006 - محبت میں کبھی از سلمان سلو

محبت میں کبھی ۔۔۔۔
۔۔14 فروری (صرف تمہارے لئے)۔۔

محبت میں جو یہ اظہار کی اک رسم جاری ہے
نجانے کیوں مجھے بے وجہ لگتی ہے
کسی سنسان رستے پہ خراماں ہو کوئی گاڑی
اور گریگورین چانٹس کی موسیقی میں دونوں ساتھ بیٹھے ہوں
کسی ساحل سے چنی سیپی کی مالا ہو
اور پھر چاند چہرے نے اُسے گردن میں ڈالا ہو
وہ چاہے ہو کوئی بھی لانگ ڈسٹنس کال
یا پھر نیٹ پہ سجے بے تحاشہ ورچؤل کارڈ
وہ تحفہ ڈائری کا ہو یا پھر ہو وہ کوئی چاکلیٹ
بھلا کب دل کی باتیں یہ پہنچانے کے قابل ہیں
محبت میں تو۔۔۔
بس اک بار دیکھیں اور سمجھ جائیں
کہ کس سے بات کرنی ہے، کسے اپنا بنانا ہے
کس کے پاس رہنا ہے، کس سے دور جانا ہے
کہاں سب کچھ بچانا ہے،کہاں سب کچھ لٹانا ہے
کہاں ٹھہراؤ ہے ہر پل،کہاں پہ آگے جانا ہے
کہاں نظریں جھکانی ہیں،کہاں پہ مسکرانا ہے
کہاں پلکیں بچھانی ہیں،کہاں پہ دل بچھانا ہے
کہاں پر سب حقیقت ہے، کہاں سب کچھ فسانہ ہے
کہاں دو پل کی صدیاں ہیں،کہاں ساکت زمانہ ہے
محبت میں کبھی اظہار کی حاجت نہیں رہتی
محبت میں کبھی ۔۔۔۔۔۔!!!