007 - آئی ٹی کنسلٹنٹ کی حقیقیت تحریر : امان

آئی ٹی کنسلٹنٹ کی حقیقت

پہاڑی کے سرسبز دامن میں ایک چرواہا اپنی بھیڑیاں چرا رہا تھا کہ کہیں سے ایک چمچاتی ہوئی کار، مٹی اڑاتی ہوئی وہاں آئی اور چرواہے کے پاس آ کر رک گئی۔ چرواہا بہت حیران ہوا کہ اس ویران میں اتنی قیمتی کار کا کیا کام! وہ کار کی طرف دیکھنے لگا۔ اگلی نشست پر ایک شخص قیمتی پینٹ، شرٹ، کوٹ اور ٹائی میں ملبوس بیٹھا تھا۔ دھوپ سے بچنے کے لیے اس نے آنکھوں پر کوئی سیاہ چشمہ لگا رکھا تھا۔ ابھی چرواہے کی حیرانی جاری ہی تھی کہ وہ آدمی کار کا دروازہ کھول کر اترا اور چشمے کے پیچھے سے چرواہے کو دیکھتے ہوئے بولا۔

"یہ بھیڑیں تمہاری ہی ہیں نا۔"

"جی ہاں! یہ میری ہی بھیڑیں ہیں۔" چرواہے نے اثبات میں جواب دیا۔

"ٹھیک!! اگر میں تمہیں یہ بتا دوں کہ تمہارے پاس کتنی بھیڑیں ہیں تو کیا تم اپنی ایک بھیڑ مجھے دے دو گے۔"

چرواہا دل میں حیران تو ہوا لیکن کچھ سوچ کر بولا۔

"اگر تم نے ان بھیڑوں کی ٹھیک ٹھیک تعداد بتا دی تو میرا ایک جانور تمہارا۔"

یہ جواب سن کر وہ اجنبی دوبارہ گاڑی میں داخل ہوا اور دوسری نشست پر رکھا ہوا لیپ ٹاپ آن کر لیا۔ لیپ ٹاپ کو موبائل فون سے منسلک کرنے کے بعد وہ انٹرنیٹ پر آن لائن ہوگیا۔ پھر وہ مضوعی سیاروں کے ذریعے زمینی مقامات کی ہائی ریزولوشن تصویریں فراہم کرنے والی ایک ویب سائٹ پر لاگ ان ہوا اور اپنے جی پی ایس آلے کو دیکھتے ہوئے اس جگہ کے طول البلد اور ارض البلد کی پیمائشیں وہاں ٹائپ کیں۔

کچھ ہی دیر بعد اس کا لیپ ٹاپ اس میدان کی ایک ہائی ریزولوشن تصویر ڈاؤنلوڈ کر رہا تھا جس میں ساری بھیڑیں سفید نقطوں کی مانند نظر آ رہی تھیں۔ تصویر تھوڑی ہی دیر میں مکمل ڈاؤن لوڈ ہوگئی۔ اب اس نے کوئی ایسا اپیلی کیشن سافٹ ویئر لانچ کیا جس نے دو تین منٹ میں ہی تمام سفید نقطے گن لیے اور نتائج لیپ ٹاپ اسکرین پر جگمگانے لگے۔ وہ شخص گاڑی سے باہر نکلا اور فخر سے چرواہے کو مخاطب کر کے بولا۔

"تمہارے پاس کل 1365 بھیڑیں ہیں۔ بولو کیا میں نے غلط کہا۔"

چرواہا بولا۔ "تم نے بالکل صحیح کہا۔"

"تو پھر لاؤ اپنی ایک بھیڑ مجھے دے دو۔" اجنبی نے کہا۔ چرواہے نے خاموشی سے ایک بھیڑ اس کے حوالے کر دی۔ وہ شخص کار میں بیٹھنے لگا تو چرواہے نے اس سے کہا۔ "اگر میں تمہیں یہ بتا دوں کہ تمہارا پیشہ کیا ہے تو کیا تم میرا جانور مجھے واپس دے دو گے۔"

اجنبی کو یہ سوال مضحکہ خیز لگا اور وہ مذاق اڑانے والے انداز میں جواباً چرواہے سے کہنے لگا۔

"مجھے منظور ہے۔ بتاؤ میں کیا کرتا ہوں۔"

چرواہا معنی خیز انداز میں مسکرایا اور کہنے لگا۔ "میرا اندازہ ہے کہ تم آئی ٹی کنسلٹنٹ ہو۔"

اب حیران ہونے کی باری اجنبی کی تھی۔ "بالکل ٹھیک پہچانا، مگر تمہیں کیسے پتا چلا۔"

"بہت آسانی سے۔" چرواہا کہنے لگا۔ "پہلے تو تم کچھ پوچھے گچھے بغیر یہاں آئے۔ دوسرے یہ کہ تم نے مجھے وہ بات بتانے کا معاوضہ طلب کیا جو میں پہلے سے جانتا تھا۔ اور تیسری بات یہ کہ تمہیں درحقیقت میرے کام کی نوعیت کے بارے میں کچھ نہیں پتا۔ برائے مہربانی اب میری بھیڑ مجھے واپس کردو۔!