق بہت عمدہ تھا۔ کسی بھی رسالے یا اخبار میں اچھی کتاب کا اشتہار یا تعارف دیکھتے تو ضرور منگواتے۔ میرے ماموں بھی ادب دوست قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں اور ادارہ مطبوعات سلیمانی کے بانی ہیں۔ اب ان کے صاحبزادے عروہ وحید سلیمانی "ادبیات" کے زیر انتظام کئی عمدہ کتب لا چکے ہیں۔"
"ایسے ماحول میں آنکھ کھولی کہ پہلی تاریخ سے چودہ پندرہ تاریخ تک مسلسل کوئی نہ کوئی رسالہ گھر میں آتا۔ ۔ ۔ ۔ اور پڑھنے والے بہت شوق سے پڑھتے۔ میرا اپنا خیال ہے کہ جو بہت اچھا قاری ہو گا اس میں لکھنے کے جراثیم ضرور ہوں گے۔ بس ان کو ڈھونڈنا اور پروان چڑھنا درکار ہے۔"
سوالات:-
ابتدائی زندگی اور تعلیم کے بارے میں کچھ بتائیں؟ آپ کیسی طالبہ تھیں؟
ابتدائی زندگی 'جہانیاں' میں گزری۔ وہیں سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ ہر طرح کے ڈائجسٹ، رسالے پڑھنے کا حد درجہ شوق تھا۔ لیکن نصابی کتب پڑھنے پر آنکھیں آمادہ ہوتی تھیں نہ دل۔ رو دھو کے نصاب پڑھتی لیکن پہلی پانچ پوزیشنز میں شامل رہتی۔

اسکول کے زمانے میں دوستوں کا کوئی گروپ تو ہوگا؟
اسکول کے زمانے میں دوستوں کا خاص گروپ نہ تھا۔ ہاں اپنی کزنز کے ساتھ اچھی انڈر اسٹینڈنگ تھی۔

بچپن میں شرارتیں تو کی ہوں گی؟
بہت شرارتی نہیں تھی لیکن ہم عمر ماموں اور کزنز کے ساتھ مختلف شرارتوں میں شریک رہتی۔

کوئی ایسی شرارت یا واقعہ جو اب بھی ذہن پر نقش ہو؟
خاص شرارت...... !! اپنی تو نہیں اپنے ہم عمر ماموں کی یاد ہے، نانا ابو حکیم تھے اکثر کسی نہ کسی گاؤں سے مریضوں کا گھر میں نزول ہوتا رہتا۔ ایسے میں انہوں نے ایک چارپائی پر کپڑوں کو وجود کا، جوتوں کو پاؤں کا اور تربوز کو سر کا روپ دے کر چادر اوڑھا کر مریض بنا دیا اور بہت پریشانی سے جا کر نانا ابو کو بتایا کہ ایک خاتون مریضہ بیالیس چک سے آئی ہیں اور حالت انتہائی خراب ہے...... نانا ابو نے نبض دیکھنے کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا تو کوئی ردعمل نہ ہوا...... اور جب انہیں پتا چلا تو انہوں نے بھی بہت لطف اٹھایا...... بس ایسی ہی بے ضرر سی شرارتیں یاد ہیں۔

لکھنا کب اور کیسے شروع کیا؟
یوں ہی یاد پڑتا ہے کسی رسالے، اخبار میں خط لکھ کر تجاویز بھیجنے سے آغاز ہوا۔ بسیار نویس تھی(اور ہوں)۔ جو نیا اخبار یا بچوں کا رسالہ دیکھتی جھٹ سے کہانیاں لکھ کر بھیج دیتی۔ بعد میں پتہ چلا فلاں رسالے یا فلاں بچوں کے صفحہ پر میری تحریر شائع ہوئی ہے۔
پہلی تحریر کونسی تھی؟
یاد نہیں۔ کہانی کا پوچھ رہی ہیں تو "صبح نو"۔
کونسے ادیب پسند ہیں؟
وقت اور شعور کے ساتھ ساتھ اس فہرست میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے۔

لکھنے کا آغاز کہاں اور کیسے کیا ؟ کسی نے اس کے لئے اکسایا یا پھر خود بچپن ہی سے شوق اور جذبہ تھا؟ پہلی تحریر منظر عام پر آنے کے بعد کیا تاثرات تھے؟ اور اس کا کیسا فیڈ بیک ملا؟
پہلی تحریر "ایک خط کا جواب" تھا جو روزنامہ جسارت میں بچوں کے صفحہ پر مدیر کو لکھا۔ مدیر "نیاز مدنی" تھے، کو (جو اس وقت طالب علم تھے) چچا جان کہہ کر مخاطب کیا تھا۔ اس خط کا انہوں نے بہت مزے کا جواب دیا تھا۔ اخبار گھر پر نہیں آتا تھا۔ شام میں چچا گھر جاتے ہوئے ہمارے یہاں سے گزرے تو سرسری سا کہا،
"قانتہ تمہارا خط شائع ہوا ہے...." فوراً کانپتے ہاتھوں سے اخبار اٹھا لیا۔ جواب مطالعہ کیا۔ یوں سمجھیں خوشی سے زمین لرزتی محسوس ہو رہی تھی۔ خوشی آج بھی ہوتی ہے مگر کیفیت میں فرق ہوتا ہے۔
فیڈ بیک…… کچھ نہ پوچھیں…… بالی عمر یا الھڑ قلم…… اور نوائے وقت میں مزاحیہ کالم جہانیاں کے بارے میں لکھ ڈالا، ایک فقرہ یوں تھا،
"جہانیاں کے جس گھر کے سامنے بھینس بندھی ہو، کوڑے کَرکٹ کا ڈھیر ہو، سمجھ لیجئے کہ وہ میونسپل کمیٹی کے کونسلر کا گھر ہے……" بس کونسلر صاحب کی طرف سے خوب گو شمالی ہوئی۔ اس وقت تعریف سے زیادہ تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور چچی، ماموں اور اپنے والد کے علاہ کسی سے حوصلہ اور پذیرائی نہ مل سکی۔

اگر کسی کو کوئی نصیحت کرنا ہو تو کیا نصیحت کریں گی؟
میری تو ہر تحریر ہی نصیحت ہوتی ہے۔ کوشش کرتی ہوں یہ کام غیر محسوس طریقے سے ہو۔ بھاری بھر کم وعظ قاری کو ہضم نہیں ہوتا۔

کوئی مشورہ مانگے تو کیا کرتی ہیں؟
اپنی ایک ہی خوبی پسند ہے۔ مشورہ مانگے تو بہت خیر خواہی سے دیتی ہوں۔ مانگنے والا خواہ کوئی ہی کیوں نہ ہو، پہلے بن مانگے دیتی تھی اب سوچتی ہوں بن مانگے مشورہ خربوزے کے چھلکوں سے بھی کم وقعت رکھتا ہے۔ سو اب زبان کی کھجلی پر قابو پا لیتی ہوں۔

زندگی کا ایک یاد گار دن؟
تب ہو گا جب اللہ اپنے گھر راز و نیاز کے لیے بلائے گا۔

شادی کب ہوئی؟
۱۹۸۹ء

صبح کب اٹھتی ہیں۔ اپنی صبح کا آغاز کیسے کرتی ہیں؟
صبح کا آغاز دُعا سے ہوتا ہے اور علی الصبح بیداری کی عادت ہے۔ دن بھر کی روٹین کی ہلکی سی پلاننگ اسی وقت کرتی ہوں۔ کوشش کرتی ہوں زیادہ تر کام صبح ہی نمٹا لوں۔

جو چاہا وہ ملا؟
جو چاہیں، وہ صرف جنّت میں مل سکتا ہے۔

کیا انسان کو منصوبہ بندی کے ساتھ زندگی گزارنا چاہیے؟
منصوبہ بندی ہلکی پھلکی کرنی چاہیے۔ اللہ ضرور مدد کرتا ہے اور پسند کرتا ہے۔ کیا اس کی کائنات میں اس کی منصوبہ بندی کی جھلک نہیں ہے؟؟

پانچ سال بعد خود کو کس مقام پر دیکھتی ہیں؟
طویل المیعاد منصوبوں کا حوصلہ نہیں پڑتا لیکن زندگی میں قناعت، آسانیوں کی خواہشمند ہوں۔

سیاست سے کس حد تک دلچسپی ہے؟ اور حالاتِ حاضرہ سے؟
بہت پہلے سیاست ہی اوڑھنا بچھونا تھی۔ اب حالات حاضرہ سے آگہی اور بس۔

آپ کے خیال سے ہمارے ملک میں سیاست کو اچھا کیوں نہیں سمجھا جاتا؟
یہاں کی سیاست اس قابل نہیں کہ اس پر تبصرہ کیا جائے۔

آپ نے اپنا قیمتی وقت نکال کر ہمیں اتنے تفصیلی جوابات دیئے۔ ون اردو کی طرف سے ہم آپ کے مشکور ہیں۔