003 - غزل از ساحل

ملا یوں کہ اب دل سودائی سے چشمہ ابل پڑا
اس سے کیا تھا رشتہ بھول گیا ھوں سب

چلا تو جذبات میں آکر میلے میں کھو ساگیا
کہاں تھا میرا گھر رستہ بھول گیا ھوں سب

لمبی سڑک پختہ مکاں دیکھ کر دل بھی پتھر ھوگیا
چھوٹی سی گلیاں گھر تھے خستہ بھول گیا ھوں سب

بناوٹی لوگوں کے بیچ بنا بنا کر باتیں کرنے لگا
کہہ دیا کرتا تھا میں جو برجستہ بھول گیا ھوں سب

اک منظر جو نظر سے گزرا بچے کو کچرا چنتے دیکھا
میں بھی تو تھا کبھی فرشتہ بھول گیا ھوں سب

حالات نے ایسا کھیل کھیلا بساط وقت پر ساحل
مجھ سے جو تھا کوئی وابستہ بھول گیا ھوں سب