003 - بھٹی برادران از دلپسند سیال

بھٹی برادران
تحریر: دلپسند سیال

بھٹی برادران پاکستان فلم انڈسٹری کے دو اہم ستون تھے،ستر اور اسی کی دہائی میں ان کا طوطی بولتا تھا انہوں نے یکے بعد دیگرے بہت کامیاب اور ہٹس فلمیں بنائیں۔ انہوں نے سلطانی فلموں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جس دور میں سلطان راہی پنجابی فلموں پر چھائے ہوئے تھے اور اس کا نام فلم کی کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتا تھا اس وقت بھی بھٹی برادران نے سلطان راہی کا سہارا لیے بغیر اپنی علیحٰدہ ٹیم کے ساتھ بھٹی پروڈکشن کے بینر تلے کامیاب فلمیں بناتے رہے۔

عنایت حسین بھٹی

اداکار، گلوکار، فلم ساز، ذاکر، عالم، کالم نگار اور عظیم
دانش ور ان سب صفات کا مجموعہ عنایت حسین بھٹی تھے۔
سوہنی کے شہر گجرات میں جہاں میجر عزیز بھٹی شہید، راشد منہاس شہید جیسے نشان حیدر پانے والے سپوت اور شاعر مشرق علامہ اقبال جیسے لوگ پیدا ہوئے اسی شہر میں پیدا ہونے والے عنایت حسین بھٹی نے فلم انڈسٹری میں اپنا نام روشن کیا۔
عنایت حسین بھٹی 1928ء میں ماسٹر فضل الٰہی کے ہاں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم پبلک سکول اور زمیندارہ کالج میں حاصل کی۔ والد صاحب چاہتے تھے کہ بیٹا عالم دین بنے، جبکہ بھٹی صاحب کو وکالت کا شوق تھا۔ وہ وکالت پڑھنے لاہور چلے گئے۔
بھٹی صاحب خوش گلو تھے۔ ان کی آواز میٹھی اور سریلی تھی۔ کالج اور پھر یونیورسٹی میں جب بھی کوئی تقریب منعقد کی جاتی تھی تو قرآن پاک کی تلاوت اور نعت شریف ان کے حصے میں آتی تھی۔ بھٹی صاحب اپنی سریلی آواز سے سماں باندھ دیتے تھے۔ اسی طرح ایک مرتبہ یونیورسٹی میں ایک تقریب منعقد ہوئی جس کے مہمان خصوصی پاکستان کے مشہور موسیقار بابا جی اے چشتی تھے۔ بابا جی اے چشتی اس وقت موسیقی کے بے تاج بادشاہ تھے۔ انہیں بھٹی صاحب کی آواز بہت پسند آئی۔ اس لیے وہ بھٹی صاحب کو راضی کرکے ریڈیو اسٹیشن لے گئے جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا پہلا گانا (سوہے جوڑے والی اے) گایا۔ اور اس طرح بھٹی صاحب کی وکالت کے بجائے فلم انڈسٹری کی طرف راہ ہموار ہوگئی۔
ریڈیو کا دور تھا بھٹی صاحب کی آواز پورے پاکستان میں پھیل گئی۔ اور اس طرح ان کی فنی زندگی کا آغاز ہوا۔ بیسویں صدی کے وسط میں سُر اور لے کی یہ آندھی سوہنی کے شہر گجرات سے اٹھی اور دیکھتے ہی دیکھتے پورے ملک کی فضاوٴں پر نغمات بن کر چھا گئی۔ پانچ دریاوٴں کے پانیوں میں گُندھی ہوئی عنایت حسین بھٹی کی من موہنی آواز کو وقت کے نامور موسیقاروں نے دھنوں میں ڈھال کر امر گیتوں کا روپ دیا۔
ہدایتکار و اداکار نذیر کی پنجابی فلم ” پھیرے‘‘ کے موسیقار بابا جی اے چشتی تھے انہوں نے بھٹی صاحب کو فلم ”پھیرے‘‘ کےلیے گانا گانے کو کہا۔ جو کہ بھٹی صاحب نے قبول کرلیا اور اس طرح ریڈیو کے بعد فلم انڈسٹری کے دروازے آپ پر کھل گئے۔ فلم ”پھیرے‘‘ پاکستان کی دوسری جبکہ پنجابی زبان کی پہلی فلم تھی۔ ”پھیرے‘‘ کے زیادہ تر گانے بھٹی صاحب نے گائے مگر شہرت ان کے گائے ایک دوگانے (اکھیاں لاویں نا تے فیر پچھتاویں نا) کو ملی اور یہ دوگانہ منور سلطانہ کے ساتھ گایا تھا۔ اور یوں بھٹی صاحب کو پاکستان کے پہلے پلے بیک سنگر کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔
1955ء میں ہدایتکار اور اداکار نذیر نے انہیں اپنی فلم ”ہیر‘‘ میں بطور ہیرو کام کرنے کا موقعہ دیا تو بھٹی صاحب نے گلوکاری کے ساتھ اپنی اداکاری کا بھی لوہا منوا لیا۔
بھٹی صاحب نے فلم میں گلوکاری اور اداکاری کے علاوہ اپنا ایک تھیٹر قائم کیا۔ اور پنجاب کے مختلف دیہاتوں اور شہروں، میلوں وغیرہ میں اپنے تھیٹر کے شو کیے اور اپنی آواز کا جادو جگایا۔ اور عظیم صوفی بزرگوں سلطان باہو، میاں محمد بخش، بلھے شاہ، وارث شاہ، خواجہ غلام فرید اور شاہ حسین کے کلام کو اپنی سریلی آواز میں ملک کے کونے کونے میں پہنچایا۔
بھٹی صاحب نے تھیٹر سے کافی دولت اکٹھی کی اور پھر اس دولت سے اس نے ”بھٹی پروڈکشن‘‘ کے نام سے فلم کمپنی بنائی اور اپنی صلاحیتوں کو فلم کے ذریعے لوگوں تک پہنچایا۔ بھٹی صاحب نے اپنے دور کے تمام موسیقاروں کی موسیقی میں گایا اور پنجابی فلموں کی ہر ہیروئن کے ساتھ بطور ہیرو کام کیا۔ بھٹی صاحب نے اپنی بنائی فلموں میں جہاں خود ہیرو کا کردار نبھایا وہاں فلم کے گانے بھی خود گائے۔ بھٹی صاحب کے گائے وہ لازوال گانے آج بھی پسند کیے اور سنے جاتے ہیں۔ پنجاب کے شہروں دیہاتوں، میلوں ٹھیلوں پر ان کے گانے گونجتے سنائی دیتے ہیں۔ پنجاب کے دیہات میں ہر شادی بیاہ کے موقعہ پر بھٹی صاحب کے گانے فرمائشی طور پر سنے جاتے ہیں۔ جب لاؤڈ اسپیکر پر بھٹی صاحب کا گایا مشہور گیت ( چن میرے مکھنا تے ہس کے اک پل ادھر تکنا) گونجتا ہے تو راہ چلتے لوگ رک جاتے اور آواز کے جادو میں کھوجاتے ہیں۔ جب کہ گاؤں کی نٹ کھٹ چھیل چھبیلی الہڑ مٹیاریں شرم سے سرخ ہوتی ہوئی آنچل میں منہ چھپا لیتی ہیں۔ اور اسی طرح بھٹی صاحب کے گائے ایک گانےکے بول( کچی گری جیا رنگ ہوئے تے اکھ بادامی، ایہوں جئی مٹیار ملے تے دیاں سلامی) جوان دلوں کو نئے انداز میں دھڑکا دیتے ہیں۔
چن میرے مکھناں کو بعد میں شازیہ منظور نے نئے میوزک کے ساتھ گا کر بہت شہرت حاصل کی اور گانا بھی بہت مقبول ہوا۔
بھٹی صاحب نے خواجہ غلام فرید کی عقیدت میں ایک سرائیکی فلم” دھیاں نمانیاں‘‘ کے نام سے بنائی ۔اس فلم نے کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیئے۔ جبکہ جنوبی پنجاب کے سرائیکی خطے میں کافی عرصہ تک یہ فلم سینما کی زینت بنی رہی اور ہر شو ہاؤس فل ہوتا تھا۔ اس فلم میں بھٹی صاحب نے خواجہ غلام فرید کی لکھی تین کافیاں بھی گائیں تھیں جو کہ ۔(میڈا عشق وی توں ایمان وی توں، وچ روہی دے راہندیاں، جانی رات رہ پو گالہیں کرے سوں۔ )قابل ذکر ہیں ۔
بھٹی صاحب ایک محب وطن پاکستانی تھے جب 1965ء کی جنگ شروع ہوئی تھی تو بھٹی صاحب اپنا تمام سرمایہ پاکستان آرمی ڈیفنس میں جمع کرادیا۔ صرف 250 روپے اپنے پاس رکھے ۔ان کی بیگم نے کہا "بھٹی صاحب اگر جنگ طویل ہوگئی تو پھر کیا ہوگا۔؟
بھٹی صاحب نے جواب دیا اگر میرا وطن ہی نا رہا تو پھر کیا ہوگا۔؟
جنگ کے دوران بھٹی صاحب نے اپنی سحر بیان آواز میں جنگی ترانے گا گا کر پاکستانی فوجیوں کے خون کو گرما دیا۔ ان کا گایا ایک جنگی ترانہ بہت مقبول ہوا جس کے بول تھے (اللہ کی رحمت کا سایہ،توحید کا پرچم لہرایا۔ اے مرد مجاہد جاگ ذرا اب وقت شہادت ہے آیا اللہ اکبر اللہ اکبر)
میاں محمد بخش کی سیف الملوک گانے میں جو ملکہ بھٹی صاحب کو حاصل تھا اس انداز میں آج تک کوئی گلوکار سیف الملوک نہیں گا سکا اور اسی طرح ہیر وارث شاہ بھی بڑے زبردست انداز میں گاتے تھے۔
سماجی خدمات کے حوالے سے بھی بھٹی صاحب نے بہت کام کیا۔ 1971ء میں گلاب دیوی ہسپتال میں اپنی والدہ برکت بی بی کے نام سے ایک وارڈ تعمیر کرایا اور میو ہسپتال لاہور میں سی پی ایئر کنڈیشنر پلانٹ مکمل فراہم کیا۔
بھٹی صاحب نے مرنے سے دس سال قبل فلمی دنیا کو خیر باد کہہ دیا اور تصوف سے لو لگالی اور پنجاب بھر کے مختلف صوفیائے کرام کے مزار پر حاضری دینی شروع کر دی۔ ان صوفیائے کرام کے حوالے سے ڈاکومینٹری پروگرام شروع کیا جو کہ پاکستان ٹیلی ویژن پر ”تجلیوں کے مراکز‘‘ اور پھر بعد میں ”اجالا‘‘ کے نام سے چلا تھا۔ جب نوے کی دہائی میں ملک میں فرقہ وارانہ فساد پھوٹ پڑے تھے۔ مسجدوں اور امام بارگاہوں میں بم دھماکے اور فائرنگ کے واقعات ہونے لگے تو بھٹی صاحب نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر امن کےلئے ایک جماعت بنائی جس کا نام ”عالمی امن کانفرنس‘‘ رکھا گیا اور پھر بعد میں نام تبدیل کرکے ”عالمی امن تحریک‘‘ رکھا گیا۔ بھٹی صاحب نے اتحاد بین المسلمین کے لئے دورہ شروع کیا اور پورے پنجاب میں جاکر تمام مکاتب فکر کے علماء کو امن بھائی چارے پر قائم معا شرے کی تشکیل پر راضی کیا نفرتیں محبتوں میں بدل گئیں جب تحریک نے عروج پکڑا۔ بھٹی صاحب کی تنظیم متعارف کرانے میں شیخ بشیر احمد، ملک محمد اشرف، خواجہ ناصر، شاد نور، عالم علامہ متاع صدیقی، حافظ عنصر محمود شامل تھے۔ متعدد امن سیمینار کئے گئے عوام کو تحمل برداشت کا سبق دیا گیا۔ عنایت حسین بھٹی کو زندگی نے مہلت نہ دی تو بھٹی صاحب 31مئی 1999ء کو داغ مفارقت دے گئے مگر تحریک کے کارکن بھٹی صاحب کی خدمات کے اعتراف میں ہر سال 31 مئی کو بہت بڑا اجتماع کرتے ہیں۔
مرنے سے چھ ماہ قبل بھٹی صاحب کی آواز نے فالج کی وجہ سے ساتھ چھوڑ دیا تھا۔
عنایت حسین بھٹی کے ایک بیٹے وسیم عباس نے شوبزنس میں بہت نام کمایا ہے وسیم عباس نے اپنے کیرئیر کا آغاز فلم سے کیا ۔اب وہ فلم سے کنارہ کش ہوکر صرف ٹی وی تک محدود ہوگئے ہیں۔
عنایت حسین بھٹی کے گائے چند مشہور نغمے درج ذیل ہیں
*چن میرے مکھناں
*جند آکھاں کے جان سجناں
*موتی ڈل گئے محبتاں والے
*مکھ متھاں نک اکھاں صدقے
*نشئے دیئے بوتلے
*نی چھڈنی بانہہ ریشم ورگی
*او مرن نوں ذرا نی ڈردے
*رناں والیاں دے پکن پراٹھے
*ساڈی نظراں توں ہویوں دور
*جھوٹیئے جہاں دیئے کچی زبان دیئے
*ملے گا ظلم دا بدلہ
*سچا سودا پیار دا جھوٹ نی بولنا
*سدا نا باغیں بلبل بولے
*دنیا مطلب دی او یار

کفایت حسین بھٹی

کفایت حسین بھٹی 1946ء میں گجرات میں پیدا ہوئے اور 1964ء میں فلمی انڈسٹری میں آئے۔کفایت حسین کو فلموں میں کام حاصل کرنے کے لیے کسی قسم کی تگ ودو نہیں کرنی پڑی کیونکہ مشکل کا کام ان کے بڑے بھائی عنایت حسین سرانجام دے چکے تھے۔ اب کفایت حسین کےلیے فلم انڈسٹری کے راستے کھلے تھے۔ 1964ء میں جب عنایت حسین بھٹی نے اپنی فلم ”سجن پیارا‘‘ شروع کی تو اس کی ہدایت کا کام اپنے چھوٹے بھائی کفایت حسین بھٹی کو سونپ دیا۔ پنجابی فلموں میں یہ سخت مقابلے کا دور تھا۔ ایک طرف اداکاروں میں فردوس اور اکمل، سدھیر اور نیلو، سلطان راہی اور رانی کی جوڑی کامیابی کے جھنڈے گاڑ رہی تھی تو ساتھ ساتھ سکرپٹ نگاری کے میدان میں حزیں قادری اور ہدایتکاری کی دنیا میں ایم جے رانا، ایم اے رشید، شباب کیرانوی، وحید ڈار اور حیدر چوہدری کا طوطی بول رہا تھا۔ لیکن عنایت حسین بھٹی نے چھوٹے بھائی کی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد کرتے ہوئے فلم سجن پیارا کی ہدایتکاری اس کے سپرد کر دی۔ ۔عنایت حسین بھٹی کو اپنے بھائی کی صلاحیتوں پر اعتماد تھا۔ جو کہ بعد میں بالکل درست ثابت ہوا جب فلم”سجن پیارا‘‘ سپر ہٹ ثابت ہوئی۔
”سجن پیارا‘‘ میں عنایت حسین بھٹی، رانی، سلونی کے علاوہ کفایت حسین بھٹی نے کیفی کے نام سے بطور ہدائیتکار اور اداکار کام کیا۔ اور یوں فلمی دنیا میں کیفی کے نام سے مشہور ہوئے۔
یہ فلم ایسی ہٹ ہوئی کہ کیفی کے لئے نہ صرف بطور اداکار بلکہ ایک ہدایتکار کے طور پر بھی کامیابی کے راستے کھُل گئے۔ اُنیس سو ستّر کے عشرے میں بھٹی پروڈکشن کے بینر تلے 48 فلمیں پروڈیوس ہوئیں جن میں کیفی نے اداکاری اور ہدایتکاری کے جوہر دکھائے۔
ستر کی دہائی کا یہ عرصے کیفی کی زندگی کا سنہری دور تھا۔ اپنی زیر ہدایت بننے والی فلم” ہمت ‘‘ کی ہیروئن غزالہ کو دل دے بیٹھے۔ اور فلم مکمل ہوتے ہی اس نے غزالہ سے شادی کرلی۔ غزالہ بہت ہی نیک خاتون تھیں۔
سندھی فلموں کے ہدایتکار چنگیزی اپنی خوبصورت بیوی سندھی اداکارہ چکوری کے ساتھ لاہور قسمت آزمانے آئے اور قسمت نے ان سے بیوی ہی چھین لی۔ یونس ملک کی ہدایت میں 1979ء میں بننے والی پاکستان کی میگا ہٹ فلم ” مولاجٹ‘‘ میں کیفی اور چکوری ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہوگئے۔ چنگیزی کو بالآخر چکوری کو طلاق دینی پڑی۔ نو فروری انیس سو اناسی میں مولاجٹ ریلیز ہوئی اور تین مئی انیس سو اناسی میں ان کی شادی ہوئی۔ چکوری سے دو بیٹے، حسن کیفی اور اسد کیفی ہیں۔ کیفی نے اپنے بیٹے عامر کیفی کو جو غزالہ کے بطن سے ہیں فلم میدان میں متعارف کرایا۔
بھٹی برادران نے اپنی فلم کیرئر میں صرف ایک اردو فلم ”وحشی‘‘ بنائی جو کہ ناکام ثابت ہوئی۔
بھٹی پروڈکشن کی فل مزاحیہ فلم ”ہسدے آؤ تے ہسدے جاؤ‘‘ زبردست کامیڈی فلم تھی جس میں کیفی نے ایک سر پھرے بادشاہ کا زبردست انداز میں کردار ادا کیا جبکہ خلیفہ نذیر اور ننھا نے وزیروں کے کردار نبھائے تھے۔
کیفی نے 32 فلموں کی ہدایت دیں اور 84 فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔
انیس سو اسی سے نوّے کے دوران بھٹی برادران کی فلم سازی دھیمی پڑگئی اور نئے نئے موضوعات آزمانے کی بجائے وہ گزشتہ دہائی کی کامیابیوں ہی کی جگالی کرتے رہے، چنانچہ پہلے دور میں جہاں ہمیں سجن پیارا، دنیا مطلب دی، سجن بیلی، سچا سودا، سجن دشمن اور ظلم دا بدلہ جیسی ہٹ فلمیں نظر آتی ہیں وہاں دورِ ثانی میں محض بدمعاشی بند، اتھرا تے جی دار، ضِدی ویر، بالا گاہدی اور قصائی پُتر جیسی کام چلاؤ فلمیں نظر آتی ہیں۔
1990 کے بعد بھٹی برادران کا ستارہ غروب ہوگیا اور اسکے چند برس بعد پاکستان کی فلم انڈسٹری کے افق پر مکمل اندھیرا چھا گیا، لیکن کیفی اور اُن کے فلم ساز ادارے کو ایک اعزاز ضرور حاصل رہا کہ انھوں نے فلم انڈسٹری کے دورِ سلطانی میں اپنا کاروبار شروع کیا تھا۔ یعنی اس دور میں جب سلطان راہی کے بغیر کسی فلم کا تصوّر ممکن نہیں تھا، لیکن بھٹی برادران نے سلطان راہی کا سہارا لئے بغیر عوام کو ایک متبادِل ٹیم کے ذریعے تفریح مہیا کی اور بیس برس تک سلطانی فلموں سے کڑا مقابلہ کیا۔
کیفی نے پنجاب کے کلچر کو بہت خوبصورتی سے اپنی فلموں میں پیش کیا انہوں نے ان کی کامیاب ترین فلم ”روٹی ، کپڑا اور انسان“ تھی ۔
کفایت حسین کیفی 67 سال کی عمر میں 13 مارچ 2009ء کو لاہور میں فوت ہوئے۔ وہ گردوں اور پھیپھڑوں کے موذی مرض میں مبتلا تھے جبکہ مرنے سے چھ ماہ پہلے ان پر فالج کا اٹیک بھی ہوا تھا۔
بھٹی برادران کی چند مشہور فلمیں مندرجہ ذیل ہیں۔
ہیر وارث شاہ، سجن پیارا، چن مکھناں، جند جان، ظلم دا بدلہ، جی دار، چیلنج، دنیا مطلب دی، سچا سودا، دھیاں نمانیاں، عشق روگ، سجن بیلی، سجن دشمن، بدمعاشی بند،وحشی،ہسدے آؤ تے ہسدے جاؤ،جی او جٹا،باؤجی، وغیرہ وغیرہ۔