004 - گمنام سپاہی از سلمان سلو

گمنام سپاہی

تیری اکڑی ہوئی
کلف لگی وردی
اکڑے ہوئے سینے پر چمکتا جرات کا ستارہ
لگے پیارا
مگر اے جنرل
تجھے کیا معلوم اس تارے کی قیمت کیا ہے؟
اس کی قیمت
میرے قیمتی گرم لہو کی بوندیں
جس کے ہر قطرے کے لیے میں نے ارمان جلائے
اس کی قیمت،
میری بانو، میرے منے کے حسیں خواب۔۔۔
ہاں نیپولین نے سچ کہا تھا
''جان دینا، جان دلوانے سے آساں ہے''
مگر
تمہیں کیا معلوم
کاغذ پر بننے والے منصوبے کس طرح حقیقت بنتے ہیں
کس طرح سپاہی مرتے ہیں