004 - میرا نام امید ہے از صبیح

میرا نام امید ہے

پیوستہ رہ شجر سے۔ ۔ ۔
یہ سردیوں کی ایک لمبی رات تھی۔ آسمان پر بادلوں کے اِکا دُکا ٹکڑے تاروں سے آنکھ مچولی کھیل رہے تھے۔ شہر کی سڑکوں پر ٹریفک کا سیلاب رواں دواں تھا۔ رات آدھی سے زیادہ گزر چکی تھی لیکن شہر جاگ رہا تھا۔
شہر سے باہر جنگل کے کنارے پر، ایک قدرے کُھلے میدان میں وہ چاروں کھڑے تھے۔ ان کی اُداس نظریں شہر کی روشنیوں پر جمی تھیں۔ تمام جنگل پر ایک پُر سکون سنّاٹا طاری تھا۔
سرسری نظر میں تو وہ ہیولے عام آدمی کے ہی مانند نظر آتے۔ لیکن غور سے دیکھنے پر ان کو انسان ماننا محال تھا۔ ان کے جسموں سے عجیب سی روشنی پھوٹ رہی تھی اور وہ مجسم نور کے بنے معلوم ہو رہے تھے۔
وہ چاروں نہایت خاموشی سے کھڑے تھے۔ کچھ دیر کے بعد ان میں سے ایک نے ٹھنڈی سانس لی اور کہا۔
"دوستو! میں وہ تحفہ خداوندی ہوں جو کسی بھی انسان کے معتوب یا محبوب ہونے کا فیصلہ کرتا ہے۔ میرا نام ایمان ہے۔ میں وہ درِ نایاب ہوں جو خدا اپنے بہت پسندیدہ بندوں کو ہی ودیعت کرتا ہے۔ اور خدا نے مجھے اس قوم کے لیے چُنا۔ لیکن افسوس۔ ۔ ۔ یہ قوم موتیوں کو بھول کر سنگریزوں سے اپنا دامن بھرنے میں مشغول ہو گئی۔ ہر مقام پر میری ناقدری کی گئی۔ کہیں مجھے رشوت کے چند ٹِکوں میں تولا گیا اور کہیں لالچ کے ناسور نے میرا وجود داغدار کیا۔ اور اب میری حالت چراغِ سحر کی مانند ہے جو کسی دم بُجھا چاہتا ہے۔ میں نہیں جانتا کہ ان حالات میں اور کتنی دیر جی پاؤں گا۔ ۔ ۔ "
اتنا کہہ کر وہ خاموش ہو گیا۔ باقی تینوں نے بھی اپنے سر جُھکا لیے۔ کچھ دیر کے بعد دوسرے ہیولے نے زبان کھولی اور کہا۔
"میرا نام مُحبت ہے۔ خداوندِ کریم نے اس قوم کو ایمان سے نوازنے کے بعد ان کے دلوں کو میرے وجود سے مُنور کیا۔ اس قوم کے ہر فرد کو آپس میں بھائی کا درجہ دیا۔ اس قوم کے لوگوں نے مجھ سے ہی کام لے کر عشق و جنوں کی وہ منازل طے کیں جو ان کے پیش رو سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ لیکن۔ ۔ ۔ ۔ پھر یہ آہستہ آہستہ مُجھ سے بھی اُکتا گئے۔ میری جگہ نفرت کے بے مہر اندھیروں نے لے لی۔ وہ دل جو کبھی میرا مسکن ہوا کرتا تھا اب نفرت اور بے زاری کے عفریت کا مسکن ٹھہرا۔
اب میرا ناتواں وجود چاروں طرف سے طوفانوں سے گھر چُکا ہے۔ نہ جانے کونسا لمحہ پیام اجل بن کر آ جائے۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔"
یہ کہہ کر وہ چُپ ہو گیا۔
ذرا دیر کے بعد تیسرا ہیولا یوں گویا ہوا۔ ۔
"میری کہانی بھی تم لوگوں سے زیادہ مختلف نہیں۔ میں ' امن' کے نام سے جانا جاتا ہوں۔ لیکن اب تو شاید یہ لوگ میرا نام بھی بھول چُکے ہوں گے۔ یہ قوم کبھی امن و سکون کا گہوارہ تھی۔ اپنے تو اپنے، غیر بھی ان کی پناہ میں رہنے کو ترجیح دیا کرتے تھے۔ ہر شخص کی جان و مال کی یکساں حفاظت کی جاتی تھی۔ لیکن افسوس۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ سب ماضی کا فسانہ بن چکا ہے۔
آج کوئی اپنے گھر کی چاردیواری میں بھی محفوظ ہونے کا دعوٰی نہیں کر سکتا۔ بھائی، بھائی کا گلا کاٹ رہا ہے۔ ہر طرف وحشت و بربریت کے سائے رقصاں ہیں۔ بے گناہ لاشوں کے بیچ میرا وجود مِٹ کر رہ گیا ہے۔ مظلوموں کی آہوں اور چیخوں کے درمیان میری پُکار کسی کو سنائی نہیں دیتی۔ لگتا ہے کہ میرا بھی وقتِ آخر آن پہنچا ہے۔ میں فنا کی چاپ بہ آسانی سُن سکتا ہوں۔ ۔ ۔ ۔"
یہ سب سُن کر چوتھا ہیولا ہولے سے مُسکرایا۔ اس کے ذہن میں آج صبح کا منظر گھوم گیا جب ایک چھوٹا سا بچہ ایک نابینا شخص کو سڑک پار کروا رہا تھا۔
اس نے مُسکرا کر کہا۔
" تم تینوں پریشان مت ہوں۔ جب تک میں زندہ ہوں، دنیا کی کوئی طاقت تمہیں فنا نہیں کر سکتی۔ میرا وجود ہمیشہ تمہارے لیے آبِ حیات کا کام دیتا رہے گا۔ جب تک یہ لوگ میرا دامن تھامے رہیں گے تم بھی ان کے درمیان موجود رہو گے۔
یہ قوم بہت سخت جان ہے۔ انہیں دوبارہ اُٹھنے کے لیے صرف ایک لمحہِ آگہی درکار ہے۔ مجھے بس اُس لمحے کا انتظار ہے۔ اس وقت کے آتے ہی تم بھی اِک نئی طاقت کے ساتھ اُبھرو گے۔ ایک بار پھر ہر جانب تمہارا ہی راج ہو گا۔
اس تاریک رات کی سحر ضُرور ہو گی۔ اس بات کا یقین رکھنا۔
اور ہاں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میرا نام امید ہے۔ ۔ ۔"