004 - یہ پاکستان تو نہیں ہے از نور العین ساحرہ

یہ پاکستان تو نہیں ہے

بڑی سی کڑاھی کی چمکیلی ریت کے اندر بھٹ بھٹ کر کے دانے بُھنتے جا رہے تھے اور مائی رشیداں سخت گرمی کے باوجود تپتی دھوپ میں بیٹھی اپنی بھٹّی جھونکنے میں مصروف تھی۔ وہ بھی کیا کرتی؟ اسکی بھی مجبوری تھی، ایک ہی جوان نکھٹو بیٹا تھا اور ایک نئ نویلی نخریلی بہو تھی۔ جس کے وہ حتی المقدور اپنی حیثیت سے بڑھ کر ناز اٹھانے کی کوشش کرتی رہتی تھی۔ پسینہ اسکے چہرے سے بہتا ہوا گریبان کو بھگو رہا تھا۔ وہ اپنی میلی چادر سے بار بار مُنہ پونچھ رہی تھی۔
زندگی نے قدم قدم پر اسکے امتحان لئے تھے۔ بچپن میں یتیمی سے شروع ہو کر یہ سلسلہ نوجوانی میں بیوگی پر ختم ہونے کی بجائے ابھی تک روز ایک نیا تماشہ دکھانے پر مصر رہتا تھا۔
بیوہ ہونے سے پہلے اس کا ایک ہی بیٹا جمال تھا جو جیسے جیسے عمر میں بڑا ہوتا گیا ویسے ویسے اس کے خواب بھی اُونچے سے اُونچے تر ہوتے چلے گئے تھے اور "گُن" کم سے کم ترین۔ اس کا سب سے بڑا کُل وقتی مشغلہ بستر پر لیٹ کر "باہر" جانے کے خواب دیکھنا تھا۔

اسے اپنی بھٹیارن ماں سے بہت سی شکایات تھیں۔ اسکی غریب ماں اسکے لئے ہمیشہ دوستوں کے سامنے شرمندگی کی وجہ بنی تھی۔ فیس نہ ہونے کی وجہ سے وہ شہر کے اسکول سے میٹرک کرنے کے بعد ہی واپس آ گیا تھا۔ تب سے اب تک وہ صرف اور صرف بیرون ملک جانے کے چکر میں لگا ہوا تھا۔ اس کو یقین ہو چکا تھا پاکستان میں رہتے ہوئے اسکی زندگی مزید بگڑ تو سکتی ہے، مگر کبھی بن نہیں سکتی۔

جمال کے باقی خواب تو پورے نہیں ہو سکتے تھے مگر شکل و صورت اچھی ہونے کی وجہ سے گاؤں کے چوہدری کمال دین کی اکلوتی بیٹی کلثوم بیگم سے شادی ضرور ہو گئی تھی۔

کلثوم کی ماموں زاد بہن زینب اتفاق سے بیاہ کر لندن چلی گئی تھی اور اسکو دیکھ دیکھ کر کلثوم نے بھی لندن جانا اور وہیں بس جانا اپنی زندگی کا سب سے بڑا خواب بنا لیا تھا۔

اٹھتے بیٹھتے سوتے جاگتے ایک ہی سودا اس کے سر میں سمایا ہوا تھا۔ ہر صورت میں وہ جمال کو لے کر لندن چلی جانا چاہتی تھی گویا کہ باہر جانے کا شوق رکھنے والے دو دیوانے ایک ساتھ مل گئے تھے۔ اب تو جو بھی ہوتا، کم تھا۔

ماں بھٹّی پر دانے بھون بھون کر جو دو پیسے جوڑتی، وہ لے کر کلثوم اور جمال صبح شام لندن میں زینب اور اسکے میاں رشید کو فون کرنے میں ضائع کر دیتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دو سالوں کی سر توڑ کوشش کے بعد یہ دونوں آخرکار لندن کا ویزا لینے میں کامیاب ہو ہی گئے۔

ٹکٹ کے پیسے نہیں بن رہے تھے، تو مائی رشیداں نے اپنا چھوٹا سا گھر بیچ کر جھگی میں رہنا گوارا کر لیا اور ان پیسوں سے ان دونوں کو ٹکٹ لے دیا۔ گویا اپنے اور اپنے بچوں کے درمیان خود جدائی کی ایک لکیر کھینچ ڈالی۔

کبھی کبھی تو اس کو لگتا تھا جیسے اس کا وجود بھی ایک "بھٹہ" یا "چھلی" ہے۔ جس کو جمال اور کلثوم نمک کے ساتھ صبح شام درد کی کڑاھی میں ڈال کر بھونا کرتے ہیں۔

آخر کار جدائی کا دن آ ہی گیا۔ ہمیشہ کے لئے وہ دونوں بھی بہت سے دوسرے لوگوں کی طرح اپنی ماں کو جلدی لندن بلانے کے جھوٹے وعدے کر کے چلے گئے تھے۔
ایسے وعدے جو کبھی ایفاء کرنے کے لئے نہیں کئے جاتے، بلکہ یہ تو صرف ایسی "خیالی بنیادوں" کی طرح مضبوط ہوتے ہیں جن پر کبھی یقین کی عمارتیں نہیں بنا کرتیں۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ہیتھرو ائیرپورٹ پر یہ دونوں پاگلوں کی طرح ہر چیز کو حیرت بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ جہاز سے اترتے وقت کلثوم نے جہاز والوں کے برتن بھی دھو کر اپنے بیگ میں ڈال لئے تھے۔ تاکہ لندن پہنچ کر کام آئیں۔ اتنے بڑے باتھ روم اور ٹشو پیپزر دیکھ کر جمال کی رال ہی ٹپک پڑی اور پوچھنے لگا ، کیا ہم یہ اٹھا کر گھر لے جائیں؟
اس بات پر کلثوم بے اختیار ہنس پڑی اور بولی۔
"رہنے دو بے وقوف یہ تو پورے لندن میں ہر جگہ ہوں گے۔ ہم کو اٹھانے کی کیا ضرورت؟ یاد نہیں زینب کہتی تھی لندن میں تو ایسا ہر جگہ ہو گا۔۔۔ اور ہم اب خود یہاں ہیں؟ یہ پاکستان تو نہیں ہے؟"

کلثوم صرف مڈل پاس تھی۔ اچھی نوکری ملنا تو مشکل تھا۔ ان دونوں میاں بیوی کو ایک فایو اسٹار ہوٹل میں بستروں کی چادریں بدلنے کی نوکری مل گئی۔ اسٹاف میں اور پاکستانی لوگ بھی تھے جو ان کی انگلش سمجھنے میں مدد کر دیتے تھے۔

جب کلثوم نے پہلی بار بہت تنگ اور چھوٹی سی پینٹ شرٹ پہنی جو دیکھنے میں کسی بچے کے ناپ کی محسوس ہو رہی تھی۔ جمال اسے دیکھ کر حیران و پریشان رہ گیا۔۔۔ اور سمجھ نہیں سکا کیسے ردّ عمل کا اظہار کرے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسے شوق تو تھا کلثوم کو اس طرح کے حلیے میں دیکھنے کے لئے، مگر سچ تو یہ ہے کہ ایسا دیکھ کر اچھا نہیں لگا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے جھجھکتے ہوئے کلثوم سے کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"تمھیں ایسے کپڑے نہیں پہننے چاہیئں۔ "

یہ سُن کر کلثوم غصّے سے آگ بگولا ہو گئی اور جھلّا کر بولی۔

"کیوں نہ پہنوں جی؟ میں تو ضرور ایسے ہی کپڑے پہنوں گی، جم جم پہنوں گی۔ یہاں کس بات کا ڈر، یہ پاکستان تو نہیں ہے؟"

***************************

جب انسان کا اچھا وقت ہو تو سال بھی منٹوں میں گزر جاتے ہیں اور جب برا وقت چل رہا ہو تو ایک ایک دن صدیاں بن کر گزرتی ہیں۔ یہی حال مائی رشیداں کا تھا۔ وقت کاٹے نہیں کٹتا تھا۔ صبح شام اپنے بچوں کا انتظار کرتی جن کو گئے پانچ سال ہونے کو آئے تھے۔ گاؤں والوں سے کئی بار اس نے ذکر سُنا تھا کہ کلثوم اپنے گھر والوں کو پیسے اور تحفے تحائف بھیجتی رہتی ہے۔ مگر صغرٰی بی بی کے لئے وہ لوگ سال میں صرف ایک خط لکھنا بھی کافی سمجھتے تھے۔

وہ سارا سارا دن اپنی جھگی میں اکیلی بیمار پڑی رہتی۔ اب تو اس میں بھٹی جھونکنے کی ہمت بھی نہیں رہی تھی۔

کبھی کبھار محلّے والے کچھ کھانے پینے کا سامان دے جاتے جو اسکے جسم و جاں کا رشتہ برقرار رکھنے کی وجہ بنا ہوا تھا۔
خدا نہ کرے کبھی کوئی اپنے پیاروں کا یہ روپ دیکھنے کو زندہ رہے۔ شاید اسی لئے قدرت کو اس پر رحم آ گیا تھا۔ ایک رات جو روتے روتے سوئی تو دوبارہ کبھی جاگ نہ سکی۔

***************************

اپنی ماں کی موت کی اطلاع پا کر وہ رک نہ پایا اور فوراً اپنی بیوی اور دو بچوں نبیلہ اور فیضی کو لے کر پاکستان آ گیا۔ گھنٹوں قبر پر بیٹھ کر روتا رہا مگر رونا اب کس کام کا تھا؟ کتنا اچھا ہو لوگوں کو رہتے سمے اس بات کا احساس ہو جایا کرے۔ انکی غریب مجبور ماں تنہائی کا زہر پیتے پیتے کتنی کسمپرسی میں مر گئی تھی۔

ایک مہینہ رک کر وہ لوگ واپس چلے گئے۔ وقت تیزی سے گزرتا جا رہا تھا۔ اس عرصے میں کلثوم کے والدین بھی مر گئے۔ اب پاکستان میں انکا کوئی باقی نہیں بچا تھا۔ اس لئے پاکستان سے ہر تعلّق ٹوٹ گیا۔ انکے بچے نبیلہ اور فیضی بھی سولہ اور سترہ سال کے ہو گئے تھے۔

***************************

ایک دن جب فیضی رات کو دیر سے گھر آیا تو جمال نے اسکو ڈانٹا اور روز جلدی آنے پر اصرار کیا۔ کلثوم ہمیشہ کی طرح ان کے آڑے آ گئی اور فیضی کو بچاتے ہوئے بولی۔۔
"اب بس بھی کرو ۔کتنا ڈانٹو گے؟ ہر بات میں روک ٹوک۔۔۔۔۔۔ہر بات میں بچوں پر پابندیاں لگانا؟ کیا ہو گیا ہے تمھیں؟ مت ایسا کیا کرو۔ تم سترہ سال بعد بھی انہی پرانی فرسودہ روایات سے چپکے کیوں رہتے ہو؟ اب تو خود کو بدل ڈالو۔۔۔ یہ پاکستان تو نہیں ہے؟"

وقت اپنا حساب بے باک کرنے کو شاید ان لوگوں سے بھی زیادہ بےتاب تھا۔۔۔ اسی لئے سب کچھ بہت جلدی جلدی ہوتا چلا گیا۔ پاکستان میں کوئی بچا نہیں تھا، جسکے پاس وہ پلٹ کر جاتے اور یہاں ان کے بچے ان کو اکیلا چھوڑ کر اپنے اپنے بوائے فرینڈ اور گرل فرینڈ کے ساتھ گھر چھوڑ کر جا چکے تھے۔

***************************
دونوں بہت روتے پچھتاتے مگر اب کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئی کھیت۔۔۔۔

وقت آپ کو وہی سُود کے ساتھ لوٹا دیتا ہے، جو آپ نے اپنے مستقبل کے لئے جمع کروایا ہوتا ہے۔ بچوں کی بے راہ روی دیکھ کر جمال بھی زیادہ عرصہ زندہ نہیں رہ سکا اور ایک دن ہارٹ اٹیک میں ختم ہو گیا۔
کلثوم سارا سارا دن اکیلی بولائی بولائی پھرتی۔ بچوں کی کچھ خبر نہیں تھی۔ وہ کبھی اپنی ماں سے ملنے نہیں آتے تھے۔ آزاد ہو چکے تھے اور جانے کہاں کہاں گھومتے رہتے تھے۔ کبھی کبھار زینب اور رشید ملنے آ جاتے۔۔۔۔ اس کے بعد پھر وہی تنہائی، کلثوم ہر وقت پچھتاؤں کے مینار بناتی اور پھر خود اذیتی کے کلہاڑوں سے توڑتی رہتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ساری ساری رات سود و زیاں کا حساب کرتی رہتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ افسوس کہ ہر گوشوارے میں صرف نقصان ہی لکھا ہوا تھا۔
کس کو الزام دیتی۔۔۔۔۔۔۔یہ تو اس کی اپنی تربیت تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جو بویا تھا، وہی کاٹ رہی تھی۔

***************************

ایک دن بلڈ پریشر اتنا بڑھا کہ دماغ کی رگ پھٹ گئی۔ چکرا کر گر گئی اور کوئی اٹھانے بھی نہیں آیا۔ جاب والوں نے بہت فون کئے مگر کوئی جواب نہیں آیا تو اس اپارٹمنٹ کے مالکوں سے رابطہ کیا گیا۔ ان لوگوں نے دروازہ کھولا تو اسکو مرے چار گھنٹے ہو چکے تھے۔
کوئی بھی اسکی لاش پر رونے والا نہیں تھا۔ وہ بے گور و کفن اندر پڑی تھی اور دروازے کے باہر سیکیورٹی والا آدمی کرسی ڈال کر بیٹھا بے زاری سے کسی رشتے دار کے آنے کا انتظار کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انگریز ہمسائے یہ جان کر کندھے اُچکاتے، افسوس کا اظہار کرتے اور لفٹ کی طرف بڑھ جاتے۔ اسکی لاش پر کوئی رونے یا کاندھے دینے کے لئے نہیں رک رہا تھا۔ کوئی رُکتا بھی تو کیسے بھلا؟
یہ پاکستان تو نہیں تھا۔