002 - کینیڈا میں عید از ام طالعہ

عید کے لفظ کے ساتھ ہی ایک پُر رونق چاند رات اور پھر گہما گہمی والا دن تصوّر میں ابھر آتا ہے لیکن یہ صورت حال یا تو ایک مسلمان ملک میں ہو سکتی ہے یا پھر اپنے پیارے دیس پاکستان میں۔ ایک غیر اسلامی ملک میں اس کا تصوّر تھوڑا پھیکا ہو جاتا ہے خاص طور پر ایسی جگہ جہاں پر آپ کا کوئی عزیز بھی نہ ہو۔

ہمیں اپنی روایات یاد تو ہوتی ہی ہیں لیکن جب بچے بڑے ہو رہے ہوں تو کوشش یہی ہوتی ہے کہ ان کو مذہب کے ساتھ ساتھ اپنی روایات اور ثقاقت کے بارے میں بھی بتایا جائے۔ کچھ سال پہلے ہم نے پورا رمضان پاکستان میں گزارا اور وہاں تو افطاری کا باقاعدہ اہتمام کیا جاتا ہے۔ میری ایک بیٹی اس وقت ڈھائی پونے تین سال کی تھی۔ جب ہم واپس آئے تو وہ ایک دو مہینوں کے بعد پوچھنے لگی کہ مما! پکلولے (پکوڑے) کدھر رہتے ہیں؟ پھر تب سے میں نے اسے کڑھی پکوڑے بھی کھلانے شروع کیے۔ اب یہ اس کے پسندیدہ کھانوں میں سے ایک ڈش ہے۔

اپنی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے یہاں کی پی۔ سی۔ سی ۔ اے (پاکستان کینیڈا کلچرل ایسوسی ایشن) چاند رات کا اہتمام کرتی ہے جس میں خواتین اور بچّیاں اکٹھی ہو کر مہندی لگاتی ہیں۔ اگر کوئی اپنی کسی غیر مسلم دوست کو انوائٹ کرنا چاہے تو وہ بھی اس میں شامل ہوتی ہیں اور یہاں پر مہندی کو بہت پسند بھی کیا جاتا ہے۔

عید کی نماز کے لیے یہاں کی مسجد چونکہ چھوٹی ہے اور اللہ کے فضل و کرم سے مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اس لیے اسلامک ایسوسی ایشن ایک بڑا ہال بُک کرواتی ہے جہاں پر ہم سب بچوں سمیت نماز ادا کرنے جاتے ہیں۔ عید والے دن سب کے گھروں میں عید ملنے کے لیے جانا ناممکن ہو جاتا ہے اس لیے کوشش یہی ہوتی ہے کہ نماز کے لیے پہنچا جائے۔ نماز میں مختلف ملکوں کے لوگ آئے ہوئے ہوتے ہیں مثلاً پاکستان، انڈیا، افغانستان، صومالیہ، شام، عراق، سوڈان، لیبیا، نائجیریا وغیرہ اور وہاں پر اس وقت ایک روح پرور نظارہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ ملکوں میں چاہے جتنے بھی فاصلے ہوں، لیکن اس وقت دلوں میں کوئی فاصلہ نہیں ہوتا۔ نماز کے بعد سب سے عید ملی جاتی ہے اور وہیں پر انتظام کیے ہوئے ہلکے پھلکے ناشتے سے تواضع کی جاتی ہے۔ بچوں کے لیے چاکلیٹس، غباروں اور جھولوں کا بھی اہتمام ہوتا ہے۔

نماز کے بعد باقی دن کے لیے لوگوں نے اپنے اپنے حلقۂ احباب کے لیے مختلف پروگرام ترتیب دیے ہوئے ہوتے ہیں۔ کسی نے روایتی ناشتے کا اہتمام کیا ہوتا ہے جس کو "برنچ" کا نام دیا جا سکتا ہے حس میں نان چھولے، نہاری، حلیم، حلوہ اور سویاں شامل ہوتی ہیں اور کسی نے ون ڈش پارٹی کا انتظام کیا ہوتا ہے۔ پی۔ سی۔ سی۔ اے کے زیر اہتمام ایک ڈنر پارٹی بھی ارینج کی جاتی ہے جس میں لوگ اپنی مصروفیات کے حساب سے شرکت کرتے ہیں۔

اگر عید ہفتے کے درمیانی دنوں میں آ رہی ہے تو آنے والے ویک اینڈ پر اسلامک ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام بھی ایک ون ڈش گیدرنگ کا اہتمام کیا جاتا ہے، جس میں تقریباً سبھی ممالک کے لوگ شرکت کرتے ہیں۔