006 - خواہش از لمحے حیات

خواہش
تحریر: لمحے حیات

عید کا پہلا دن تھا۔۔ آسمان پہ بادل ایک دوسرے کے پیچھے اٹھکیلیاں کرتے چلے جا رہے تھے جیسے عید پہ بچے باہر نکلتے ہیں سب میں اپنی خوشیاں بانٹنے اور عیدی بٹورنے کے لیے۔۔ نائمہ کی نظر ان بادلوں کی ہمسفر تھی جیسے کچھ تلاشنے کی سعی کررہی ہو۔

اپنے قریب کسی کے السلام علیکم اور عید مبارک کہنے کی ہلکی سی آواز پر اُس نے سر گھما کر دیکھا۔ نووارد کے بالوں پر نظر پڑتے ہی نائمہ کی حسِ مزاح پوری طرح بیدار ہوگئی اور وہ جھٹ بول پڑی۔
" وعلیکم السلام اور خیر مبارک۔ کیا بات ہے بھئی، ریحان صاحب آئیں ہیں گھر یاد آگیا آپ کو۔۔۔ ھھم۔ ویسے یار ریحان! ایک بات تو بتاؤ یہ تمہارے بال جلے ہوئے نوڈلز کیوں معلوم ہوتے ہیں، آخر چکر کیا ہے۔"نائمہ نے ریحان کے حد سے زیادہ گھنگھریالے کالے بالوں کو اپنے مزاق کا نشانہ بنایا۔
"اور آپ مجھے یہ بتائیں کہ آپ مجھے بھوکی شہزادی کیوں معلوم ہوتی ہیں، آخر چکر کیا ہے"۔ مگر پھر بھی بھوکی شیرنی کہنے کی ہمت نہ کر سکا۔ ساتھ ہی وہ مزے سے اُچک کر چھت کے مُنڈیر پر بیٹھ گیا۔
نائمہ کو اُس کی بات پر ہنسی آگئی اور وہ نیچے باغ میں موجود اپنی چھوٹی خالہ کو دیکھنے لگی جو ریحان کو اشارے سے منڈیر پر بیٹھنے سے منع کر رہی تھیں۔

"ویسے نائمہ آپی! آپ کیا یہاں کھڑی دن میں تارے گن رہی تھیں۔"ریحان نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے دریافت کیا۔
"جی نہیں! میں کوئی تارے نہیں گن رہی تھی۔ بلکہ تارا تو تم ہوگئے ہو جو اتنے دنوں میں شکل دکھا رہے ہو۔ پورا رمضان چھوٹی خالہ کے گھر گزار کر آرہے ہو"۔ نائمہ نے جل کر کہا۔
"اوہ ہو! غصہ۔ ویسے نائمہ آپی جتنا میں آپ کا مزاج پہچانتا ہوں اُس سے لگ رہا ہے کہ امی نے پھر آپ کے کچھ کھانے پہ پابندی لگا دی ہے۔ ٹھیک کہہ رہا ہوں نا!"۔ ریحان نے نائمہ کے جلے کُٹے انداز پر سوچتے ہوئے کہا۔
"جی ہاں! رس ملائی کھانے پر پابندی لگی ہے اب کی بار"۔ نائمہ نے مایوس شکل بنا کر بتایا۔

ریحان کو یہ سنتے ہی ہنسی آگئی۔"تو کیا آپ آسمان میں رس ملائی تلاش کررہی تھیں"۔ ریحان کے ہنسنے پر نائمہ نے ایک ناراض نظر ریحان پر ڈالی تو وہ فوراً سنجیدہ ہوتے ہوئے بولا۔"پھر اب کیا ارادہ ہے"۔

"ارادہ نیک ہے۔اب تم آگئے ہو تو ہم دونوں مہمانوں کے لئے آئی رس ملائی چُرا کر کھائیں گے۔" نائمہ نے مزے سے اُسے اپنے ارادے سے آگاہ کیا۔

"کیا! نہیں نائمہ آپی! یہ تو بری بات ہے اور اگر پکڑے گئے تو شامت الگ۔ آپ تھوڑا انتظار کرلیں۔ جب سب کھائیں گے تو میں آپ کو اپنی والی رس ملائی بھی دے دوں گا۔" ریحان نے نائمہ کے خطرناک عزائم سنتے ہی ساتھ دینے سے انکار کردیا۔

"جی نہیں! اِس طرح تو رات تک رس ملائی کھانے کے انتظار میں میری آنکھیں سفید ہوجائیں گی۔ تمہیں میرا ساتھ دینا ہے تو دو ورنہ یہ کام میں اکیلے بھی کرسکتی ہوں"۔ نائمہ نے اپنا آخری فیصلہ سنایا۔

"پھر بھی نائمہ آپی! یہ تو کوئی بات نہیں ہوئی۔ میں صحیح کہتا ہوں آپ بھوکی شہزادی ہیں"۔ ریحان نے تنگ آکر کہا۔

"تم زیادہ لقمان کو حکمت سکھانے کی کوشش مت کرو۔ میں نے سوچ لیا ہے کہ تھوڑی سی کھائیں گے۔ امی کو پتا بھی نہیں چلے گا۔ انہوں نے کون سی گن رکھی ہوں گیں۔ تمہیں تو ویسے بھی ہر بات دیر میں سمجھ آتی ہے گھر تک پہنچانا پڑھتا ہے تم کو۔ اب چل رہے ہو یا میں اکیلی ہی چلی جاؤں۔"نائمہ نے آخر میں پھر اپنی بات دہرائی۔

"اچھا جی ! مجھے گھر تک پہنچانا پڑھتا ہے۔ آپ سے تو بحث کرنا ہی فضول ہے۔ چلیں، اپنی گرہ کا کیا جاتا ہے۔ پھنسیں گی تو آپ ہی"۔ ریحان نے کرسی سے اُٹھتے ہوئے نائمہ کو جواب دیا۔
*-*-*-*
کچھ ہی دیر میں نائمہ اور ریحان سب کی نظروں سے بچ بچا کر باورچی خانے میں موجود فرج سے رس ملائی کا پیالا نکال رہے تھے۔ ابھی پیالا نائمہ کے ہاتھ ہی میں تھا کہ پیچھے سے آواز آئی۔
"کیا ہو رہا ہے یہ؟"۔
نائمہ نے تیزی سے پلٹ کر دیکھا اور سامنے موجود ہستی کو دیکھتے ہی اس کے ہاتھوں سے پیالا چھوٹ کر زمین بوس ہوگیا۔
سامنے امی کھڑی خشمگین نظروں سے نائمہ اور ریحان کو گھور رہی تھیں۔ امی کے پیچھے کھڑی چھوٹی خالہ دونوں کی آنے والی شامت کے پیشِ نظر افسوس کرتے ہوئے اندر کمرے کی جانب بڑھ گئیں۔ ان میں اب مزید ہونے والے تماشے کو دیکھنے کی بلکل سکت نہ رہی تھی۔
*-*-*-*

نائمہ اور ریحان کی جو ڈانٹ پڑی سو پڑی۔ ساتھ ہی دونوں کو مہمانوں کے لیے ایک ساتھ دو میٹھے بنانے کی سزا بھی دی گئی۔ پھر دعوت کے اختیتام پر سارے برتنوں کی دُھلائی نائمہ کے ذمہ آئی۔ جبکہ ریحان تو موقعہ ملتے ہی ابو کے ساتھ اُڑن چھو ہوگیا۔

واپسی پر نائمہ اُس کو باغ کے کونےمیں بیٹھی ملی۔
"اھھھم ! کیا ہورہا ہے جناب اکیلے بیٹھ کر"۔ ریحان نے جُھک کر نائمہ کہ چہرے کا معائنہ کیا۔ نائمہ اکیلی بیٹھی رونے کے مشغلے میں مصروف تھی۔

"اوہ ! تو گنگا جمنا بہائی جارہی ہے۔ اچھی بات ہے، رونے سے گناہ دھل جاتے ہیں"۔ ریحان نائمہ کہ برابر بیٹھتے ہوئے بولا۔
"ریحان تم اپنی راہ لو ورنہ مار کھاؤ گے مجھ سے"۔ نائمہ نے اپنے آنسو پونچھتے ہوئے کہا۔

"ویسے نائمہ آپی! آپ اتنا تو سمجھ ہی گئی ہوں گی کہ رمضان میں رکھے گئے روزوں سے ہم کو یہ ہی سبق ملتا ہے کہ انسان کو خواہشات کے نہیں بلکہ خواہشات کو اُس کے تابع ہونا چاہیئے۔ خواہ وہ خواہش رس ملائی کھانے ہی کی کیوں نہ ہو"۔ ریحان نے آخر میں اپنی بات کو مزاق کا رنگ دیا۔

"جی میں سمجھ گئی ہوں اور آپ کی بات کو میں نے اپنے آنچل سے بھی باندھ لیا ہے۔ ساتھ ہی میں یہ بھی سمجھ گئی ہوں کہ ہمارا ننّھا سا ریحان اب بڑا ہوگیا ہے"۔ نائمہ نے ہنستے ہوئے کہا۔

"یہ تو بہت اچھی بات ہے۔ اِس پر تو آپ کو انعام ملنا چاہیئے"۔ ریحان نے مزے سے کہا۔

"تو پھر لاؤ میرا انعام"۔ نائمہ نے فوراً سے اپنا ہاتھ آگے بڑھا دیا۔

تو ریحان نے اپنے پیچھے چھپائی رس ملائی کی پیالی نائمہ کے ہاتھ میں رکھ دی۔ "عید مبارک! پیاری آپی"۔

دورآسمان پر ستاروں میں گھرا چاند بھی مسکراتے ہوئے ان کی معصوم خوشیوں میں شامل ہوگیا۔