008 - کچھ ایسے بھی کوائف آدمی ڈھوتا ہے روزوں میں از نوید ظفر کیانی

کچھ ایسے بھی کوائف آدمی ڈھوتا ہے روزوں میں
کہ شیطاں اپنی ڈیفیشینسی پہ روتا ہے روزوں میں

نظربازوں کی کن انکھیاں بہت بے چین رہتی ہیں
گناہِ دید وکھری ٹیپ کا ہوتا ہے روزوں میں

گرانی کی چڑیلیں دندناتی پھرتی ہیں ہرسُو
غریب انسان تو بے موت ہی موتا ہے روزوں میں

یہ ریستوران کا گوشہ ہے روزہ خوروں کی جنت
جہاں دادا نے جانا ہے، وہیں پوتا ہے روزوں میں

مجھ ایسے شخص کو حاجت نہیں ہے کونوں کھدروں کی
کوئی جائے اماں سگرٹ کا غم دھوتا ہے روزوں میں

خدا کی رحمتیں منہ دیکھتی رہ جاتی ہیں سب کا
مگر انسان ہے کہ نفس کا کھوتا ہے روزوں میں

مزاجِ روزہ داراں بھی کڑک مرغی کی صورت ہے
ہمہ اوقات غصہ ناک پر ہوتا ہے روزوں میں

کسی بھی کام کا رہنے نہیں دیتا ہے نفس اُس کو
جو روزہ رکھتا ہے آرام سے سوتا ہے روزوں میں

ظفر جب سیٹھ دسترخوان پر تشریف لاتے ہیں
کبھی افطار تا بہ سحری بھی ہوتا ہے روزوں میں