011 - کوئی فی میل نہیں ملی از عتیق الرحمٰن

اس لیے ہم کو کوئی فی میل نہیں ملی!!
پٹانے کے لئے اس کو ہمیشہ "ویہل" نہیں ملی

ہم نہیں تھے چاہتے کوئی بھی ایم اے پاس مگر
ہائے ری قسمت کہ ایف اے بھی فیل نہیں ملی

ملک سے باہر گیا سابق سیاست دان یوں
اس کے سٹینڈرڈ کی یہاں کوئی جیل نہیں ملی

اس لئے بھی کھیلتا ہے وہ ہمارے جذبات سے
وزیر تو وہ ہوا مگر وزارتِ کھیل نہیں ملی

ہر کوئی کھاتا رہا انگور جی بھر کے یہاں
وہ رہا منہ دیکھتا ہی، جس کو بیل نہیں ملی