007 - آزادی پانے کا مقصد بھی پورا کرنا ہے از یازغل

آزادی پانے کا مقصد بھی پورا کرنا ہے
تحریر: یازغل

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
آزادی کی اہمیت سے کسی ذی شعور کو انکار نہیں۔ ہر انسان چاہتا ہے کہ وہ آزاد ہو، ہر قوم، ہر قبیلہ، ہر مذہب کے پیروکار چاہتے ہیں کہ وہ آزادی سے اپنے مذہب، اپنی ثقافت اور اپنے رسوم و رواج کے مطابق زندگی گزار سکیں۔ اس آزادی کے حصول کے لئے قومیں کسی قربانی سے دریغ نہیں کرتیں۔
برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کی بھی یہی کہانی ہے۔ جب انگریز کے تسلط میں ان کو لگا کہ اگر ان کو ایک آزاد خطّہ نہ ملا، تو ہندو اکثریت کی وجہ سے ان کا تشخص اور مذہب خطرے میں پڑ سکتا ہے تو بہت سے ذہنوں میں یہ سوچ پیدا ہونے لگی کہ مسلمانوں کا الگ ملک ہونا ضروری ہے۔ اسی سوچ کے نتیجے میں مشہور دو قومی نظریے نے جنم لیا اور اسی کی بنیاد پہ آگے چل کے ایک ایسی تحریک چلی کہ جس کے نتیجے میں بغیر کسی جنگ کے، بغیر کسی خون خرابے کے مسلمان ایک الگ ملک حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔
اگرچہ کہ پاکستان بن جانے کی جدوجہد زیادہ تر پُر امن ہی رہی، لیکن آزادی نے اپنا خراج لینا ہی تھا جو کہ قیامِ پاکستان کے فوری بعد کے فسادات کی شکل میں سامنے آیا۔ جس میں لاکھوں مرد، عورتوں، بچوں، بوڑھوں نے اپنی جانیں لٹائیں۔ لیکن اس خون آشام فساد کے باوجود پاکستان کا بن جانا ایک حقیقت تھا جو کہ اب سامنے آ چکی تھی، اس کو روکنا یا واپس کرنا ممکن نہ تھا۔
کچھ لوگوں کے خیال میں منزل ہمیں مل چکی تھی، لیکن میرے خیال سے وہ صرف ایک سفر کا آغاز تھا جس کی منزل ابھی بہت دور تھی۔ کیونکہ جب تک قیامِ پاکستان کے مقاصد کو پورا نہیں کیا جاتا، اس وقت تک آزادی کی اہمیت سوائے ایک زمین کے ٹکڑے کے حصول کے کچھ نہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر قیامِ پاکستان کے وہ مقاصد کون سے تھے جو کہ پاکستان کے قائم ہونے کے باوجود بھی ابھی پورے نہ ہوئے تھے۔؟
اس سوال کا سب سے موزوں جواب بذاتِ خود قراردادِ پاکستان اور دو قومی نظریے کی شکل میں موجود ہے۔ یعنی کہ ایک ایسا ملک بنایا جائے جو اسلام کے نام پہ ہو اور اس میں ایک اسلامی، فلاحی مملکت قائم ہو۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ قیامِ پاکستان کے ابتدائی سالوں سے ہی ہم اپنی اس منزل سے بھٹک چکے تھے۔ نام کی حد تک اسلامی جمہوریہ پاکستان تو کہلوا لیا گیا، لیکن عملی شکل میں اسلامی اور جمہوری مملکت کا خواب کبھی بھی شرمندۂ تعبیر نہ ہو سکا۔ اسلامی سلطنت کیسی ہونی چاہئے؟ اس سوال کا جواب چاہئے ہو تو تاریخ کے ایک گوشے پہ نظر دوڑائیے جہاں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالٰی عنہ خلیفہ بن کے فرما رہے ہیں کہ "اگر فرات کے کنارے ایک کتا بھی پیاسا مر گیا تو اس کی ذمہ داری مجھ پہ ہو گی۔" اور گزشتہ ساٹھ سالوں میں ہمارے یہاں جو حالت رہی ہے، اس کو دیکھ کے آپ بخوبی موازنہ کر سکتے ہیں کہ ہم اسلامی مملکت کی عملی شکل سے کتنے دور ہیں۔ اور جہاں تک جمہوری مملکت کی بات ہے تو وہ الگ سے ایک داستانِ غم ہے۔ ہمارا آدھے سے زیادہ دور فوجی آمروں کے زیرِ تسلط گزرا ہے اور جب جب یہ ملک فوجی آمریت کے پنجے سے نکلا تو فیوڈل اور خاندانی، شخصی آمریت کے ہتّھے چڑھ گیا۔
بدنصیبی یہ رہی کہ جن سے آزادی کے لئے یہ سب جدوجہد کی گئی، آج بھی ملک میں زیادہ تر قوانین اسی کے بنائے ہوئے چل رہے ہیں۔ اسی کی زبان پڑھائی اور بولی جا رہی ہے اور اسی کا بنایا ہوا دفتری نظام چل رہا ہے۔ بس فرق صرف اتنا پڑا ہے کہ گورے بابوؤں کی جگہ دیسی بابوؤں نے لے لی ہے، لیکن باقی نظام جوں کا توں قائم ہے۔ اس کی سب سے بڑی اور المناک مثال ہمیں جاگیردارانہ نظام کی شکل میں ملتی ہے۔ آزادی سے پہلے جن جن کے پاس جاگیریں تھیں، وہ ویسے کے ویسے ہی ان پہ قابض رہے۔ حلانکہ یہ تو بالکل سامنے کی بات تھی کہ آزادی سے پہلے انگریز نے جن جن کو بھی زمینوں اور جاگیروں سے نوازا ہو گا، وہ اس کے اپنے پٹھو اور وفادار ہوں گے۔ لیکن اس حقیقت کے باوجود بھی اس نظام کو بدلنے کی کوشش بھی نہ کی گئی۔ حالانکہ ہمارے ہمسایہ ملک بھارت نے آزادی کے چند سال بعد ہی اس نظام سے پیچھا چھڑا لیا۔ اس انقلابی اقدام کے فوائد ایک نسل کے بعد سامنے آنا شروع ہوئے جب ان کی مڈل کلاس کی پڑھی لکھی اولاد جوان ہوئی تو آئی ٹی، انجینئرنگ اور ٹینکنیکل شعبوں میں مہارت کی وجہ سے ان کی انڈسٹری بھی ترقّی کر گئی اور یہی پڑھے لکھے لوگ باہر جا کے بھی ملکی معیشت اور امیج میں بہتری کا باعث بنے۔
جبکہ اس کے برعکس ہم ابھی بھی اسی جاگیرداری نظام کی وجہ سے اسی حال میں ہیں۔ اس کی وجہ سے نہ ہماری زراعت ترقّی کر سکی ہے اور نہ صنعت۔ اور اس کے نتیجے میں ملک کی معاشی حالت ایسی ابتر ہوتی چلی گئی کہ جن سے لڑ جھگڑ کے ہم نے آزادی حاصل کی، آج اپنا بجٹ چلانے کے لئے انہی کی امداد لینا پڑ رہی ہے۔
یہ داستانِ غم تو بڑی طویل و عریض ہے جس پہ بے شمار صفحات بھرے جا سکتے ہیں، لیکن مختصراً عرض ہے کہ جب تک ہم آزادی کے مقاصد کو پورا نہیں کر لیتے، اس وقت تک آزاد ملک کا حصول ایک جزوی کامیابی کے سوا کچھ نہیں۔ اگرچہ یہ لگتا ہے کہ ہمیں بہت دیر ہو چکی ہے، لیکن سچ یہ ہے کہ ابھی بھی ہم اپنے آپ کو سیدھی راہ پہ چلانا شروع کریں تو وہ وقت زیادہ دور نہیں جب ہمارا ملک بھی قائد اعظم اور علامہ اقبال کے خوابوں جیسا ملک بن جائے گا۔
پاکستان پائندہ باد