001 - غزل از آتش چاپدانوی

الفاظ منتخب جو کسی طور ہو گئے
اشعار کے نزول بلا غور ہو گئے

کچھ پھولوں کے نصیب میں کلغی تھی تاج کی
کچھ ٹوٹ کر گرے تو لبِ گور ہو گئے

کب کی سعی گزرنے کی بحرِ حیات ہے
ہونا تھا ہم کو پار، کسی طور ہو گئے

رنجش رہی نہ شکوہ شکایت کوئی ہمیں
عادی یوں ترے ظلم و ستم، جور ہو گئے

ہونا تو سجدہ ریز بہرحال تھا حسن
در تیرا نہ ملا تو کہیں اور ہو گئے