009 - ہمیں پو پھٹنے تک جاگنا ہو گا از رافعہ خان، نظم

آزادی بہت قیمتی ہوتی ہے۔ اس کا جشن تو ضرور منانا چاہئے۔ مگر اس کی حفاظت زیادہ ضروری ہے۔ زندہ قومیں وقت کی نبض پہ ہاتھ رکھتی ہیں۔ اور ثابت کرتی ہیں کہ انہیں اپنے ہونے کا احساس ہے۔

ہمیں پو پھٹنے تک جاگنا ہو گا

اب ہمیں جاگنا ہے
( یہ امیر شھر اور اس کے ساتھیوں نے کہا ہے)
کچھ پرانی داستانوں کی زیبائش کا کام
کچھ بے بسی سے لفظوں میں ڈھلے تازہ قصائص
کچھ بے چہرہ بت ۔ ۔ ۔
بہت کچھ ہمارے حوالے ہوا ہے

امیر شہر اور اس کے ساتھی کہہ رہے ہیں
"چراغِ سحر تھام لو اور جاگتے رہو ۔ ۔ ۔
راتوں کے بعد صبح کائنات کا سب سے حسین وعدہ رہا ہے"
وہ کہ جو سالوں سے کچھ یوں سو رہے ہیں
کہ صبح کا منظر کبھی دیکھ ہی نہ پائے
کہہ رہے ہیں
"راتوں کے بعد صبح ہی ہے، گھبرانا نہیں"

صحیح کہہ رہے ہیں
گھبراہٹ ہی کیا
کہ پتھر جو ہم روشنی کے سفر میں کندھوں پہ اٹھائے ہوئے تھے
اندھیرے کا پیکر ہوئے ہیں
ہمارے سورج کا جسم تک گہنا گیا ہے
روشنی اور سیاہی کا فرق تو بھولتا ہی جا رہا ہے
ایک ازلی رات ہمیں جاگنے کو ملی ہے

اب گھبراہٹ ہی کیا
(کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے)
اب ہمیں جاگنا ہے
اور اسی رات سے
کوئی چراغ نہیں۔ ۔ ۔
کوئی چاند ستارہ نہیں۔ ۔ ۔
اک آفتاب ڈھالنا ہے
صبح سے ملنے کے لیے بہت دیر تک جاگنا ہے۔