001 - مصنوعی ترقی از آمنہ احمد

مصنوعی ترقی

60 کی دہائی میں معاشی حالات کے پیشِ نظر لوگوں میں باہر جانے کا رجحان شروع ہوا اور ستر کی دہائی میں عروج پر پہنچ گیا۔ اگر غور کریں تو پاکستان بننے کے بیس سال کے اندر اندر قوم میں بے اطمینانی کی ابتدا ہو چکی تھی۔ جو بعد میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی صورت میں واضح ہوئی۔

70 کی دہائی اپنے ساتھ سیاسی، سماجی، اور معاشی تبدیلی لے کر آئی۔ سیاست میں پہلی بار کسی نے روٹی، کپڑا، اور مکان کا نعرہ لگایا اور قوم کو بندر کی طرح ڈگڈگی پر نچایا۔ سماجی سطح پر ہم مغربی تہذیب و تمدن کے زیر اثر مکمل طور پر آ گئے اور معاشی طور پر پاؤنڈ، ریال، درہم کے زیر نگیں چلے گئے۔

80 کی دہائی کے اوائل میں جب لوگ اپنے متوسط مگر پڑھے لکھے طبقے سے ہونے پر فخر کر رہے تھے تو ایسے میں ایک طبقہ ان کے بالمقابل آ کر کھڑا ہو گیا۔ متوسط طبقے کے پہلے تو حواس گم ہوئے اور پھر وہ ایک قدم پیچھے ہٹ گیا۔ یہ نیا طبقہ وہ تھا جس کے ساٹن کے غلاف چڑھے ٹیپ ریکارڈوں اور لال کمبلوں کا نظارہ ایئر پورٹوں پر کیا جاتا اور مذاق اڑایا جاتا تھا۔ اب وہی طبقہ سونے بھری کلائیوں اور باہر کی الیکٹرانکس کے ساتھ متوسط طبقے کا تمسخر اڑاتا نظر آ رہا تھا۔

ابھی متوسط طبقہ اس حملے سے نہیں سنبھلا تھا کہ 90 کی دہائی میں پاؤنڈ، ریال، درہم کے ساتھ ساتھ ڈالر اور حرام کی کمائی نے شادی کی تقریبات کا رخ کر لیا۔ اب تو متوسط طبقے کے پاس منہ چھپانے کی بھی جگہ نہیں تھی۔ متوسط طبقہ جو چھوٹی عید پر بنے سوٹ کے ساتھ، سال بھر کی ہر تقریب کو نبٹا لیتا تھا، اب ایک ذہنی اور روحانی اذیت سے دوچار ہو گیا۔

اور نئی صدی کے میڈیا نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی اور دُنیا کو ایک نئے رُخ سے اپنے ناظرین کو دیکھایا۔ اب پوری قوم ایک ایسے ریلے کی زد میں تھی جس کی حقیقت کا اس کو خود بھی ادراک نہیں تھا۔ یہ مصنوعی ترقّی کا ریلہ تھا جس کے بھاؤ کی زد میں سب آ گئے اور اس نقلی ارتقاء کے دور اور دوڑ میں مجبوراً یا قصداً خود کو پوری طرح شامل کر لیا!

اس مصنوعی ترقّی کے دور میں، انسانی مساوات کے نظریے کی رو سے جب کوئی ریڑھی بان سیل فون کان سے لگائے نظر آتا ہے، جو اپنے بچوں کو تعلیم نہیں دلا پاتا، تو ورطۂ حیرت میں ڈوب جانا حماقت قرار پایا۔ اس وقت بھی حیرت کا اظہار کرنا ممنوع پایا جب مہینے کے آخر میں ادھار مانگنے والی ماسی دوسرے دن کیبل پر آئے ڈرامے پر رائے زنی کر رہی ہوتی ہے۔ ایسے میں ایک مقروض قوم کے صدر کی بی ایم ڈبلیو یا مرسیڈیز کو روک کر، اس کے "اٹالین ہینڈ میڈ سوٹ" کا کونا پکڑ کر کون سوال کرے گا؟ اسے ایوانِ صدر میں بٹھانے میں معاون تو وہ ساٹن کے غلاف والا اور سیل فون والا ریڑھی بان ہی ہے نا!

اس مصنوعی ترقّی کی دوڑ میں شامل ہونے کے لئے سوچنا جب سزا ٹھہرا، تو ہم نے خود پر عرفان اور آگہی کے در بند کر لئے۔ ہم نے علم کو خریدنا اور ذات کو بیچنا شروع کر دیا کیونکہ اس ترقی کے لئے تعلیم شرط نہیں تھی۔ ہم ذہنی ارتقاء کی بجائے معاشی منافعت کے پیچھے بھاگنے لگ گئے کیونکہ یہ ہی کامیابی کی پہچان بن گئی تھی۔ دُنیا میں انقلاب آتے ہیں اور قومیں نئی سوچ اور نئے ولولے کے ساتھ بہتر سے بہترین کے لئے سرگرداں ہو جاتی ہیں، مگر ہم نے اس سے الٹ کیا اور "شارٹ کٹ" کو زندگی کا نصب العین بنا لیا!

ابھی میں یہاں تک ہی لکھ پائی تھی کی اندر کہیں سے آواز آئی۔۔۔۔ ارے بھئی یہ کیا رونا لگا رکھا ہے۔۔۔۔ ترقّی تو ہو رہی ہے نا اصل یا مصنوعی! ہاں ہو تو رہی ہے۔۔۔۔ سڑکیں ٹوٹی پھوٹی ہیں تو کیا ہوا؟۔۔۔۔ گاڑی تو ہے۔ بچّے اسکول نہیں جاتے تو کیا ہوا۔۔۔۔کیبل تو روز دیکھتے ہیں! بی اے کی ڈگری نہیں تو کیا ہوا۔۔۔۔ وفاقی وزارت تو ہے! دُنیا مصنوعی سیاروں سے دوسری دُنیاؤں کو تسخیر کر رہی ہے اور تم ابھی تک مصنوعی ترقّی کو رو رہی ہو۔۔۔۔ چلو چل کر کوئی سو، ڈیڑھ سو اقساط والا انڈین، پاکستانی ڈرامہ دیکھو۔۔۔۔ مصنوعی زندگی، زندہ باد!