010 - بلاعنوان تحریر ؟؟؟

بلاعنوان

وہ دونوں ریس کورس کے سبزہ زار پر بیٹھے ایک دوسرے کو قربان ہوتی نظروں سے دیکھنے کے ساتھ ساتھ بہت شوق سے تلی ہوئی مچھلی کھا رہے تھے۔ سلمان جب بھی ناز سے ملنے آتا تو اس کے لیے شادمان سے ملنے والی بہت مشہور و معروف اور مہنگی مچھلی بطور خاص لایا کرتا تھا۔۔

سلمان کے لئے اخیر مہینے کی تارخوں میں لوگوں سے ادھار مانگ کر اپنی محبوبہ کی خواہش پوری کرنا تو بہت معمولی سی بات تھی ورنہ اگر اس کا بس چلتا تو مہینوال کی طرح اپنی ران کے کباب بنا کر خوشی خوشی ناز کو روز کھلا دیا کرتا۔

وہ بہت محویت سے ہر وقت ناز کے خوبصورت چہرے پر پھیلے قوس قزاح کے رنگوں کو تکتا رہتا تھا۔۔ ایسے معلوم ہوتا تھا جیسے وہ ان رنگوں میں چھپے معنی و مفہوم پہچاننے کے سفر میں ہے۔ کون جانے یہ سفر تمام ہونا بھی تھا یا اِسے ہی گرد راہ بن کر کہیں ویرانوں میں بکھر جانا تھا۔

ناز مچھلی کھانے کے ساتھ ہر تھوڑی تھوڑی دیر بعد ایک پیار بھری نظر سلمان پر ڈال کر گویا اس کے جسم میں ایک نئی روح پھونک دیتی تھی جس کے سہارے وہ پورے زمانے کو ٹھوکر لگا سکتا تھا، اپنی جان دے سکتا تھا، یا پھر کسی کی جان لے سکتا تھا بلکہ اس کو تو یقین تھا کہ وہ زندگی میں آیا ہی صرف اور صرف ناز کے نخرے اٹھانے کے لیے ہے۔

---------------------

"پیروں کی بیٹی ہو کر محلے میں لور لور پھرتی ہے کمبخت"

اماں نے بے دردی سے دس سالہ شہناز آرا کے بال پکڑ کر منہ پر کرارا سا چانٹا رسید کیا اور کمرے میں دھکا دے کر باہر سے چٹخنی چڑھا دی۔
" اب پڑی سڑتی رہ یہاں پر۔ آج سے تیرا گھر سے باہر جانا بالکل بند ۔ کچھ تو اپنا رتبہ پہچان، جنم جلی، نامراد کہیں کی، کبھی تو یاد رکھا کر کہ کتنے بڑے رتبے والے پیروں کی اولاد ہے تو۔۔۔۔۔۔ ہماری عزت کا اگر تجھے پاس نہیں بھی ہے تو کم سے کم اپنے خاندان کی میراث تو سنبھال "کلموہی"۔ اپنی ذات برادری کا کچھ تو لحاظ کرنا سیکھ لے بدبخت۔"
"ان نیچ کمینے لوگوں سے ملنے سے ناپاک ہو جائے گی تو۔۔ کچھ معلوم بھی ہے کیسے گلی گلی لوگوں کا گند صاف کرتے ہیں یہ پلید لوگ اور ان کی عورتیں کیسے غیروں کے سامنے ناچتی گاتی پھرتی ہیں۔ ان کو بھلا طہارت اور پاکیزگی سے کیا واسطہ ہونا ہے۔ ان سے ملے گی تو سارے خاندان سے باہر ہو جائے گی۔ سب تجھ پر تھوکیں گے اور کوئی بھی تجھے منھ نہیں لگائے گا۔۔"

شہناز کونے میں دبکی سہمی سہمی سی اپنی اماں کا کبھی نہ ختم ہونے والا وعظ سن رہی تھی۔ اس کا چھوٹا سا ذہن یہ بات سمجھنے سے قاصر تھا کہ ایک پیاری سی گوری چٹی، نیلی آنکھوں اور سنہرے بالوں والی گڑیا سی لڑکی "جمیلہ" کے ساتھ گلی کے دوسرے کونے پر "کوکلا چھپاکی" کھیلنے سے آخر اس کے پورے خاندان کی عزت کیوں ڈوب جاتی ہے۔ وہ حیرت سے گھنٹوں سوچتی رہتی کہ سب اس کی وجہ سے اتنے سارے مشکل مشکل مسائل کا شکار کیوں ہو جائیں گے آخر؟

ابھی وہ یہ گتھیاں سلجھا بھی نہیں پائی تھی کہ اماں پھر سے چیخیں۔
"چل اب جا کر نہا، مر، لے اور پاک صاف کپڑے پہن کر میرے پاس آنا اور کان کھول کر سن لے۔۔۔۔۔۔۔ خبردار۔۔۔! جو میں نے دوبارہ کبھی تجھے اس جمیلہ مراثن کے ساتھ کھیلتے دیکھا۔۔ ٹانگیں توڑ دوں گی تیری اور۔۔۔۔۔اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "

اماں نے گہری سوچ میں ڈوبتے ہوئے اپنی عقل کی پٹاری میں ہاتھ ڈال کر گویا سب سے کار آمد اور خطرناک دھمکی ڈھونڈ کر نکالتے ہوئے اپنا جملہ مکمل کیا۔
"اور اگر تو اب اس جمیلہ سے ملی تو میں تجھے کبھی بھی بھنا ہوا گوشت کھانے کو نہیں دوں گی۔"

---------------------

پوری فضا رنگ برنگے پھولوں کی خوشبو سے مہک رہی تھی۔ ریس کورس پارک کے کونوں کھدروں میں گھر سے چھپ چھپ کر آنے والے سر جوڑے میٹھی میٹھی سرگوشیوں میں مصروف تھے۔ کوئی نہیں جانتا تھا اس پارک کی ڈوبتی شام کے ملگجے اندھیرے میں کتنے رعب دار باپوں کے اونچے شملے مٹی میں ملائے جا رہے تھے، روزانہ کتنے غیرت مند بھائیوں کا مان اور غرور خاک میں رولا جاتا تھا۔ گھروں میں کتنی پاک دامن بیٹیاں اور بیویاں اپنے اپنے ہونے والے یا ہو چکے شوہروں کے انتظار میں ہجر کی آگ پر مختلف طریقوں سے سینکی جا رہی تھیں اور ان کے رانجھے یہاں اپنی اپنی کل وقتی محبوباؤں کے ساتھ داد عیش دینے میں مصروف تھے۔ پارک کے پوشیدہ کونوں کھدروں میں چھپ کر ہوس کے نام پر "بے غیرتی کا عملی نمونہ" جیسی محبت کا حق ادا کر رہے تھے۔

محبت ایک بے حد پاکیزہ اور خوبصورت جذبہ ہے، اس کی آبیاری دل کی سرزمین سے ہوتی ہے اور چہرے پر کرنوں کی مانند بکھر جاتی ہے۔ محبت ایک ان دیکھا ان چھوا احساس ہے۔ کسی کے لیے اپنا آپ تج دینے کا نام ہے۔۔ کسی کو اپنانے کا تصور، چھونے سے تو یہ میلا اور کریہہ الصورت ہو جاتا ہے۔ ناپاک ہو جاتا ہے۔ یہ تو بس دور دور سے محسوس کرنے کی چیز ہے اور ناز کے علاوہ سلمان بھی یہ بات خوب اچھی طرح جانتا تھا۔

......................................

ویسے تو جمیلہ کے ساتھ کھیلنے پر شہناز کو روزانہ ہی ڈانٹ پڑتی تھی اور وہ ایسے ہی ماں کے کوسنے سننے کی عادی ہو چکی تھی۔ مگر آج پہلی بار بھنا گوشت نہ ملنے کی دھمکی نے تو گویا اس کے سر پر جیسے غم کا پہاڑ ڈھانے کے مترادف کام کیا تھا۔ اس کا دس سالہ معصوم سا ذہن ذات، برادری، ناپاک، پلید،خاندان، اعلٰی مرتبت اور میراث جیسے بھاری بھرکم تصوارت کو سمجھنے میں سفید لٹھے کی طرح کورا تھا۔

البتہ دنیا میں اس کا من پسند بھنا گوشت نہ ملنے کے تصور ہی سے وہ سخت خوف زدہ ہو گئی اور اسی وقت جمیلہ پر چار حرف بھیجنے کا فیصلہ کر لیا کیونکہ بہرحال مراثن جمیلہ کی اہمیت تو کسی نچی پچی ہڈی جتنی بھی نہیں تھی۔ پھر وہ کیوں بھلا بھنے گوشت کے بدلے اس ناپاک وجود کے ساتھ دوستی کا سودا کرتی۔

اس کے ننھے سے دل میں پہلی بار جمیلہ کے لئے بہت نفرت اور کراہیت کا شدید احساس جاگا اور وہ جھرجھری سی لے کر رہ گئی۔ اسے لگا جیسے اس کے ہاتھ اب کبھی پاک نہیں ہوں گے چاہے کتنا بھی خوشبودار صابن سے دھو لے۔ بار بار اپنے ہاتھوں کو رگڑ کر پاک صاف کرنے لگی' جن میں ہاتھ ملائے ابھی تک جمیلہ اس کے ساتھ گھمن گھیریاں لے رہی تھی۔

نفرت کے کانٹے دار زہریلے بیج نے بڑی خاموشی سے معصوم ذہن کی زرخیز زمین پر تعصب کی مضبوط جڑ پکڑ لی تھی اور اب اسے تن آور درخت بننے سے کوئی بھی روک نہیں سکتا تھا۔

---------------------

یوں تو یہ دونوں بھی ریس کورس ہی میں ملتے تھے مگر سلمان اور ناز کا معاملہ تھوڑا مختلف تھا۔ وہ دونوں ایک دوسرے کو دل سے بہت چاہتے تھے اور ایک دوسرے کی بہت عزت کرتے تھے۔ یہ شناسائی ایک سال پرانی تھی مگر وہ دونوں اس حد تک ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہو گئے تھے کہ ایک دوسرے کو دیکھے بنا سانس بھی نہیں لے سکتے تھے، دونوں ہی مڈل کلاس سے تعلق رکھتے تھے۔ ناز کا گھرانہ تھوڑا مضبوط تھا اور سلمان کا ذرا زیادہ غریب مگر اس نے پھر بھی کبھی ناز کو اپنی غربت کا احساس نہیں ہونے دیا تھا۔

وہ دونوں بالکل کسی فلمی کہانی کی طرح سڑک پر ہی ایک دوسرے سے پہلی بار متعارف ہوئے تھے۔ جب کچھ غنڈے کالج سے گھر جاتے ہوئے ناز کو تنگ کر رہے تھے۔ تب سلمان نے ان کی ٹھکائی کر کے اسے بچا لیا اور گھر تک پہنچاتے پہنچاتے دونوں کے درمیان محبت کی پہلی کونپل پھوٹ چکی تھی۔

وہ کبھی کھبار اپنے کالج سے ایک دو پیریڈ پہلے نکل آتی اور دونوں ریس کورس میں بیٹھ کر کچھ کھانا کھاتے اور اس کے بعد وہ اسے اس کے گھر چھوڑ آتا تھا۔ دل، دل میں وہ دونوں ہی اس طرح ملنے کو اس بات کو اچھا نہیں سمجھتے تھے۔ جلد از جلد شادی کے بندھن میں بندھ جانا چاہتے تھے۔ ناز کی اماں تو پہلے ہی ذات برادری کے چکر میں اپنے نکھٹو اور آوارہ بھانجے سے اس کی شادی کرنا چاہتی تھی مگر پھر اپنی بیٹی کی ضد دیکھ کر خاموش ہو رہی اور سلمان کے گھر والوں کا انتظار کرنے لگی تاکہ گھر بار اور ذات برادری دیکھ کر رشتہ طے کر دیا جائے۔

ویسے تو سلمان ہر وقت ناز پر نثار رہتا تھا مگر جب بھی وہ اس کے والدین کو بلانے کی ضد کرتی تو جانے کیوں صاف لگتا وہ ٹال مٹول سے کام لینے لگتا ہے۔ کبھی کبھی تو ناز کو ایسا لگتا وہ سراسر اسے دھوکہ دے رہا ہے اور اپنے والدین کو اس کے گھر لانا ہی نہیں چاہتا۔ حالانکہ وہ واپڈا میں اچھے عہدے پر فائز تھا اور نوکری نہ ہونے کا بہانہ بھی نہیں بنا سکتا تھا ۔ جب ایک دن ناز کی ضد حد سے بڑھ گئی اور اس نے بہت مجبور کیا تو سلمان نے جیب سے ایک خط نکال کر اس کے ہاتھ میں تھما دیا اور کہا۔۔

"مجھے یہ بات تم سے کہنے کی ہمت نہیں ہوتی۔ اسی لیے لکھ کر لایا ہوں۔ یہ میری ایک تلخ سچائی ہے جسے بدلا نہیں جا سکتا۔
معلوم نہیں تم یا تمھارے گھر والے یہ بات جان کر کیسا ردعمل ظاہر کرو گے مگر جانے کیوں مجھے تم پر پورا بھروسہ ہے اور مجھے یقین ہے تم یہ سب جان کر بھی میرا ساتھ کبھی نہیں چھوڑو گی۔"

ناز نے حیرت سے ڈرتے ڈرتے اس خط کو کھولا اور جیسے ہی پڑھنا شروع کیا تو اچھل کر کھڑی ہو گی۔۔ حقارت اور غصے کے مارے اس کی آنکھیں پھٹنے کے قریب ہو گئیں اور وہ شبنم سے ایک دم شعلے میں بدل کر چنگاریاں اڑاتے لہجے میں گویا ہوئی۔۔

"میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی، تم مجھے اتنا بڑا دھوکہ بھی دے سکتے ہو۔ نہیں نہیں ایسا نہیں ہو سکتا۔ اتنا بڑا فراڈ، میں یہ کبھی نہیں ہونے دوں گی۔ کاش تم یہ سب مجھے پہلے بتا دیتے۔ تم نے بہت دیر کر دی بتانے میں۔۔ یہ جاننے کے بعد شادی تو بہت دور کی بات ہے میں تمھاری صورت بھی دیکھنے کی روادار نہیں ہوں۔ میرا اور تمھارا ساتھ ہونا ناممکن ہے۔ اب زندگی میں کبھی میرا پیچھا کرنے کی کوشش مت کرنا۔"

سلمان قدموں سے لپٹ کر بھی اگر ناز کو روک پاتا تو ہزار بار کوشش کرتا مگر جب محبت اور اعتبار کا تاج محل ہی چکناچور ہو گیا تھا تو اب کرچیاں سمیٹنے سے فائدہ؟ الٹا مزید زخمی ہونے کا امکان تھا۔ اب وہ کبھی پلٹ کر اس کو نہیں دیکھے۔۔ اس جان لیوا بے بسی کے ساتھ ڈبڈبائی آنکھوں سے اپنی زندگی کو خود سے دور جاتا دیکھنے لگا۔ اس کے چاروں طرف غم کا گھٹا ٹوپ اندھیرا چھا گیا اور وہ سر سے پیر تک نارسائی کے اندھے کنوئیں میں گرتا چلا گیا۔ اچانک اس کے دل میں زوردار درد اٹھا اور وہ کوئی بھی آواز نکالے بغیر بے روح ہو کر زمین پر گر پڑا۔

.......................................

ناز نے سلمان کو کیا چھوڑا۔ پوری دنیا ہی کو بھول گئی۔ اسے نہانے دھونے کھانے پینے کا کوئی ہوش نہیں رہتا تھا۔ بالکل بکھر کر رہ گئی۔ ماں بھی اس کو دیکھ کر جلتی تڑپتی تھی مگر اس کے خیال میں بھی سلمان کی سچائی جاننے کے بعد اس کو چھوڑنے کے علاوہ کوئی چارہ بھی تو نہیں رہا تھا۔ بہت اچھا ہوا وہ وقت سے پہلے ہی اس کی اصلیت سے واقف ہو گئی تھی۔

جلدی جلدی میں ماں نے اپنی بہن سے رشتے کی بات پکی کی۔ بقول اس کی خالہ کے دنیا میں صرف ناز جیسی بہو ہی اس کے آوارہ بیٹے کو راہ راست پر لانے کا سبب بن سکتی تھی۔ خالہ کی تو مراد بر آئی تھی۔ جھٹ منگنی پٹ بیاہ کر کے ایک مہینے کے اندر اندر اپنے گھر لے گئی۔

شادی سے پہلے اس نے کئی بار سنا تھا کہ خالہ کا بیٹا شفیق اس رشتے کے لئے راضی نہیں ہوتا اور جب ساری رات لٹی پٹی دلہن من مار کر اپنے دلہا کا انتظار کر کے بھی نامراد رہی تو باقی سب کو اس بات پر یقین بھی آ گیا۔ دلہا کو نہ آنا تھا نہ ہی وہ آیا۔

وہ ناز کے نام ایک خط چھوڑ گیا تھا جس میں لکھا تھا۔

"شہناز آرا"
میں نے اپنی ماں کو سمجھانے کی بہت کوشش کی کہ تمھاری زندگی برباد نہ کریں کیونکہ میں سرکس میں کام کرنے والی جمیلہ کے ساتھ شادی کر رہا ہوں۔ لیکن میری اعلٰی نسب ماں کسی میراثن کو بہو بنانے کے لیے کسی صورت تیار نہیں ہیں اور میں اس میراثن کے علاوہ کسی اور سے شادی نہیں کر سکتا۔
مجھے افسوس ہے میری زندگی میں تمھاری کوئی جگہ نہیں ہے۔ ماں نے اپنی زندگی کی قسم دے کر مجھے اس وقت مجبور کر دیا مگر میں تمھیں کسی دھوکے میں نہیں رکھنا چاہتا۔ تم میری طرف سے آزاد ہو۔ طلاق نامہ بھی جلد ہی مل جائے گا۔"

شہناز عرف ناز نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے اس خط کا متن دیکھا۔ اس کا ذہن اس وقت ان سب باتوں کا مفہوم سمجھنے سے بالکل ایسے ہی قاصر تھا، جیسے برسوں پہلے جمیلہ کے ساتھ کھیلنے پر ماں کی ڈانٹ ڈپٹ اور کوسنے سمجھ نہیں آیا کرتے تھے۔ اس نے تو خود کو قربان کر کے بھی اپنی میراث کی حفاظت کی تھی اور قسمت نے اس کے ساتھ کیسا بھیانک کھیل کھیلا تھا۔

کانپتے ہاتھوں سے اپنے عروسی چمکیلے پرس کو ٹٹول کر اس کی خفیہ جیب میں سلا ہوا ایک مڑا تڑا کاغذ برآمد کیا اور اسے شفیق والے خط کے پہلو میں رکھ کر پڑھنے لگی۔

" زندگی سے پیاری ناز
اگر کبھی تم میری زندگی میں نہیں ہو گی تو دیکھ لینا۔۔۔! اسی لمحے میری روح میرے جسم کا ساتھ چھوڑ دے گی۔ چاہے آزما کر دیکھ لینا۔ میں جانتا ہوں زمین پر رہتے ہوئے عرش کو چھونے کی تمنا کر بیٹھا ہوں۔ مگر اپنے دل کے ہاتھوں بہت مجبور ہوں۔ جانے کیوں یقین سا ہے کہ تمھارے لیے یہ بات کوئی اہمیت نہیں رکھتی ہو گی اور میرا یہ ڈر بھی بے جا ثابت ہو گا۔۔ انسان تو صرف انسان ہوتے ہیں، کیا فرق پڑتا ہے ان کا تعلق کسی بھی قبیلے سے ہو۔
مجھے تمھاری محبت پر بھی اتنا ہی بھروسہ ہے جتنا سورج کے مشرق سے نکلنے پر۔ تمھیں کھو دینے کا خوف مجھے آج تک یہ راز بتانے سے روکتا رہا ہے۔ کئی بار بتانا چاہا مگر پھر ہمت نہیں ہوتی تھی۔ اسی ڈر کے مارے ابھی تک اپنے والدین کو تمھارے گھر تک لا نہیں سکا ہوں۔
کیا تم مجھے معاف کر دو گی؟ یہ جان کر بھی اپنی زندگی میں شامل رکھو گی نا۔۔۔۔۔۔۔۔ کہ میں یعنی تمہارا سلمان ذات کا "میراثی" ہوں۔"
ختم شُد