005 - واپسی از کاظمی

واپسی
ایک آنکھ کو آہستہ آہستہ کھولتے ہوئے ہم خود کو انتہائی سہما ہوا پا رہے تھے، پتہ نہیں عالمِ برزخ کیسا ہو گا، فرشتے کیسے سواگت کریں گے اور، اور، اور ۔ ۔ ۔

مگر جب یہ آنکھ پوری کُھل گئی تو دوسری آنکھ افراطِ حیرت سے پٹک کر کے پوری وا ہوگئی۔ ہمارے نتھنوں میں چارے کی سی باس گھس رہی تھی، روشنی بہت کم تھی اور ہمارا پورا چہرہ جیسے کسی نے زبردستی اس جھاڑی میں گھسیڑ دیا تھا۔ ہمیں ایسے لگا جیسے ہم الٹے منہ لیٹے ہوئے ہوں مگر ہمارے دائیں بازو میں شدید کھنچاؤ محسوس ہو رہا تھا اور اسی ہاتھ کی مٹھی میں بھی کچھ چُبھ رہا تھا۔ رفتہ رفتہ حواس بحال ہوئے تو بہت سارے انکشافات چھماکوں کی مانند کوندے۔

ہمیں یاد آیا کہ ہم اپنے گروپ سے بیس پچیس فٹ آگے لمبی سی چھڑی ہاتھ میں لئے راستے کو ٹٹول ٹٹول کر پیچھے آنے والوں کو اللہ اکبر کے نعروں سے راستے کی مناسبت کی نوید سناتے آگے بڑھ رہے تھے۔ نعروں میں توقف کا مطلب تھا کہ راستہ مناسب نہیں ہے اور پھر ہم متبادل زاویوں کو ٹٹول کر پھر سے نعرہ بلند کرتے۔ گھنی اور قد آدم جھاڑیوں میں راستہ بنانا ایک مشقت طلب کام ہوتا ہے۔ اللہ تعالی کا شکر ہے کہ یہ جھاڑیاں خاردار نہیں تھیں بس گھنی کچھ زیادہ ہی تھیں۔ اواخرِ دسمبر کی شدید سردی کے باوجود ان پر پتے موجود تھے۔ ابھی اس علاقے میں برف باری کا سلسلہ تو شروع نہیں ہوا تھا مگر ہوا اس قدر سرد تھی کہ ہمارے بھاری بھرکم کور آل کے اندر موٹی نیلی جرسی کے باوجود ہڈیوں کے گودے تک ٹھنڈ پہنچ رہی تھی۔

ترچھی سی ڈھلوان پر اس جھاڑی سے بچنے کے لئے ہم نے بے خیالی میں دائیں طرف ایک پتھر پر پاؤں جما کر گزرنا چاہا تو وہ پتھر لڑھک گیا اور ساتھ ہی ہم بھی قلابازی کھا گئے۔ افق سے افق تک اندھیرا۔

اب جو آنکھیں کھلیں تو ہم پچاس ساٹھ فٹ گہری اس کھائی میں لٹکے ہوئے تھے۔ آدھا سفر طے ہو چکا تھا، بس اللہ تعالی ہی کی رحمت ہوئی کہ انجانے میں ہمارا دایاں ہاتھ اک نحیف سے پودے کے تنے سے جا ملا اور ہماری مُٹّھی اس کے گرد بھنچ گئی۔ ہم اوندھے لیٹے ہوئے نہیں تھے بلکہ باقاعدہ معلّق تھے اور ہمارا میزبان پودا دھیرے دھیرے اپنی جڑوں سے داغ مفارقت پا رہا تھا۔ نازک جڑوں کے ٹوٹنے کی مدھم مدھم چڑ چڑ ہمیں فکر مند کر رہی تھی۔ کوئی تیس فٹ نیچے نوکیلے پتھر بے قراری سے ہمارے نزول کے منتظر تھے اور یقیناً ان پتھروں میں موجود حشرات الارض بھی۔

ہمارے دل و دماغ میں بڑی شدّت سے یہ احساس پنپ رہا تھا کہ یہ کنواں نما کھائی بہت جلد ہماری آخری آرام گاہ کا درجہ پا لے گی۔

ہمارا میزبان اپنی زمین سے رشتہ توڑے جا رہا تھا مگر ہمارے بائیں ہاتھ کی دسترس میں کوئی دوسرا پودا یا پتھر ایسا نہیں تھا جس پر بوجھ منتقل کیا جا سکتا لہٰذا ہم نے پاؤں سے ٹٹولنا شروع کر دیا، جلد ہی ایک پتھر بائیں پاؤں کی نوک کے پاس محسوس ہوا۔

بھاری فوجی بوٹوں میں احساسات بھی ستر پردوں میں دفن ہو جاتے ہیں، ہم نے اس پتھر کو شرف میزبانی بخشنے کا ارادہ کیا مگر وہ پہلے لمس سے ہی اپنی جگہ چھوڑ کر کھائی کے پیندے میں جا گرا، ایک لمحے کی الجھن کے بعد ہم نے اس پتھر کے نکلنے سے بننے والے کھانچے کو آزمانے کا ارادہ کیا، اللہ تعالٰی کی مدد دیکھیے کہ ہمارا پاؤں اس رخنے میں پورا پورا بیٹھ گیا اور ہم نے اپنا پورا وزن اس پاؤں پر منتقل کر کے اپنے میزبان کی جان بخشی فرما کر پاس ہی موجود دوسرے نسبتاً مضبوط پودے کو تھام لیا۔

ابھی ہم بائیں ہاتھ کے آس پاس دوسرا میزبان تلاش کر ہی رہے تھے کے ایک زور دار مُکا ہماری کمر میں لگا، ہلکی سی آہ کے ساتھ اس نئی صورتحال کو سمجھنے کی کوشش کی تو اُمید کے جگنو چاروں طرف رقص کرتے نظر آنے لگے، ہمارے ساتھیوں نے ہمیں ڈھونڈ لیا تھا اور یہ مُکا اس رسے کے سرے پر لگی گانٹھ کا تھا، جو ہمارے ساتھیوں نے کھائی میں لٹکایا تھا۔ یقیناً اس رسے کا دوسرا سرا اوپر موجود ہمارے ساتھیوں میں سے کسی ایک کی کمر سے لپٹا ہوا ہو گا اور جوں ہی ہم اس رسے کو تھام کر ہلکا سا جھٹکا دیں گے تو وہ ہمیں اوپر کھینچ لیں گے۔

بید کا یہ رسّہ ہمارے لئے زندگی کا پیغام بن کر نازل ہوا تھا۔ ہم دائیں ہاتھ اور دائیں پاؤں پر معلّق تھے اور وہ پیامِ زندگی ایسے زاویے پر آن ٹھہرا جو ہمارے بائیں ہاتھ کی دسترس سے باہر تھا۔ ابھی ہم ہاتھوں کا ادلا بدلا کرنے کا سوچ ہی رہے تھے، کہ اوپر سے مٹّی اور چھوٹے پتّھر ہمارے سر پر گرنا شروع ہو گئے، ہم نے آنکھیں موند لیں اور چہرے کو مزید زور سے ان پتوں میں گھسا لیا۔ ہمارا ایک ساتھی اسی رسّے کے سہارے نیچے آ رہا تھا۔ چند لمحوں میں ہی اس کے پاؤں ہمارے ہاتھوں کے پاس پہنچ گئے۔ اوپر سے اللہ اکبر کے نعروں کی آواز بھی آ رہی تھی۔ ہم نے اپنے ساتھی کے ایک پاؤں کو بائیں ہاتھ سے تھام کر ہلکا سا جھٹکا دیا تو وہ رک گیا پھر ہم نے دونوں ہاتھوں سے اس کی ٹانگ کو تھام لیا اور اللہ اکبر کا نعرہ لگایا، اس نے بھی نعرہ لگایا اور اوپر موجود ساتھیوں نے رسّے کو آہستہ آہستہ کھینچنا شروع کر دیا، رگڑتے گھسٹتے ہم دونوں چند لمحوں میں اوپر اپنے ساتھیوں کے پاس موجود تھے۔ فضا اللہ اکبر کے نعروں سے گونج اٹھی۔ ہمارے گروپ سے پیچھے آنے والا گروپ بھی پہنچ چکا تھا۔ کل آٹھ گروپ تھے، دو ہم سے آگے اور باقی پیچھے۔

تھوڑی دیر میں تیسرا گروپ بھی ہم سے آن ملا۔ ہر گروپ کی روانگی میں دس دس منٹ کا وقفہ رکھا گیا تھا، یوں ہم اندازاً بیس منٹ موت کے منہ میں لٹکے رہنے کے بعد ایک بار پھر حلقہ یاراں میں زندہ و جاوید اور شاداں و فرحاں موجود تھے۔ ہر چہرے پر خوشی کی تمازت لہرا رہی تھی۔ اس آ ملنے والے گروپ میں ہمارے ایک انسٹرکٹر بھی شامل تھے جنہیں شوگر، بلڈ پریشر اور چند دیگر شاہانہ عوارض لاحق تھے اور اس وقت تک کی چار ساعت کی مہم جوئی نے ان کی حالت غیر کر دی تھی۔ بس یہی ایک چہرہ خوشی کی تجلیوں سے خالی تھا۔
۔۔۔۔۔
ہیلی پیڈ پر قائم کیمپ سے روانہ ہونے سے پہلے ہمیں مشن کی بریفنگ دی گئی تھی۔ ہمیں اچھالی جھیل پر پہنچنا تھا۔ ہیلی پیڈ سے اچھالی جھیل کا فضائی فاصلہ محض چھ کلو میٹر ہے اور جوتے کی شکل والی اس خوبصورت جھیل کی ایڑی ہیلی پیڈ کی جانب ہے، مگر ہمیں جو ٹریک دیا گیا تھا وہ اس جوتے کے انگوٹھے پر جا کر ختم ہوتا تھا۔ جھیل کی لمبائی بھی تقریباً چار کلومیٹر ہے اور یوں کل فضائی فاصلہ دس کلو میٹر سے زیادہ نہیں مگر ہمیں ملنے والا "ل" نما راستہ اندازاً تئیس کلو میٹر بنتا تھا۔

ہیلی پیڈ تقریباً چار ہزار پانچ سو فٹ کی بلندی پر واقع ہے اور جھیل اس سے دو ہزار فٹ نیچے، مگر راستے میں بے شمار پہاڑیوں پر چڑھنا اترنا اصل دقّت طلب کام تھا۔
سون کی خوبصورت اور سر سبز وادی اور سکیسر کی پہاڑیوں کی خشک چوٹیوں میں اس سروائیول مشن کے لئے دسمبر کے آخری چار ایّام کا انتخاب بذات خود کسی سزا سے کم نہ تھا۔ کیمپ کو پانی فراہم کرنے والی پائپ لائن میں رات ہی کو پانی جم گیا تھا۔ پینے کے پانی کا ذخیرہ بھی محدود تھا لہٰذا صبح منہ دھونا تو در کنار ، کلی کرنے کو بھی پانی ندارد۔ البتہ ہمیں ایک مژدہ سنا دیا گیا کہ تقریباً ایک گھنٹے کی مسافت پر ایک کنواں ملے گا جس کا پانی گہرائی میں ہونے کے باعث شاید منجمد نہ ہوا ہو، لہٰذا سب لوگ اپنی اپنی بوتلیں وہاں سے بھر لیں۔ ایسا ہی ہوا، سب نے وہی گدلاسا پانی بھرا اور اس وقت وہی پانی ہم پی رہے تھے۔

ہمارے چہرے کی خراشیں تو ہمارے ایک ساتھی نے رومال سے صاف کر دیں مگر پسلیوں اور جسم کے دیگر مقامات پر رگڑ اور خراشوں کا احساس پانی پینے کے ساتھ ہی شدید ہونا شروع گیا۔

میڈیکل مشن آخری گروپ کے ساتھ چلتا ہے اور مشن انچارج یعنی جنرل سروس ٹریننگ آفیسر بھی اسی گروپ میں ہوتے ہیں۔

اگرچہ ہم تو خود کو فٹ ہی محسوس کر رہے تھے مگر ہمارے ساتھیوں نے بہانہ بنایا کہ انسٹرکٹر صاحب کو میڈیکل اسسٹنس درکار ہے لہٰذا میں ان کے ساتھ ٹھہروں تاکہ وہ پریشان نہ ہوں۔

انسٹرکٹر صاحب ایک طرف ہو کر پتھروں پر لیٹ گئے۔ میں ایک نمایاں پوزیشن پر براجمان ہو کر گزرنے والے گروپس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ میں مصروف ہو گیا۔ اگرچہ ٹریک کی بریفنگ دی گئی تھی مگر وہاں کونسا سڑکیں یا پگڈنڈیاں تھیں اس لئے تمام گروپ تھوڑی بہت دوری نزدیکی سے گزر رہے تھے۔

ایک اور گروپ میں ایک کیڈٹ کو بخار اور فلو ہو گیا تھا، اس کی حالت بالکل ناگفتہ بہ تھی۔ وہ بھی انسٹرکٹر صاحب کے پہلو میں ڈھیر ہو گیا۔ اس طرح ہم دو سے تین ہو گئے۔

دوپہر کے وقت آخری گروپ ہم سے ذرا دور نمودار ہوا تو ہم نے اللہ اکبر کے نعرے لگانا شروع کر دیئے، وہ اسی طرف مڑ آئے۔

میڈیکل والوں نے ہمارا معائنہ کیا، خراشوں پر پٹرولیم جیل لگائی، درد کی دو گولیاں کھلائیں اور فٹ قرار دے دیا مگر جی ایس ٹی او صاحب نے ہمارے خوب لتے لئے، اپنی مخصوص ڈکشنری کے تمام مخطوطات و ملفوظات سے ہمیں بہرہ مند فرمایا اور سزا یہ سنائی کہ ان دونوں مریضوں کو واپس کیمپ پہنچاؤ۔

ہم جی ایس ٹی او صاحب کے فیورٹ تھے، پریڈ اور دیگر ایکٹوٹیز میں ہمیشہ ان کی توقعات پر پورا اترتے تھے بلکہ پریڈ کے سالانہ مقابلوں میں تو ہمارا سکواڈرن صرف اس لئے فرسٹ آ گیا تھا کہ ہم نے بیانٹ لگنے سے ٹیڑھی ہو جانی والی اپنی پی کیپ کو سیدھا کرنے کی غلطی نہیں کہ اور ساری پریڈ اس الجھن آمیز ٹیڑھی ٹوپی کے ساتھ خوب نبھائی۔

آج وہ بہت تلملا رہے تھے، انہیں معلوم تھا کہ ہمیں شدید چوٹیں آئی ہیں مگر میڈیکل والے سطحی معائنہ کر کے ہمیں فٹ قرار دے رہے ہیں۔ ہمیں واپس بھیجنے کا ان کے پاس ایک ہی ذریعہ بچا تھا کہ ہمیں سک پارٹی کا گارڈ بنا کر روانہ کر دیں۔ سو انہوں نے ایسا ہی کیا۔

مگر ان کے پیچ و تاب کم نہیں ہو رہے تھے۔ چلتے چلتے بھی ہانک لگائی، آئی ڈڈ ناٹ ایکسپیکٹ دس فرام یو، ہم نے کچھ کہنے کے لئے منہ کھولا ہی تھا کہ دھاڑے، مائی فٹ، گو ناؤ، آئی ول سی یو دیئر۔ اور ہم سر نیہواڑئے چل دیئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
واپسی کا سفر اندازاً دو گھنٹے کا تھا۔ لگ بھگ ایک چوتھائی سفر گزرا ہو گا کہ انسٹرکٹر صاحب کو شک گزرا کہ ہم غلط جا رہے ہیں، ہم نے انہیں بہت سمجھایا، کافی نشانیاں اور قدموں کے نشان دکھائے مگر وہ بضد تھے کہ ہمیں بائیں طرف جانا چاہیے، از بس کوشش کے باوجود وہ نہ مانے تو طوعاً و کرہاً بائیں جانب اندازاً ٹین او کلاک ڈائریکشن میں چل دیئے۔ کوئی نصف گھنٹے کی مسافت پر انسٹرکٹر صاحب پر پھر وہی کیفیت طاری ہو گئی، اب ان کی ضد تھی کہ واپس چلیں، اسی پوائنٹ پر جہاں سے مڑے تھے، وہی راستہ درست تھا۔

ڈیڑھ بجنے والا تھا، چار بجے سے شام اپنے گیسو پھیلانا شروع کر دیتی، ہمارے پاس وقت کم تھا اس لئے ہم نے انسٹرکٹر صاحب کو بتایا کی اس وقت چونکہ ہم انچارج ہیں اس لئے انہیں ہماری ہدایات پر عمل کرنا ہو گا۔ ہم واقعی راستہ کھو چکے تھے لہٰذا ہم نے کسی آبادی وغیرہ کے آثار ڈھونڈنے کا ارادہ کیا۔ دونوں مریضوں کو ایک بلند اور نمایاں جگہ پر بٹھا کر اندازے سے ایک طرف کو چل دیئے۔ ہمیں ایک جگہ پر چھوٹے بڑے پاؤں کے نشانات سے اندازہ ہوا تھا کہ اس طرف آبادی ہو گی۔ چند منٹ بعد ہی ہمیں زمین میں ہلکے سے ارتعاش کا احساس ہوا۔ ہم الٹے لیٹ گئے اور سنگلاخ زمین سے کان لگا کر کچھ سننے کی کوشش کرنے لگے۔ چند لمحوں میں ہی ہمارے کان ایک واضح اور شناسا آواز سے ہم آہنگ ہو گئے۔ یہ کسی بھاری ٹرک یا پانی کے ٹیوب ویل کے انجن کی آواز تھی۔ اگر ٹرک تھا تو بہت آہستہ چل رہا تھا۔

ہم نے نزدیکی پہاڑی پر چڑھنا شروع کر دیا اور ساتھ ساتھ دور اس چٹان پر سستاتے اپنے ہم رکابوں کو بھی نگاہ میں لئے رکھا۔

جلد ہی ہمیں ایک زیرِ تعمیر سڑک اور اس پر چلتا رولر نظر آ گئے۔ زیادہ فاصلہ نہیں تھا، وہاں کام کرتے آدمی بھی نقطوں کی مانند نظر آ رہے تھے۔ ہم نے اپنے ساتھیوں کو اس جانب اترنے کا اشارہ کیا اور خود بھی متوقعہ میٹنگ پوائنٹ کی جانب لڑھکنا شروع کر دیا۔ اترائی کا سفر تھا سو ہم چند منٹوں میں سڑک پر موجود تھے مگر وا حسرتا، وہ لوگ مقامی نہیں تھے، نہ تو ہماری بولی سمجھتے تھے نہ ہی آس پاس سے واقف۔ ان سے تھوڑا سا پانی البتہ مل گیا مگر اتنا نہیں کہ ہماری پیاس بُجھ سکتی۔

ہم نے سڑک کے ساتھ ساتھ چلنے کا فیصلہ کیا۔ خیال یہ تھا کہ یقیناً یہ سڑک آبادیوں کو ملانے کے لئے ہی بنائی جا رہی ہے۔ ہمارا خیال درست ثابت ہوا اور ہم جلد ہی ایک چھوٹی سی بستی میں آ وارد ہوئے۔ مگر وہاں اس وقت کوئی مرد موجود نہ تھا، بچوں نے ہمیں بکری کا دودھ دیا اور پانی سے ہماری بوتلیں بھر دیں۔ وہ لوگ فوجیوں کی خدمت کرکے فخر محسوس کر رہے تھے اور ان کی دعوت تھی کہ چونکہ شام ہونے والی ہے اور جلد ہی ان کے مرد واپس لوٹ آئیں گے لہٰذا ہم رات یہاں گزار کر صبح چلے جائیں۔ مگر ہمیں ہر حال میں جلد از جلد واپس کیمپ پہنچنا تھا اس لئے ان کا شکریہ ادا کیا اوران کی بتائی ہوئی سمت میں چل پڑے۔ راستہ ہموار تھا مگر تقریباً ایک گھنٹہ چلنے کے بعد ایک سپاٹ چڑھائی درپیش ہوئی۔ رستہ بھی بُھربُھرا تھا اور ایک جانب مسلسل کھائی، ہمارے ساتھیوں نے آگے بڑھنے سے انکار کر دیا۔

شام اترنا شروع ہو چکی تھی۔ ہم ان میں سے ایک کو بغل میں کندھا دے کر آگے بٹھا آتے اور پھر آ کر دوسرے کو اسی طرح مزید آگے بٹھا آتے، یوں ہم تہرا سفر اور بار برداری کرتے رہے، اندھیرا گہرا ہو رہا تھا اور ہماری جان پر بنی ہوئی تھے جبکہ ہمارے ہڑتالی ساتھی تعاون سے بالکل باغی ہو چکے تھے۔ چڑھائی ختم ہوئی، راستہ دوبارہ ہموار ہوا اور ساتھ ہی ہمیں تھوڑا نیچے ایک خشک نالے کی صورت نظر آ گئی۔ تھوڑی سی اترائی کے بعد ہم اس نالے کے کنارے پہنچ گئے۔ نالے کی یہ دیوار بالکل سیدھی تھی، کوئی دس فٹ گہری۔ دس فٹ کی دیوار سے لٹکنے والے چھ فٹ کے آدمی کے پاؤں تہ سے محض دو اڑھائی فٹ ہی اوپر رہ جاتے ہیں سو ہم نے فوراً کنارے سے لٹک کر نالے میں چھلانگ لگا دی مگر ہمارے ساتھیوں نے وہیں چلانا شروع کردیا۔ وہ سمجھے شاید ہم ان سے تنگ آ گئے ہیں اور اب انہیں چھوڑ کر بھاگ جائیں گے۔ اترتے ہوئے اندھیرے نے انہیں ہمارا تابع کر دیا۔ ہم نے انہیں کہا کہ کنارے کے ساتھ لٹکو، ہم نیچے سے انہیں پکڑ کر اُتار لیں گے۔ دونوں اصحاب بڑی شرافت سے نیچے اتر آئے۔ نالے کا دوسرا سِرا ڈھلوان تھا، آرام سے اوپر آئے تو اچانک لکڑی کا ایک کھوکھا نمودار ہو گیا۔ اس میں ایک بوڑھا سا آدمی بھی موجود تھا جو لالٹین جلانے کی تیاری کر رہا تھا۔ ہمیں دیکھ کر اس نے چمنی نیچے رکھی اور بیٹھے بیٹھے تن کر ہمیں گھورنا شروع کر دیا۔ ہم نے 'السلام علیکم' کہا تو وہ کھڑا ہو گیا۔ ہمیں اچانک یاد آیا کہ ہم نے صبح سے کچھ نہیں کھایا، کھوکھے سے راشن ملنے کی توقع نے اشتہا کو ہوا دی۔ بابا جی کے پاس صرف کریم والے بسکٹ تھے، فی پیکٹ پانچ روپے۔ ہم نے کہا شہر میں تو ایک روپے کا پیکٹ ہے تو وہ مسکرائے، بولے جانتا ہوں۔ چلو تم فوجی ہو تمہارے لئے آدھی قیمت۔ ہماری دکانداری والی رگ پھڑکی، ہم نے کہا کہ ہمارے پاس صرف پانچ روپے ہیں اور ہم تین لوگ ہیں۔ بابا جی نے ایک جاندار قہقہہ لگایا اور ڈیل ہو گئی۔

ہم تینوں بسکٹ کھاتے اور پانی پیتے چل دیئے۔ چند منٹ بعد ہی ہمیں کسی بستی کی روشنیاں نظر آنے لگیں، روشنیاں کافی تیز تھیں، پاس جا کر معلوم ہوا کہ ہم آرمی کی کسی رہائشی بستی میں پہنچ گئے ہیں۔ محفوظ مقام پر پہنچ جانے کے احساس سے ہی ہم پر بھر پور تھکن کا دورہ پڑا۔ پورا جسم شدید درد اور اینٹھن کا شکار محسوس ہونے لگا۔

ہم اپنے کیمپ سے چند منٹ کی دوری پر تھے، اللہ تعالٰی نے ہمیں بر وقت اور بہت کم ایرر کے ساتھ منزل کے قریب پہنچا دیا تھا۔

آرمی والوں نے ہمیں کھانا کھلایا، چائے پلائی اور ایک اوپن جیپ میں کیمپ پہنچا دیا۔
کیمپ میں ہمارے سوا کوئی نہ تھا، کُک بھی نہیں۔ کھانا تو آرمی والوں سے کھا آئے تھے، سو لمبی تان کر سو گئے۔ تھکن نے ایسی تھپکیاں دے کرسلایا، جیسے ماں پالنے میں سُلاتی ہے۔

صبح ہماری آنکھ جیپ کی آواز سے کُھلی، یہ جیپ مریضوں کو آرمی کے میڈیکل انسپیکشن روم اور ہمیں جوتے کے انگوٹھے تک پہنچانے کے لئے بھیجی گئی تھی جہاں سے ہم نے اپنے گروپ کے ساتھ واپسی کا سفر شروع کیا۔ جی ایس ٹی او صاحب نے ہمیں اپنے گروپ میں بلا لیا اور تمام راستہ خصوصی شفقت فرماتے رہے مگر الحمد للہ ہم نے انہیں مایوس نہیں کیا۔ مشن سے واپسی پر دس دن کی چُھٹّیاں تھیں۔ ان دس دنوں میں ہماری امّی جی ہمیں مالش اور جی ایس ٹی او صاحب کو نالش ہی کرتی رہیں۔