009 - ثانا بابا تحریر رافعہ خان

ثانا بابا

یہ کہانی دراصل "ایک دفعہ کا ذکر ہے ۔ ۔ ۔" سے شروع نہیں ہوتی۔ کیونکہ یہ ایک بادشاہ کی کہانی نہیں ہے۔ یہ میری کہانی ہے۔ اور تھوڑی سی ثانا بابا کی۔ پہلے میں آپ کو اپنے بارے میں بتا دوں۔ میں ایک پرائیوٹ سکول میں پاک اسٹڈیز پڑھاتی ہوں۔ میرے شوھر بینک میں کام کرتے ہیں۔ میرے دونوں بچے بالترتیب تیرہ اور پندرہ برس کے ہیں۔ بڑا لڑکا جسے آرمی میں جانا ہے۔ اور لڑکی جسے ڈاکٹر بننے کا شوق یے۔

ہمارے گھر میں کافی آسودہ حالی ہے۔ جیسے ایک اچھے علاقے میں شاندار گھر، گاڑی، اور بہت سی ضروریات زندگی۔ مگر میرا مسئلہ یہ ہے کہ مجھے دوسروں کی دولت اور کامیابی ہمیشہ بہت زیادہ لگتی ہے۔ شاید اس لیے کہ میں ہمیشہ اپنے سے اوپر دیکھتی ہوں اور ہمیشہ ناخوش رہتی ہوں کہ جو نعمتیں صرف میرا حق ہونی چاہیے دوسرے ان سے لطف اٹھا رہے ہیں۔ جبکہ میری عقل اور شکل ان سے کہیں بہتر ہے۔

اب باقی سب تو سن سنا کر، دل جلا کر میں کسی نہ کسی طرح برداشت کر ہی لیتی ہوں لیکن یہ لوگ جو میرے ہمسائے ہیں ان کی کامیابیاں مجھے اندر ہی اندر کھا جاتی ہیں۔

آخر کیا خوبی ہے ساتھ والی مسز اسلم اور ان کے میاں میں جو ان کے پاس نئے ماڈل کی دو چمکتی کاریں ہیں۔ اتنے تو سادگی پسند لوگ ہیں۔ بچے ان کے بیاہتا اور بیرون ملک مقیم ہیں۔ اور مسز اسلم وہی سوتی ہلکے رنگوں والے سیدھے سادھے شلوار قمیض میں کمیونٹی ورک میں مشغول رہتی ہیں۔ سچ بتاؤں تو ان کے میاں اپنی پرانے فیشن کی خاکی ڈانگری پہن کر، پائینچے چڑھائے اپنی سلور اور بیج گاڑیاں دھو کر چمکاتے ہیں تو میرا شدّت سے دل چاہتا ہے اپنی پرانی کرولا ان پر دے ماروں۔ ایسا صدمہ ہوگا بڑے میاں کو کہ کیا بتاؤں۔

پھر یہ سامنے والے مشتاق صاحب اور ان کی مسز بھی تو ہیں۔ نیا شادی شدہ جوڑا ہے۔ کوئی اتنے خاص نہیں دکھتے۔ بس یہی صحت مندی اور تندرستی کی چمک ہوگی۔ پر بہت ہی مہذب طریقے سے بات کرنے کی کوشش کریں گے۔ بچے بھی نہیں ہیں ابھی، سو گھر چمکاتے رہیں گے۔ مجھے تو بہت ہی شیخی خور لگتے ہیں یہ لوگ۔ ذرا بچے ہو لیں، اور سال دو سال میں۔ پھر پوچھوں گی کیا ہوئی سب چمک دمک اور تہذیب۔ پھر یقیناً میرا پلڑا حسن اور گھرہستی میں سب سے بھاری ہو جائے گا۔ میرے میاں تو پہلے ہی مشتاق صاحب کے ہم سن نظر آتے ہیں۔

سب سے زیادہ برے مجھے اپنی بائیں جانب رہنے والے لگتے ہیں۔ برسوں سے ہم لوگ ساتھ ساتھ رہتے ہیں۔ لیکن نوازش فیملی کبھی بھی میرے رعب تلے نہیں آتی۔ خواہ اپنی کامیابیوں کا کتنا بھی ڈھنڈورا پیٹوں، بچوں کی کارکردگی بڑھا چڑھا کر پیش کروں، اپنے کرسٹلز بطور خاص منگوا منگوا کر دکھاؤں، مسز نوازش کی گھنی مسکراہٹ پر آنچ نہیں آئے گی۔ ذرا جلن نہیں دکھاتیں۔ اور ویسی ہی ان کی دونوں بیٹیاں ہیں۔ ملنساری اور سلیقہ بھگارنے کو بس موقع چاہیے۔ اوپر سے ان کا بیٹا ۔ ۔ ابھی سترہ کا نہیں ہوا اور بیس کا لگتا ہے۔ سارا وقت لان میں مختلف ورزشیں کرتا یے۔ دل جل کر خاک ہی ہو جاتا ہے۔ پتہ نہیں پڑھتا کب یے۔ نمبر تو ایسے لاتا ہے جیسے کتاب ہاتھ میں رہتی ہے ہر وقت۔ کسی روز ایسی چوٹ لگنی ہے اس ٹارزن کو کہ جنگل میں منگل ہو جائے گا۔

افوہ، ان ہمسائیوں میں کھو کر میں آپ کو ثانا بابا کے بارے میں بتانا تو بھول ہی گئی۔ اس بوڑھے کو میں کالونی کی نکڑ پر بننے والے چوک پر اکثر دیکھا کرتی ہوں۔ خیر مجھے ویسے گاڑی میں سے باہر کے عجیب و غریب نمونے دیکھنے کا تو بالکل شوق نہیں ہے۔ میرے میاں مجھے اور بچوں کو صبح سکول چھو ڑتے اور واپسی پہ لیتے آتے ہیں، کہ ان کے رستے میں پڑتا ہے۔ مگر کبھی جب اتفاقاً انہیں دیر ہو، یا مجھے جلدی فارغ ہونا ہو تو میں کالونی کی بس لے لیتی ہوں۔ گھر سٹاپ سے اس قدر قریب ہے کہ میں اس کبھی کبھار کے اتفاق کو علیحدہ گاڑی خریدنے کی معقول وجہ نہیں بنا پائی۔ اور میرے میاں تو صرف معقول وجوہات سے ہی قائل ہوتے ہیں۔

سو انہی چند دنوں میں اور کبھی شام کی سیر کے دوران میں اس بوڑھے کو دیکھتی ہوں۔ ایک طرف خاموشی سے بیٹھے، وہ کچھ مختلف، کچھ عام سا لگتا ہے۔ میرا مطلب ہے، اس کی نہ تو الجھی سلجھی بدرنگ جٹائیں ہیں۔ نہ ہی ہرا چولا۔ اور بے شمار دانوں والی مالائیں۔ نہ کاسئہ گدائی اور نہ ہی ٹیڑھا میڑھا ڈنڈا۔ اس کی تو آنکھیں بھی لال نہیں ہیں۔ ذرا نحیف درمیانہ جسم، سفیدی مائل کھچڑی بال، قدرے گول، دھوپ کھایا چہرہ، قدرے منتشر مگر صاف بنا خط اور ہلکے رنگوں کے قدرے پرانے مگر صاف کپڑے۔۔ بھلا کیا چیز آپ کو چونکائے گی؟ کہ یہ کوئی کرنی والا ہے۔ بس ضرورت مند لگتا ہے۔ پالتی مارے سفید کپڑے پر بیٹھا، کوئی کچھ دے دے تو یہ لمبی لمبی دعائیں دیتا ہوا، مجھے بہت ہی چالاک لگتا یے۔ میں نے ہی اس کا نام اپنے دل میں ثانا بابا رکھا یے۔

میں ہمیشہ اس سے کترا کر ہی گزرتی ہوں مگر پھر بھی اس کی کسی اور کو دی ہوئی لمبی لمبی دعائیں میرے کان میں پڑ ہی جاتی ہیں۔
"اللہ آپ کو لمبی عمر دے۔ آپ کی سب بگڑی سنوارے۔ تندرستی دے، بچے دے، ہر حاجت پوری کرے" وغیرہ وغیرہ۔ بہت ڈھکوسلہ لگتے ہیں مجھے یہ بابا بن کر مانگنے والے۔ خیر میں تو کسی مانگنے والے کو بھی خیرات دینے پر تیار نہیں ہوتی، کہ میرے اپنے اخراجات بہت زیادہ ہیں۔ ہاں جب مجبوری ہو، سب دیکھ رہے ہوں یا سکول کا فنڈریزنگ ڈے، کہ سب کے ناموں کا اعلان ہوتا، اور واہ واہ بھی، تو کرنا پڑتا ہے۔

اس دن گرمیوں کی چھٹیوں کی فراغت اور خوشگوار موسم کی وجہ سےمیں اور بچے سر شام ہی واک کے لیے نکل آئے تھے۔ ثانا بابا بہت روز کے بعد نظر آیا تھا۔ خاموش ایک طرف کو سر جھکائے۔ میں کترا کر گزر ہی جا رہی تھی جب میرا بیٹا چپکے سے بولا:
"ممی اس کو کچھ دیدیں، بیمار لگتا ہے۔"
اب اگر آپ کے بھی ایک دو نامعقول سے بچے ہیں تو آپ جانتے ہی ہوں گے کہ ایسے موقع پر کتنا غصّہ آتا ہے۔ میں نے بھی پوری آنکھیں نکالنے کی کوشش کی، مگر وہ ایک قدم پیچھے ہی رک کر دھیان سے بابے کو دیکھ رہا تھا۔ مجبوراً میں نے بیگ سے دو روپے کا نوٹ نکالا اور قدرے اونچی آواز میں بولی:
"یہ لے لو بابا۔"
ثانا بابا جیسے چونکا۔ پھر پیسے دیکھ کر بولا۔" دو نہیں پتر! دس دیدو، اللہ آپ کو اور دے گا۔۔"
میں جو اس کی لمبی دعا شروع ہونے سے پہلے چل دینا چاہتی تھی، ٹھٹھک کر رک گئی۔
"کیوں؟" میں تیکھی ہوئی۔ "زیادہ دوں گی تو اجر بھی زیادہ ملے گا۔۔"
مجھے عجیب ہی لگی اس کی بات۔ غیر ارادی نظر پڑی تو دیکھا وہاں دس دس کے ہی نوٹ پڑے تھے جو لوگ شاید اس کے اونگھتے میں چھوڑ گیے تھے اور وہ اب تک ٹھکانے نہ لگا پایا تھا۔ میرے چہرے پہ طنزیہ مسکراہٹ آگئی۔ سو اس لیے بڑے میاں روز روز نہیں دکھتے۔ ایک ہی دن میں ہزاروں بنا لیتے ہیں، میں سوچ رہی تھی۔
"نہیں ہیں پتر تو رہنے دو، اللہ اور دے گا۔"
مجھے ہنسی ہی آ گئی اس پر۔ "دس تو ہیں، پر تم یہ بتاؤ اتنی لمبی لمبی دعائیں جو تم کرتے ہو،(اتنی مہنگی) وہ کیا سب پوری ہوتی ہیں؟" میں نے پیسے نکال کر دیے۔
" اللہ جب خوش ہوتا ہے پتر تو اور دیتا یے، میرا یقین ہے۔"
" تو تم جو مجھے دعا دو گے، وہ ضرور پوری ہوگی۔۔" میں کج بحثی کر رہی تھی۔ وہ پُرسکون تھا اور پُر یقین۔
"جو ترا دل مانگے، ترا دل چاہے اللہ کرے وہ تجھے ملے ۔" اس نے دعا دی۔۔ "اللہ کو خوش رکھ۔"۔ میں سر ہلاتی، دل ہی دل میں اس پہ ہنستی آگے نکل گئی۔
"ریٹ بھی فکس ہے۔"

اب آپ اگر آپ یہ سمجھ رہے ہیں کہ میری زندگی میں اس کے بعد کوئی بہت بڑی تبدیلی آ گئی تو آپ بالکل صحیح سمجھ رہے ہیں۔ مجھے ثانا بابا ایک عرصہ تک نظر نہیں آیا، یا جب نظر بھی آیا تو بہت روز بعد۔ میں اس وقت پیدل ہی بس سٹاپ تک جا رہی تھی۔ اسے سڑک کے کنارے ہمیشہ کی طرح مطمئن دیکھ کر میرا غم و غصے سے برا حال ہو گیا۔ خیر حال تو اب میرا زیادہ تر برا ہی رہتا ہے۔ پچھلے پانچ چھ ماہ میں نے اپنی زندگی کا سب سے برا وقت گزارا ہے۔ میری گاڑی کا برا حادثہ ہو گیا۔ جو اب تک پوری مرمّت نہیں ہو سکی۔ میرے شوہر اس وقت کار میں تھے، ان کی کمر کو جو جھٹکا لگا اس کا ابھی تک علاج ہو رہا ہے۔ بنک نے تین ماہ کی تنخواہ سمیت چھٹی دی، اور پھر بنا تنخواہ۔ سارا گزارا میری سکول کی تنخواہ میں مشکل سے ہو رہا ہے۔ بیٹا جو امتحانوں کے بعد پی ایم اے کی تیاری کر رہا تھا، ٹانگ تڑوا بیٹھا، ڈھائی ماہ پلستر رہا۔ اور اب دوبارہ سے حوصلہ باندھ رہا ہے مگر لگتا ہے اس سال نہ کر پائے گا۔ بچی ان تمام حالات سے بہت چڑچڑی ہو گئی ہے۔ اور میرا تو حال سب سے پتلا یے۔ آگے پیچھے دوڑ بھاگ سے عجب بدحواسی سی چھائی ہوئی لگتی ہے۔ گھر الگ بکھرا رہتا ہے۔

ایسے میں ثانا بابا کو دیکھ کر میں اس پہ الٹ ہی پڑی۔
"تم۔۔ بہروپیے! بند کرو اپنی ڈھکوسلوں کی دکان۔ ہر دعا دس دس روپیہ۔ میرا بس چلے تو سب کے پیسے تم سے واپس کرواؤں۔ "
"کیا ہوا پتر۔۔ غصہ نہ کر۔" وہ بولا۔
"کیا ہوا؟" میں چیخی۔ "میری پوری زندگی میں بھونچال آ گیا ہے۔ ہر کام الٹا ہو رہا ہے، نقصان پہ نقصان۔ تم نے تو کہا تھا جو میرا دل چاہے گا وہی ہوگا۔ سب کچھ مجھے مل جائے گا، پھر یہ سب کیا ہے؟"
وہ بڑے دھیان سے سن رہا تھا اور غور سے مجھے دیکھ رہا تھا۔ میری بات ختم ہوئی تو وہ اپنا کپڑا اور چند نوٹ پکڑ کر اٹھا۔ پھر بولا:
"نہ پتر میں نے کہا تھا جو ترا دل مانگے، ترا دل چاہے اللہ کرے وہ "تجھے" ملے ۔ تو اپنے پیسے واپس لے لے بیشک۔" اس نے دس کا نوٹ بڑھایا جو میں نے غیر ارادی طور پر پکڑ لیا۔ میں اب تک گنگ تھی اور وہ دور چلا جا رہا تھا۔

(ماخوذ)