007 - نہ جانے کون سا آسیب تحریر درِ نایاب

نہ جانے کون سا آسیب

وہ ڈینٹل چئیر پر منہ کھولے نیم دراز لیٹی تھی اور ڈینٹسٹ اپنا ماسک پہنے اس کے دانتوں سے نبردآزما تھا۔ بالکل سامنے دیوار پر ایک قد آدم آئینہ لگا تھا جس میں اسے اپنا کھلا ہوا منہ اور ڈینٹسٹ کے سر کا پچھلا حصہ جو بیچوں بیچ صفا چٹ میدان اور آس پاس کہیں کہیں ہریالی کا نقشہ کھینچ رہاتھا، نظر آرہا تھا۔ اس میدان پر سے گزرتے ہوئے ماسک کے سفید فیتے کو دیکھ کر وہ سوچ رہی تھی کہ ایسا فیتہ اس نے کہاں دیکھا ہے کہ اچانک اس کی سرگوشی سنائی دی۔
" بے بی نیپی".
اس کے منہ میں سکشن ٹیوب ہونے کے باوجود بے اختیار قلقل کرتا ہوا ایک قہقہہ ابھرا۔ ڈینٹسٹ اس اچانک افتاد پر ہڑبڑا کر اپنی چیئر سمیت پیچھے رول ہوا۔ سلائیوا اور پانی کے چھینٹے اس کے ماسک پر اڑے۔ وہ ہنستے ہنستے بےدم ہوکر ایک دم سے بیٹھ گئی۔ بڑی بڑی بادامی آنکھوں میں پانی بھر آیا۔ ڈینٹسٹ کی آنکھوں میں غصہ اور تعجب صاف نظر آرہا تھا۔
"آر یو آل رائیٹ" (کیا تم ٹھیک ہو؟) وہ ماسک کے پیچھے سے بولا۔
ماریہ اب آوٹ آف کنٹرول ہنس رہی تھی۔ اس سے بیٹھا نہیں جارہا تھا۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر چند پیپر ٹاول کھینچے اور اپنا منہ صاف کیا۔ پھر ڈینٹسٹ سے مخاطب ہوئی۔
" پارڈن می بٹ ایم ناٹ ریڈی یٹ!" (معاف کیجیئے گا میں اس وقت تیار نہیں ہوں)
یہ کہہ کر وہ اٹھی اور بھاگ کر کمرے سے نکل گئی۔ ڈینٹسٹ ہکّابکّا اسے جاتا دیکھتا رہا۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

وہ سب وے میں بنچ پر بیٹھی ٹیوب کا انتظار کررہی تھی کہ وہ اچانک سامنے آگیا۔
"تم یہاں؟" وہ زور سے بولی۔
" ہاں میں۔ ۔ ! تم یاد کررہی تھیں ناں مجھے معلوم ہوگیا اور دیکھو چلا آیا۔"
وہ ایک دم سے کھلکھلا کر ہنس دی۔ وہ واقعی اسے صبح سے یاد کررہی تھی۔ ساتھ بیٹھا ہوا بوڑھا انگریز عجیب نظروں سے اسے گھور رہا تھا کہ وہ مسلسل ہنس رہی تھی اور اپنی زبان میں بڑبڑا رہی تھی۔
" یونو! تم واقعی جن ہو۔ دادی کو تو پورا شک ہے کہ تم نے مجھ میں بسیرا کیا ہوا ہے۔"
"اب میں برا مان جاؤں گا۔ جو تم نے مجھے جن کہا، تم جانتی ہو میں کون ہوں۔"
"ہاں جانتی ہوں تم جن نہیں پر وہ ہو جو ہر وقت میرے ساتھ رہتے ہو۔ میری ہر خوشی ہر غم میں شریک۔ ۔ "
وہ مطلوبہ ٹرین میں سوار ہوگئی۔ آج بڑے دنوں کے بعد فرصت سے اس سے ملاقات ہوئی تھی۔ وہ آس پاس سے بےنیاز اپنا ایک ایک منٹ اس کے ساتھ انجوائے کررہی تھی۔ وہ نوٹنگ ہل گیٹ پر اتر گئی اور بھاگ کر سیڑھیاں چڑھ کر اوپر آئی۔ سردی سے اس کے گال گلابی ہورہے تھے اور چہرے پر ایک انجانی سی خوشی کا نکھار تھا۔ وہ بہت خوش نظر آرہی تھی اور مسلسل مسکرائے اور بڑبڑائے جارہی تھی۔
کراسنگ پر کھڑے ہوکر اس نے سگنل دبایا اور یہ دیکھے بغیر کہ سگنل آن ہوا یا نہیں، چل پڑی۔ اچانک گاڑیوں کی بریکوں کی احتجاجی چیخیں اور کئی آوازیں سنائی دیں۔ کسی نے کندھے سے پکڑ کر اسے پیچھے کی جانب زور سے کھینچا اور غصے سے بولا
"آر یو کریزی!" (کیا تم پاگل ہو)
ایک لمحے کو اس نے چونک کر اجنبی کو دیکھا اور اپنا کندھا چھڑا کر پوچھا۔
"ایم سوری، واٹ ہیپنڈ؟" (معاف کیجیئے گا کیا ہوا !)
اب کے اس اجنبی کے چونکنے کی باری تھی۔
وہ اب بھی کھڑی مسکرا رہی تھی۔ اس کی توجہ نہ ٹریفک کے اژدہام پر تھی نہ ہی سگنل پر۔ وہ مسلسل بڑبڑا رہی تھی جیسے کسی سے بحث میں مشغول ہو۔ واک کا سگنل آن ہوا اور لوگوں نے کراس کرنا شروع کیا۔ کسی کا بیگ اسے چھوا تو وہ متوجہ ہوئی اور بھاگ کر روڈ کراس کیا۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

وہ تین لڑکیاں تھیں۔ ان میں سے ایک بہت خوبصورت اور نک چڑھی تھی۔ متمول گھرانے سے تعلق تھا اور باقی دو اس کی ہاں میں ہاں ملانے والی چمچیاں۔ نام تو اس کا نتالی تھا مگر ماریہ اسے ہائی فائی ہی کہتی تھی۔ پچھلے چار سالوں سے یہ گروپ بڑی یکسوئی سے ماریہ کے پیچھے پڑا تھا۔ اس پر فقرے اچھالنا، اسے دیکھ کر کانا پھوسی کرنا، اس کی دیگر لڑکیوں کے سامنے تذلیل کرنا، اس کے ساتھ گھٹیا مذاق کر کے "نتھنگ پرسنل" کہہ دینا، اس کے بارے میں جھوٹی افواہ پھیلانا، کلاسز کے بعد یہ ان لڑکیوں کا پسندیدہ مشغلہ تھا ۔ زیادہ تر لڑکیاں ایسے گروپ سے الجھنے یا دشمنی مول لینے کے بجائے دور ہی رہنا پسند کرتی تھیں کیونکہ وہ جانتی تھیں کہ ماریہ جیسی بے نیاز لڑکیاں اگر بھول سے بھی ان کی راہ میں آپڑے تو وہ ان کی اسکول لائف اجیرن بنادیتی ہیں اور وہ یہ بھی جانتی تھیں کہ اگر کسی نے ماریہ سے دوستی کی تو اس کی بھی شامت آئے گی۔ اسی وجہ سے ماریہ کو کوئی دوست نہ بنا سکا۔

ماریہ اور ہائی فائی کا گروپ اب اے لیول میں بھی ایک ساتھ ہی پہنچ چکے تھے۔ فرنچ کی کلاس میں سب سے پیچھے بیٹھنے اور سب سے کم نمبروں سے پاس ہونے کی وجہ سے وہ تینوں اس کا مذاق اڑاتیں اور فرنچ گالیوں سے ہی نوازتیں۔ جب سے وہ ہائی اسکول میں آئی تھی یہی حال تھا نہ کوئی دوست نہ غمگسار
خاموشی سے سہے جارہی تھی۔

آج بھی وہ آخری سیٹ پر تھی اور فرنچ لیکچرار مس مرفی اس کا اسائنمنٹ لہرا لہرا کرحسبِ معمول اسے لتاڑ رہی تھی۔ مگر آج وہ ہمیشہ کی طرح سر جھکا کر کھڑے ہونے کے بجائے مرفی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے مسکرا رہی تھی۔ آگے کی سیٹوں کے سارے سر حیرت سے پیچھے کو مڑے ہوئے اسے دیکھ رہے تھے۔ اس کے چہرے پر طاری بے نیازی، ہونٹوں پر پھیلی طنزیہ مسکراہٹ، غرور سے اٹھا ہوا سر اور یک ٹک مرفی کے چہرے پر مرکوز نظر نے سب کو حیران کردیا تھا۔

"دیکھو دیکھو اس کی آنکھیں سانپ کی مانند سکڑ گئی ہیں اور نتھنے اتنے پھول گئے ہیں کہ پوری مکھی ان میں گھس جائے۔ " وہ کان میں بولا۔

اس کی مسکراہٹ پہلے ہنسی اور پھر ایک ہسٹیرک قہقہے میں تبدیل ہوئی ۔ مس مرفی نے اسے عجیب سی نظروں سے دیکھا اور چپ ہوگئی۔ ماریہ اپنی جگہ سے چلی اور عین مرفی کے آگے آکر کھڑی ہوگئی۔ وہ اب بھی مسکرا رہی تھی۔ اپنے اتنے قریب کھڑے دیکھ کر ایک لمحے کو مس مرفی بھی سٹپٹا گئی۔

" ایکسکیوز می مس مرفی،اگر آج کے بعد آپ میری انسلٹ کرنے سے باز نہ آئیں تو نتیجے کی ذمہ دار آپ خود ہوں گی۔ اور میں یہ بات صاف صاف کہہ رہی ہوں تاکہ سب سن لیں اوریاد رکھیں"۔

اس کے ساتھ ہی مرفی کے ہاتھ سے اپنا پیپر جھپٹا اور ٹکڑے ٹکڑے کر کے ہوا میں اچھال دیا۔ کلاس میں ایک دم خاموشی چھا گئی۔ حیرت سے دنگ چہروں کی پرواہ کیے بغیر وہ اسی طرح سکون سے اپنی جگہ پر واپس پلٹ گئی۔

--------------------------------------------

پاکستان سے آئی دادی کے پرزور اصرار پر وہ نماز پڑھ رہی تھی۔ قریب صوفے پر بیٹھی دادی اس کی ایک ایک حرکت پر نظر رکھے ہوئے تھیں۔ اس کے ہاتھ دعا کے لیے اٹھے ہوئے تھے، نظریں یک ٹک اپنے ہاتھوں پر تھیں۔ وہ زیرلب کچھ بڑبڑارہی تھی اور ساتھ ہی مسکرائے جارہی تھی کبھی مسکرانے کے ساتھ دانتوں کی بھی نمائش ہوتی جیسے خدا سے بھی مزے مزے کے قصے بیان ہورہے ہوں۔ اس کی آنکھوں اور چہرے پر کچھ اور ہی رنگ تھے اور آس پاس سے ایسی بےنیازی تھی کہ دادی ایک دم سے ٹھٹھک کر سوچنے لگیں۔

"یہ ہوتے ہوئے بھی موجود نہیں ہے۔ یہ کیا ہورہا ہے اسے۔ پہلے ایسی تو نہ تھی۔ یہ کس کا سایہ پڑا ہے" ۔ دادی کی توہم پرست رگ پھڑکی۔ وہ دیکھ رہی تھیں کہ دو سال پہلے تک کی یہ بانس کی طرح لمبی، روکھی پھیکی اپنے آپ سے شرمندہ اور نظریں چرائے رکھنے والی اب کسی اور ہی کیفیت کا شکار لگتی ہے۔ ہر وقت کھوئی کھوئی سی، اپنے آپ سے بے نیاز، نہ کسی سے بات چیت بلکہ کسی کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہیں۔ بات تو خیر پہلے بھی نہیں کرتی تھی مگر کچھ پوچھنے پر جواب تو دیتی تھی۔ اب تو بات سننا بھی گوارا نہیں، سن کر بھی جیسے سنی ہی نہیں اور اس کی آنکھیں، ایسا لگتا تھا ان آنکھوں میں ماریہ نہیں کوئی اور ہے۔ اجنبی باغی آنکھیں۔ برف کی طرح جامد آنکھیں۔

رات دادی دم کیا ہوا پانی لے کر آئیں۔

"ماریہ بیٹا اسے پی لو بسم اللہ کہہ کر۔" ماریہ نے چپ چاپ پانی کا گلاس ہاتھ میں لیا اور دادی کی آنکھوں میں دیکھا۔ دادی نظریں چرانے لگیں۔ اس کے کان میں آواز آئی۔

"یہ پانی مجھ سے پیچھا چھڑانے کے لئے تمہیں پلایا جارہا ہے۔"

" تو کیا میں یہ پانی پی لوں؟" وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑائی۔

"ہاں ! پی لو کوئی حرج نہیں!""کیوں حرج نہیں، تم بھاگ جاؤ گے۔ میں پھر اکیلی رہ جاوں گی۔"

" نہیں، نہیں بھاگوں گا۔ یہ اس وقت ہوگا جب میں نے کچھ برا کیا۔ اب تک تو سب اچھا ہی ہے۔ اور فکر نہ کرو میری جان جب بھی جاؤں گا تمہیں اپنے ساتھ لے کر ہی جاؤں گا۔ یہ میرا وعدہ ہے تم سے!" وہ خوش ہوگئی ۔

دادی دیکھ رہی تھیں کہ وہ پانی کو یک ٹک گھور رہی ہے اور مسکراتے ہوئے کچھ بول بھی رہی ہے۔ وہ سن رہی تھیں مگر سمجھ نہیں پارہی تھیں کہ ماریہ کیا کہہ رہی ہے اور کسے کہہ رہی ہے۔ وہ ایک گھونٹ میں سارا پانی پی گئی اور کچھ قطرے سر اور آنکھوں پر بھی ڈالے۔ اسے یاد تھا ایسا اس کی مرحوم ماں بچپن میں کیا کرتی تھی۔ دادی خوش ہوگئیں جھٹ سے گلے لگالیا۔ وہ دادی کی طرف دیکھ کر مسکرائی اور بولی۔

" فکر نہ کریں دادی مجھ پر کوئی سایہ نہیں۔ ۔!" دادی کا رنگ فق ہوگیا۔ "اسے کیسے پتہ۔ ۔ !"

- - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - -

"کیا ہے!" وہ لائبریری میں بیٹھی کتاب پڑھ رہی تھی کہ اس کی کلاس فیلو نے آکر ایک سفید لفافہ لہرایا۔
"خود ہی دیکھ لو!" وہ لفافہ ٹیبل پر پھینک کر چلی گئی۔
لفافے پر اس کا نام ٹائپ تھا اور ایک کونے میں فیکلٹی آف فرنچ کی مہر لگی ہوئی تھی۔
"ہمم۔ ۔ ۔ ۔تو شکایت پہنچ گئی!" اس نے لفافہ پلٹ کر کھولنا چاہا کہ کان میں سرگوشی ہوئی۔
" یہ تمہیں زچ کرنے کی ایک اور چال ہے۔ پھینکو اسے۔ ۔ ۔ کوئی اہم مسئلہ یا شکایت ہوگی تو خود ہی ڈھونڈتے ہوئے آئیں گے۔" اس نے لفافہ کھولے بغیر سائیڈ پر رکھ دیا۔ لائبریری سے نکلنے سے پہلے کونے میں پڑے ڈسٹ بن میں دو ٹکڑے کر کے پھینک دیا۔
وہ جیسے ہی لائبریری سے باہر نکلی نتالی نے پیچھے سے آواز کسی۔
"ہے یو فرنچ ڈمب! جتنا پڑھو گی اتنا ہی ضائع کرو گی!" قریب ہی چمچیاں بھی کھی کھی کرنے لگیں۔
وہ بیک پیک پھینک کر جارحانہ انداز میں اس کی طرف بڑھی۔ اس کی نظروں میں جانے کیا تھا نتالی خائف ہوکر ایک دم پیچھے ہٹی۔ وہ اس کے سر پر پہنچ گئی اور اس کی کلائی دبوچ کر مروڑی۔ نتالی تلملائی مگر اس کی مضبوط گرفت سے اپنا ہاتھ نہ چھڑا سکی۔
" میں نے اس دن مس مرفی سے پرامس کیا تھا۔ اور آج تم سے بھی کر رہی ہوں کہ اگر آج کے بعد تم نے میرے لئے ایک بھی نازیبا لفظ منہ سے نکالا تو میرا جو ری ایکشن ہوگا اس کی پوری ذمہ دار تم خود ہوگی۔ گاٹ اٹ (سمجھی تم؟ )? یہ یاد رکھنا کہ اب میں اکیلی نہیں ہوں کوئی ہے میرے اندر جو اتنا طاقتور ہے کہ تم جیسی چھپکلیوں کو ایک پل میں مسل کر رکھ دے۔ ۔ "
اس کے ساتھ ہی کلائی پر اس قدر زور بڑھایا کہ وہ درد سے دوہری ہوگئی۔ منہ سے بے اختیار سسکیاں نکلیں۔ یہ پہلا اور آخری وار تھا اور اتنا کاری تھا کہ چمچیاں اور قریب کی سب لڑکیوں میں خاموشی چھا گئی۔ وہ سب حیرت زدہ تھیں۔ چار سال تک مسلسل کی گئی تذلیل کے باوجود چپ رہنے والی یہ دبو لڑکی آج کیسے بول پڑی۔ اس نے نتالی کا ہاتھ جھٹکے سے چھوڑا اور اپنا بیگ اٹھا کر آرام سے چل دی۔
"دیکھا میں نے کہا تھا کہ یہ ٹڈیاں تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں!" وہ مسکرا دی۔
. . . . . . . . . .
وہ لنچ روم میں چار کرسیوں کی ٹیبل پر اکیلی بیٹھی کھانے میں مشغول تھی کہ ایک آواز آئی۔
" کیا میں یہاں بیٹھ جاؤں؟"
یہ شیلا تھی۔ اس نے ماریہ اور نتالی کا تصادم اور ماریہ کا اس کی کلائی مروڑنا دیکھ لیا تھا اور مزید سن گن لینے آئی تھی ورنہ اس سے پہلے تو وہ کبھی ماریہ کے قریب نہ پھٹکی تھی۔ ماریہ جانتی تھی کہ پیٹھ پیچھے شیلا نے اس کا نام "فریک" اور "لوزر" رکھا ہوا ہے۔
" گیٹ لاسٹ!" ( دفعہ ہوجاؤ) ماریہ نے اس کی طرف دیکھے بغیر انتہائی بدتمیزی سے جواب دیا۔
شیلا کا چہرہ اس ذلت سے سرخ ہوگیا۔ قریبی ٹیبل کی لڑکیاں بھی متوجہ ہوئیں۔
شیلا بے اختیار منہ ٹیڑھا کر کے بلند آواز سے بولی۔
" یو نو واٹ! (تم جانتی ہو) تم لوزر ہو اور ہمیشہ لوزر ہی رہو گی"۔
ماریہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنی جگہ سے اٹھی۔ کرسی کو کھینچ کر ایک طرف کیا اور اس کے مقابل آکھڑی ہوئی۔ پورے تین انچ قد کا فائدہ تھا اسے شیلا پر۔ شیلا کے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگیں۔ ماریہ نے شیلا کی لنچ ٹرے جھپٹی اور زور سے زمین پر پٹخ دی۔
"شاباش!" اس کے کان میں آواز گونجی۔
وہ شیلا کی طرف دیکھ کر طنزیہ مسکرادی۔ اپنا ہاتھ جھٹکا اور اپنی کرسی کھینچ کر بیٹھ گئی۔ یہ منظر نا صرف لنچ کرنے والی لڑکیوں بلکہ انتظامیہ نے بھی دیکھا۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

" ہیلو مسٹر رائے؟"
"یا اسپیکنگ!"
" مسٹر رائے میں آپ کی بیٹی ماریہ کے اسکول سے بات کررہی ہوں اور ماریہ کے بارے میں آپ سے بات کرنا چاہ رہی ہوں۔"
"ماریہ کے بارے میں؟"
" جی، آپ کل دوپہر دو بجے ہر صورت اسکول آجائیں۔"
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

" کب سے ماریہ کی یہ حالت ہے؟"
" کون سی حالت؟" حیرت سے پوچھا
" آپ کو معلوم نہیں؟" اب وہ حیران ہورہی تھیں۔
" کیا معلوم نہیں؟ کیا ہوا ہے ماریہ کو؟ آپ کھل کر بات کریں۔"
مس مرفی، ماریہ کی کیرئیر کاؤنسلر اور ہیڈ آف فرنچ ڈیپارٹمنٹ تینوں ایک دوسرے کا منہ تکنے لگیں۔
۔
۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
" ماریہ ۔ ۔ ماریہ! کہاں ہو تم جلدی سے نیچے آؤ!"
مسز مارگریٹ سجاد رائے کچن سے دوڑتی ہوئی آئی۔ پیچھے پیچھے ایک بارہ سالہ اینگلو انڈین لڑکی بھی تھی۔
" کیا بات ہے ساج چّلا کیوں رہے ہو؟"
"میگی، ماریہ کو بلاؤ اور ہیلن تم اپنے کمرے میں جاؤ۔"
" بات کیا ہے آخر، وہ تو ابھی تک اسکول سے لوٹی ہی نہیں"۔ مارگریٹ کندھے اچکا کر بولی۔
" ماریہ کو اسکول سے سسپنڈ کردیا گیا ہے۔ مشکل سے یہاں ایڈمشن ہوا تھا۔ کس قدر شرمندگی برداشت کرنا پڑی ہے آج اس لڑکی کی وجہ سے۔ ۔ ۔ کاش۔ ۔ کاش اپنی منحوس ماں کے ساتھ ہی مرگئی ہوتی۔"
اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ ماریہ کو دیکھتے ہی اس کا گلا گھونٹ دے۔
" ریلیکس ساج میں اسے سمجھاؤں گی"۔
" ہونہہ ! سمجھانے کا وقت بیت چکا۔ اٹھارہ پورے ہوتے ہی نکل جائے میرے گھر سے۔ میری زندگی اجیرن کر کے رکھ دی ہے۔ اسکول کی رپورٹ دیکھو لکھا ہے نفسیاتی مریض ہے۔ خود کو اور دوسروں کو نقصان پہنچا سکتی ہے اور دوسرے پڑھنے والوں کے لیے خطرہ ہے۔ خود ہی کہتی پھر رہی ہے اس کے اندر جن ہے۔
"نان سینس!"
دروازے کے پیچھے سے دادی اپنے اکلوتے بیٹے کی گھن گرج سن رہی تھیں۔ مگر ہمیشہ کی طرح خاموش کہ بولنے اور دخل دینے کی اجازت نہ تھی۔ ماریہ پر سایہ ہے ان کا شک یقین میں بدل چکا تھا۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اس شام ماریہ ہاتھ نہ آئی مگر صبح صبح جب بیک پیک لٹکائے سیڑھیاں اتر کر نیچے آئی تو ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھے سجاد رائے، مسز مارگریٹ رائے، ہیلن اور دادی سب کی نظریں ایک ساتھ ماریہ پر اٹھیں۔ اس نے اپنے آپ پر سب کی نظریں محسوس کرنے کے باوجود بے نیازی سے بیگ سائیڈ پر ڈالا اور شو ریک سے جوتے اٹھا کر پہننے میں مشغول ہوگئی۔
یہ تو روز کا ہی معمول تھا سجاد رائےماریہ کے اس قدر بےنیاز رویئے کا عادی تھا۔ سلام تو کجا وہ اس کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہ کرتی اور سجاد رائے نے بھی کبھی یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ وہ کیوں ایسا کررہی ہے۔ اس کی بلا سے وہ جیئے یا مرے۔
مہینے کے مہینے اسے پاکٹ منی کی رقم پکڑا دیتا. کبھی کپڑوں جوتوں کی طرف دھیان نہ دیا۔ گرمی کی چھٹیوں میں ماریہ ٹیبل ویٹنگ کا کام کرتی اور جو کچھ ملتا اپنے کپڑے لتے میں خرچ کرتی کبھی سامنے جاکر اپنے ہی باپ سے پیسے نہ مانگے کیونکہ وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ اس گھر میں اس کا وجود صرف اس لئے برداشت کیا جارہا ہے کہ وہ انگلینڈ کے قانون کے تحت ابھی اپنے والد کی سرپرستی میں ہے۔ وہ یہ بھی جانتی تھی کہ اس کے باپ کے لئے اس کا وجود ہونے نہ ہونے کے برابر ہے اور اس کا باپ صرف اس لیے اس کا تھوڑا بہت خیال کر رہا ہے تاکہ سوشل سروسز والے چائلڈ نگلیجنس کے چکر میں اس کے گلے نہ پڑ جائیں۔
" کہاں جارہی ہو؟"
ماریہ نے سنتے ہوئے بھی جواب دینا در خور اعتنا نہ سمجھا.
" میں پوچھ رہا ہوں کہاں جارہی ہو؟" سجاد رائے کا غصے سے دماغ چٹخنے لگا۔
" یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے اسکول اور کہاں!" وہی اجنبی لہجہ۔
" ہونہہ! کون سے اسکول؟ تمہیں اسکول سے نکال دیا گیا ہے۔"
وہ جوتے چھوڑ کر حیرت سے کھڑی ہوگئی۔
"کیوں؟"
"کیوں!۔۔ ۔ مجھ سے پوچھ رہی ہو کیوں، اپنے آپ سے پوچھو کیوں۔ ۔ ۔ تمہارے کرتوت ایسے تھے کہ کوئی اچھا اسکول تمہیں قبول کرتا۔" سجاد رائے غصہ سے دھاڑا
" میں نے کیا کیا ہے؟" وہ بے یقینی سے پوچھ رہی تھی۔
" کیا کیا ہے؟ اور سنو کہہ رہی ہے کیا کیا ہے!"
وہ استہزائیہ انداز میں اپنی بیوی کی طرف دیکھ کر بولا۔
" تم اسکول میں دوسری لڑکیوں کو بوولی کرتی ہو، بدتمیز اور بدلحاظ ہو اور اسکول کا ماحول خراب کیا، ٹیچر کی کلاس کے سامنے انسلٹ کی، ایک لڑکی کا ہاتھ توڑا دوسری کا کھانا پھینکا اب بھی پوچھ رہی ہو کیا کیا ہے۔ کل مجھے تمہارے اسکول بلایا گیا تھا اور بہت احترام کے ساتھ تمہارے کرتوتوں پر روشنی ڈال کر یہ نوٹس دیا گیا اور ہاں تمہیں کسی شرنک ( نفسیاتی ماہر) سے ملنے کا بھی مشورہ دیا گیا ہے"۔
ٹیبل کی دوسری طرف سے ہیلن کی دبی دبی ہنسی سنائی دی۔
وہ صدمے سے گنگ سی کھڑی تھی۔
"بوولی۔ ۔ ۔ میں؟۔ ۔ ۔ ۔ میں بوولی!۔ ۔ ۔میں نے بوولی کیا ۔۔ ۔کسے ۔ ۔۔ کسے؟"
وہ متعجب ہو کر زور زور سے چیخنے لگی ایک ہسٹیریا تھا جو باہر آرہا تھا۔
"شٹ اپ!" اپنی آواز بند کرو اور دفعہ ہو جاؤ یہاں سے۔" سجاد رائے کرسی پھینک کر کھڑا ہوا اور اس سے بھی بلند آواز میں گرجا۔ ایک لمحے کو آنے والے طوفان کی طرح خاموشی چھا گئی۔
" کیا میں نہیں دیکھ رہا تمہارا رویہ۔ ۔ اپنی ماں اور چھوٹی بہن کے ساتھ، میرے ساتھ حتٰی کہ میری ماں کے ساتھ۔ ۔ کیا فرق ہے تم میں اور تمہاری ماں میں۔ وہ بھی اسی طرح پاگلوں جیسے ڈرامے تماشے کرتی تھی۔ اسکول والوں نے تو چند سال میں ہی نکال دیا اور میں، میں تو اتنے سالوں سے برداشت کررہا ہوں۔ پہلے تمہاری ماں پھر تم۔ ۔ اب تو کسی کے سامنے بیٹی کہتے ہوئے بھی شرم آتی ہے۔"
" مجھے بھی آپ کو اپنا باپ کہتے ہوئے بہت شرمندگی ہوتی ہے۔" انتہائی بدتمیزی سے کہا گیا۔
" ماریہ۔ ۔ ۔ ۔ !" سجاد رائے کا ہاتھ غصے کی انتہا پر اٹھ گیا۔ اس ضرب کی شدت سے ماریہ پیچھے کو جھکی لیکن اب زبان کھل چکی تھی۔ اب نہ مار کی پرواہ تھی نہ رشتے کے تقدس کی۔
" ہاں ہاں مجھے آپ کو اپنا باپ کہتے ہوئے شرم آتی ہے۔ ۔ ۔ بہت شرم آتی ہے اور یہ۔ ۔ یہ عورت۔ ۔ میری ماں نہیں ہے۔ آپ کی گرل فرینڈ تھی۔ ۔ جب میری ماں دو دو جاب کر کے رات گئے گھر آتی تو نشے میں دھت آپ کی گالیاں سنتی ۔ ۔ مارکھاتی ۔ ۔ساری ساری رات روتی رہتی اور آپ ۔ ۔ ۔آپ اس عورت کے ساتھ رنگ رلیاں مناتے۔ ساری کمائی اس عورت پر اڑاتے۔ میری ماں کو ایک ایک پیسے کے لئے ترسایا۔ کبھی ہماری طرف نہ دیکھا ۔ ۔ کبھی ایک شوہر اور باپ کا پیار نہ دیا۔ ۔ ۔ مرگئی میری ماں اسی دکھ میں سسک سسک کر مر گئی۔ ۔آپ قاتل ہیں میری ماں کے ۔ ۔ آپ نے مار دیا میری ماں کو۔ ۔ آپ قاتل ہیں۔" وہ شدید نفرت سے ایک ہی سانس میں چیختی ہوئی کہے جارہی تھی۔ آنکھوں میں جیسے خون اتر آیا تھا۔
سجاد رائے پر غصے سے دیوانگی طاری ہوئی اور پے در پے تھپڑوں سے ماریہ کے گال رنگ دیئے۔
" دفع ہوجاؤ اپنے کمرے میں ورنہ میں پولیس کو بلا کر تمہیں اریسٹ کروا دوں گا۔ دفعہ ہو جاؤ۔ ۔ ۔"
مسز مارگریٹ رائے ہیلن کا ہاتھ تھام کر اپنے کمرے میں چلی گئی۔
دادی لرزتی ہوئی اپنی جگہ سے اٹھیں۔ بیٹے کا ہاتھ کھینچا۔
" بس سجاد چھوڑ دو اسے۔ میں لے جا رہی ہوں۔ بس کردو اب۔ ۔ بچی ہے۔ ۔"
" بچی ہے۔ ۔ ۔ یہ بچی ہے؟ صرف چار مہینے رہ گئے ہیں اٹھارہ سال میں۔ پھر اس گھر سے دفعہ ہوجائے۔ نکل جائے میری زندگی سے۔ مجھے اس کی شکل دیکھنا گوارا نہیں۔ جہاں اتنے سال بتائے چار مہینے اور سہی۔"
"یہ میری ماں کا گھر ہے میں کہیں نہیں جاؤں گی یہاں سے۔ یہ میری ماں نے بنایا ہے۔ آپ نے کچھ نہیں دیا۔ ۔ کچھ نہیں دیا۔ ۔ " وہ پھر چیخنے لگی۔
دادی اسے پکڑ کر کھینچ رہی تھی۔ مگر وہ ہاتھ نہ آرہی تھی۔ دادی ہانپتے کانپتے اسے قریبی اپنے کمرے میں لے گئیں۔ اپنے بیڈ پر بٹھا کر سائیڈ ٹیبل پر پڑے جگ سے پانی نکال کر پلایا۔ ماریہ چپ تھی کچھ نہیں کہہ رہی تھی۔ تھپڑوں سے چہرہ سوجا ہوا تھا۔
" ماریہ لیٹ جاؤ بیٹا!" لیکن وہ اسی طرح پتھرائی بیٹھی تھی۔ دادی اس کی نظروں سے ڈر گئیں۔ مگر ہمت کر کے اسے لٹا دیا اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے دعائیں پڑھ کر پھونکنے لگیں۔ ماریہ نے آنکھیں بند کرلیں۔ کچھ دیر بعد جب دادی کو یقین ہوگیا کہ ماریہ سو چکی ہے تو آہستہ سے اٹھیں اور کمرے سے باہر نکل کر اپنے پیچھے ہولے سے دروازہ بند کرلیا۔
. . . . . . . . . . . . . . .
"یااللہ مجھے معاف کردے میں تیری گناہگار ہوں ۔ میں ماریہ کی بھی گناہگار ہوں۔ اتنے سالوں سے دیکھ رہی تھی کہ اس گھر میں کیا ہورہا ہے۔ میرے اپنے بیٹے کے کیا کرتوت ہیں مگر آنکھ منہ بند کیئے پڑی رہی کہ کہیں میرا یہاں آنا ہی بند نہ ہوجائے۔ جو سال دوسال میں بیٹے کی شکل دیکھ لیا کرتی تھی وہ موقع بھی نہ چھن جائے۔ میرے اللہ میں تو ماں تھی اسے دیکھے بغیر کیسے چین آتا اور اسے کیا پڑی تھی ماں کی۔ میں نے تو کوشش کی تھی کہ شاید وہ پلٹ آئے سیدھے راستے پر۔ اسی لیے اس غریب لڑکی سے اس کی شادی کروائی تھی حالانکہ جانتی تھی کہ وہ کہاں اٹھتا بیٹھتا ہے۔ مگر اسے نہ سدھرنا تھا نہ سدھرا اور اس غریب کو بھی لے ڈوبا۔ میری مت ماری گئی تھی جو خاندان میں اس کی خوشحالی اور ماں سے محبت کے جھوٹے چرچے کیے۔"
دادی مصلے پر پچھتاؤں میں مصروف تھیں کہ ایک عجیب سی بو محسوس ہوئی۔ گھر میں ان کے اور ماریہ کے علاوہ کوئی نہیں تھا۔ سجاد اور اس کی بیوی جاب پر اور ہیلن اسکول گئی ہوئی تھی۔ ماریہ دادی کے کمرے میں ہی سورہی تھی۔ دادی مصلہ چھوڑ کر اٹھیں۔ کچن میں جاکر دیکھا۔ سارے چولہے بند تھے۔ کمرے میں جھانکا ماریہ موجود نہیں تھی۔
"ماریہ۔ ۔ ۔ ماریہ بیٹا کہاں ہو!"
دادی کمرے سے باہر ادھر ادھر ماریہ کو آوازیں دینے لگیں۔
اتنے میں ماریہ سیڑھیوں سے اترتی دکھائی دی۔
" ماریہ بیٹا یہ بو کیسی ہے سارے گھر میں پھیلی ہوئی ہے۔"
" کچھ نہیں دادی میں نے سارے گھر میں پٹرول چھڑک دیا ہے ۔ یہ میری ماں کا گھر ہے اگر اس میں میں نہیں تو کوئی بھی نہیں۔ چلیں آپ میرے ساتھ دادی!"
" یا اللہ خیر! کہاں ماریہ ؟۔ ۔ ۔ کہاں جانا ہے۔ ۔ ۔ یہ تم کیا کرنے جارہی ہو ۔ ۔ !" دادی حواس باختہ پوچھ رہی تھیں۔
ماریہ نے دادی کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ کھینچنا شروع کیا۔
"بیٹا۔ ۔ ۔ ماریہ بیٹا۔ ۔ ۔ ۔میری بات تو سنو بیٹا۔ ۔!"
" چلیں دادی آپ باہر جائیں اور جسے چاہے مدد کے لیے بلائیں۔ میرا اس دنیا میں کوئی نہیں۔ آپ بھی نہیں اور میرے جانے سے سب کی جان چھوٹ جائے گی ۔ لیکن میں اپنے ساتھ یہ گھر بھی لے کر جاؤں گی۔"
وہ دادی کو کھینچے چلی جارہی تھی۔ دادی کے منہ سے گھبراہٹ کے مارے صرف اللہ خیر ۔ ۔ ۔یااللہ خیر۔ ۔ ہی نکل رہا تھا۔ اس نے کھینچ کر دادی کو بیرونی دروازے سے باہر کیا اور کھٹاک سے دروازہ بند کرلیا۔
" آل رائٹ پارٹنر میں تیار ہوں۔ تم میرے پاس ہی رہنا کیونکہ یہ کام بہت خطرناک ہے اور میں ڈر بھی رہی ہوں"۔
" ڈر رہی ہو۔ ۔ کیوں؟ کیا تم نے اپنے باپ کو معاف کردیا ۔ اپنی ماں کی سسکیاں بھول گئیں۔ ۔ یہ گھر تمہاری ماں نے بنایا ہے اور تمہارا باپ اور یہ عورت اس پر قبضہ کر کے بیٹھے ہیں۔ ۔ چار مہینے کے بعد تمہیں یہاں سے نکال کر کسی بورڈنگ ہاوس میں بھیج دی جاؤ گی۔ کیا تم کو یہ منظور ہے کہ تمہاری ماں کی نشانی پر یہ عورت اور اس کی بیٹی راج کرے اور تم دربدر ہو جاؤ؟" وہ کان میں سرکشی کی ہوا پھونک رہا تھا۔
" نہیں۔ ۔ ایسا نہیں ہوگا۔ ۔ میں ایسا ہونے ہی نہیں دوں گی۔ ۔ ۔ میں آرہی ہوں پارٹنر۔ ۔ ۔ ہینگ آن!"
دادی پڑوسیوں کا دروازہ رو رو کر بجارہی تھیں۔ اتنے میں ایک زوردار چھناکے سے کھڑکی کا کانچ ٹوٹا۔ دادی نے مڑ کر دیکھا۔ آگ کے شعلے کھڑکی سے باہر آرہے تھے۔
"ہائے میری بچی!" دادی ڈھے گئیں۔
. . . . . . . . . . .
"دادی۔ ۔ ۔دادی! کہاں ہیں آپ؟۔ ۔ "
"میں یہاں ہوں ماریہ۔ ۔ ۔ میری بچی ۔ ۔دادی کی جان۔ ۔ ۔" ماریہ دادی کے گلے لگ کر باقاعدہ چمٹ ہی گئی۔
" چھوڑو بھی لڑکی اب ہڈیوں میں کہاں اتنی طاقت ہے"۔
" دادی ۔ ۔ میری پیاری دادی، میں روبی کو آپ کے پاس چھوڑنے آئی ہوں۔ میں اور اشعر ڈنر پر جارہے ہیں ماموں کے گھر۔"
" ہاں ضرور جاؤ بیٹی۔ " دادی نے اشعر کے ہاتھ سے ننھی روبی کو اپنی گود میں لے کر بیڈ پر لٹا دیا۔ وہ سورہی تھی۔ ماریہ نے بے بی بیگ سے فیڈر نکال کر دادی کو پکڑایا۔
" دادی صرف دو تین گھنٹے میری گڑیا آپ کے پاس ہے!"
" ہاں ہاں بے فکر ہو کر جاؤ میری بچی۔ ۔ روبی میرے پاس ہے۔ ۔ ۔اشعر خیال رکھنا!" دادی نے آنکھوں سے اشعر کو اشارہ کیا۔
" جی نانی ماں۔ ہم چلتے ہیں۔"
دادی نے مڑ کر سوئی ننھی پری کی پیشانی کا بوسہ لیا۔
وہ ہوبہو ماریہ کا بچپن تھی۔
"یا اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے۔ تو نے بروقت میری بچی کو بچالیا۔ ماریہ میری جان تو اکیلی نہیں تھی۔ دادی تیرے ساتھ تھی۔ تجھ سے محبت کرتی تھی مگر کبھی تجھے کہہ نہ سکی۔ کبھی تیرے حال پر رحم نہ کھایا۔ پہلے ہی اگر اپنے ساتھ پاکستان لے آئی ہوتی تو پردیس میں تیری یہ حالت نہ ہوتی"۔
تین سال لگے ماریہ کو نارمل ہونے میں۔ جلتے ہوئے گھر سے پڑوسی نکال لائے۔ بروقت علاج سے زخم بھی بھر گئے۔ مگر اندر کے گھاؤ بہت گہرے تھے۔ اسے بھرنے کے لیے محبت کے مرہم کی ضرورت تھی۔ ماریہ مس فٹ تھی۔ اپنی دنیا میں بھی اور آس پاس کی دنیا میں بھی۔ دادی نے جان لیا تھا اسی لیے چپ چاپ واپسی کی تیاریاں کیں۔ اور جیسے ہی ماریہ ہسپتال سے رخصت ہوئی دادی کے ساتھ پاکستان روانہ ہوگئی۔ انہیں اپنے ناکردہ گناہوں کا مداوا بھی کرنا تھا۔ ماریہ پر ساری توجہ لگا دی۔ آہستہ آہستہ اس کو نارمل زندگی کی طرف لے ہی آئیں۔ کیونکہ دادی کو وہ جن نظر آچکا تھا جو کسی اور کو نظر نہ آسکا۔ جب محبتوں سے خالی دل بہت عرصے تک خالی رہے تو اس ویرانے میں سائے بسنے لگتے ہیں۔ جو شر پھیلاتے ہیں۔ وہاں نفرتیں پنپتی ہیں اور اندھیرے چھائے رہتے ہیں۔ جو آسیب کی طرح دل اور روح پر قبضہ کیئے رہتے ہیں۔ دادی کی محبت نے اس جن کو ایسے ہی بھگا دیا تھا جیسے ایک چھوٹی سی شمع گھٹا ٹوپ اندھیرے کو بھگا دیتی ہے۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

عمران ماموں، نرگس ممانی اور ان کے دو سپوت، سائرہ خالہ، احمد خالو اور ان کے بچے، سب گلے لگا کر اسے باہر تک چھوڑنے آئے تھے۔ یہ اس کی امی کے چھوٹے بھائی بہن تھے۔ نانی کچھ عرصہ پہلے وفات پا چکی تھیں۔ یہ سب اس کے اپنے رشتے تھے اور ایک رشتے کی بے اعتنائی کی وجہ سے وہ ان سب کی محبتوں سے محروم رہی۔ اس کی آنکھیں اتنے سال رائیگاں جانے سے بھیگ گئیں۔ اس نے نظریں اٹھا کر اپنے ساتھ کھڑے اس لمبے چوڑے مضبوط انسان کو دیکھا جو نہ صرف اس کا پھوپھی زاد کزن اور شوہر تھا بلکہ اس کا معالج بھی تھا۔
نفرتوں کے درمیان باپ کے ہوتے ہوئے یتیموں کی طرح پلنے بڑھنے والی یہ لڑکی تباہیوں کے اندھیروں میں کھونے لگی تھی۔ ماں کی بے بس موت، اس کی اپنی کم سنی، باپ کی بے توجہی اور بے اعتنائی، سر پر شفقت کے ہاتھ سے محرومی۔ اگر دادی اور پڑوسیوں نے اس دن بچا نہ لیا ہوتا تو۔ ۔ ۔ ؟۔
اپنے ہاتھ پر اس کا ہاتھ محسوس ہوا تو نظریں اٹھا کر اس کی آنکھوں میں جھانکا جہاں اس کے لیے پیار بھری مسکراہٹ تھی۔ اس نے پرسکون ہو کر اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں تھما دیا۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔