005 - اک چھوٹا سا بچہ از اشرف آرائیں

ایک چھوٹا سا بچہ

میرے اندر اک چھوٹا بچہ
تنہائی میں کب سے سوچ رہا
کہاں کھو گئی اس کی معصومیت؟
کہاں کھو گئیں سب وہ شرارتیں؟
وہ ساتھی، ہم جولی کیا ہوئے
کب ٹھنڈی پڑ گئی حرارتیں!
کیوں تنہائی کا پہرا ہوا۔۔۔۔۔!
وہ چاندنی راتوں میں ڈوبی
سجتی تھی محفلِ یاراں کبھی
پھر کیوں یہ اندھیرا چھا سا گیا
اس رنگ برنگی دنیا کے
قصے سنتے تھے بزرگوں سے
کیوں آج وہ سب مفقود ہوا
کل تک جو رہا خوش باش انساں
غم اس کو کیوں مقصود ہوا!
تھی پاس تو عقل و دانش بھی
پھر کیوں حیواں بن بیٹھے ہیں
اک دوجے کے ساتھی تھے جو کل
کیوں کھولے محاذ وہ بیٹھے ہیں
دل کھول کے ہنس بھی لیتے تھے
کیوں آج بیزار سے بیٹھے ہیں
اک دوڑ میں آگے بڑھنے کی
بچپن پیچھے ہے چھوٹ گیا
کب چھن گئی ہم سے معصوم ادا
کیوں دوَر وہ ہم سے روٹھ گیا
سوچیں گر مل کرسب یہ ذرا
تو شاید راز وہ پا ہی لیں
خوشیاں اپنی، لوٹا ہی لیں