002 - غزل از فرید ندوی

بدلتی ہیں روز صحرا کی ہوائیں
عجب ہیں یہ ڈرامائی ہوائیں

نزاعِ باہمی یونہی رہی تو
اکھڑ جائیں گی تیری بھی ہوائیں

بگڑ سکتا نہیں کچھ بھی ہمارا
جو چاہیں کر لیں من موجی ہوائیں

حرارت اب بھی باقی ہے دلوں میں
اگرچہ ہیں زمستانی ہوائیں

سبھی اپنے پرائے بن گئے ہیں
جو بدلِیں میر ی قسمت کی ہوائیں

مشامِ جاں معطر کر رہی ہیں
ترے کوچے کی یہ بھینی ہوائیں

مٹانے آئے تھے یثرب کو لیکن
مٹے خود وہ ، چلیں ایسی ہوائیں

وطن کی خوشبوئیں لاتی ہیں اکثر
یہی آوارہ پاگل سی ہوائیں

سکوں سے آشنا ہوتا نہیں دل
بڑھا دیتی ہیں بیتابی ہوائیں

سدا چرکے لگاتی ہیں دلوں پر
تری یادوں کی پُروائی ہوائیں

فرید اب کس پہ تکیہ کیجئے گا
مخالف ہو گئیں ساری ہوائیں