008 - گمنام سچے موتی از رضوان

"گمنام سچے موتی"

یہ وطن تمہارا ہے ، تم ہو پاسباں اس کے
یہ چمن تمہارا ہے، تم ہو نغمہ خواں اس کے

ہم جب بھی "پاکستان" کی بات کرتے ہیں اس دن کی بات کرتے ہیں جس دن ہمارے بڑوں نے آزاد وطن کی فضاؤں میں سانس لیا اور ہمیں "آزادی" کو ایک پلیٹ میں رکھ کر دیا۔

ہمیشہ ہمارے پاس جو الفاظ ہوتے ہیں وہ صرف چند ان رہنماؤں کے لیے ہوتے ہیں جو تحریک آزادی میں پیش پیش تھے۔

ہم بس ان کو ہی ہر سال یاد کرتے ہیں اور پھر ہمارا سال گزر جاتا ہے، آج میں یوم آزادی کے موقعہ پر کچھ الگ لکھ رہا ہوں اور میرے لئے تو یہ شخصیت بہت خاص ہے مگر شاید دوسروں کی نظر میں بہت عام ہو!

آج میں آزادی کے ان قطروں کی بات کرنا چاہتا ہوں جن سے ندی، پھر دریا اور سمندر بنا اور اسی سمندر نے پھر ہم کو ایک آزاد ملک پاکستان کا تحفہ دیا۔

یہ کہانی بڑی پرانی ہے تب کی جب میری زندگی میں اسکول کا نام نیا نیا تھا۔ بڑے بھائی بہنوں سے اسکول کا سنا اور پھر جب اسکول جانا شروع کیا۔

بچپن سے جب سے چیزوں کو دیکھنا سمجھنا سیکھا۔ ایک شخص جو ہر روز ہماری گلی میں آتا تھا بڑے بھائی کو مجھے اور گلی کے بہت سے بچوں کو پیار سے اٹھا کر تانگے میں بٹھاتا تھا۔ پھر ان کے بیگ سنبھال کر آگے رکھتا تھا اور اسکول لے کر اور چھوڑ کر جاتا تھا۔

"چاچا دینا تانگے والا" دین محمد تقریبا 58 سالہ بوڑھا کون تھا وہ شخص اور وہ کیوں اب تک یاد ہے۔

کچھ بھی تو نہیں تھا ایک بوسیدہ سے گھر میں جس کا دروازہ تک نہیں تھا اپنی بیوی کے ساتھ رہتا تھا۔

اولاد اسکی تھی نہیں، بس ایک گھوڑا اور تانگہ اور اسکی کھرلی جو اس کے گھر کے صحن میں تھی اور ایک کمرہ، ساتھ بر آمدہ اور پھر گھر کے آخری کونے پر ایک حمام۔ گھر میں بجلی کا کوئی انتظام نہیں تھا۔

بس ہاتھ سے چلنے والا نل اور صحن کے کونے میں ایک لکڑیوں سے جلنے والا چولہا، ایک تیل کا دیا۔ جو عشاء کی نماز کے بعد بند ہو جاتا۔
بس یہی تھی اسکی کُل کائنات۔

کوئی دنیاوی خواہش نہیں تھی اسکی۔ بس زندگی کو وہ اس لئے جیتا تھا کہ زندگی اس ذات باری تعالٰی کی دی ہوئی امانت ہے۔ اور جس کو وہ انتہائی ایمانداری سے اسکے دئے ہوئے راستے پر گزارتا تھا اور بالکل صحیح مسلمان ہونے کا حق ادا کرتا۔

ایسا لگتا تھا کہ اسکی زندگی میں اک جمود سا طاری ہے۔ صبح بچوں کو چھوڑنا اور پھر دوپہر کو واپس گھر لانا۔ اور شام کو اسٹیشن کے دو تین چکر لگانا۔ یہی تھا اسکا ہمیشہ سے معمول۔

"چاچا دینا تانگے والا" اس کی ایک بڑی خاصیت یہ تھی وہ ہمیشہ اسکول کے راستے میں بچوں کو اچھی اچھی باتیں، گزرے وقتوں کے قصّے سناتا، خاص کر تحریک آزادی پر اس کے آنکھوں کے سامنے رونما ہونے والے سچے واقعات سناتا۔ اور ایسی بہت سی کہانیاں جن کا تذکرہ کتابوں میں نہیں ملتا تھا۔۔

ہر روز کوئی نہ کوئی ایسی کہانی جو انکو کچھ نہ کچھ سیکھنے کا موقعہ دیتی۔

گھوڑے کے ٹاپوں کے ساتھ ساتھ وہ اپنی کہانی شروع کرتا۔ اور کبھی وہ سکول پہنچنے تک وہ کہانی پوری سُنا دیتا اور کبھی وہ واپسی پر اسکو پورا کرتا۔

بچے اسکی کہانیاں بہت غور سے سُنتے اور شاید یہی وجہ تھی کہ وہ اب تک ان تمام بچوں کے ذہنوں میں زندہ تھا جن کو وہ اسکول لے کر اور چھوڑ کر آتا ان بچوں میں ایک میں بھی تھا۔

18 سالہ بڑا گبھرو جوان فرید پور کے ایک کوٹھ کے نمبردار میاں محمد کا بیٹا جب تحریک آزادی کا زور پکڑا تو اس انسان نے جو کہ چند جماعتیں پڑھا ہوا تھا وہ اپنے گاؤں کے لوگوں کو ہر جلسے میں ہونے والی تقاریر اور اخباروں میں چھپنے والی خبریں سُناتا لوگوں کے سوالوں کا جواب دیتا، جو انکے معصوم ذہنوں میں اُبھرتے۔

وہ بتاتا کہ کیسے لوگ اپنا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر بھوکے اور پیدل ہفتوں چل کر ہندوؤں اور سِکھوں سے بچ بچا کر پاکستان پہنچے۔

وہ بتاتا کہ کیسی کیسی تکلیفیں سہی اس ہجرت میں جہاں بچوں کو انکی ماؤں کے سامنے قتل کیا گیا۔ ان پر تیل چھڑک کا زندہ جلایا گیا۔

مسلمان بچیوں کو سر عام جنسی تشدّد کا نشانہ بنایا گیا۔

وہ بتاتا کہ کوئی گھر ایسا نہیں تھا، جس نے کچھ کھویا نہ ہو۔

وہ بتاتا کہ ہم لوگوں کے چہروں پر اتنی تکلیفیں سہنے کے باوجود صرف ایک ہی خوشی تھی جو ہم میں اتنی طاقت پیدا کرتی تھی۔ اور وہ صرف ایک ہی تھی۔

"ہمیں آزاد ملک مل گیا۔"
"ہمارا اپنا ملک۔"
"سب کچھ ہمارا ہو گا جہاں کوئی روک ٹوک نہیں ہو گی۔"
"جہاں ہر ایک کے ساتھ برابری کا سُلوک کیا جائے گا۔"

وہ سب بچوں کو نصیحت کرتا کہ "تم بڑے ہو کر اس زمین کی عزّت اور آن کی حفاظت ہر صورت میں کرنا۔ اس انمول نعمت کو کبھی غیر اہم نہ جاننا۔"

بعض دفعہ بچے اسکی ایسی سمجھدار باتیں سُن کر اسکو بول دیتے "چاچا آپ ہمارے اسکول میں ٹیچر کیوں نہیں لگتے" یہ سُن کر وہ صرف مُسکرا دیتا اور خاموش رہتا۔

پھر ایک دن چاچا دینا تانگے والا چل بسا پھر ایک اور "تحریک آزادی" کا دیا بُجھ گیا۔

میر کارواں ہم تھے، روح کارواں تم ہو
ہم تو صرف عنواں تھے، اصل داستاں تم ہو

ایسے کتنے ہی گمنام لوگ جو تحریک آزادی کی خاموش خدمت کرتے رہے جنہوں نے اس وطن کے لئے وہ سب کچھ قربان کیا جن کو ہم پانے کے لئے کسی بھی حد تک جا ستکے ہیں اور سب کچھ کر سکتے ہیں۔

کچھ عام چہرے جو اس وقت ہر جگہ موجود تھے، جنہوں نے آزادی پاکستان سے پہلے اور بعد مسلمانوں کی اور پھر اپنے وطن
کے لوگوں کی شب و روز پر خلوص انداز میں خدمت کی۔
وہ نہ تو معاوضہ کے طلب گار تھے۔
نہ دھن دولت کے حریص تھے۔
نہ ان کو اقتدار اعلٰی کا کوئی لالچ تھا۔
بالآخر وہ آہستہ آہستہ مٹتے گئے اور پھر خاک ہو گئے۔

ان سچے موتیوں کی قربانیوں کے متعلق صرف وہ چند لوگ ہی جانتے ہیں جن کا ان سے بالواسطہ یا بلاواسطہ تعلّق رہا ہو۔ آج چودہ اگست جشن آزادی کے موقع پر کچھ الفاظ ان "گمنام سچّے موتیوں " کے لئے بھی بچا کر رکھیں۔ ان کو بھی ایسے ہی خراجِ تحسین پیش کریں، جیسے ہم دوسرے راہنماؤں کو پیش کرتے ہیں۔ جن کی قربانیوں کی بدولت ہم آزاد فضاؤں میں سانس لے رہے ہیں۔

یہ وطن ہمارا ہے ،ہم ہیں پاسباں اس کے
یہ وطن ہمارا ہے، ہم ہیں نغمہ خواں اس کے

اللہ تعالی ہم سب کو اپنے بڑوں کے اس عظیم احسان "آزادی" کی اہمیت اور اس کی قدر کرنے کی توفیق دے۔ (آمین) پاکستان زندہ آباد۔