001 - الگورتھم تحریر: سحر آزاد

الگورتھم

ہم سب یہ تو جانتے ہی ہیں کہ عصر حاضر کی مشہور ترین اورسب سے زیادہ مستعمل مشین کمپیوٹر ہے۔ لیکن ہم میں سے شاید چند ایک ہی جانتے ہوں کہ یہ کمپیوٹر کس اصول کے تحت اپنا کام سرانجام دیتا ہے۔
الحوارزم(فارس) کے ایک مشہور مسلمان ریاضی دان محمد ان موسیٰ الخوارزمی نے یہ ریاضی کا یہ ایک ایسا طریقہ دریافت کیا تھا جس میں درجہ بہ درجہ مشکلات کا حل کیا جاتا تھا۔ ویسے تو اس طریقہ کار کو ہم زندگی کہ ہر عمل کی آسانی کے لیے استعمال کرسکتے ہیں مگر ریاضی اور کمپیوٹر سائنس میں یہ طریقہ کار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
یہ طریقہ کار کے لیے کوئی مخصوص کمپیوٹر یا مخصوص پروگرامنگ زبان مختص نہیں ہوتی۔ اس لیے کسی بھی مسئلے کو ہم اگر ایک بار الگورتھم سے ترتیب دے لیں تو اسے کسی بھی کتاب، کمپیوٹر اور پرگرامنگ زبان میں استعمال کر سکتے ہیں۔
مثال کے طور پر اگر ہمارے پاس ۱۰ ہزار ٹیلی فون نمبرز ہیں ہم نے فقط ایک منٹ میں اپنا مطلوبہ نمبر دریافت بھی کرنا ہے جب کہ اس دوران ان ۱۰ ہزار نمبروں میں مزید اضافہ بھی ہوتا جائے گا۔ اس مشکل کو ہم الگورتھم سے کیسے حل کریں گے۔جیسے کہ پہلے ہی بتایا جا چکا ہے کہ الگورتھم کے مسئلے کو درجہ بہ درجہ حل کیا جاتا ہے۔ اس بڑی مشکل کے پہلے حصے کیے جائیں گے۔ یعنی پہلے نمبروں کو تربیت علیحدہ علیحدہ کیا جائے گا۔
جیسے اگر نمبر 1145006 ہے تو اس کو
پہلا نمبر 1
دوسرا نمبر 1
تیسرا نمبر 4
چوتھا نمبر 5
پانجواں نمبر 0
چھٹا نمبر 0
ساتوں نمبر 6
میں تقسیم کر دیا جائے گا۔ اب لسٹ میں سب سے پہلے پورے نمبر کو دیکھنے کی بجائے صرف پہلا نمبر دیکھا جائے گاکہ کیا وہ لسٹ میں موجود ہے۔
جیسے
1145000
2155007
3250107
1145001
1145007
1145004
پہلا نمبر چیک کرنے پر جواب اس طرح رزلٹ ملے گا۔
1042000
2155007
3250107
1143001
1144007
1145004
اس طرح مندرجہ زیل لسٹ بچ جائے گی۔
1042000
1143001
1144007
1145004
پھر دوسرا نمبر چیک کریں گے تو لسٹ اور مختصر ہو جائے گی۔
1042000
1143001
1144007
1145004
اس طرح سے الگورتھم کے زریعے سے درجہ بدرجہ جواب واضع ہوتا جاتا ہے اور معلومات تک فراہمی یقینی ہو جاتی ہے۔
اسی طرح ہم دوسری نوعیت کے مسائل جیسے؛۔
خط پوسٹ کیسے کیا جائے سے لے کر عالمی معاشیت کو کیسے بچایا جائے تک کے سارے معاملات درجہ بدرجہ حل کر سکتے ہیں۔ اور اس طریقہ کار کو الگورتھم کہا جاتا ہے۔
ریاضی میں سب نے عاداعظم معلوم کرنا تو پڑھا ہی ہو گا۔ وہ بھی اسی الگوتھم کی ایک عملی شکل ہے۔