003 - مات ہونے کے بعد از کائنات

مات ہونے کے بعد
تحریر: کائنات

زندگی آگے بڑھنے کا نام ہے۔ مگر اس میں ناکامیاں بھی ضرور پیش آتی ہیں۔ کیونکہ ناکامی زندگی کے کھیل کا حصّہ ہے۔ اور اس سے کبھی نہ کبھی تو دوچار ہونا پڑتا ہے اور کوئی شخص ان سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ ناکامی کو برداشت کرنا، مصیبت کو جھیلنا، اور بُرے وقت کا سامنا آسان تو نہیں ہوتا۔ مگر ظاہر ہے کہ زندگی کی تمام مشکلات ختم نہیں کی جا سکتیں۔ ان کے ساتھ کشمکش جاری رہتی ہے۔
کبھی آپ نے نوٹ کیا ہے کہ لوگ ناکامی کا سامنا کس طرح کرتے ہیں؟
نہیں، تو چلیے میرے سنگ اور دیکھیے اس پہلو کا رنگ۔

انسانی فطرت ہے کہ جب بھی کبھی لائف میں کچھ اچّھا ہوتا ہے، تو اس کو نارمل کیٹیگری میں ڈال دیا جاتا ہے اور اتنا سنجیدہ نہیں لیا جاتا۔ بلکہ اپنی محنت جان کر خود کو کریڈٹ دے لیا جاتا ہے۔ اور اپنے کندھے پر تھپکی دی جاتی ہے۔ گردن بھی تھوڑی سی اُونچی ہو جاتی ہے۔ چال بھی مور جیسی ہو جاتی ہے۔ دوسروں سے بھی سراہنے اور داد پانے کی امیدیں واضح ہو جاتی ہیں۔

مگر جیسے ہی زندگی میں کسی ناکامی کا سامنا ہوتا ہے۔ تو فوراً اس پر اپنا رویہ ظاہر ہونے لگتا ہے۔ بندہ پریشان ہو جاتا ہے۔ اگر کمزور ول پاور ہے تو خود کو ذمّہ دار ٹھہرا لیتا ہے۔ اپنی صلاحیتوں پر شک ہونے لگتا ہے۔ کاش، کا لفظ اس وقت کچھ زیادہ ہی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ پھر اس کی ناکامی کے عوامل کو قصوروار بنا کر اپنے اوپر سے اَن دیکھا بوجھا کم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

ہوشیار، موقع پرست لوگ اس مات سے اور طرح نپٹتے ہیں۔ پہلے تو انہیں یقین نہیں آتا کہ وہ آپ اپنے دام میں؟ پھر انہیں اپنے اردگرد جو بھی کمزور بندہ میسّر آئے۔ وہ اس کے کندھے پر بندوق رکھ دیتے ہیں، اسے اپنی ناکامی کا بوجھ ڈالنے کے لیے چُن لیتے ہیں۔ اور خود پتلی گلی سے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تا کہ دوسروں کے سامنے وہ سرخرو ہی رہیں۔

کچھ مہربان اسے زندگی کا ایک رنگ، ایک حصّہ سمجھتے ہوئے اپنے اوپر طاری نہیں ہونے دیتے۔ زندگی میں آگے بڑھتے رہتے ہیں۔ اور غم کی اندھیری رات میں دل کو نہ بے قرار کر، صبح ضرور آئے گی صبح کا انتظار کر۔۔۔۔ پر عمل کرتے خود کو سنبھالے رکھتے ہیں اور دوسروں پر قصور ڈالنا ان کا شیوہ نہیں۔

کچھ بد نصیب ایسے مواقع پر ناکامی کو اپنی بد قسمتی سمجھتے ہیں اور اسے ستاروں اور گِرہوں کی چال سمجھ کر مایوس ہو جاتے ہیں۔ بد دلی اور مایوسی ان کا گھیراؤ کر لیتی ہے۔ اور یہ اسی میں ڈوب کر ناکامی کی وجوہات، عوامِل تلاش کرتے رہتے ہیں۔ قسمت کو کوسنے لگتے ہیں۔ اور کچھ نہیں تو دوسروں کو بُرا بھلا کہنا شروع ہو جاتے ہیں، جو ان کے خیال میں کسی نہ کسی طور اس کا سبب ہوتے ہیں۔

کچھ آپ کے آس پاس خطروں کے کھلاڑی بھی ہوتے ہیں، جنہیں زندگی میں ہر پل رِسک اٹھانے میں مزہ آتا ہے۔ وہ آگے بڑھنے کی چاہ میں چھلانگ لگا کر شارٹ کٹ سے اپنا گول پانا چاہتے ہیں۔ اور اکثر کامیاب بھی ہو جاتے ہیں۔ اگر نہیں ہو پاتے تو مُنہ کے بل گرتے ہیں۔ مگر جو لوگ اپنی ناکامی سے سبق سیکھتے ہیں، ان کی کامیابی کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔

جبکہ کچھ مہربان ناکامی کے ڈر سے کوئی رِسک ہی لینا نہیں چاہتے۔ وہ میدان میں ہی جب نہیں اترتے تو زندگی کی دوڑ میں کیسے شریک ہوں، سو ان کی کامیابی کا کوئی امکان نہیں ہوتا۔ وہ زندگی کی خوبصورت راہ میں کنارے پر ہی بیٹھے رہ جاتے ہیں۔ اور وہیں ان کی زندگی گزر جاتی ہے۔

پہلے میں بھی ایسی کسی صورتحال پر پریشان ہو جاتی تھی۔ تو رو کر دل کا غبار نکال لیتی تھی اور پھر دوبارہ سوچنے سمجھنے اور اللہ تعالٰی سے مدد مانگنے کے قابل ہو جاتی تھی۔ ایک بار یہ ایک بڑی پریشانی کی صورت میرے سامنے آ گئی۔ تب میں نے سوچا کہ اب کیا کروں؟ جس چیز سے بچ رہی تھی وہ بم تو گر گیا۔ تب میں نے سوچا، کیا میں اتنی تکلیف اور مشکل کی گھڑی میں مُسکرا سکتی ہوں؟ اور یہ سوچ کر میں کُھل کر ہنس رہی تھی۔ اور تب سے میں نے ایسے حالات میں جینے کا لاجک سیکھ لیا۔

کچھ لوگوں کو ناکامی کا غم غلط کرنے اور آئندہ حالات کو ہموار بنانے کے لیے مذہب سے بھی رہنمائی مل جاتی ہے۔ "رحم کرو یا شاہ دو عالم" "بے کس پہ کرم کیجئے۔"

یہ تو تھے وہ تمام مہربان، قدردان، بندگان جنہوں نے مات کا سامنا کیا۔ یقیناً ان میں کچھ تو خود ہی بے خبری کے عالم گرفت میں آئے ہوں گے اور باقی پورے ہوش وحواس کے ساتھ اس چکرویو میں پھنسے ہوں گے۔ لیکن۔ ۔ ۔

درحقیقت ناکامی کیا ہے؟
ناکامی کا تعین دشوار نہیں۔ عام طور پر اس میں عزّتِ نفس، سماجی رتبہ یا روپے پیسے کا نقصان شامل ہوتا ہے۔ جو کچھ حاصل کرنا چاہتے ہیں، وہ حاصل نہیں ہوتا۔ تو اسے ہم ناکامی سمجھنے لگتے ہیں۔ اور اسے بدقسمتی سے ملانے لگتے ہیں، پر ڈھکے چُھپے لفظوں میں بد قسمتی ایک استاد ہے جو ہمیں ہماری قوتّ، صلاحیتوں اور حدود کا شعور عطا کرتی ہے۔ حالانکہ حقیقت پسندانہ سوچ یہ ہے کہ ناکامی تو دراصل نئے چیلنج تلاش کرنے کی قیمت ہے۔

گو ناکامی وقتی طور پر ایک ہار کا احساس دیتی ہے، مگر اصل میں ناکامی کا مطلب شکست نہیں ہے کہ بندہ کمرے میں بند ہو کر بیٹھ جائے اور دنیا کا سامنا چھوڑ دے۔ بلکہ ناکامی کی صورت میں تو اپنی بچی کھچی توانائیاں جمع کرنی چاہئیں اور ایک بار پھر میدان میں اترنا چاہیے۔

تاریخ میں جو کامیاب افراد گزرے ہیں، ان کو لفظ "ناکامی" سے بہت چڑ تھی، اور یہ لفظ کم ہی اُن کی زبان پر آتا تھا، کیونکہ یہ لفظ ایک منفی احساس پیدا کرتا ہے۔ خوف اور فرار کا اشارہ دیتا ہے۔ نفسیات دانوں کی رائے ہے کہ ناکامی ہرگز اس قدر خوفناک شئے نہیں ہے۔ بعض دفعہ وہ کامیابی کا وسیلہ بن سکتی ہے۔ سو اس سے گبھرائیے نہیں بلکہ اس کا سامنا کیجیے۔