008 - عمل کی ذمہ داری تحریر: نوما

عمل کی ذمّہ داری
تحریر: نوما

کہتے ہیں کہ انسان اپنے عمل کا ذمہ دار خود ہوتا ہے اور جواب دہ بھی خود۔
لیکن کیا ہم نے کبھی یہ سوچا کہ ہمارا ایک عمل کسی کو کتنی تکلیف دے سکتا ہے اور ہمارے لیے کتنی بڑی آزمائش بھی ثابت ہو سکتا ہے۔
اس بات کی وضاحت ایک واقعہ کی مدد سے کرتی ہوں۔
ایک خاتون بہت اچھے کپڑوں میں ملبوس اتراتی ہوئی چلی آ رہی تھیں اور جس جگہ آئی تھیں اسے قدرے ناقدانہ نظروں سے دیکھتی جا رہی تھیں،
جیسے انہیں زبردستی لایا گیا ہو۔
وہاں موجود ایک سامنے بیٹھی خاتون نے پوچھا کہ کیا ہوا ہے آپ کو
توجواباً بولیں کہ کچھ خاص نہیں۔
اور مجھے کہاں کچھ ہوا ہے مجھے تو زبردستی میری بہن اس کلینک لائی ہیں۔
جب کہ مجھے کوئی تکلیف نہیں ہے۔ تکلیف تو لوگوں کو مجھ سے ہوتی ہے کیونکہ سب مجھ سے جلتے ہیں میں بہت نفیس ذوق رکھتی ہوں میرے بچوں کا تعلیمی معیار بہت شاندار ہے، اور میں اپنے سسرال والوں میں اپنی خدمت کے باعث اور اپنے رکھ رکھاؤ کی وجہ سے بہت اچھی سی بہو جو مانی جاتی ہوں، میاں میرے مجھ سے بہت خوش ہیں کہ ان کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر ہر جگہ ساتھ دیا ہے جب بھی کوئی مشکل آئی میں نے ان سے پہلے خود پر جھیل کر انہیں پریشان ہونے سے بچایا۔
لیکن اب مجھے یہ لگتا ہے کہیں کچھ کمی ہے۔
لیکن کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہی میں سمجھ نہیں پا رہی ہوں۔
اُن کی یہ بات سن کر، سامنے بیٹھی ڈاکٹر نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
" کیا آپ کو اب تک سمجھ نہیں آئی کہ آپ کس مرض میں مبتلا ہو چکی ہیں؟"
مریضہ پریشان ہو کر بولیں۔
"نہیں آپ ہی بتائیے مجھے تو کوئی مرض نہیں لگا آج تک۔ کیا میں کسی خطرناک مرض میں مبتلا ہوں؟
کیا میرا علاج بھی ممکن ہو سکے گا۔
آپ نے بغیر کوئی ٹیسٹ کیے کیسے جان لیا کہ میں کسی مرض میں مبتلا ہوں؟"
ڈاکٹر نے اسی مدھم سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا۔
"کہ آپ جس طرح میرے کلینک میں داخل ہوئی تھیں میں اس وقت ہی سمجھ گئی تھی کہ آپ تکبّر اور ریا کے مرض میں مبتلا ہو چکی ہیں۔
کیا آپ جانتی ہیں کہ یہی بیماری ابلیس کو بھی لگی تو وہ ساری زندگی کے لیے لعنت زدہ ہو کر رہ گیا۔ اللہ تعالٰی سورہ بنی اسرائیل کی آیت نمبر 37 میں فرماتے ہیں۔ "زمین پر اکڑ کر نہ چلو۔ نہ تم زمین کو پھاڑ سکتے ہو، نہ پہاڑوں کی بلندی کو چھو سکتے ہو۔" دیکھیں، ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ "جنت میں وہ شخص داخل نہ ہوگا، جس کے دل میں ذرہ برابر بھی تکبّر و غرور ہوگا۔:
ایک شخص نے عرض کیا "کہ آدمی پسند کرتا ہے کہ اس کے کپڑے اچھے ہوں جوتے اچھے ہوں"۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "اللہ جمیل ہے اور جمال پسند کرتا ہے۔ کبر تو حق کے مقابلے میں اترانے اور لوگوں کو حقیر سمجھنے کا نام ہے۔"
(ابو داؤد)
مریضہ نے ڈاکٹر کی طرف ندامت سے دیکھتے ہوئے کہا، "لگتا ہے آپ کو مرض کی تشخیص کرنے میں کافی مہارت حاصل ہے۔"

ڈاکٹر نے نرمی سے پوچھا کہ "ایک اور سوال کر سکتی ہوں کیا آپ سے؟"
مریضہ کی اجازت کے بعد ڈاکٹر نے سوال کیا "کہ آپ کی نمازوں کا کیا حال ہے؟"
مریضہ نے جواب دیا "جب گھر میں اکیلی ہوتی ہوں اور نماز پرھتی ہوں تو بس جلدی سے نماز پڑھ لیتی ہوں لیکن تب بھی پوری یکسوئی سے نہیں پڑھ پاتی دماغ میں ہزاروں اور خیالات چل رہے ہوتے ہیں، لیکن جب میں کہیں جاتی ہوں یا گھر میں کوئی مہمان آئے ہوں تو لوگوں کے سامنے دکھاوے کی لمبی لمبی نمازیں پڑھنے میں بہت خوشی ملتی ہے، لیکن ایک احساس گناہ بھی رہتا ہےکہ اللہ کے سامنے اتنی تابعداری کا مظاہرہ کیوں نہیں کر پاتی۔"
سامنے موجود ڈاکٹر نے تاسف سے سر ہلاتے ہوئے جواب دیا۔ "یہ چیز ہم سب میں عام ہوتی جا رہی ہے۔ آپ میں کم سے کم ابھی احساسِ ندامت تو باقی ہے، ان شاء اللہ آپ جلد ہی اس مرض سے شفایاب ہوں گی۔"
حضرت شداد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جس نے دکھاوے کی نماز پڑھی، اس نے شرک کیا، جس نے دکھاوے کے لیے روزہ رکھا اس نے شرک کیا اور جس نے دکھاوے کی غرض سے صدقہ کیا، اس نے بھی شرک کیا۔ (مسند احمد)
(مریضہ جو اب تک ایک اکڑ اور شان سے تن کر کرسی پہ بیٹھی تھیں یہ سن کر شرمندگی سے سر کو جُھکا کر بیٹھ گئیں۔)
ڈاکٹر نے اسی شفقت سے مسکراتے ہوئے کہا "آپ اپنا احتساب کر کے خود کو جس کٹہرے میں کھڑا پا رہی ہیں وہیں آپ کو رہنمائی بھی مل رہی ہے، لیکن اب آپ کی نیّت پر ہے کہ آپ خود کو اس مرض اور برائی سے کیسے نجات دلاتی ہیں۔
علاج کے لیے تو سب سے پہلے آپ اپنے دل سے یہ خیال نکال دیں کہ میں ایسی ہوں اور میں ویسی ہوں۔ یہ ایک لفظ 'میں' ہماری پوری ذات کو ایسے تباہ کرتا ہے، جیسے دیمک لکڑی کو۔ صرف یہ سوچیں کہ تعریف کے قابل صرف اور صرف اللہ پاک کی ذات ہے، میری کوئی حیثیت نہیں مجھے صرف وہی نوازتا ہے اور مجھے اسی کا شکر گزار ہونا ہے میرا ہر اچھا عمل اسی کے لیے ہے۔
جب لوگ آپ کی اور آپ سے منسلک باقی رشتوں میں آپ کی کارکردگی اور آپ کے عمل کی تعریف کریں تو دل ہی دل میں الحمدللہ رب العالمین(تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں) کا ورد کیا کریں۔ اللہ تعالٰی کی عطا کی گئی نعمتوں کا شکر ادا کیا کریں۔ اپنے اندر یہ احساس پیدا کریں کہ ہمیں اللہ کی نعمتوں کا حساب دینا ہے۔
مریضہ نے اشک بار ہوتی آنکھوں سے اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے ڈاکٹر سے پوچھا اور تو کچھ علاج رہ نہیں گیا۔ کہ آج میرے اللہ نے مجھے اپنی آنکھوں سے تکبّر کی پٹی اتارنے کی توفیق دی ہے کیا آپ کوئی ایسی بات بتائیں گی جو مجھے اپنے اندر اس سب کو دوبارہ پیدا ہونے سے بچا لے۔
ڈاکٹر نے کہا کہ پیاری بہنا سیکھنے کا عمل ہمیشہ جاری رہتا ہے، جہاں کوئی اچھی بات سیکھیں اسے عمل میں لائیں اور تب ہی کسی کو نصیحت کریں ورنہ اپنے عمل سے ثابت کرتی جائیں۔
اور یہ دعا اپنی دعاؤں میں شامل کر لیجیے۔
"اے میرے اللہ، میرے دل کو پاک کر دے نفاق سے، میرے عمل کو ریا سے، میری زبان کو جھوٹ سے، میری آنکھوں کو خیانت سے اور تو جانتا ہے آنکھوں کی خیانت کو، اور جو کچھ دلوں میں چھپا ہے۔:
اللہ تعالی ہم سب کو اس مرض سے بچا کر رکھے اور اپنا احتساب کیا کیجیے کہ کہیں ہم بھی جانے انجانے میں ایسے ہی کسی مرض میں مبتلا تو نہیں!! اللہ ہم سب کو اپنی آخرت سنوارنے کی توفیق دے۔ آمین۔