001 - فضائل رمضان از سلمان سلو،

فضائل رمضان
-- سلمان سلو

اسلامی سال کا نواں مہینہ رمضان المبارک ہے۔ رمضان شریف کا مہینہ سب مہینوں سے افضل اور اعلٰی ہے۔ اس مہینہ میں اُمّتِ مرحومہ پر روزے فرض ہوئے۔ اس مہینہ کا نام توریت میں''حط'' اور انجیل میں ''طاب'' اور قرآن شریف میں "رمضان" فرمایا۔ ''حط'' اس لئے فرمایا کہ یہ گناہوں کو کھوتا ہے۔ ''طاب'' اس لئے کہا کہ روزہ دار اس مہینہ میں گناہوں سے پاک ہو جاتا ہے اور قربت بھی فرمایا اس واسطے کہ بندوں کو اس مہینہ میں اللہ پاک کے ساتھ نہایت قربت ہوتی ہے۔۔ اور رمضان ماخوذ ''رمض''سے ہے رمض اس بارش کو کہتے ہیں جو خریف سے پہلے ہو۔ پس! اس مہینہ میں اوّل دس تاریخوں میں رحمت برستی ہے اور دوسری دہائی میں مغفرت اور تیسری دہائی میں دوزخ سے آزادی، اور مناقب محمدی میں لکھا ہے کہ رمضان شریف میں پندرہ رحمتیں نازل ہوتی ہیں۔ اوّل فراخی رزق، دوسرے زیادتی زر و مال تیسرے جو کھانا کھایا جاتا ہے وہ سب عبادت میں لکھا جاتا ہے۔۔ چوتھے کل اعمالِ نیک دو چند ہو جاتے ہیں۔ پانچویں کل فرشتے زمین آسمان کے روزہ دار کے لئے بخشش مانگتے ہیں۔ چھٹّے شیاطین بند کئے جاتے ہیں۔ ساتویں دروازے رحمت کے کشادہ ہوتے ہیں۔ آٹھویں جنت کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور دوزخ کے بند کئے جاتے ہیں۔ نویں ہر رات میں ساتھ لاکھ گنہگار دوزخ سے آزاد ہوتے ہیں۔ دسویں ہر جمعہ کی رات میں اس قدر دوزخی دوزخ سے آزاد ہوتے ہیں جتنے کہ سات دن میں آزاد ہوتے ہیں یعنی 49 لاکھ۔۔گیارھویں آخر رات رمضان میں تمام گناہ روزہ داروں کے بخشے جاتے ہیں۔۔ بارہویں ہر روز بہشت کو آراستہ کیا جاتا ہے۔۔ تیرھویں روزہ داروں کی دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ چودھویں تمام بدن، گناہوں سے روزہ داروں کا پاک ہو جاتا ہے۔ پندرھویں روزہ داروں کو خوشنودی اللہ پاک کی حاصل ہوتی ہے۔ اس مہینہ کا فرض دوسرے مہینہ کے ستّر فرضوں کے برابر ہے اور نفل دوسرے مہینہ کے فرضوں کے برابر ثواب میں ہے۔

حضرت سلمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شعبان کی آخر تاریخ میں ہم لوگوں کو وعظ فرمایا کہ تمہارے اوپر ایک مہینہ آ رہا ہے جو بہت بڑا مہینہ ہے، بہت مبارک مہینہ ہے۔ اس میں ایک رات ہے، (شب قدر) جو ہزار مہینوں سے بڑھ کر ہے اللہ تعالٰی نے اس مہینے کے روزہ کو فرض فرمایا اور اس کے رات کے قیام (یعنی تراویح) کو ثواب کی چیز بنایا ہے۔ جو شخص اس مہینہ میں کسی نیکی کے ساتھ اللہ کا قرب حاصل کرے ایسا ہے جیسا کہ غیر رمضان میں فرض کو ادا کیا اور جو شخص اس مہینہ میں کسی فرض کو ادا کرے وہ ایسا ہے جیسا کہ غیر رمضان میں ستر 70 فرض ادا کرے۔ یہ مہینہ صبر کا ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے اور یہ مہینہ لوگوں کے ساتھ غم خواری کرنے کا ہے اس مہینہ میں مومن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے۔ جو شخص کسی روزہ دار کا روزہ افطار کرائے اس کے لئے گناہوں کے معاف ہونے اور آگ سے خلاصی کا سبب ہوگا، اور روزہ دار کے ثواب کی مانند اس کو ثواب ہوگا مگر اس روزہ دار کے ثواب سے کچھ کم نہیں کیا جائے گا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ ہم میں سے ہر شخص تو اتنی وُسعت نہیں رکھتا کہ روزدار کو افطار کرائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (پیٹ بھر کِھلانے پر موقوف نہیں)یہ ثواب تو اللہ جل شانہ ایک کھجور سے کوئی افطار کرادے، یا ایک گھونٹ پانی پلادے، یا ایک گھونٹ لسّی پلادے، اس پر بھی مرحمت فرما دیتے ہیں۔۔۔یہ ایسا مہینہ ہے کہ اس کا اوّل حصّہ اللہ کی رحمت ہے اور درمیانی حصّہ مغفرت ہے اور آخری حصّہ آگ سے آزادی ہے۔
جو شخص اس مہینہ میں ہلکا کردے اپنے غلام (خادم) کے بوجھ کو حق تعالٰی شانہ اسکی مغفرت فرماتے ہیں اور آگ سے آزادی فرماتے ہیں، اور چار چیزوں کی اس میں کثرت رکھا کرو جن میں سے دو چیزیں اللہ تعالٰی کی رضا کے واسطے اور دو چیزیں ایسی ہیں کہ جن سے تمہیں چارہ کار نہیں۔ پہلی دو چیزوں جن سے تم اپنے رب کو راضی کرو وہ کلمہ طیبہ اور استغفار کی کثرت ہے اور دوسری چیزیں یہ ہیں کہ جنت کی طلب کرو اور آگ سے پناہ مانگو جو شخص کسی روزہ دار کو پانی پلائے حق تعالٰی (قیامت کے دن) میرے حوض سے اس کو ایسا پانی پلائیں گے جس کے بعد جنت میں داخل ہونے تک پیاس نہیں لگے گی۔۔۔

نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ رمضان المبارک کی ہر شب و روز میں اللہ کے یہاں سے (جہنم کے) قیدی چھوڑے جاتے ہیں اور ہر مسلمان کے لئے ہر شب و روز میں ایک دُعا ضرور قبول ہوتی ہے۔۔

بہت سی روایات میں روزے دار کی دُعا کا قبول ہونا وارد ہوا ہے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ افطار کے وقت دُعا قبول ہوتی ہے۔۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی ایک روایت سے ترغیب میں نقل کیا ہے کہ رمضان کی ہر رات میں ایک مُنادی پکارتا ہے کہ اے خیر کی تلاش کرنے والے مُتوجہ ہو اور آگے بڑھ، اور اے بُرائی کے طلبگار بس کر اور آنکھیں کھول۔ اس کے بعد وہ فرشتہ کہتا ہے کوئی مغفرت کا چاہنے والا ہے کہ اس کی مغفرت کی جائے، کوئی توبہ کرنے والا ہے کہ اس کی توبہ قبول کی جائے، کوئی دعا کرنے والا ہے کہ اس کی دعا قبول کی جائے، کوئی مانگنے والا ہے کہ اس کا سوال پورا کیا جائے۔ اس سب کے بعد یہ امر بھی نہایت ضروری اور قابلِ لحاظ ہے کہ دعا کے قبول ہونے کے لئے کچھ شرائط بھی وارد ہوئی ہیں کہ ان کے فوت ہونے سے بسا اوقات دعا رد کی جاتی ہے منجملہ ان کے حرام غذا ہے کہ اس کی وجہ سے بھی دعا رد ہو جاتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ بہت سے پریشان حال آسمان کی طرف ہاتھ کھینچ کر دُعا مانگتے ہیں اور یارب یارب کرتے ہیں مگر کھانا حرام، لباس حرام، پینا حرام، ایسی حالت میں کہاں دُعا قبول ہو سکتی ہے۔

اس ماہ مبارک میں سَحری کھانے کا بھی خاص اہتمام کرنا چاہیے ۔۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ خود حق تعالٰی شانہ اور اس کے فرشتے سَحری کھانے والوں پر رحمت نازل فرماتے ہیں۔
سَحری اس کھانے کو کہتے ہیں جو صبح کے قریب کھایا جائے۔ کس قدر اللہ جل جلالہ کا انعام و احسان ہے کہ روزہ کی برکت سے اس سے پہلے کھانے کو جسے سَحری کہتے ہیں امت کے لئے ثواب کی چیز بنا دیا اور اس میں بھی مسلمانوں کو اجر دیا جاتا ہے۔ بہت سی احادیث میں سَحری کھانے کی فضیلت اور اجر کا ذکر ہے۔ بہت سے لوگ کاہلی کی وجہ سے اس فضیلت سے محروم رہ جاتے ہیں، اور بعض لوگ تراویح پڑھ کر کھانا کھا کر سو جاتے ہیں اور وہ اس ثواب سے محروم رہتے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسم کا ارشاد ہے کہ ہمارے اور اہل کتاب (یہود و نصاری) کے روزہ میں سحری کھانے سے فرق ہوتا ہے کہ وہ سَحری نہیں کھاتے۔ ایک جگہ ارشاد ہے سَحری کھایا کرو کہ اس میں برکت ہے، ایک اور جگہ ارشاد ہے کہ تین چیزوں میں برکت ہے۔ جماعت میں، اور ثرید (گوشت میں پکی ہوئی روٹی) میں اور سَحری کھانے میں۔
حضرت عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ ایک صحابی سے نقل فرماتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایسے وقت حاضر ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سَحری نوش فرما رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ایک برکت کی چیز ہے جو اللہ نے تم کو عطا فرمائی ہے اس کو مت چھوڑنا۔ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے متعدّد روایات میں سحور کی ترغیب فرمائی ہے حتٰی کہ ارشاد ہے کہ اور کچھ نہ ہو تو ایک چھوہارا ہی کھالے یا ایک گھونٹ پانی ہی پی لے۔۔ روزہ داروں کو سَحری کا خاص اہتمام کرنا چاہیے کہ اپنی راحت، اپنی نفع اور مفت کا ثواب۔۔۔ مگر اتنا ضروری ہے کہ نہ اتنا کم کھاوے کہ عبادت میں ضُعف محسوس ہونے لگے اور نہ اتنا زیادہ کھاوے کہ دن بھر کھٹّی ڈکاریں آتی رہیں۔۔ خود احادیث میں بھی اس طرف اشارہ ہے کہ چاہے ایک چھوارہ ہو یا ایک گھونٹ پانی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حُضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ روزہ آدمی کے لئے ڈھال ہے جب تک اس کو پھاڑ نہ ڈالے۔۔ کسی نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ روزہ کس چیز سے پھٹ جاتا ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا جھوٹ اور غیبت سے۔ ان دونوں روایتوں میں اور اس طرح متعدّد روایات میں روزہ میں اس قسم کے اُمور سے بچنے کی تاکید آئی ہے اور روزہ کا گویا ضائع کر دینا اس کو قرار دیا ہے۔۔ بعض عُلماء کے نزدیک جھوٹ اور غیبت سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ یہ دونوں چیزیں ان حضرات کے نزدیک ایسی ہیں جیسے کہ کھانا پینا وغیرہ سب روزہ کو توڑنے والی اشیاء ہیں جمہُور کے نزدیک اگرچہ روزہ نہیں ٹوٹتا مگر روزہ کے برکات جاتے رہنے میں تو کسی کو بھی انکار نہیں۔۔

مشائخ نے روزہ کے آداب میں چھ اُمور تحریر فرمائے ہیں کہ روزہ دار کو ان کا اہتمام ضروری ہے۔ اول۔ نگاہ کی حفاظت کہ کسی بے محل جگہ نہ پڑے حتٰی کہ کہتے ہیں کہ بیوی پر بھی شہوت کی نگاہ نہ پڑے، پھر اجنبی کا کیا ذکر اور اسی طرح کسی لہو و لعب وغیرہ نا جائز جگہ نہ پڑے۔ دوسری چیز زبان کی حفاظت ہے۔ جھوٹ، چغل خوری، لغو بکواس، غیبت، بدگوئی، بدکلامی، جھگڑا وغیرہ سب چیزیں اس میں داخل ہیں۔ تیسری چیز، جس کا روزہ دار کو اہتمام ضروری ہے کہ وہ کان کی حفاظت کرے ہر مکروہ چیز سے جس کا کہنا اور زبان سے نکالنا ناجائز ہے اس کی طرف کان لگانا اور سُننا بھی نا جائز ہے۔ نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے کہ غیبت کا کرنے والا اور سُننے والا دونوں گناہ میں شریک ہیں۔ چوتھی چیز، باقی مانندہ اعضاء بدن مثلاً ہاتھ کا ناجائز چیز کے پکڑنے سے، پاؤں کا ناجائز چیز کی طرف چلنے سے روکنا اور اسی طرح اور باقی اعضاء بدن کا۔ اسی طرح پیٹ کا افطار کے وقت مُشتبہ چیز سے محفوظ رکھنا۔۔۔۔۔۔ پانچویں چیز، افطار کے وقت حلال مال سے بھی اتنا زیادہ نہ کھانا کہ شکم سیر ہو جائے اس لئے کہ روزہ کی عرض اس سے فوت ہو جاتی ہے مقصود روزہ سے قوت شہوانیہ کا کم کرنا ہے اور قوت نورانیہ اور ملکیہ کا بڑھانا ہے۔۔ چھٹی چیز، جس کا لحاظ روزہ دار کے لئے ضروری فرماتے ہیں یہ ہے کہ روزہ کے بعد اس سے ڈرتے رہنا بھی ضروری ہے کہ نہ معلوم روزہ قابل قبول ہے یا نہیں۔۔۔۔۔۔ اس ماہ مبارک میں تراویح کا بھی خاص اہتمام کرنا چاہیے جس طرح دن کی عبادت روزہ ہے تو رات کی عبادت بیس رکعت تراویح ادا کرنا ہے۔۔