005 - آزادی از رمیصہ،

آزادی

""مما۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مما۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔اٹھیں۔۔۔ جلدی سے اٹھیں۔۔!!
ہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں جو چند لمحے پہلے ہی نیند میں گئی تھی کہ اس خوبصورت آواز سے بیدار ہو گئی۔ پہلے تو دماغ نے فوری گڑبڑ کا سگنل دیا۔ آخر ایسا کیسے ہو گیا کہ میرے سپوت مجھے جگا رہے ہیں۔ سامنے گھڑی پہ ٹائم دیکھا۔ پانچ۔ ہڑبڑا کے اٹھی اور اٹھتے ہی نظر سائیڈ ٹیبل پہ پڑے کیلنڈر پر گئی۔ چودہ اگست۔۔۔۔۔!!
کر لو گل۔۔۔۔۔۔آزادی کا دن ہے اور میرے لاڈلوں نے میری مشقت آج گھنٹا پہلے ہی شروع کروا دی ہے۔
" اٹھ گئی بیٹا ۔۔۔اٹھ گئی ہوں۔۔۔۔!!" میں نے جمائی روکتے ہوئے کندھے پہ جھولتے ہوئے عمیر کو اتارا۔ ثمر مجھے اٹھتا دیکھ کر پہلے ہی الماری میں گھس گیا تھا۔
" ثمر ٹھہرو! پہلے نہا لو۔ پھر اپنی چیزیں لینا۔" میں نے اسے الماری کے اندر سے باہر نکالتے ہوئے کہا۔ دونوں کو لے کر باہر نکلتے ہوئے ایک رشک بھرے نظر اپنے مجازی خدا پہ ڈالی۔
کیسی پر سکون نیند میں تھے۔ جی تو چاہا کہ جگ کا پانی ڈال کر دونوں کو ان کے حوالے کروں۔ پر دل پہ صبر کی سل رکھتے ہوئے باہر آگئی۔
منہ پہ الٹے سیدھے چھینٹے مار کے عامر اور ثمر کو نہلایا۔ عام دنوں میں جو دونوں ہی نہانے کے چور تھے، آج بیتاب تھے۔
"روزانہ کیا ہوتا ہے؟اسی طرح نہا لیا کرو تو اچھی بات نہیں ہے؟"
میں نے کپڑے پہناتے ہوئے عمیر سے کہا۔
" روز سردی لگتی ہے۔"
" اور آج سردی نہیں ہے۔؟"
" نہیں آج تو چودہ اگست ہے۔۔۔!!" میں عش عش کر اٹھی۔
" چلو جی۔۔۔۔۔۔!"
عمیر کو تیار کر کے نگاہ ثمر کی تلاش میں دوڑائی اور بے اختیار سر پیٹنے کو دل چاہا۔ موصوف شرٹ کے بٹن اوپر نیچے بند کرنے کے بعد منہ پہ ڈھیر ساری کریم لگا کے اب بالوں پہ جیل کی لیپا پوتی کر رہے تھے۔
" ثمر کے بچے۔۔۔۔۔!! ابھی نہلایا تھا۔۔۔!!"

میں نے دکھتے دل کو سنبھالتے ہوئے اس کا سر ڈائریکٹ پانی کے نیچے کیا۔ ایک تو رات کو دونوں اتنی دیر سے سوئے۔ اوپر سے صبح پتا نہیں کیسے اٹھ کے بیٹھ گئے۔ اور ابھی چھ بھی نہیں بجے تھے کہ تیار بھی ہو گئے تھے اور اب سارا دن میری ناک میں دم کرنا تھا۔۔

"عمیر جا کر بابا کو جگاؤ۔" میں نے الٹا سیدھا بیج لگاتے ہوئے عمیر سے کہا۔
"اللہ کسی کو جڑواں نہ دے۔۔۔۔۔!!"
میں نے ہمیشہ کی طرح دعا مانگی۔
"ہائے نہیں۔۔۔۔۔ان دونوں میں سے ایک بھی نہ ہوتا تو میں کیا کرتی؟"
ممتا انگڑائی لے کر بیدار ہوئی۔

" یار باری باری آ جاتے۔" میں جھنجھلائی۔
"اب اگر باہر جا کر گندے ہوئے تو پھر دیکھنا۔ انسانوں کی طرح یہیں بیٹھے رہو۔"
" مما آج تو چودہ اگست ہے۔۔۔۔!!" ثمر نے سمجھاتے ہوئے کہا۔ میں نے بے چارگی سے اسے دیکھا۔ ایک ہاتھ سے جمائی روکی دوسرے سے آنسو پونچھے۔
"بابا کہہ رہے ہیں مما سے کہو ناشتہ بنا لیں پھر وہ اٹھ جائیں گے۔"
عمیر نے آکر بابا جانی کا پیغام سنایا۔
"چاکلیٹ کسے کھانی ہے؟"
"مما آج تو چاکلیٹ بھی کھانی ہے اور چاکلیٹ کیک بھی۔ آج چودہ اگست ہے۔"

"صحیح ہے پھر جا کر بابا کو اٹھاؤ۔ وہ کوکو پاؤڈر لائیں میں کیک بناتی ہوں۔"
میں نے دونوں کو لالچ دیا۔
"مما کل ہم بابا کے ساتھ لے کر آئے تھے۔" ثمر نے یاد دہانی کروانا ضروری سمجھی۔
"بیٹا جی ! وہ ایکسپائرڈ ہے۔ اور لانا پڑے گا ورنہ نو کیک۔ " میں نے دانت کچکچاتے ہوئے افلاطون کو جواب دیا۔ اور کہنے کی دیر تھی کہ دونوں جمپ مار کے تیمور کو جگانے پہنچ گیے۔ توقع کے عین مطابق پانچ منٹ میں تیمور باہر تھے۔
"یار رات کو بھی اتنی دیر سے سویا تھا۔ تھوڑی دیر انہیں باہر ہی روکے رکھتیں۔! "انتہائی بے چارگی سے شکوہ ہوا۔۔

"آج چودہ اگست ہے۔۔۔۔۔!! " میں نے بظاہر مسکراتے ہوئے اطلاع دی۔
تیمور چند لمحے تو مجھے دیکھتے رہے اور پھر بے ساختہ ہنس دیے۔

"ہنس لیں آپ بھی۔" میں خفگی سے منہ پھلا کر بیٹھ گئی۔
"مما کیک۔۔۔۔۔!!"
"بیٹا جب کوئی ناراض ہوتا ہے تو اس سے بات نہیں کرتے۔۔۔!!" میں نے پیار سے انہیں سمجھایا۔
"صحیح ہے لیکن آپ کیک بنائیں نا۔ پھر دیر ہو جائے گی۔ اور بابا آپ ٹی وی لگا کر دیں۔ شو آنا ہے۔"
چلو جی۔ "اب بندہ پوچھے کہ بیٹا آپ کو کہاں سے دیر ہو جائے گی۔؟"
میں نے بڑ بڑاتے ہوئے کچن کا رخ کیا۔ تیمور نے بدستور ہنستے ہوئے دونوں کو اٹھایا اور ٹی وی لاؤنج میں چلے گئے۔
اب ایسا نہیں تھا کہ مجھے چودہ اگست کی خوشی نہیں تھی مگر مجھے اتنی تیز رفتار خوشی نہیں تھی۔ بالکل نارمل رفتار والی تھی۔ ٹائم پہ اٹھو ، طریقے سے ناشتہ کرو، آرام سے تیار ہو اور گھوم پھر لو۔ اب کیا کہ صبح سے ہی سر پہ پاؤں رکھ لو۔ میں ٹھنڈی آہیں بھر کے کچن میں مصروف ہوگئی۔
ناشتہ ٹیبل پہ لگا کے لائونج میں نگاہ ڈالی۔ تیمور مزے سے صوفے پہ لیٹے سو رہے تھے اور دونوں بچے ٹی وی میں گھسے تھے۔

"تیمور۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!"
میں نے سر پہ جا کر تیز آواز میں کہا۔ وہ ہڑبڑا کے اٹھے۔اور پھر مجھے خفگی سے گھورا۔

"ناشتہ کر لیں آکر۔ ورنہ میں نے تازہ بنا کر نہیں دینا۔" میں نے دھمکی دی۔ اور دھمکی کارگر ثابت ہوئے۔
" ہاہ اللہ! کیا ہوتا اگر ایک رحم دل سی بیوی اور دے دیتا۔۔۔" خالصتاً مجھے چڑانے کو باآواز بلند دعا مانگ کے واش روم میں چلے گئے۔ میں نے کان نہ دھرتے ہوئے رخ نئے ٹاسک کی جانب کیا۔

"عمیر ثمر اٹھو ۔ناشتہ کرو۔"

"کیک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!" ثمر نے ٹی وی کی طرف منہ کیے کیے کہا۔

"کیک ٹھہر کے کھانا۔ پہلے ناشتہ کرو۔" میں نے اس سے کہا۔

"یہیں لا دیں۔"
اب کے شہنشاہ عمیر بولے۔

"بالکل نہیں۔ چلو اٹھو۔ میں نے صبح جگائے جانے کا بدلہ لیا۔"

"مما آج تو چودہ اگست ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!"

"بیٹا ! آج تو چودہ اگست ہے اسی لیے آج سارے کام پراپر طریقے سے ہوں گے۔۔۔۔"

میں نے ریموٹ سے ٹی وی آف کرتے ہوئے کہا اور ریموٹ لے کر ڈائننگ ٹیبل پہ آگئی۔ پیچھے پیچھے منہ لٹکا کے عمیر اور ثمر۔۔۔۔
تیمور نے آتے ہوئے اس منظر کو مسکراتے ہوئے دیکھا۔ پھر گیلا ٹاول میری طرف اچھال کر شیشے کے سامنے کھڑے ہو گئے۔
"تیمور میرا ٹمپرامنٹ بہت لوز ہو رہا ہے۔ پلیز آپ پرہیز کریں حصہ ڈالنے سے۔" میں ٹاول مقررہ جگہ پہ لٹکا کے انہیں وارننگ دیتے ہوئے واپس بیٹھی۔

"مجھے برگر کھانا ہے۔"

"رات کو تو کہہ رہے تھے کہ صبح پراٹھا کھانا ہے۔" میں نے اپنے ہونہار بیٹے کو یاد کروایا۔
"کوئی بات نہیں بر گر بنا دو۔۔۔۔۔" تیمور نے شرارت سے مسکراتے ہوئے ثمر کی تائید کی۔
"ٹھیک ہے اور پھر یہ پراٹھے دوپہر میں آپ ہی کھائیں گے۔" میں نے محنت سے بنائے گئے پراٹھوں کو دیکھتے ہوئے کہا۔

"آج چودہ اگست ہے آج کھانا باہر۔۔۔۔۔۔۔۔"
میرے شوہر نامدار نے نجانے کس چیز کا بدلہ لیا۔

"تیمور آپ جب اس طرح تنگ کرتے ہیں نا تو بالکل اچھے نہیں لگتے۔۔۔" میں نے برگر کے لیے شامی فریج سے نکالتے ہوئے کہا۔

"یار ! اچھی بیوی ہو۔ ایک تو کھانا باہر کھلا رہوں۔ میرے لیے بھی برگر بنا دینا پلیز۔ پراٹھا کھانے کا دل نہیں کر رہا۔۔۔۔۔!!
ویسے بھی دو تم کھا لینا۔ دو میں سے ہاف ہاف عامر کھا لے گا۔ باقی ایک بچا تو وہ ابھی مانگنے والا آئے گا اسے دے دینا۔!!
وہ میری خونخوار نگاہوں کے جواب میں پراٹھے دیکھتے ہوئے بولے۔
اللہ کیا تھا اگر ایک ساس۔۔۔۔اور ایک سسر بھی دے دیاہوتا۔ ساس میرے میاں کو قابو کرنے کے لیے۔۔۔اور سسر میرے بچوں کو۔۔۔۔۔!!میں نے دعا کے سائیڈ ایفیکٹس نظر انداز کرتے ہوئے دعا مانگی۔ جانتی تھی کہ اب قبول نہیں ہو سکتی۔ سو دل کی تسلی کو غالب خیال اچھا ہے۔
میرے بچے تو ناشتہ کر کے ٹی وی کے آگے بیٹھ گئے۔ بھلا ہو چودہ اگست کا۔ کم از کم ٹی وی پہ شو تو اچھے آ جاتے ہیں۔ بچوں کو چھوڑا تو جا سکتا ہے۔ میں نے کچن سمیٹتے ہوئے سوچا۔ آج کام والی کو بھی نہیں آنا تھا۔ وجہ تھی چودہ اگست۔ لہذا میں نے کل کی صفائی برقرار رکھنے کی سر توڑ کوشش کی تھی۔ یہ علیحدہ بات تھی کہ اس کوشش میں مجھے کل سارا دن عامر اور ثمر کا سایہ بن کے گزارنا پڑا تھا۔
ہلکی پھلکی جھاڑ پونجھ اور صفائی کے بعد ٹائم دیکھا۔ ساڑھے آٹھ۔
جلدی جلدی تیار ہو کر لائونج میں نگاہ ڈالی۔ تیمور اخبار پڑھ رہے تھے۔ عامر اور ثمر ٹی وی کی طرف اٹھائے اٹھائے پاپ کورن کھا رہے تھے۔ میں نے وقت کی کمی کے باعث بائول کی سرائونڈنگز نظر انداز کیں اور تیمور کو میسج کیا۔
میں شہلا کے گھر جا رہی ہوں۔ دوپہر کو آئوں گی۔ اپنے بچوں کو کھانا باہر کھلا لائیے گا۔ تیمور نے مسکراتے ہوئے میسج پڑھا۔ اور صوفے سے گردن موڑ کر مجھے دیکھا۔ انکے دیکھنے پر میں نے اشارے سے بتایا کہ عمیر اور ثمر کی وجہ سے احتیاط کر رہی ہوں۔
عمیر۔۔۔۔۔۔!!تیمور نے عمیر کو پکارا۔ عمیر نے گردن موڑ کر تیمور کو دیکھا۔ میرا سانس رک گیا۔
اللہ جی تھوڑا سا رحم۔۔۔۔۔۔!! اللہ جی تھوڑا سا رحم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!
عمیر بابا کے منہ پاپ کارن ڈالو۔ اکیلے کھا رہے ہو۔ میں نے عمیر کو مشورہ دیا۔ عمیر نے مٹھی میں پاپ کارن بھر کے تیمور کے ہاتھ پہ رکھے۔ اور منہ سیدھا کر لیا۔ تیمور نے ہنستے ہوئے پاپ کارن کھانے شروع کر دیے،شکر ہے میں نے ابھی تک چادر نہیں لی تھی ورنہ تو مسئلہ فیثا غورث شروع ہو جاتا۔ شہلا کے گھر محلے کے ساری لڑکیاں اور عورتیں جمع تھیں۔ا س نے اپنے گھر چودہ اگست کے سلسلے میں ایک چھوٹی
سی گیدرنگ ارینج کی تھی۔ پروگرام بناتے ہوئے ہمارا نہیں خیال تھا کہ اتنے لوگ ہوں گے لیکن اب آئی ہوئی عورتوں اور لڑکیوں کو دیکھ کر دلی خوشی ہو رہی تھی۔ لڑکیوں نے مختلف ٹیبلوز،ملی نغمے اور کوئز تیار کیے ہوئے تھے۔ میزبان ہماری شہلا صاحبہ تھیں تو میں عورتوں میں آ کر بیٹھ گئی۔ میرے ساتھ ایک تئیس ، چوبیس سال کی لڑکی بیٹھی ہوئی تھی۔سفید سوٹ میں عجیب پاکیزگی کا احساس ہو رہاتھا۔
السلام ’ علیکم!!
میں نے سلام کیا۔
وعلیکم السلام!!
اسنے دلکش مسکراہٹ سے جواب دیا۔
آپکا نام کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔؟میں تقریباً سارا شو ریہرسلز میں دیکھ چکی تھی۔ سو میری دلچسپی اس نئے چہرے میں تھی۔ جسے پہلے کبھی محلے میں نہیں دیکھا تھا۔
زرنگار۔۔۔!!
وائو۔بہت خوبصورت نام ہے۔۔۔۔!!میں نے تعریف کی۔ اجنبیوں سے میں انتہائی سہولت سے بات کر لیتی تھی۔
شکریہ۔۔۔!!
کہاں رہتی ہو آپ۔۔۔؟پہلے کبھی آپکو دیکھا نہیں؟میں نے بات آ گے بڑھائی۔
میں پہلی دفعہ آپکے علاقے میں آئی ہوں۔ پہلے کبھی آئی جو نہیں۔۔۔۔۔!!وہ رہنے کی بات نظر انداز کر گئی اور میں نے محسوس بھی نہیں کیا۔ میری نظر اسکی کلائی پہ چمکتے ہوئے نشان پہ تھی۔ یہاں کیا ہوا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!
وہ چودہ اگست ہے نا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ رکی۔
ہوں۔۔۔۔۔میں الجھی۔
تو بس یہ آزادی کی قیمت سمجھ لیں۔۔۔۔۔وہ شگفتگی سے ہنس دی۔
میں بھی اسکے مذاق پہ ہنس دی۔ جلدی میں لگ گیا ہو گا۔ میں نے سوچا۔
مزہ آ رہا ہے۔۔۔۔۔؟میں نے اسکی نظریں سامنے سٹیج پہ دیکھتے ہوئے ایک دفعہ پھر بات کی۔
نہیں اچھا لگ رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!
ارے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک ہی بات ہوئی۔۔۔۔!!
نہیں ایک بات نہیں ہے۔۔۔۔!!مزے میں دل کی خوشی نہیں ہوتی۔ بس پسندیدگی ہوتی ہے۔ وقتی۔۔۔۔۔۔!!
اور اچھا لگنے میں۔۔۔۔۔؟
اچھا لگنے میں۔۔۔۔۔؟جو پل اچھے لگتے ہیں وہ دل کی خوشی دیتے ہیں۔۔۔۔۔!!جب بھی یاد آتے ہیں سکون ملتا ہے۔۔۔!!
بھئی مجھے تو دونوں ایک جیسے ہی لگتے ہیں۔۔۔۔۔!!
آپ نہیں سمجھیں گی۔۔۔۔!!
میں نے اسکی بات پہ دلچسپی سے دیکھا۔ اسکی آنکھوں میں پانی چمک رہا تھا۔
کیا دیکھ رہی ہیں۔؟
کچھ نہیں۔۔۔۔!!میں نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے سامنے کی طرف دیکھنا شروع کردیا۔
آپ شادی شدہ ہیں۔۔۔۔؟زرنگار نے پہلی دفعہ مجھ سے کچھ پوچھا۔
ہاں۔۔۔۔۔اور اماں جان بھی ہوں دو بچوں کی۔۔۔۔۔۔!!
انہیں نہیں لائیں۔۔۔۔۔؟
شکر ہے۔۔۔۔۔ورنہ تو بہت تنگ کرتے،جڑواں ہیں اور مجال ہے کہ کوئی پل بھی ٹک کے بیٹھنے دیں!!
بیٹے ہیں؟
ہاں۔۔۔۔عمیر اور ثمر۔۔۔!!
میں نے نام بھی بتائے۔۔۔!!
آج تو چودہ اگست ہے۔۔۔آج تو انہیں آزاد کر دیتیں۔۔۔۔۔!!
اسکی بات پہ میں نے گردن موڑ کے اسے دیکھا۔
یقین مانو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ان سے زیادہ آزادی کی ضرورت مجھے ہے۔۔۔۔!!میری آنکھوں میں باقائدہ آنسو آگئے۔ اور میں خود ہی بے اختیار ہنس دی۔
زرنگار بھی کھلکھلا کے ہنس دی۔ اکیلی رہتی ہیں۔۔۔؟
ہوں۔۔۔!!میں نے اثباث میں سر ہلایا۔اسی لیے۔۔۔۔۔!!
تم کہاں رہتی ہو؟میں تم پہ آتی ہوئی ایک دفعہ پھر پہلے کیا گیا سوال کر بیٹھی۔
اسی شہر میں رہتی ہوں۔۔۔۔!!وہ مسکراتے ہوئی بولی۔۔۔۔
میں محظوظ ہو کے ہنس دی۔
بھئی میرا مطلب ہے کہ گھر کہاں ہے؟
گھر نہیں ہے میرا۔۔۔۔۔میں نے ہکا بکا ہو کے اسے دیکھا۔
محل ہے۔۔۔۔اس نے وضاحت کی۔
کیا مطلب۔۔۔۔۔۔؟ہمارے شہر میں تو کوئی محل نہیں ہے۔۔۔۔۔؟میں نے تردید کی۔
ارے باقاعدہ محل نہیں ہے لیکن محل جتنا بڑا گھر ہے۔۔۔۔بالکل پرانے سٹائل میں۔۔۔۔محل ہی لگتا ہے۔
دیوان خانہ اور مردان خانہ اسٹائل؟میں نے شرارت سے سوال کیا۔
جی ۔۔۔دیوان خانہ اور مردان خانہ اسٹائل۔۔۔۔وہ کھلکھلا کے ہنس دی۔
کس کے ساتھ آئی ہو؟
اکیلی آئی ہوں۔۔۔۔!!وہ ایک دفعہ پھر مجھے حیران کر گئی۔
یہاں شہلا کے گھر؟کسی کے ریفرینس سے نہیں آئی؟
نہیں میں تو شہر گھوم رہی تھی تو دیکھا سب لڑکیاں اس طرف آرہی تھیں۔۔۔۔ میں بھی آ گئی؟
واہ کیا بات ہے۔۔۔۔۔میں نے اسے داد دی۔
شہر میں کیا ہے گھومنے والا۔۔۔۔۔؟
ارے آپ نے نہیں دیکھا۔؟ ہر گھر پہ جھنڈیاں اور جھنڈے۔۔۔!!سکولوں سے آتی ملی نغموں کی آوازیں۔۔۔۔ لوگوں کے سینوں پہ پاکستان کے جھنڈوں والے بیج۔۔۔۔!!سارا شہر ہی نیا لگ رہا ہے۔۔۔۔۔۔!!وہ ثمر کے انداز میں سمجھاتے ہوئے بولی۔
اور ویسے بھی میرے لیے تو شہر نیا ہی ہے۔۔۔۔۔میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا نا!اس نے وضاحت دی۔
کب سے ہو یہاں پہ؟
بچپن سے۔۔۔۔۔!!
بچپن سے یہاں پہ ہو اور شہر نہیں دیکھا؟
نہیں۔۔۔۔۔اصل میں آزادی صرف آج ملی ہے نا۔۔۔۔!!وہ مزید گویا ہوئی۔ میں اسکا دل رکھنے کو مسکرا دی۔ دیوان خانہ اور مردان خانہ سٹائل کے گھر میں اصول بھی دیوان خانہ اور مردان خانہ سٹائل کے ہوں گے۔
کیا اچھا لگ رہا ہے آج سب سے زیادہ؟ میں نے اس پوچھا۔
میری بات پہ وہ چپ چاپ مجھے دیکھتی رہی اور پھر سامنے دیکھنا شروع کر دیا۔ کیا کیا بتائوں؟وہ سرگوشی کے سے انداز میں بولی۔
سب سے اچھا اپنا وجود لگ رہا ہے۔پاکیزہ، صاف،گناہ سے پاک،۔۔۔۔اپنا سانس لگ رہا ہے۔۔۔۔۔۔بکائو نہیں ہے آج۔۔۔۔۔وقت لگ رہا ہے۔۔۔۔۔۔ظالم نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔دن لگ رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔سرخ نہیں ہے۔۔۔۔۔۔موسم لگ رہا ہے۔۔۔۔مصنوعی نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔خوشی لگ رہی ہے۔۔۔ناخالص نہیں ہے۔۔۔۔کیا کیا گنوائوں۔؟کیا کیا اچھا لگ رہا ہے۔۔۔۔۔؟
میں اسکی سرگوشیوں پہ گنگ بیٹھی تھی۔اچانک میرے موبائل پہ ٹوں ٹوں ہوئی۔
میرے بچوں کی اماں۔۔۔۔۔میرا اپنا ذاتی دل تمہارے بغیر کھا نا کھانے کا نہیں ہے۔جلدی سے آ جائو۔۔۔۔!!
زرنگار کی باتوں پہ الجھی ہوئی میں تیمور کا میسج صحیح طرح انجوائے بھی نہیں کر سکی۔
کس کا میسج ہے؟زرنگار نے پوچھا۔
میرے میاں کا۔۔۔!!میری یاد آرہی ہے۔۔۔!! میں نے گہرا سانس لے کر کہا۔اور اٹھ کے اس سے ہاتھ ملایا۔اپنا فون نمبر دو گی؟
اصل میں عرصے کے بعد کسی سے باتیں کرنا اتنا اچھا لگا ہے۔!! میں نے وضاحت دی۔
فون نہیں ہے ہمارے پاس۔۔۔۔!!وہ مسکراتے ہوئے بولی۔ صاف ظاہر تھا کہ دینا نہیں چاہتی۔ میں نے خفت چھپاتے ہوئے اثباث میں سر ہلایا اور شہلا کے پاس آ گئی ۔اسے جانے کا بتا کر گھر آئی تو حیران ہوئے بنائ نہیں رہ سکی۔ میرے میاں اور میرے بچے ٹیبل پہ بیٹھے میرا نتظار کر رہے تھے۔
کیا مطلب کھانا تو باہر کھانا تھا؟
میں نے تیمور کو یاد کروایا۔
ہم باہر سے کھانا لے آ ئے ہیں۔۔۔۔تمہارے ساتھ کھائیں گے۔۔۔!!
تیمور نے مسکراتے ہوئے بتایا۔ میں نے مشکوک نگاہوں سے اپنے شوہر کو گھورا۔ تبھی نظر آنکھیں جھپک جھپک کر آنسو روکتے ہوئے ثمر پہ گئی۔
ثمر جانو کیا ہوا۔۔۔۔؟میں نے آگے بڑھ کر اسے گود میں لیا۔ تیمور کھنکھارتے ہوئے پلیٹ میں بریانی نکالنے لگ پڑے۔
آپ کہاں گئی تھیں؟منہ بسورتے ہوئے شکوہ ہوا۔۔۔۔۔!!
شہلا آنٹی کے گھر۔۔۔ لیکن رو کیوں رہے ہو۔۔۔ہوں؟میں نے اسکے گال چومے۔
بابا کہ رہ تھے آپ ہوٹل میں آجائیں گی۔۔۔!!
اب کے دوسرے بہادر بیٹے نے منہ بسور کے جواب دیا۔ آگے کی صورتحال کا اندازہ تو تھا لیکن نہ بخشنے کا اردہ کرتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔
پھر کیا ہوا؟
میں نے آپکے ساتھ کھانا کھانا تھا۔ عمیر روتے ہوئے میرے ساتھ لگ گیا اور ثمر صاحب تو پہلے ہی میرے کندھے پہ لٹک رہے تھے۔ میں نے بریانی کھاتے ہوئے اپنے میاں کو گھورا۔
تو یہ وجہ تھی مجھے یاد کرنے کی۔۔۔۔۔۔!!میں بھی کہوں اتنے پیار سے کیسے بلا رہے ہیں؟
میں نے پلیٹ انکے آگے سے اٹھاتے ہوئے انہیں متوجہ کیا۔
یار دو ،دو نشانیاں پیار کی تمہارے ساتھ لٹکی ہوئی ہیں ابھی کم ہیں کیا۔۔۔۔؟وہ مزے سے عمیر اور ثمر کی طرف اشارہ کر کے بولے۔
تو سنبھالا بھی کریں نا ان نشانیوں کو۔۔۔۔۔میں چڑ کے بولی۔
یہ لو۔۔۔۔۔۔وہ فریج سے فالودہ نکالتے ہوئے بولے۔ اسکے لیے تمہارے سپوتوں نے نہیں کہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میرے بچوں کی اماں۔۔۔!!آخری جملہ شرارت سے کہتے اپنی پلیٹ میرے ہاتھ سے لے کر بیٹھ گئے۔
میں مسکراتے ہوئے اپنے بچوں کی طرف متوجہ ہوئے۔
جانو آج تو چودہ اگست ہے۔۔۔۔آج نہیں رونا۔ میں نے انہی کے طریقے سے انہیں چپ کروایا۔ دونوں کو کھانا کھلایا۔ جو انہوں نے ہزار نخرے کر کے کھایا۔
کھانا کھا کے باوجود چودہ اگست کے دونوں کو نیند آگئی۔ نیند تو آنی تھی۔ رات بھی کپڑوں اور بیجز کے چکر میں دیر سے سوئے تھے۔ صبح بھی اذانوں کے اٹھے ہوئے تھے۔ دونوں کو لٹاکر اے سی چلا کر میں باہر آکر پلیٹ میں چاول اور سالن نکال کر تیمور کے ساتھ آ کر صوفے پہ بیٹھ گئی۔ آج چودہ اگست ہے آج سارے کام پراپر طریقے سے ہوں گے۔تیمور نے مجھے صبح کا جملہ یا د کروایا۔
تیمور ۔۔۔۔۔!! میں نے پلیٹ سامنے ٹیبل پہ رکھ کر رخ انکی طرف کر انہیں پکارا۔
ہوں۔۔۔۔؟حیرت سے ہوں کیا گیاکہ میرا ا نداز غیر معمولی تھا۔
مجھے چڑا کر آپکو کیا ملتا ہے؟میں نے انتہائی معصومیت سے سوال کیا۔
میری بات پہ قہقہ لگا کر ہنس دیے۔
نہیں پلیز آج تو بتا ہی دیں؟

نہیں آج تو بتا ہی دیں!
میں سنجیدگی سے گویا ہوئی۔
اصل میں یہ جو تمہارا ٹماٹر کی طرح سرخ ہوتا چہرہ ہوتا ہے نا۔۔۔۔اتنا اچھا لگتا ہے کہ کیا بتائوں؟وہ میرے ہاتھ پکڑتے ہوئے بولے۔
اور پھر جو گھوریاں مار رہی ہوتی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔تھوڑا سا کھسک کے قریب آئے۔
بس رہنے دیں۔۔۔۔۔میں ہاتھ چھڑوا کے جلدی سے پلیٹ اٹھا کر سامنے بیٹھ گئی۔
چچ۔۔۔۔۔۔چچ۔۔۔۔۔۔۔۔اللہ جی ایک تو اور اچھی سی محبت کرنے والی بیوی دی ہوتی۔۔۔۔؟
یہ اور کی پخ کیوں لگاتے ہیں؟
یار تمہارے بغیر بھی گزارا نہیں ہے نا۔۔۔۔!!انتہائی لگاوٹ سے جواب آیا تھا۔
پتا ہے مجھے۔۔۔۔!!میں نے سر جھٹکا۔ تیمور ہنستے ہوئے صوفے پہ لیٹ گئے ۔میں لگا ہوں سونے۔۔۔۔۔۔!!
اپنے بچوں کے پاس جا کر لیٹیں۔۔۔۔!! کوئی آ گیا تو برا لگتا ہے۔۔۔!!
ڈرائینگ روم میں بٹھانا۔۔۔۔۔!! منہ پہ کشن رکھتے ہوئے جواب دیا۔ لیٹے رہیں۔۔۔۔ثمر عمیر خود ہی آ کر اٹھا لیں گے۔
دھمکی کارگر ثابت ہوئی۔ فورا اٹھ کر کشن میرے پاس پھینک کر اندر چلے گئے۔ کھانا کھا کر میں نے چائے بنائی۔ اتنی گرمی میں بھی چائے کے بغیر گزارا نہیں تھا۔چائے پی کے تھوڑی دیر ٹی وی دیکھتی رہی اور پھر وہیں لیٹے لیٹے نیند آ گئی۔سو کر اٹھی۔ٹائم دیکھا۔۔۔تو ساڑھے چھ۔
حیرانی سے اٹھی۔
یہ عمیر اور ثمر ابھی سو رہے ہیں کیا۔ انہیں دیکھنے آ ئی تو دیکھا کہ میرے شوہر محترم گھوڑا بنے ہوئے ہیں اور وہ دونوں چل میرے گھوڑے۔۔۔۔۔۔۔۔گا رہے ہیں۔ میرے ہنسنے کی آواز پہ تیمور نے مجھے دیکھا۔
شکر ہے ورنہ انہیں روک روک کر میں تو پاگل ہو گیا تھا۔ کیا چیز ہیں یہ؟عمیر تو پھر صبر کر لیتا ہے یہ ثمر تو ہر منٹ کے بعد مما کے پاس جانا ہے۔۔۔۔!!میں ہنسنے لگ پڑی۔ دل خوش ہو گیا تھا اتنی محبت دیکھ کر۔
میری شکوہ زدہ بیگم۔۔۔۔۔تیار ہو جائو جلدی سے۔ آئسکریم کھا کر آ تے ہیں۔۔۔۔!!
میرے قریب آ کر بالوں کی لٹ کھینچتے ہوئے بولے۔مما چلیں نا۔۔۔۔!!
ثمر کھینچتا ہوا بولا۔۔۔۔۔۔!!
چلو بیٹا۔۔۔۔میں چادر لے کر آئی تو ہم آئسکریم کھانے چل دیے۔ آئسکریم کھا کر گاڑی شہر میں گھما کر کافی دیر سے آئے۔ تیمور ہمیں گھر چھوڑ کر پھر چلے گئے کہ کام تھا۔میں عمیر اور ثمر کے ساتھ بیٹھ کر ٹی وی دیکھ رہی تھی کہ فون کی بیل ہوئی۔
السلام علیکم!!
وعلیکم السلام۔۔۔کون؟میں نے جواب دے کر پوچھا۔
میں زرنگار ہوں۔۔۔۔!!میں حیران رہ گئی۔
یونہی آپکا نمبر لے لیا تھا شہلا سے۔سوچا کال کر لوں۔۔۔!!
مگر تمہارے ہاں تو فون نہیں تھا۔۔۔میں نے جتایا۔
وہ ہنس دی۔پی سی او سے کرہی ہوں۔۔۔۔!!
سوری۔۔۔۔!! میں نادم ہوئی۔
کوئی بات نہیں۔۔۔۔!!
اب تو چودہ اگست بھی ختم ہونے والی ہے۔۔۔۔!! میں نے یونہی کہا۔
ہوں۔۔۔۔۔۔۔صبح آپ نے پوچھا تھا نا کہ میرا گھر کہاں ہے۔۔۔۔؟اس نے کہا۔پھر میرے جواب کا انتظار کیے بغیر کہنے لگی۔
میرا گھر شہر کے آخری کونے میں ہے۔ اور میرے گھر میں رات کو دن اور دن کو رات ہوتی ہے۔ ہم لوگ رات کو کاروبار کرتے ہیں۔
اور ۔۔۔۔۔۔اور ساری زندگی یونہی، ایسے ہی گزر جاتی ہے آج چودہ اگست تھی اور میں نے آج کا دن مانگا تھا یہاں کے دیوان خانے اور مردان خانے والوں سے اور اسے پانے کے لیے تھوڑا احتجاج بھی کرنا پڑا تھا۔ میری کلائی کا نشان دیکھا تھا آپ نے ۔۔۔۔۔۔وہ اسی آزادی کی قیمت تھا۔ یقین مانیے آپکا شہر آج بہت خوبصورت لگ رہا تھا۔ میرا شہر نہیں کہ میرا شہر تو اتنا پاکیزہ ہو ہی نہیں سکتا۔ سچی خوشیوں سے سجا۔۔۔۔۔۔۔۔۔اتنی پیارا دن کوئی نہیں تھا۔۔۔۔صبیحہ جی۔۔۔۔اور اتنا پیارا وقت کبھی نہیں گزرا۔۔۔۔۔۔
گھنگھرووں کی چھنکار میں اکثر ہی نہ چاہتے ہوئے مزہ آیا ہے پر ایسا اچھا کبھی محسوس نہیں ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنا وجود کبھی اتنا پاکیزہ نہیں لگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سسکیوں سے رو رہی تھی۔۔۔۔
میں ساکت کھڑی اسے سن رہی تھی۔
آزادی مبارک ہو صبیحہ جی۔۔۔۔اس سے بڑی نعمت کوئی نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔اس نے لائن کاٹ دی اور میں بے جان قدموں سے صوفے پہ آکر بیٹھ گئی۔
سامنے دیوار پہ کیلنڈر پہ سرخ رنگ سے چودہ اگست جگمگا رہا تھا۔ میری آنکھ میں آنسو آگئے۔
ثمر نے عادتاً گرن موڑ کے میرے ہونے کی تسلی کی اور پھر آنسو دیکھ کر میرے پاس آ گیا۔
مما کیا ہوا ہے؟
کچھ نہیں۔
مما آج تو چودہ اگست ہے آج نہیں روئیں۔۔۔۔!!عمیر نے یادہانی کروائی۔
ہاں بیٹا آج چودہ اگست ہے۔ میں نے آنسو پونچھے اور ان دونوں کے درمیان بیٹھ کے ٹی وی دیکھنے لگی۔