002 - میرا قصور کیا تھا از حفیظ توقیر

میرا قصور کیا تھا۔ ۔ ۔؟
حفیظ توقیر

ہمارا کرکٹ میچ تھا۔ میں کھلاڑی تھا۔۔۔ نہیں میں تو تماشائی تھا فقط ایک تماشائی۔۔۔۔ تماشا دیکھا، تالی بجائی، کپڑے جھاڑے اور گھر کی راہ لی۔
تماشا کیا تھا۔۔۔ گراؤنڈ سے ملحقہ سڑک پر سے سفید رنگ کی سرکاری گاڑی طوفانی انداز میں ڈگمگاتی ہوئی گزر گئی۔ لیکن اپنے پیچھے ایک موضوع چھوڑ گئی۔
''کیا ہوا۔۔۔؟کیا ہوا۔۔۔؟''
''واپڈا والوں کی گاڑی تھی۔ کسی کو کرنٹ لگ گیا ہے۔۔۔!''
''کرنٹ۔۔۔؟کس کو۔۔۔؟''
''ان کا اپنا کوئی ملازم تھا۔۔۔ کل رات کے شدید موسمی طوفان سے جو بجلی کی تاریں ٹوٹ گئی تھیں ان کو ٹھیک کرتے ہوئے اسے کرنٹ لگ گیا ہے۔ تحصیل اسپتال میں اسے لے گئے ہیں۔'' پتا نہیں پوچھ کون رہا تھا اور جواب کہاں سے آ رہا تھا۔ گراؤنڈ میں میچ اپنے جوبن پر تھا۔ لوگ کھیل سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ لیکن اِکا دُکا آوازیں پھر بھی سنائی دے ہی جاتی تھیں۔
''یار۔ اچھا ہی ہوا۔ ان منحوسوں کے ساتھ یہی ہونا چاہیے۔ رات کو کون سا ہمیں سونے دیتے ہیں۔ ہر وقت کی لوڈ شیڈنگ۔۔۔''
''ہاں صحیح کہہ رہے ہو۔۔۔؟''
اس دوران مجھے بلے بازی کے لیے بھیج دیا گیا۔ گیند کہاں سے آ رہا تھا اور میں کیا کھیلا مجھے نہیں یاد آ رہا لیکن جب میں واپس آیا تو پتا چلا اسپتال سے اطلاع آئی ہے کہ واپڈا والوں کا ملازم جاں بحق ہو گیا ہے۔
''یار۔ بے چارہ۔۔۔۔''شاید انسانی ہمدردی میں کسی نے بولنے کی کوشش کی تھی لیکن بڑی درشتی کے ساتھ اسے ٹوک دیا گیا تھا۔
''کاہے کا بے چارہ۔ ہمیں اور ہمارے ملک کو ان لوگوں نے تباہ کر دیا ہے۔ پتھر کے زمانے میں واپس بھیج رہے ہیں ہمیں۔۔۔ اور تم کہتے ہو بے چارہ۔۔۔خس کم جہاں پاک۔''
''اور ویسے بھی سرکاری ملازم تھا۔ خود چلا گیا تو کیا ہوا۔ پیچھے اس کے گھر والے تو عیش کریں گے۔۔۔'' شاید یہ آخری آواز تھی جو میں سن پایا پھر میں اٹھ کر تنہائی میں آگیا۔ مختلف خیالات میرے دماغ میں منڈلا رہے تھے۔ سوئیاں سی چبھ رہی تھیں میرے دل و دماغ میں۔
''خود چلا گیا گھر والے عیش کریں گے۔'' کیا ہماری حکومت نے دورانِ ملازمت حادثے میں ہلاک ہونے والوں کے لیے کسی خاص پیکج کا اعلان کیا تھا۔۔۔؟
لیکن نہیں۔۔۔ میری معلومات میں تو ایسی کوئی بات نہیں تھی۔
مگر۔۔۔ ہو سکتا ہے میری معلومات کم ہوں اور حکومت نے اس جیسے غریبوں کے خاندان کی تاعمر کفالت کا ذمّہ اٹھا لیا ہو۔۔۔؟
''تباہ کر کے رکھ دیا ہے ان لوگوں نے۔۔۔''کسی کے الفاظ میرے ذہن میں گونجے تھے۔ لیکن میں تو لفظ ''ان لوگوں'' کے لفاظی سحر سے ہی نہیں نکل پایا تھا۔۔۔ میرے جیسا حسّاس اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر خوامخواہ سوچ و بچار کرنے والا بندہ یہ نہیں سمجھ پا رہا تھا کہ چھ سات ہزار کی نوکری کرنے والے ملازم کا لوڈ شیڈنگ میں کیا ہاتھ ہو سکتا ہے۔ وہ اور اس جیسے ہزاروں ملازم تو ہمارے ایک فون پر اپنی جان خطروں میں ڈال کر ان موت کے تاروں سے کھیلتے تھے۔
میرا خیال نہیں، یقین تھا کہ وہ بھی اتنے ہی مجبور تھے اس لوڈ شیڈنگ کے ہاتھوں جتنے ہم۔۔۔
تو پھر کیا وجہ تھی کہ ہم لوگ۔۔۔ ہماری قوم۔۔۔ بے حس ہوتی جارہی تھی۔
سب جانتے تھے اس لوڈ شیڈنگ کے کرتا دھرتا کون ہیں مگر پھر بھی قصور وار کسی اور کو ٹھہرارہے تھے۔
سانپ کو مارنے کے بجائے ہم کیوں پرندوں کے گھونسلوں کو آگ لگا رہے ہیں۔ کیوں۔۔۔ آخر کیوں۔۔۔؟
شاید ہم جذبات سے عاری ہو گئے ہیں۔
یا شاید ہم نے تصویر کا وہی رخ دیکھنا شروع کر دیا ہے، جو ہمیں دکھایا جارہا ہے۔
یا پھر ہم حقیقت سے نظریں چرا کر یہ سوچے بیٹھے ہیں کہ ایک دن صبح اٹھیں گے تو ''سب ٹھیک ہو گیا'' سننے کو ملے گا۔
چلیں کسی بڑی مارلن کو پکڑنے کے لیے بوڑھے اسٹیفن کی طرح ہم چوراسی دن (84)کی محنت نہیں کر سکتے۔ لیکن۔۔۔۔ ہم صرف اتنا تو کر سکتے ہیں نا کہ کم از کم قصور وار کو ہی ملزم یا مجرم ٹھہرائیں۔۔۔۔
کیا اس ادھیڑ عمر ملازم کی روح ہم سے نہیں پوچھ رہی ہوگی کہ آخر میرا قصور کیا ہے۔۔۔؟
کیوں مجھے مورد الزام ٹھہرایا جارہا ہے۔۔۔؟
صرف اس لیے کے میں اپنے بچوں کے پیٹ کے لیے اس محکمے میں تھا۔
یا صرف اس لیے کہ میں اپنی تنخواہ حلال کرنے کے لیے ان تاروں سے لٹک گیا تھا۔
صرف اس لیے۔۔۔!
(آنکھوں کے سامنے ہوئے واقعے سے لی گئی تحریر)